Featured Original Articles Urdu Articles

ایک تصویر میں پاکستان میں دیوبندی دہشت گردی کی تاریخ اور اسباب – از حق گو

1532075_782719955078174_340523520_n

اوپر دی گیی تصویر میں پاکستان کی تاریخ کے تین منحوس کردار نمایاں ہیں – تینوں ایک شدت پسند ، دہشت گردانہ اور منافقانہ تکفیری سوچ کے نمائندہ ہیں – پاکستان میں تین دہایوں سے جاری ہے تکفیری دیوبندی دہشت گردی کے سرپرست و سرغنہ یہی کردار ہیں

ان میں سے ایک مشہور ترین منافق ، دجال ثانی، تا حشر جہنم مقامی آنجہانی ضیاء الحق المعروف مرد مومن مرد حق ہے جو پاکستان میں تکفیری دیوبندی دہشت گردی کا بانی مبانی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو جہل کے اندھیروں میں دھکیلنے کے حوالے سے مشہور ہے – پاکستان میں جاری دہشت گردی کے عفریت کی پیدائش اور پرورش میں سب سے زیادہ کردار ضیاء الحق مردود کا ہی تھا – افغان فساد ، سپاہ صحابہ اور مدرسہ مافیا کے علاوہ کیی کالے قانون جن کی بنیاد پہ پاکستان میں آج تک اقلیتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی ان قوانین کا سہارا لے کر ذاتی مخاصمتوں کے نتیجہ میں سزا وار ٹھہرایا جا رہا ہے – ضیاء الحق لعین یقینی طور پر پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین اور بر صغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کے چند سیاہ اور مکروہ ترین کرداروں میں سے ایک ہوگا – وہ جس کے کالے کرتوتوں ، منافقت ، وحشت ، نفرت اور لالچ کی سزا قوم آج تک بھگت رہی ہے اور نا جانے کب تک بھگتے گی –

 اس تصویر میں دوسرا بد نام زمانہ شاتم رسول،  ناصبی،  راولپنڈی کے مدرسہ تعلیم الفساد کا بانی غلام اللہ خان ہے یہ اسی مسجد کا بانی ہے جس مسجد سے ہر سال محرم اور میلاد کے جلوسوں کے خلاف گستاخانہ تقاریر اور شیعہ سنی مسلمانوں کے جلوسوں پہ سنگ باری کرنا ایک معمول کا کام ہے – یہ شاتم رسول جب جہنم واصل ہوا تو اس کے مردے کو لوگوں سے چھپا کر دفنایا گیا کیوں کہ گستاخی رسول کرنے کی وجہ سے اس کی زبان اس کے منہ سے باہر کو نکل آی تھی اور چہرہ اور بگڑ گیا تھا – اس مسجد کی تاریخ ہے کہ یہاں سے جب بھی شیعہ سنی مسلمانوں کے محرم یا میلاد کے جلوس گزرے ہیں اس مسجد کے خارجی اور تکفیری دیوبندی مولویوں نے ان جلوسن کے خلاف بکواسات کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھا ہے

اس تصویر میں موجود تیسرا شخص تکفیری دیوبندیوں کا سرخیل اسلام آباد کی فسادی لال مسجد کا بانی مولوی عبد الله ہے جس نے ضیاء الحق کی سربراہی و سرپرستی میں اسلام آباد کا سکون ہمیشہ کے لئے غارت   کرنے کے لئے شہر کے وسط میں دیوبندی تکفیریوں کے لئے مقام شر فراہم کیا جس کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف دہشت گردی بڑھی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی بدنامی ہوئی ہے – اسلام آباد شہر کے وسط میں لال مسجد نام کا تکفیری دیوبندیوں کا قلعہ پورے پاکستان میں شر کی وجہ بنا رہا ہے اور دو ہزار سات میں مجبوری کے تحت کے جانے والے آپریشن میں آرمی کو بھاری جانی نقصان کے ساتھ ساتھ دس کمانڈوز کا نقصان بھی اٹھانا پڑا جو لال مسجد میں چھپے تکفیریوں نے فائرنگ اور خود کش حملوں میں شہید کر دیے تھے

About the author

Shahram Ali

6 Comments

Click here to post a comment
    • بہت شاندار مضمون ہے ۔ ان تینوں کے ماننے والے بھی اتنے ہی کمینے ہیں

  • great, although we read out many books but no such collective material can be found, you people just done very well to lighten the pakistani public through your daily base historical post……
    please keep on…….due to welfare of pakistan

  • The admin of this page and website is Harami and 3rd class coward, he is promoting his page and likes by posting false stories. Kanjar Harami Allah Ke Lanat Ho Tum Par.

  • Faraz Quraishi says (on facebook)

    انیس دسمبر، این سو چوراسی، ریفرنڈم

    انیس دسمبر انیس سو چوراسی کو اس وقت کے خود ساختہ صدر پاکستان ضیا الحق نے عام کے سامنے سوال رکھا کے ’’کیا آپ پاکستان کی بھلائی اور سلامتی کے لئے شروع کئے جانے والے قران و سنت کے تحت بنائی گئی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اقتدار بتدریج عوام کے منتخب نمائیندوں کو منتقل کیا جا سکے’’۔ اب یہ سوال کس بلا کے آرٹسٹ نے بنایا تھا کے بڑے بڑے لوگ چکرا گئے۔ سوال میں اسلامی نظام بھی تھا، جس کی مخالفت کرنے والا اسلام سے خارج اور جمہوریت کا عنصر بھی تھا، جس کی مخالفت کرنے والا جمہوریت سے خارج۔ کئی ایک جمہوری لوگ تو سوال سنتے ہی اقتدار کی منتقلی کے لالچ میں ہاں میں ووٹ ڈال آئے۔ باریش اور داڑھی والے ملا تو ووٹ ہی ہاں میں ڈالنے گئے تھے۔ بلکہ اپنے گزر جانے والے بزرگوں اور پیدا ہونے والے بچوں کے بھی ووٹ ڈال آئے۔ تاکہ یوم آخرت پر ان سے سوال نہ کیا جا سکے کہ تم نے ہمارا فرض پورا کیوں نہ کیا۔ ریفرنڈم کے نتیجے میں اٹھانوے فیصد ووٹ لے کر ضیا اسلام بن کر قوم پر نافذ ہوگئے۔ اور دنیا کو پہلی بار پتا چلا کے جس خوبصورت اسلامی نظام کا خواب دکھایا کرتے تھے حقیقیت میں وہ تین فٹ کی بدصورت، موچھوں والی مخلوق ہے۔ حبیب جالب نے اپنی مشہور نظم ریفنرنڈم اسی موضع پر لکھی ہے۔ جس کے کچھ شعر عرض ہیں۔

    شہر میں ہو کا عالم تھا
    جن تھا یا ریفرنڈم تھا

    کچھ باریش سے چہرے تھے
    اور ایمان کا ماتم تھا

    دن انیس دسمبر کا
    بے معنی بے ہنگم تھا۔