Original Articles Urdu Articles

تکفیری خوارج کے دہشت گرد حملوں کا سخت ترین جواب دیں گے – جنرل راحیل شریف

coas

پاکستان کے نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم اور فوج پر دہشت گردوں کے حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گے – یاد رہے کہ کالعدم طالبان اور کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ نے ماضی قریب میں پاکستانی عوام اور فوج پر متعدد حملے کیے ہیں – تکفیری خوارج کے تازہ ترین حملے میں شمالی وزیرستان میں نماز پڑھتے ہوۓ فوجی جوانوں کو شہید کیا گیا جس کے جواب میں پاک فوج نے تکفیری دہشت گردوں کے خلاف بھرپورآپریشن کیا- جنرل راحیل شریف نے قیام امن کے لئے حکومت پاکستان کے عزم کی حمایت کی لیکن کہا کہ دہشت گرد حملوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گے اور ان کا بھر پور جواب دیا جائے گے – آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج اپنے افسران اور جوانوں کے پاک خون کی امین ہے جنھیں اسلام اور پاکستان کے دشمنوں نے شہید کیا

ادھر تکفیری خوارج نے دیوبندی وہابی مدارس اور سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کے خلاف گھناؤنا پراپیگنڈہ شروع کر دیا ہے جس میں پاکستانی فوج کو ناپاک اور مرتد فوج اور واجب القتل قرار دیا جا رہاہے – ایسے دہشت گرد گروہ اسلام، سنی مسلک اور دیوبندی عقیدے کے نمائندہ نہیں بلکہ تکفیری خوارج ہیں ہم سنی شیعہ اتحاد کے قائل ہیں – آج ہر مذھب، فرقے، زبان اور نسل کے پاکستانی کالعدم دہشت گرد جماعتوں طالبان اور سپاہ صحابہ کے خلاف پاک فوج کے آپریشن کی حمایت کرتے ہیں

English version:

Terrorist attacks will not be tolerated: General Raheel Sharif

RAWALPINDI: 21 DEC.2013: Pakistan’s Army Chief, General Raheel Sharif reiterated full support to the government led ongoing peace process but emphasised that terrorist attacks would not be tolerated and will be responded to effectively.

In recent months, Takfiri Kharijite militants belonging to banned terrorist outfits Taliban (TTP) and Sipah-e-Sahaba Pakistan (SSP, aka ASWJ) have stepped up attacks on Pakistanis of diverse faiths, sects and ethnicities.

Chief of Army Staff (COAS), General Sharif visited the Corps Headquarters in Peshawar on Saturday. According to an ISPR press release, COAS laid a wreath at Yadgar-e-Shuhada upon his arrival and paid tributes to the martyrs who sacrificed their lives for the defence of the motherland. The army chief was also briefed in detail at the Corps Headquarters about various operation, training and administrative matters.

The COAS appreciated the resolve displayed by the officers and men during the fight against terrorism and bringing stability to the militancy hit areas.

Appreciating the infrastructure building and reconstruction work being undertaken by the Army for socio-economic benefit of the local population of FATA and Malakand, COAS instructed all concerned to ensure quality and timely completion of these projects.

Earlier, on his arrival in Peshawar, COAS was received by Corps Commander Lieutenant General Khalid Rabbani.

About the author

SK

6 Comments

Click here to post a comment
  • دہشت گردوں کے حملے کا جواب دینا سیکورٹی فورسز کا حق ہے،خواجہ آصف

    خبر ٹی وی (اسلام آباد) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غیر ملکی دہشت گردوں کے حملے کا جواب دینا سیکورٹی فورسز کا حق ہے،اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے،انھوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا گیا،دہشت گردوں کے حملے میں فوجی جوان شہید ہوئے

    http://khabartv.tv/index.php/پاکستان/اسلام-آباد/item/7274-islamabad_islamabad

  • دہشتگردوں کی جانب سے حملے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے، آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل راحیل شریف آرمی چیف نے کہا ہے کہ پاک فوج حکومت کی زیر قیادت جاری امن عمل کی مکمل حمایت کرتی ہے تاہم دہشت گردوں کی جانب سے حملے کسی صورت برداشت نہیں کئے جائیں گے۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر پشاور نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کی یادگار پر حاضری دی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
    دورے کے دوران آرمی چیف کو مختلف آپریشنل، تربیتی اورانتظامی امور پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے مالاکنڈ ڈویژن اور فاٹا میں جاری ترقیاتی کاموں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت کی، دورے کے دوران انہوں نے حکومت کی زیر قیادت جاری امن عمل کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے

    http://www.express.pk/story/209607

    ‘دہشت گرد حملے کسی طور برداشت نہیں کریں گے’

    پشاور: نئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے حکومت کی زیر قیادت امن مذاکرات کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان کی شدت پسندی اور دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور اسے قطعاً برداشت نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ہفتہ کو پشاور میں کورپس ہیڈ کوارٹر کے دورے کے موقع پر کہا کہ دہشت گردوں کے حملے کسی طور برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ان کا بھرپور انداز میں جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کو پہلی ترجیح کے طور پر رد کرتے ہوئے طالبان سے امن مذاکرات کے ذریعے ہتھیار ڈلوانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    چند دن قبل کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی کی میٹنگ میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں فوجی آپریشن آخری حربہ ہو گا۔

    لیکن دوسری جانب تحریک طالبان پاکستان ے حکومتی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے علم پہلے سے یہ بات ہے کہ فوجی آپریشن کی حکمت عملی زیر غور ہے اور ہم اس کے لیے تیار ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے خیبرپختونخوا کے دارالحکومت آمد پر یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔

    بیان میں کہا گیا کہ جنرل شریف نے ملکی بقا و سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کو خراج تحسن پیش کیا۔

    اس کے بعد انہیں کورپس ہیڈ کوارٹر میں مختلف آپریشنل، تربیتی اور انتظامی معاملات پر بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف نے مالا کنڈ اور فاٹا میں صورتحال کی بہتری کے لئے پاک فوج کے کام کو متاثرکن قرار دیا اور کہا کہ فوج نے ملاکنڈ اور فاٹا میں معاشی اور سماجی بہتری لانے کےلئے متاثر کن کام کیا اور دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں جوانوں کی خدمات قابل تحسین ہیں۔

    http://urdu.dawn.com/news/1000840/pakistans-new-army-chief-defies-terrorist-attacks

  • ‘مذہبی تفریق پھیلانے والوں کا راستہ روکنا ہے’

    لاہور: وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی اقلیتوں نے ملک کی ترقی اور دفاع کے لیے قابل فخر کردار ادا کیا ہے، چند گمراہ لوگ فساد برپا کرتے ہیں اور اس کے لیے مذہب جیسے پاکیزہ جذبے کا استحصال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پشاور کے گرجا گھر میں انسانی جانوں سے خون کی ہولی کھیلنے والے اکثریت کے نمائندے نہیں، ان کے لیے نہ مسجد کی کوئی حرمت ہے نہ گرجا گھر کی۔

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین مذہبی بنیادوں پر پاکستانی شہریوں میں کسی امتیاز کی اجازت نہیں دیتا، یہ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا یکساں احترام کرتا ہے، بعض لوگ مذہب کودنیاوی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیںِ‘ ہم نے ان کا راستہ روکنا ہے اور انہیں ناکام بنانا ہے۔

    وہ ہفتہ کو گورنر ہاؤس لاہور میں کرسمس کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

    اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور‘ وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ سینیٹر کامران مائیکل‘ صوبائی وزیر اقلیتی امور و انسانی حقوق خلیل طاہر سندھو‘ بشپ آف لاہور عرفان جمیل‘ صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن سمیت ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

    نواز شریف نے کہا کہ یکسانیت کے باوجود اگر مذہبی اختلاف سماجی امن کا مسئلہ ہے تو اس کی صرف ایک وجہ ہے اور وہ ہے مذہب کا استحصال، ہم میں سے بعض لوگ مذہب کودنیاوی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں‘ ان کا مفاد اسی میں ہوتا ہے کہ مذہبی اختلافات نہ صرف زندہ رہیں بلکہ یہ انسانوں کے درمیان امتیاز کا باعث بنیں۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کی وجہ سے فاصلے پیدا ہوتے ہیں اور محبت کی جگہ عداوت لے لیتی ہے،اس لئے ہم نے ان کا راستہ روکنا ہے اور انہیں ناکام بنانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی منافرت میرے لئے کئی وجوہات کی بناء پر تشویش کا باعث ہے، ایک تو یہ کہ پاکستان کا آئین مذہبی بنیادوں پر پاکستانی شہریوں میں کسی امتیاز کی اجازت نہیں دیتا، یہ تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کا یکساں احترام کرتا ہے۔

    نواز شریف کے مطابق جان و مال‘ عزت اور آبرو کا تحفظ ہر شہری کا حق ہے‘ چاہے اس کا تعلق کسی مذہب یا جماعت سے ہو۔

    وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی اقلیتوں نے ملک کی ترقی اور دفاع کے لیے قابل فخر کردار ادا کیا ہے، یہ پاکستان کی افواج‘ بیورو کریسی‘ عدلیہ‘ پارلیمان اور حکومت کا حصہ بن رہے ہیں اور بنتے رہیں گے جبکہ

    ‘ان کی خدمات کسی طرح سے دوسرے شہریوں سے کم نہیں۔ پاکستان کی اکثریت ان کی معترف اور قدر دان ہے۔’

    انہوں نے کہا ‘ہم نے حکومت کی ہر پالیسی میں اس بات کا اہتمام کیا ہے کہ پاکستان کے شہریوں کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملیں، اس میں مذہبی حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ ہو’

    ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ہم نے نوجوانوں کے لیے ایک سو ارب روپے کی جو روزگار سکیم شروع کی ہے، اس میں بھی ہر طرح کے امتیاز کی سختی سے نفی کی ہے۔

    ‘میں مسیحی نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ پورے اعتماد کے ساتھ اس سکیم میں شامل ہوں اور اپنے خاندان کی کفالت کا سبب بنیں۔’

    وزیراعظم نے کہا کہ اقلیتوں کے لیے وفاقی ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ مخصوص کیا گیا ہے، جس سے ہمارے مسیحی بھائی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔

    اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے اقلیتی آبادیوں کی ترقی کے لیے موجودہ سال 20 کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے اور ساتھ ہی ڈیڑھ کروڑ روپے غریب اور مستحق اقلیتی طالب علموں کے وظائف کے لیے مختص کئے ہیں جبکہ جوزف کالونی میں پیش آنیوالے بدقسمت واقعہ میں متاثرہ خاندانوں کو پانچ لاکھ فی خاندان دیئے گئے اور ان کے گھروں اور گرجا گھر کو دوبارہ تعمیر کیا گیا تاکہ وہ اپنی روزمرہ زندگی ہنسی خوشی گزار سکیں اور عبادت کرسکیں۔

    انہوں نے کہا ‘پاکستان کو آج جن بحرانوں کا سامنا ہے‘ اس کا ہدف ہم سب ہیں، دہشت گردی نے کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کو متاثر نہیں کیا، عزت مذہبی شناخت دیکھ کر دستک نہیں دیتی، جہالت نے کسی خاص فرقے یا مذہب کو نشانہ نہیں بنایا۔’

    http://urdu.dawn.com/news/1000838/no-room-for-religious-discrimination-in-govt-policies-pm

  • سپاہ صحابہ

    پاکستان میں فرقے کے نام پر تشدد اور دہشت گردی کی بنیاد رکھنے میں اس دیوبندی تنظیم کا کردار سب سے اہم گردانا جاتا ہے۔ سپاہ صحابہ کا قیام ایرانی انقلاب کے ردعمل کے طور پر مبینہ طور پر پاکستانی فوجی صدر جنرل محمد ضیا الحق کی اسلامائزیشن کی پالیسی کے نتیجے میں انیس سو پچاسی میں عمل میں آیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ ایران میں ’شیعہ انقلاب‘ کے اثرات سے خطے کو ’محفوظ‘ رکھنے میں سعودی عرب کی دلچسپی سے بھی فائدہ اٹھایا گیا اور ابتدائی طور پر اس تنظیم کے قیام کے لیے سعودی فنڈنگ کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ لاہور کی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران جنہوں نے سپاہ صحابہ کے قیام پر خاصی تحقیق کر رکھی ہے، کہتے ہیں ’فرقہ واریت کے بارے میں جتنی بھی تحقیق ہوئی اس میں اس عفریت کی پیدائش کے تانے بانے ضیا الحق کی اسلامائزیشن، افغان جنگ اور دیوبندی مدرسوں کے فروغ سے جڑتے ہیں۔‘ انیس سو اناسی میں پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کی بنیاد پر علامہ ساجد نقوی نے ’تحریک نفاذ فقہ جعفریہ’ کی بنیاد رکھی تو جنوبی پنجاب کے شہر جھنگ میں دیوبندی مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے مولانا حق نواز جھنگوی نے انہیں چیلنج کیا۔ یہ سلسلہ جلد ہی ایک مہم میں تبدیل ہوگیا جو آڈیو کیسٹس کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔ مناظرے اور مباہلے کے چیلنجوں پر مبنی لفظوں کی یہ جنگ اس وقت خونی معرکے کی بنیاد بن گئی جب انیس سو اٹھاسی میں افغانستان سے ملحق قبائلی علاقے پارہ چنار میں تحریک جعفریہ پاکستان کے رہ نما علامہ عارف حسین الحسینی کو قتل کر دیا گیا جس کے ڈیڑھ سال بعد انیس سو نوے میں سپاہ صحابہ کے رہ نما مولانا حق نواز جھنگوی کو بم حملے میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ مولانا اعظم طارق تین بار جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے.مبینہ طور پر حق نواز جھنگوی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے لاہور میں تعینات ایرانی قونصلر جنرل صادق گنجی کو قتل کیا گیا۔ صادق گنجی کے قتل کی ذمہ داری سپاہ صحابہ کے رکن ریاض بسرا پر عائد کی گئی۔ریاض بسرا کے خلاف پنجاب پولیس نے راولپنڈی میں ایرانی فضائیہ کے زیرِ تربیت عملے پر حملے کے مقدمے میں بھی تفتیش کی۔سپاہ صحابہ کے بانی قیادت جس میں مولانا حق نواز جھنگوی کے بعد مولانا ایثار الحق قاسمی، مولانا ضیاء الرحمان فاروقی اور مولانا اعظم طارق نمایاں تھے، شیعہ سنی تنازع کی بھینٹ چڑھے.سپاہ صحابہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ تھی۔ اس کے مرکزی رہنما مولانا ایثارالقاسمی ایک بار اور مولانا اعظم طارق تین بار جھنگ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اگست دو ہزار ایک میں فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے سپاہ صحابہ سمیت سات تنظیموں کو خلاف قانون قرار دے دیا لیکن نومبر دو ہزار دو میں جیل میں بند مولانا اعظم طارق کو اس لیے رہا کر دیا گیا تا کہ وہ وزارت عظمی لیے صدرمشرف کے حمایت یافتہ امیدوار میر ظفر اللہ جمالی کو واحد اکثریتی ووٹ دے سکیں۔ ڈاکٹر طاہر کامران کا کہنا ہے کہ جب سپاہ صحابہ پر سرکاری طور پر پابندی عائد کی گئی اس وقت تک یہ تنظیم اس قدر مضبوط ہو چکی تھی کہ عملی طور پر ملک کے چوہتر اضلاع پر اس کا کنٹرول تھا جہاں مقامی انتظامیہ اس تنظیم کے سامنے بے بس دکھائی دیتی تھی۔ اس تنظیم کے تحصیل کی سطح پر دو سو پچیس یونٹس بن چکے تھے۔ غیر ملکی سطح پر یہ تنظیم اپنے غیر ملکی سرپرستوں کے طفیل اس قدر پھیل چکی تھی کہ سعودی عرب سے کینیڈا تک سترہ ملکوں میں اس کا اثر و نفوذ پایا جاتا تھا۔ سپاہ صحابہ کے تربیت یافتہ اور پیشہ ور کارکنوں کی تعداد چھ ہزار تک پہنچ چکی تھی جبکہ رجسٹرڈ ورکرز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔

    لشکر جھنگوی

    دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق کے باعث جلد ہی لشکر جھنگوی اور افغان طالبان کے رابطے اور تعاون کی اطلاعات سامنے آنے لگیں جس کا مطلب یہ تھا کہ اب لشکر جھنگوی کے اہداف تبدیل ہو رہے ہیں، اس کا ثبوت آنے والے دنوں میں تب ملا جب لشکر جھنگوی نے کراچی میں غیر ملکی تیل کمپنی کے چار امریکی کارکنوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی۔ لشکر جھنگوی کی امریکہ دشمنی کے معاملے میں مزید پیش رفت تب ہوئی جب جنوری دو ہزار دو لشکر جھنگوی کے جنگجو امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغواء اور پھر قتل میں بھی ملوث پائے گئے۔ پھر یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا، اسی سال مارچ میں شیریٹن ہوٹل کراچی کے سامنے گیارہ فرانسیسی انجیئنروں کی ہلاکت ہو یا اسلام آباد کے سفارتی علاقے میں پروٹسٹنٹ چرچ پر حملہ، تفتیش کرنے والے اداروں نے لشکر جھنگوی کو ہی ملوث پایا۔چرچ حملہ کیس میں ملوث ملزموں کے بارے میں پاکستانی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے چار ملزموں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے افغانستان پر امریکی حملے کے ردعمل میں چرچ پر حملہ کیا تھا۔ اگست دو ہزار ایک میں مشرف حکومت نے لشکر جھنگوی پر پابندی عائد کر دی۔ بعض اطلاعات کے مطابق لشکر جھنگوی کے اندر بھی اکتوبر دو ہزار دو میں دو دھڑے وجود میں آ گئے تھے اس بار ریاض بسرا کا مؤقف تھا کہ مشرف حکومت کے دوران بھی دہشتگردی کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں جبکہ مخالف دھڑے کے راہ نما قاری عبدالحئی کا کہنا تھا کہ فوجی حکومت کے دور میں زیرِ زمین چلے جانا زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال تنظیم کے دو ٹکڑے ہو گئے۔مئی دو ہزار دو میں ریاض بسرا پنجاب کے علاقے وہاڑی میں اس وقت مقامی دیہاتیوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں اپنے تین ساتھیوں سمیت مارا گیا جب ایک شیعہ رہنما پر حملہ کرنے کے لیے وہاں پہنچا تھا۔ اس وقت تک ملک اسحٰق ایک سو زائد افراد کے قتل کے الزام میں گرفتار کیے جا چکے تھے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ وہ جیل میں رہ کر بھی اپنے ساتھیوں کی مؤثر طور پر راہنمائی کرتے رہے۔ اس کا عملی ثبوت اس وقت ملا جب سنہ دو ہزار نو میں فوجی صدر دفاتر پر حملے کے دوران وہاں یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی کے لیے حکومت نے لاہور کی جیل میں قید ملک اسحٰق کو راتوں رات راولپنڈی منتقل کیا اور اغوا کاروں کے ساتھ ان کے مذاکرات کروائے گئے۔ یہ مذاکرات کامیاب تو نہ ہو سکے لیکن یہ بات واضح ہو گئی کہ ملک اسحٰق جیل میں رہ کر بھی ملک میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث رہے۔ گزشتہ سال عدالت سے ضمانت منظور ہونے کے بعد انہوں نے تنظیم اہل سنت والجماعت (سابق سپاہ صحابہ) میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے لشکر جھنگوی سے اعلان لا تعلقی کر دیا۔ یہ تنظیم اس کے بعد بھی خاصی فعال ہے اور حالیہ عرصے میں شیعہ اور خاص طور پر ہزارہ شیعہ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔ تاہم اس کی موجودہ قیادت کے بارے میں انٹیلی جنس ادارے بھی زیادہ آگاہی نہیں رکھتے

    تحریک طالبان پاکستان

    دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق ہے پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے قیام کا اعلان دسمبر دو ہزار سات میں کیا گیا جب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی آپریشن کے اثرات ابھی ذہنوں پر نمایاں تھے اور جنرل مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف شہری علاقوں میں بھی نفرت انتہا پر تھی۔ بیت اللہ محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان میں شامل جنگجو افراد اور تنظیمیں پہلے بھی اپنے اپنے علاقے میں سرگرم تھے لیکن ایک تنظیم کی چھتری تلے ان کا اکٹھ ایک نئی بات تھی۔ تحریک طالبان پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان کے اندر امریکی و اتحادی افواج پر حملوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں، پاکستان کے شہری علاقوں میں بم دہماکوں اور خود کش حملوں، کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جس کے خاتمے کے ابھی تک کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ تحریک طالبان پاکستان کے پہلے امیر بیت اللہ محسود نے پاکستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے جنگجوؤں کے حوالے سے ہی کہا تھا کہ ’خود کش حملہ آور ہمارے ایٹم بم ہیں‘۔ بیت اللہ محسود پانچ اگست دو ہزار نو کو امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تو حکیم اللہ محسود نے تحریک کی قیادت سنبھالی اور جنگ و جدل کی سرگرمیوں میں بے پناہ تیزی پیدا کر دی۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی ایک سے زائد بار خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بن چکی ہیں لیکن ابھی تک ان میں صداقت کا پہلو مفقود رہا۔ تحریک طالبان پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی اور دیگر علاقوں میں شیعہ مسلک کے افراد پر حملوں میں ملوث قرار دی جاتی ہے اور اس طرح کی کئی بڑی کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کر چکی ہے۔

    ’تحریک طالبان پنجاب

    پانچ اپریل دو ہزار نو کو صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں امام بارگاہ پر حملے میں دو درجن سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ اگلے روز اس حملے کی ذمہ داری جس تنظیم نے قبول کی اس کا نام اجنبی تو نہیں البتہ حیران کن ضرور تھا۔ جنوبی پنجاب کے لہجے میں گفتگو کرنے والے ایک شخص نے بی بی سی کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی اور خود کو ’تحریک طالبان پنجاب‘ کا ترجمان قرار دیا۔ اس وقت تک پنجاب میں کئی دہشت گرد حملوں میں تحریک طالبان پاکستان کے ملوث ہونے کا پتہ چل چکا تھا جس میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملہ بھی شامل تھا۔ چکوال کا حملہ غالباً وہ پہلی کارروائی تھی جس کی باضابطہ ذمہ داری تحریک طالبان پنجاب نے قبول کی۔ اس سے پہلے پنجابی طالبان کا ذکر تو آتا رہا تھا۔ پنجابی طالبان پاکستان کے سب سے بڑے صوبے سے تعلق رکھنے والے ان جنگجوؤں کو کہا جاتا تھا جو پاکستان کے قبائلی علاقے یا صوبہ خیبر پختونخوا میں پشتون طالبان کے شانہ بشانہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف نبرد آزما تھے۔ یہ لوگ اس علاقے میں بھی گروہوں کی شکل میں رہتے تھے یوں ان کی مقامی افراد کے مقابلے میں الگ شناخت بن چکی تھی۔ صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث بعض افراد نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پنجاب سے ہے۔ اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے بعد ان شدت پسندوں کو توجہ اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کی جانب ہوئی۔ بڑی تعداد میں یہ جنگجو قبائلی علاقوں کو چھوڑ کر صوبہ پنجاب کی طرف آئے اور اس علاقے میں ان کی کارروائیوں میں اچانک نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ جب یہ کارروائی زیادہ تعداد اور زیادہ منظم انداز میں ہونے لگیں تو تحریک طالبان پنجاب کا نام بھی کثرت سے استعمال ہونے لگا۔ اس گروہ پر تحقیق کرنے والے پروفیسر خادم حسین کہتے ہیں کہ تحریک طالبان پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے یا اس کی قیادت کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افعانستان اور پھر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم رہنے والے پنجابی طالبان ہی دراصل تحریک طالبان پنجاب کے بانی ہیں، جنکی تعداد ڈاکٹر خادم حسین کے بقول آٹھ سے دس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔ تحریک طالبان پنجاب کے تنظیمی ڈھانچے اور اس کی ساخت کے بارے میں بعض بنیادی معلومات پاکستانی تفتیشی اداروں کے پاس اس وقت آئیں جب صوبہ پنجاب میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث بعض افراد نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق تحریک طالبان پنجاب سے ہے۔ پاکستانی تفتیش کار کہتے ہیں کہ ان کی تشویش اس وقت بہت بڑھ گئی جب انہیں معلوم ہوا کہ تحریک طالبان پنجاب دراصل صوبہ پنجاب میں کئی سالوں سے سرگرم مختلف شدت پسند تنظیموں کا ایک ملغوبہ ہے۔ اس تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد وفاقی وزیرداخلہ رحمٰن ملک نے اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں تحریک طالبان پنجاب کے لوگ ملوث ہیں۔ ’یہ گروپ پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی مشترکہ کاوش ہے جس میں سپاہ صحابہ، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، حرکت المجاہدین اور حرکت الانصار وغیرہ کے کارکن شامل ہیں.

  • ہم دہشت گردی کا سد باب کیوں نہیں کر پاتے؟…نجم سیٹھی

    پاکستان کو دو طرح کے دہشت گردوں نے نقصان پہنچایا ہے ایک گروہ دیوبندی تنظیم ”تحریک ِ طالبان پاکستان“ ہے جس کے درجنوں مختلف کمانڈر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے مقابلے پر مورچہ زن ہیں۔ دوسرا گروہ دیوبندی تنظیم ”لشکر ِ جھنگوی“ ہے جو ملک میں اہل ِ تشیع کا خون بہا رہا ہے۔تحریک ِ طالبان پاکستان کے دہشت گرد 2008ء سے لے کر اب تک مختلف تخریبی کارروائیوں میں تیس ہزار شہریوں اور تین ہزار کے قریب سیکورٹی کے جوانوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ یہ تحریک پہلے سوات میں منظر ِعام پر آئی ۔ آج یہ تمام وزیرستان ایجنسی میں پھیل چکی ہے۔ لشکر ِ جھنگوی بنیادی طور پرپنجاب کے شہر جھنگ میں اپنی اساس رکھتا ہے لیکن گزشتہ برس سے، جب اس نے پانچ سو سے زیادہ اہل ِ تشیع کا خون بہایا، اس نے اپنی کارروائیوں کا سلسلہ کراچی سے لے کر کوئٹہ تک پھیلا دیا ہے۔

    تحریک ِ طالبان اور لشکر ِ جھنگوی کا طریقہ ٴ کار ایک سا ہے… خودساختہ دھماکہ خیز مواد، خودکش حملے، گھات لگاکر فائرنگ …۔ تحریک ِ طالبان پاکستان بنیادی طور پر پاکستان، اس کے شہریوں، اس کے آئینی، قانونی اور سیاسی نظام، اس کی حکومت اور ریاستی ایجنسیوں کے خلاف جنگ کر رہی ہے ۔ اس کی قوت کا زیادہ تر ارتکاز فاٹا اور خیبر پختونخوا میں ہے لیکن یہ ملک کے دیگرصوبوں میں بھی اپنی خطرناک موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ دوسری طرف لشکر ِ جھنگوی کا ہدف صرف اہل ِ تشیع ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس کی کارروائیاں زیادہ تر سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دیکھنے میں آئی ہیں جبکہ پنجاب، جہاں اس کی بنیادیں ہیں اس نے صرف دس فیصد کارروائیاں کی ہیں۔ ترجیحات میں اس تفاوت کے باوجود تحریک ِ طالبان پاکستان اور لشکر ِ جھنگوی میں اشتراک ِ عمل پایا جاتا ہے اور وہ کارروائیوں کے لئے ایک دوسرے کو ”افرادی اور تکنیکی“ معاونت فراہم کرتے رہتے ہیں جبکہ اس دوران مشرق ِ وسطیٰ اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے آنے والے القاعدہ کے ”ماہرین“ کی فنی خدمات بھی ان کو حاصل رہتی ہیں۔ ان میں مسلکی ہم آہنگی بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ دونوں گروہ نظریاتی طور پر انتہا پسند دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان دونوں کی صفوں میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے جہادی عناصر موجود رہتے ہیں۔ ان دونوں کا ماضی یا حال میں فاٹا یا افغانستان میں سرگرم ِ عمل افغان طالبان سے تعلق رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں کی فعالیت میں پاکستان کے خفیہ اداروں کا کسی نہ کسی سطح پر ہاتھ ہے کیونکہ وہ ان کو کشمیر میں بھارت کو زک پہنچانے اور موجودہ دور میں افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف بر سرپیکار افغان طالبان کی معاونت کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

    اگر ہم اس انتہا پسندی سے نمٹنا چاہتے ہیں تو ان دیوبندی تنظیموں کے اسٹرٹیجک روابط پر غور کرنا ضروری ہے۔ لشکر ِ جھنگوی کے خلاف روایتی دکھاوے کی کارروائیوں کے بجائے سیاسی اتفاق ِ رائے، موثر پولیس فورس،انسداد ِ دہشت گردی کے لئے بنائے گئے موثر قوانین، سول اور ملٹری اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے ساتھ میدان میں اترنا ضروری ہے تاکہ شہریوں کی جان کو محفوظ بنایا جا سکے۔ تاہم فاٹا میں مورچہ بند طالبان سے نمٹنے کیلئے باقاعدہ فوجی کارروائی، جس کو سیاسی اور انتظامی معاونت حاصل ہو، کی ضرورت ہے۔ تاہم آج جبکہ پاکستان لہو رنگ ہے، ان دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے لئے قومی سیاسی سطح پر کوئی اتفاق ِ رائے نہیں پایا جاتا۔ ان کے خلاف جاری فوجی کارروائی کسی واقعے کے رد ِ عمل میں نیم دلی سے کی جاتی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ سست آئینی اور انتظامی مشینری بھی مطلوبہ نتائج کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

    ہمارے ہاں سول ملٹری تعلقات میں موجود مسائل کا اظہار حالیہ دنوں پیش آنے والے دو واقعات سے ہوتاہے۔ فوج تحریک ِ طالبان پاکستان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا چاہتی ہے لیکن وہ عوام اور حکومت کی حمایت کے بغیر ان دیوبندی جنگجوؤں کے خلاف دستوں کو متحرک نہیں کرنا چاہتی لیکن حکومت اس ضمن میں فوج کے ساتھ کھڑی ہونے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ فوجی آپریشن کے لئے اسے عوام سے حمایت نہیں ملے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زیادہ تر لوگ پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اپنانے کے حق میں ہیں کیونکہ ان کو غلط فہمی ہے کہ پاکستانی طالبان کی اندرون ملک کارروائیاں دراصل امریکی ڈرون حملوں کا ردِعمل ہیں۔ اس لئے جب 2014ء میں امریکی اس خطے سے چلے جائیں گے تو یہ تحریک بھی تحلیل ہو جائے گی۔ اس غلط سوچ کو پھیلانے میں عمران خان اور میڈیا کے ایک دھڑے کا بڑا ہاتھ ہے۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ اے این پی جو کہ ایک سیکولر پارٹی ہے اور اس نے ہمیشہ سے ہی ان اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کی بات کی ہے، کوگزشتہ ہفتے پشاور میں ہونے والی ” کل جماعتی کانفرنس“ بلانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ تاہم اس کانفرنس کے شرکاء نے بھی متفقہ طور پر طالبان کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔ گویا سیاسی قیادت ابھی بھی ان کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کے حق میں نہیں ہے کیونکہ پاکستان میں عام انتخابات ہوا چاہتے ہیں اور…کوئی سیاسی جماعت طالبان کو مشتعل کرکے اس کا ہدف بننے کا خطرہ مول لینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس سے زیادہ موقع پرستی کا مظاہرہ دیکھنا محال ہے۔

    لشکر ِ جھنگوی کے خلاف درکارآپریشن کے حوالے سے بھی اسی طرح کا تذبذب پایا جاتا ہے۔ کسی صوبے کے پاس انتظامی سطح پر لشکر سے نمٹنے کے لئے مالی اور افرادی قوت، جو دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کیلئے تربیت یافتہ ہو، موجود نہیں ہے بلکہ ان کے روایتی پولیس کے نظام کے پاس موثر تفتیش کی سہولت بھی موجود نہیں ہے چنانچہ پنجاب پولیس اور یہاں کے سیاست دانوں نے لشکر کی کارروائیوں سے اغماض برتنے کا طریقہ اپنایا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور لشکر ِ جھنگوی کے حامیوں کے درمیان سیاسی مفاہمت بھی اس حد تک پائی جاتی ہے کہ وہ کم از کم چالیس حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی انتخابی حمایت کریں گے اور یہ کہ اس کے سیاسی قائدین کو ہدف نہیں بنایا جائے گا۔

  • دیوبندی بمقابلہ تکفیری

    علی شیرازی

    مولانا فضل الرحمن پر ہونے والے حالیہ خودکش حملے اور اس سے بھی پہلے مولانا حسن جان کی شہادت، رائج دیوبندی علماء اور تکفیری جہادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی چپقلش کا شاخسانہ ہے، بلکہ اگر اس کو ایک بڑے اُفق کی چھوٹی سی تصویر کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا۔ تکفیری عناصر کون ہیں، دیوبندی علماء کلامی حوالے سے کس مکتب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے آپسی اختلاف کیا ہیں، یہ تمام ابحاث کسی اور وقت کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔

    اگر پاکستان میں موجودہ “جہادی مرکب” کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اس وقت یہ “جہادی مرکب” دو اہم عناصر پر مشتمل ہے۔ پہلا عنصر “القاعدہ اور عرب مجاہدین” ہیں، جو جہاد کے لیے ایک وسیع میدان کی تلاش میں افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آئے۔ جبکہ دوسرا عنصر “پاکستان کی جہادی تنظیمیں اور جوان” ہیں۔ اول الذکر تکفیری، جبکہ آخر الذکر دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔

    افغانستان پر روس کے حملے کے بعد ان دونوں عناصر کے درمیان تعلقات بڑھے، القاعدہ اور عرب مجاہدین پاکستانی دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی جہادی تنظیموں کو نہ صرف مالی امداد فراہم کرتے بلکہ ٹریننگ کیمپس بھی یہی لوگ چلاتے، انہی ٹریننگ کیمپس میں جسمانی تربیت کے ساتھ ساتھ فکری تربیت کا بھی انتظام ہوتا۔ دیوبندی جہادی آرگنائزیشنز جیسے جہاد اسلامی، حرکت المجاہدین، حرکت الانصار، جیش محمد وغیرہ پورے پاکستان سے نوجوانوں کو ڈھونڈ کر ان معسکروں میں پہنچاتیں۔ جہاں پر پورا تربیتی پروگرام انہی تکفیری تفکر کے حامل عرب مجاہدین کے پاس ہوتا۔ تکفیری عناصر کے زیر اہتمام چلنے والے ٹریننگ کیمپس میں ان نوجوانوں کو دارالکفر اور دارالسلام کے تکفیری تفکر کے مطابق معنی بتائے جاتے۔ “تترس” جیسی جہادی فقہی اصطلاحات کے ذریعے، خودکش حملوں میں بے گناہ جانی و مالی نقصان کی توجیہہ کی جاتی، جب ایک نوجوان ان ٹریننگ کیمپس اور معسکروں میں آتا تو دیوبندی ہوتا لیکن جب وہ تین ماہ یا سال کی تربیت مکمل کر کے واپس پلٹتا تو فکری لحاظ سے تکفیری بن چکا ہوتا، اگرچہ فقہی حوالے سے وہ حنفی ہی رہتا۔

    پاکستان میں موجودہ تکفیری گروپس، عرب مجاہدین کی سرپرستی میں ایسے ہی افراد پر مشتمل ہیں، جو انہی دیوبند جہادی تحریکوں کی ریکروٹنگ کا نتیجہ ہیں۔ نائن الیون کے بعد اس متشدد مزاج تکفیری فکر نے پاکستان میں اپنا رنگ دیکھانا شروع کیا۔ علماء دیوبند کو یہ پوری گیم سمجھنے کے لیے ایک لمبا عرصہ لگا۔ لیکن جب یہ بات سمجھ میں آئی تو پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا کیونکہ یہ تکفیری گروپس اپنے جہادی نظریے میں علماء دیوبند سے شدید مخالفت رکھتے تھے۔

    دیوبندی علماء نے پہلے مرحلے میں ان تکفیری جہادی گروپ سے الگ ہونا شروع کیا۔ ایک بڑی تعداد میں ایسے علماء کے نام لیے جا سکتے ہیں جو انتہائی روشن جہادی بیک گراونڈ رکھتے تھے لیکن اب ان جہادی تکفیری گروپس سے الگ ہو چکے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ان کی حمایت سے ہاتھ اُٹھا لیا، وفاق المدارس العربیہ سے لیکر سابقہ جہادی بیک گروانڈ رکھنے والا الرشید ٹرسٹ تک، جیش محمد کے امیر مولانا مسعود اظہر سے لیکر حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمن خلیل تک، علماء میں مفتی تقی عثمانی و رفیع عثمانی سے لیکر مفتی نعیم تک سبھی خاموش ہیں یا اپنے کردار سے ایسی تکفیری جہادی تحریکوں کی نفی کر رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ نے ہمیشہ ایسی تکفیری طالبانی تحریکوں کی نفی کی ہے۔ لال مسجد کے واقعہ میں وفاق المدارس العربیہ کا کردار انتہائی روشن رہا، اسی وجہ سے تکفیری عناصر وفاق المدارس العربیہ سے اپنے وفاق کو الگ کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ الرشید ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والا اخبار “روزنامہ اسلام” پاک فوج کے مقابلے میں مرنے والے “تحریک طالبان” کے تکفیری افراد کو ہمیشہ “ہلاک شدگان” ہی لکھتا ہے۔ یہ صرف خبر نہیں، بلکہ اخبار کی جانب سے موقف کا اظہار بھی ہے۔

    ابھی تیسرا مرحلہ شروع ہو چکا ہے یا شروع ہونے کو ہے جس میں ان تکفیری عناصر اور گروپس کے خلاف دیوبند کی خاموشی ٹوٹتی نظر آ رہی ہے کیونکہ خاموشی کا توڑنا خود دیوبندی مسلک کی بقا کے لیے بے حد ضروری ہے۔ دیوبندیت کو تکفیریت کے خلاف اپنی حدبندی کرنی پڑے گی، تاکہ تاریخ طالبان اور تکفیریوں کے سفاک جرائم دیوبندیت کے زمرے میں نہ لکھے۔ اس تلخ حقیقت کا خود دیوبندی علماء کو پہلے سے بیشتر احساس ہے۔

    تکفیریوں سے اظہار برائت کرتے ہوئے قرآن اکیڈمی ماڈل ٹاون لاہور کے منتظم اعلی دیو بند عالم دین حافظ محمد زبیر “الشریعہ” میگزین نومبر دسمبر 2008ء کے شمارے میں یوں لکھتے ہیں۔

    “ہماری رائے کے مطابق یہ تکفیری ٹولہ امت مسلمہ کے مسائل حل کرنے کی بجائے بڑھا رہا ہے۔ ٹینشن، فرسٹریشن اور ڈیپریشن میں مبتلا اس قتالی تحریک کو سوئی ہوئی امت کو جگانے کا بس ایک ہی طریقہ نظر آتا ہے کہ ان سب کو باہمی جنگ و جدال میں جھونک دو۔” تھوڑا سا آگے حافظ محمد زبیر صاحب، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی جانب سے ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ “آخری زمانے میں ایک جماعت ایسی ہو گی جو کہ نوجوانوں اور جذباتی قسم کے احمقوں پر مشتمل ہو گی وہ قرآن سے بہت زیادہ استدلال کریں گے اور اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے پس یہ جہاں ملیں تم ان کو قتل کرو کیونکہ جس نے ان کو قتل کیا اس کے لیے قیامت کے دن اجر ہو گا”

    صحیح بخاری، “کتاب فضائل القرآن، باب اثم من رای بقراء القران اوتا کل بہ”

    ماہنامہ “الصیانہ” لاہور میں جامعہ الاسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد زاہد اپنے کالم “موجودہ پر تشدد تحریکیں اور دیوبندی فکر و مزاج” میں ان تکفیری عناصر کے خلاف خاموشی توڑنے کے متعلق لکھتے ہیں

    ” دیوبندی حلقے کی قیادت چاہے وہ سیاسی قیادت ہو، مدارس اور وفاق کی قیادت ہو، اساتذہ کرام ہوں، دینی صحافت سے وابستہ حضرات ہوں، اُن پر وقت نے بہت بڑی ذمہ داری عائد کر دی ہے۔ وہ ذمہ داری امریکا، حکومت وقت اور موجودہ نظام کو گالیاں دینے کی نہیں۔ یہ کام کتنا ہی مستحسن سہی، اتنا مشکل نہیں ہے جتنا اپنوں سے اگر غلطیاں ہو رہی ہوں، ان کے بارے میں راہنمائی کرنا، یہ مشکل اور صبر و عزیمت کا متقاضی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصلحت پسندی کے خول سے نکل کر یہ کام اب دیوبندی قیادت کو کرنا ہی پڑے گا۔ اب تک بھی بہت تاخیر ہو چکی ہے، مزید تاخیر مزید نقصان کا باعث ہو گی”۔

    دیوبندیت کی جانب سے اس ٹوٹتی خاموشی نے دیوبندیت کو تکفیریت کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے معروف دیوبندی عالم دین مولانا حسن جان نے انتہائی دلیری کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے خلاف فتوی دیا، جس کے جواب میں مولانا حسن جان کو تکفیریوں نے شہید کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن کو بھی تکفیری ازم کے خلاف بولنے اور تکفیری ایجنڈے پر نہ چلنے کے جرم میں خودکش دھماکوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق لال مسجد کے واقعہ میں منافقانہ کردار کے الزام میں عثمانی برادران رفیع عثمانی و تقی عثمانی، کالعدم جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر، حرکت المجاہدین کے امیر فضل الرحمن خلیل سمیت کئی جہادی کمانڈروں کے خلاف بھی تکفیری عناصر نے موت کے پروانہ جاری کیے ہوئے ہیں۔
    نام نہاد تکفیری جہادی گروپس اب شیعہ، بریلوی دشمنی کے بعد اگلے مرحلے دیوبندی دشمنی میں داخل ہو چکے ہیں۔

    قسط دوم:۔

    تکفیریوں نے دیوبندیت کو اپنا شکار صرف جہادی معسکروں میں ہی نہیں بنایا بلکہ “تکفیریوں” نے دیوبندیت پر اپنے عقائد و نظریات ٹھونسے کے لیے اُن کے تبلیغی و فلاحی اداروں میں بھی نفوذ کیا۔ جیسا کہ ہم اپنے پچھلے کالم میں بیان کر چکے ہیں کہ دیوبندیت اور تکفیریت کے درمیان “جہادی روابط” افغان جہاد کے دوران قائم ہوئے۔ جہادی اسٹرکچر کو سپورٹ کرنے کے نام پر عرب تکفیریوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ میں فلاحی و تبلیغی اداروں کا ایک جال بچھا دیا۔ اُن میں سے ایک تبلیغی و فلاحی ادارہ “اشاعت توحید و السّنہ” بھی تھا۔

    “اشاعت توحید و السّنۃ” کی بنیادیں دیوبند عالم دین حسین علی الوانی پنجائی اور شیخ القرآن مولانا محمد طاہر نے رکھیں، مولانا محمد طاہر دیوبندی مدارس سے فارغ التحصیل تھے، 1938ء میں مکہ گئے اور کچھ عرصہ وہیں سکونت اختیار کی اور وہیں سے سعودی وہابی تفکر سے متاثر ہوئے، واپسی پر سعودی علماء کے تعاون سے انہوں نے “اشاعت توحید و السّنہ” کی بنیاد رکھی۔ بعد میں مولانا غلام اللہ خان، سید عنایت اللہ شاہ بخاری، قاضی نور محمد، شیخ الحدیث مولانا قاضی شمس الدین، شیخ التفسیر مولانا محمد امیر بندیالوی وغیرہ نے اس جماعت کو فکری و نظریاتی بنیادیں فراہم کیں، ان میں اکثریت اُن دیوبند علماء کی تھی جو سعودی عرب سے اپنی تعلیم مکمل کر کے آئے، اور دیوبندی ہونے کے باوجود وہابی و تکفیری نظریات سے زیادہ متاثر تھے۔

    ادارہ اشاعت التوحید و السّنۃ اپنی ابتداء سے ہی رائج علماء دیوبند کے فکری و علمی مذاق کے برخلاف وہابیت کی طرف مائل تھا۔ افغان جہاد کے دوران وہابی تکفیری مجاہدین کے دیوبندی علماء کے ساتھ روابط اور سعودی شہزادوں، عرب بزنس ٹائیکونز کی مالی معاونت نے “اشاعت توحید و السّنۃ” اور اس جیسے دیگر تکفیری عقائد رکھنے والے اداروں کو مضبوط کیا۔ ان تبلیغی و فلاحی اداروں کا کردار دیوبندیت کے اندر ایک طرح سے ففتھ کالم کا سا تھا۔ یہ گھر کے ایسے بھیدی تھے جو سعودی تکفیری سوچ کو دن بدن دیوبندیت میں راسخ کرنے پر لگے ہوئے تھے۔ افغان جہاد کے دوران سعودی اور تکفیری مالی معاونت سے “اشاعت توحید و السّنۃ” نے اپنی جڑیں خیبر پختونخواہ میں مضبوط کیں۔ خیبر پختونخواہ اور اُس سے ملحقہ فاٹا کی سات ایجنسیوں میں اپنا تبلیغی و فلاحی اسٹرکچر مضبوط بنانے کے بعد اس ادارے نے پنجاب، سندھ اور بلوچستان حتٰی ایران اور افغانستان کا بھی رخ کیا۔ “اشاعت توحید والسّنہ” کے ان تکفیری و وہابی عقائد و نظریات سے جب بڑی تعداد میں لوگوں نے متاثر ہونا شروع کیا تو پھر علماء دیوبند کو ہوش آیا اور انہوں نے اپنے اندر سے پھوٹنے والے اس تکفیری فتنے کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اشاعت توحید و السّنۃ اور علماء دیوبند کے درمیان اس وقت پنجاب و سندھ میں گھمسان کی عقیدتی و نظریاتی جنگ جاری ہے۔

    “حیات النبی ص” پر بحث اس ساری جنگ میں مرکزی کردار اختیار کیے ہوئے ہے۔ علماء دیوبند کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے انتقال کے بعد اپنی قبر مبارک میں اپنے جسد خاکی کے ساتھ زندہ ہیں۔ جبکہ اس کے برخلاف اشاعت توحید و السّنۃ و تکفیری تفکر کے حامل علماء کا نظریہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد اب اُن کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں رہا، اُن کا جسد مبارک نعوذ باللہ مٹی میں مل چکا ہے۔ اول الذکر اپنے آپ کو “حیاتی” کہتے ہیں جبکہ آخر الذکر “مماتی” کہلاتے ہیں۔

    تکفیری تفکر رکھنے والے دیوبند علماء اور روایتی دیوبند علماء کے درمیان حیات النبی ص کے علاوہ بھی مندرجہ ذیل عقائدی اختلافات پائے جاتے ہیں۔

    ۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک پر کھڑے ہو کر آپ سے استشفاع جائز ہے یا نہیں؟ دیوبند جائز کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر حرمت کے قائل ہیں۔

    ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے استغاثہ کیا جا سکتا ہے؟ اور آپ کے توسل سے دعا مستحسن ہے یا نہیں؟ دیوبند علماء استغاثہ اور توسل کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر رکھنے والے علماء اس کو جائز نہیں مانتے۔

    ۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر اقدس میں ہماری جانب سے پڑھا گیا درود و سلام سنتے ہیں؟ روایتی دیوبند علماء اس بات کے قائل ہیں کہ نبی اکرم ص اپنے انتقال کے بعد بھی سنتے ہیں اور اس بات کے بھی قائل ہیں کہ فرشتے ہمارا سلام نبی اکرم ص کی قبر اقدس میں لے جاتے ہیں۔ جبکہ تکفیری “سماع موتی” کے قائل نہیں۔

    ۔ کیا نبی اکرم ص کی قبر اقدس کی زیارت کے لیے سفر کی نیت کرنا مستحسن ہے؟ علماء دیوبند مستحسن کے قائل ہیں جبکہ تکفیری تفکر سے متاثر علماء ایسے سفر کو حرام شمار کرتے ہیں۔

    ۔ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نعت پڑھی جا سکتی ہے؟ علماء دیوبند ایسی نعت جس میں شرک آمیز غلو شامل نہ ہو، پڑھنا جائز سمجھتے ہیں جبکہ تکفیری اس کو حرام شمار کرتے ہیں۔

    دیوبند میں تکفیری تفکر سے متاثر علماء کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے لیکن ان کو سعودی اور مشرق وسطٰی کے شہزادوں اور علماء کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ پیسے کی فروانی کی وجہ سے یہ لوگ بڑے پیمانے پر اپنے تبلیغی و فلاحی پراجیکٹس چلا رہے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کو تکفیری عقائد سے شدید متاثر کرنے کے بعد ان لوگوں نے پنجاب، سندھ، بلوچستان، زاہدان، چاہ بہار وغیرہ میں بھی قدم جمانے شروع کیے ہوئے ہیں۔ ان کو صرف پنجاب اور سندھ میں روایتی دیوبند علماء کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔
    علماء دیوبند کی اپنے اندر سے پھوٹنے والے فتنہ تکفیریت و وہابیت کے خلاف حالیہ کوششوں کو دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ علماء ناصرف بیدار ہیں بلکہ اس فتنے کے پس پشت کارفرما سعودی و وہابی سازشوں کو بھی سمجھ رہے ہیں۔

    قسط سوم:

    دیوبندی علماء اور تکفیری تفکر کے درمیان تضادات لال مسجد کے واقعہ کے دوران کھل کر سامنے آئے۔ رائج علمائے دیوبند کا فکر و مزاج لال مسجد کی قتالی اور تکفیری تحریک سے بہت ہٹ کر تھا۔ اسی علمی مذاق کی پختگی کے باعث اکابرین علمائے دیوبند نہ تو اس تحریک کا ایندھن بنے اور نہ ہی انہوں نے اس کو سراہا، بلکہ آخر تک لال مسجد کے سربراہان سے اظہار برائت کرتے رہے۔ اکابرین علمائے دیوبند نے 18، 19 اپریل 2007ء کو وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد اپنے فکر و مزاج اور لال مسجد و جامعہ حفصہ تحریک سے اظہار لاتعلقی کا اعلامیہ یوں جاری کیا۔

    “وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلسِ عاملہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی عملداری، اسلامی اقدار و روایات کے فروغ اور منکرات و فواحش کے سدّباب کے لئے پُرامن اور دستوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور جدوجہد کے کسی ایسے طریقہ کو درست تصور نہیں کرتی، جس میں حکومت کے ساتھ براہِ راست تصادم، عوام پر زبردستی یا قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوئی شکل پائی جاتی ہو”
    اسی اعلامیہ میں مزید بتایا گیا کہ

    “جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات اور لال مسجد کے منتظمین نے جو طریقِہ کار اختیار کیا ہے اسے یہ اجلاس درست نہیں سمجھتا اور اس کے لئے نہ صرف وفاق المدارس العربیہ کی اعلیٰ قیادت خود اسلام آباد جا کر متعلقہ حضرات سے متعدد بار بات چیت کر چکی ہے، بلکہ “وفاق” کے فیصلہ اور مؤقف سے انحراف کے باعث جامعہ حفصہ کا “وفاق” کے ساتھ الحاق بھی ختم کیا جا چکا ہے۔ یہ اجلاس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے مؤقف اور فیصلہ سے جامعہ اسلام آباد اور لال مسجد کے منتظمین کے اس انحراف کو افسوس ناک قرار دیتا ہے اور ان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس پر نظرِثانی کرتے ہوئے ملک کی اعلیٰ ترین علمی و دینی قیادت کی سرپرستی میں واپس آجائیں”

    جاری کردہ “مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان”
    منعقدہ 29/ربیع الاول و یکم ربیع الثانی 1428ھ مطابق 18‘19/اپریل 2007ء

    جیسے کہ بعد کے واقعات واضح کرتے ہیں کہ “وفاق المدارس العربیہ” کی یہ اپیل رائیگاں گئی، لال مسجد کے بزرگان کی رائج دیوبندی علماء کے فکر و مزاج سے بغاوت انہیں مہنگی پڑی، مولانا عبدالعزیز کی ذلت آمیز گرفتاری اور عبدالرشید غازی کی ہلاکت کے بعد اگرچہ نچلے درجے کے دیوبندی طبقات، تکفیری سوچ سے متاثرہ افغان ٹرینڈ بوائز اور مدارس کے طلاب میں اشتعال پایا جاتا تھا، لیکن سمجھدار اور حالات سے آگاہ دیوبند اکابرین اس تکفیری تفکر کی بغاوت کو خوب سمجھ رہے تھے۔

    7اگست 2007ء کو ملتان میں وفاق المدارس کی مجلس عاملہ کا لال مسجد کے واقعہ کے بعد اجلاس منعقد ہوا، جس میں مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق سمیت دیگر علماء اور وفاق المدارس العربیہ کے ممبران کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کی تعداد 500 کے لگ بھگ تھی، یہ اجلاس دیوبند کے اندر پائے جانے والے تکفیری خلفشار کو بہت واضح کرتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جیسے ہی جلسہ شروع ہوا، لال مسجد کے حامی تکفیری تفکر کے حامل افراد نے وفاق المدارس العربیہ کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع کر دی، یہ افراد وفاق المدارس العربیہ کے صدر مولانا سلیم اللہ خان، سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری، مولانا رفیع عثمانی، مولانا زاہدالراشدی وغیرہ سے لال مسجد کے واقعہ میں منفی کردار ادا کرنے کی وجہ سے استعفٰی لے کر وفاق کے نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے رہے۔ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں نیا “وفاق المدارس لال مسجد” بنانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔

    اس اجلاس میں رائج دیوبندی علماء اور تکفیری تفکر کے حامل افراد کے درمیان بات گالم گلوچ سے بڑھ کر تھپڑوں اور داڑھی نوچنے تک بھی پہنچی۔ اسی اجلاس میں جمعیت علماء اسلام ف سے تعلق رکھنے والے مولانا زرگل کو لال مسجد کے بزرگان پر تنقید کرنے کے جرم میں لال مسجد حامی گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا اور موت کی دھمکیاں بھی دیں۔

    اس اجلاس میں “وفاق المدارس العربیہ” کے اکابرین نے طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز اُن خطوط کا بھی ذکر کیا، جس میں تکفیری طالبان راہنماوں نے جنوبی وزیرستان آپریشن پر خاموشی اور لال مسجد میں منفی کردار کی وجہ سے وفاق المدارس کے افراد کو دھمکیاں دیں تھیں نیز ان خطوط میں گورنمنٹ کے ساتھ تعلقات پر بھی “وفاق المدارس العربیہ” کو تنبیہ کی گئی تھی۔ بعض ذرائع کے مطابق “وفاق المدارس العربیہ” کی مجلس عاملہ کا اجلاس طالبان کے انہیں دھمکی آمیز خطوط کی وجہ سے بلوایا گیا تھا، جو بعد میں لال مسجد کے تنازعے کی وجہ سے لڑائی جھگڑے کا شکار ہو کر ختم ہو گیا۔

    “وفاق المدارس لال مسجد” کے حامی افراد میں مولانا خلیل سراج ڈیرہ اسماعیل خان، مولانا طاہر اشرفی، مولانا زاہد محمود قاسمی وغیرہ شامل تھے۔ ان افراد کو اکابر علمائے دیوبند میں سے ڈاکٹر شیر محمد اور مولانا سمیع الحق اکوڑہ خٹک کی خاموش حمایت بھی حاصل تھی۔ پچھلے اجلاس کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاق المدارس العربیہ کا اگلا کنٹرولڈ اجلاس 18 اگست 2007ء کو کراچی میں بلایا گیا۔ جہاں پر تکفیری تفکر کے حامل اقلیت کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا گیا۔ چنانچہ یہ اجلاس پرامن منعقد ہوا۔ لیکن “وفاق المدارس العربیہ” کی قیادت اور علمائے دیوبند پر واضح ہو چکا تھا کہ ہمارے اندر “سب اچھا” نہیں ہے۔

    جیسا کہ پچھلے دو کالمز میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ دیوبندیت کے جہادی معسکر ہوں، تبلیغی و فلاحی میدان ہوں یا مدارس، سبھی تکفیری عقائد و نظریات کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ اب علماء و اکابرین دیوبند کے سامنے دو راستے ہیں۔ تکفیریوں کے حملوں کے خوف سے خاموش رہیں اور اس قتالی و تکفیری تحریک کو اپنے جوان اور لخت جگر کھانے دیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ پوری استقامت اور ثابت قدمی سے دیوبندی فکر و مزاج کے مطابق اس تکفیری سوچ کو رد کریں اور اپنے جوانوں، اپنی تنظیموں اور اپنے مدارس کو تکفیریت سے الگ کر لیں۔ ممکن ہے شروع میں نقصان اُٹھانا پڑھے، لیکن دیوبندیت کو اپنی 154 سالہ علمی و اصلاحی تحریک کو بچانے کے لیے یہ قربانی دینا پڑھے گی۔

    پاکستان میں جاری طالبان کی موجودہ قتالی و تکفیری تحریک نے وہ کونسے ایسے جرائم ہیں جو نہیں کئے۔ عوامی مقامات اور بازاروں میں بم دھماکوں سے لیکر لاشوں کو مثلہ کرنے اور گاڑیوں کے پیچھے باندھ کر گھسیٹنے تک، انسانوں کو جانوروں کی طرح سرعام ذبح کرنے سے لیکر بچوں کو خودکش حملہ آور بنا کر بیچنے تک، کیا علماء و اکابرین دیوبند اس بات کے متحمل ہو سکتے ہیں کہ یہ سارے جرائم دیوبند کی اصلاحی و علمی تحریک کے تناظر میں دیکھے جائیں۔ آج اکابرین و علماء دیوبند کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کونسا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اگرچہ اب بھی بہت دیر ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی فیصلہ کرنے کا وقت باقی ہے۔

    http://criticalppp.com/archives/173129