Editorial Featured Original Articles Urdu Articles

اداریہ تعمیر پاکستان: وزیراعظم! پاکستان آرمی کا ساتھ دیں، پنجاب حکومت کو دیوبندی دھشتگردوں کے کیمپ سے باہر لائیں

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے میر علی شمالی وزیرستان میں نماز پڑھتے ہوئے نہتے فوجیوں کو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کرکے شہید کئے جانے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آرمی دھشت گردوں کے حملوں کا بھرپور جواب دے گی اور امن پروسس کی حمائت کے باوجود دھشت گردی پھیلانے والوں کو کچل دیا جائے گا-چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا یہ بیان خوش آئیند ہے اور ان کے اس بیان کے جاری ہونے کے بعد سے پاکستانی فوج کے شمالی وزیرستان میں تعینات دستے دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے مشتبہ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں-اور ایک اطلاع کے مطابق پاک فوج نے اب تک دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے 40 کے قریب ٹھکانے تباہ کرڈالے ہیں

جبکہ دوسری خوش آئیند اطلاع یہ ہے کہ میجر جنرل عامر ریاض ڈی جی ملٹری آپریشنز مقرر کردئے گئے ہیں-یہ میجر جنرل عامر ریاض وہ ہیں جن کو بریگیڈئر علی نے حزب التحریر میں بھرتی کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے اس کی اطلاع فوج کی قیادت کو ی تھی جس پر بریگیڈئر علیکے خلاف کاروائی ہوئی-میجر جنرل عامر ریاض تکفیری دھشت گردوں اور ان کی آئیڈیالوجی کے خلاف نظریات رکھتے ہیں اور فوج میں ان کو لبرل اور اعتدال پسند فوجی افسر کے طور پر جانا جاتا ہے-اس سے اندازا کیا جاسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فوجی آپریشن تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کے خلاف اور تیز ہوں گے

پاکستان آرمی نے مسلم لیگ نواز کی حکومت کے آنے کے بعد سے پہلی مرتبہ سیکورٹی فورسز پر حملوں کا منہ توڑ جواب دینے اور شمالی وزیرستان میں دھشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کاروائی شروع کی ہے-اس کاروائی کی جو تفصیلات علاقے کے لوگوں سے موصول ہورہی ہیں اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پاکستان آرمی تکفیری دھشت گردوں کو اب منظم ہونے کا کوئی موقعہ دینے کو تیار نہیں ہے-جبکہ اس آپریشن کے شروع ہوتے ہی تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کے حامی سوشل میڈیا اور اپنی بنائی ہوئی ویب سائٹس پر پاک فوج کے خلاف زھریلا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں-جس سے اس آپریشن کی کامیابی کا اندازا لگانا مشکل نہیں ہے

تعمیر پاکستان ویب سائٹ کی ادارتی ٹیم بہت عوصہ سے یہ موقف رکھتی ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو شمالی وزیرستان سمیت ہر اس علاقے میں فوجی آپریشن کرنا چاہئیے جہاں دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کے ٹھکانے اور تربیتی مراکز قائم ہیں-کیونکہ تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کا نیٹ ورک کینسر کی طرح پھیتا جارہا ہے اور اس سے پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں-جبکہ اس تکفیری دیوبندی دھشت گردی سے اس ملک کی کوئی بھی مذھبی یا نسلی برادری محفوظ نہیں ہے

پاکستان آرمی نے اب جبکہ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کو منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کرلیا ہے تو ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے شمالی وزیرستان میں فوجی کاروائی پر اعتماد میں لئے جانے کا مطالبہ کیا ہے-جبکہ دوسری طرف جماعت اسلامی کی جانب سے بھی اس کاروائی پر شور مچانے کا سلسلہ جاری ہے-جماعت اسلامی اور پاکستان حریک انصاف دونوں کی مرکزی قیادت نہایت غیر زمہ داری کا ٹبوت دے رہی ہے-یہ ایک طرف تو دھشت گردوں کے خلاف لڑنے والے سیکورٹی فورسز کے نوجوانوں ک مورال گرارہے ہیں تو دوسری طرف یہ 50 ہزار سے زائد سویلین اور غیر سویلین کی شہادتوں کو غیر موثر بنانے کی کوشش کررہے ہیں-ان شہداء کے ورثاء عمران خان اور منور حسن سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ان کے مقتولین کے قاتلوں سے اس قدر ہمدردی کیوں روا رکھی جارہی ہے؟کیا پچاس ہزار جانوں کی شہادتیں کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ملک اور قوم سے غداری ہے؟

اس موقعہ پر تحریک طالبان پاکستان اور جملہ دیوبندی تکفیری دھشت گرد گروپوں کے حامی انسانی حقوق کی پامالی،خواتین ،بچوں اور بیماروں نیز عام شہریوں کی اموات کا پروپیگنڈا پھر سے شروع کرچکے ہیں-جبکہ یہ تکفیری دھشت گردوں کے حامی پاکستان سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق ،عورتوں کی آزادی اور ان کے حقوق کے سب سے بڑے دشمن ہیں-یہ حقوق دینے کی بجائے ان سے غصب کرنے کے قائل ہیں-ان کا ٹریک ریکارڑ بہت خراب ہے-اس کے باوجود یہ لبرل ازم اور روشن خیالی سے نتھی ہوئے بنیادی حقوق کے تصورات کی آڑ میں تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کو بچانا چاہتے ہیں-پاکستان میں بسنے والی مذھبی اور نسلی کمیونٹیز کو ان کے فریب میں آنے سے بچنے کی ضرورت ہے

 اس وقت پاکستان کی سیکورٹی فورسز،پولیس اور قبائلی علاقوں میں کام کرنے والی سول ایڈمنسٹریشن کا مورال بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے-پاکستان کی تمام مذھبی اور نسلی برادریوں کو ان کی تکفیری دھشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑنے کی مہم کی حمائت کرنی چاہيے-یہ خوش آئیند بات ہے کہ اس وقت سنّی اتحاد کونسل اور مجلس وحدت المسلمین نے دسمبر کے اسی آخری ہفتے میں تکفیری دیوبندی دھشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستان کے عام شہری،فوجی،پولیس اہلکار اور دیگر شہداء کے وارثین سے یک جہتی کرنے کے لیے بڑی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے-اس اجتماع سے ایک طرف تو شیعہ سنّی اتحاد اور اتفاق کا پیغام وری دنیا کو جائے گا اور دوسرا اس سے پاکستان کی سیکرٹی فورسز کا مورال بھی بلند ہوگا

ہم پاکستان کی متخب مرکزی حکومت کے سربراہ میاں محمد نواز شریف سے بھی یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی حکومت کے اندر سے ان کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں جو دھشت گردوں کے حامی اور ان سے رابطے میں ہیں-حال ہی میں ان کی اپنی جماعت کے رکن شیخ وقاص اکرم نے پنجاب کے وزیر قانون کے بارے میں یہ انکشاف کیا ہے کہ رانا ثناء اللہ پنجاب کے وزیر قانوں ہوتے ہوئے سپاہ صحابہ پاکستان کے دھشت گردوں سے رابطے میں ہیں اور ان کی پشت پناہی کرتے ہیں جبکہ وفاقی سیکرٹری داخلہ تسنیم قریشی نے اس رپورٹ کو درست قرار دیا ہے-اس سے اندازا کیا جاسکتا ہے کہ دھشت گردی کے خلاف پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی مکمل کامیابی میں روکاوٹ کہاں سے کھڑی کی جارہی ہیں

ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت پنجاب حکومت کا تکفیری دیوبندی دھشت گرد تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان /اہل سنت والجماعت کی جانب جھکاؤ اور شیعہ ،بریلوی ،احمدی ،عیسائی اور ہندؤں کی مذھبی و ثقافتی روایات کے مطابق ہونے والی تقریبات ،جلسے جلوسوں کومحدود کرنے کی کوشش اور اس حوالے سے پنجاب کو فرقہ واریت کی آگ لگانے والوں کو کھلی چھٹی دینے کی روش ایک طرح سے پاکستان کی سیکورٹی فورسز کے پیچھے عوام کا اتفاق توڑنے کی سازش ہے-پنجاب ڈسٹرب ہوگا اور یہاں آگ لگی ہوگی تو دیوبندی تکفیی دھشت گردوں کے خلاف کوئی بھی محاذ کھلنا مشکل ہوجائے گا

اس لیے پنجاب کے اندر دیوبندی تکفیری دھشت گرد ٹولے کے خلاف کریک ڈاؤن بہت ضروری ہے-نام نہاد اہل سنت والجماعت جوکہ کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کا دوسرا نام ہے پر فوری پابندی لگانی چاہئے-اور دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کو ملنے والی لاجسٹک،آپریشنل سپورٹ فوری بند ہونی چاہئیے-اس وقت پنجاب حکومت واضح طور پر دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے اور وہ دھشت گردوں کے مطالبے پر شیعہ کمیونٹی کے روائتی جلوسوں کا روٹ بدلنے پر تیار ہے-اس سے اندازا کیا جاسکتا ہے کہ پنجاب حکومت کس قدر دیوبندی دھشت گرد ٹولے کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہےجوکہ ایک معمولی سی اقلیت ہےجس کو چیف منسٹر شہباز شریف نے سرآنکھوں پر بٹھا رکھا ہے-اور ستم ظریفی یہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ بھی دھشتگرد دیوبندی تنظیم کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان کے مرکزی صدر سے ملتے ہیں اور اسے فل پرٹوکول دیا اتا ہے-پاکستان مسلم لیگ نواز ابھی تک خود کو تکفیری دیوبندی دھشت کرد ٹولے سے پاک نہیں کرسکی-بلکہ ایسے عناصر پاک فوج کی سبکی کا باعث بھی بن رہے ہیں-یہ ایک ایسا درد سر ہے جو آخرکار پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کی جانب سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی حکومت کے ایک لبرل اور معتدل امیج کے لیے کی جانے والی کوششوں پر پانی پھیر سکتی ہے-اس لیے میاں محمد نواز شریف کو اس گند سے جان چھڑانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے-ورنہ چڑیاں کھیت چگ گئیں تو پھر ہاتھ ملتے رہنےکے سوا کوئی اور کام نہیں رہ جائے گا

About the author

Aamir Hussaini

26 Comments

Click here to post a comment