Original Articles Urdu Articles

مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ٹوئٹر پر سر گرمیوں کے بارے میں بی بی سی اردو کی شاہی تاریخ نویسی

51

بی بی سی اردو نے ٹوئٹرپر سر گرم پاکستان مسلم لیگ کی جوان سال رہنما مریم نواز شریف کی تعریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے جوان سال رہنما بلاول بھٹو زرداری کی تعریف و تنقید میں نجم سیٹھی کے دی فرائڈے ٹائمز کے مدیر اور شیری رحمان کے جناح انسٹیٹیوٹ کے ڈائرکٹر رضا رومی کے خیالات کو تجزیے کے طور پر شائع کیا ہے – جناب رضا رومی بیک وقت مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کے علاوہ جماعت اسلامی اور امن کی آشا سے بہترین تعلقات قائم رکھنے کا ہنر جانتے ہیں اور مارٹن لوتھر کنگ اور ڈیسمنڈ ٹو ٹو کے الفاظ میں اخلاقی کشمکش کے حالات میں اپنے نیوٹرل ہونے کی حالت کو برقرار رکھتے ہیں – رومی صاحب اور عنبر شمسی جیسے شاہی مورخین تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/12/131220_bilawal_maryam_twitter_image_zz.shtml

ٹوئٹر کی دنیا میں مریم محتاط ہیں تو بلاول متنازع‘
عنبر شمسی

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
آخری وقت اشاعت: ہفتہ 21 دسمبر 2013

مریم نواز شریف ٹوئٹر پر’عاجزانہ اور خوش اخلاق‘ رویہ رکھتی ہیں: رضا رومی
مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری، دونوں اپنی اپنی جماعتوں کا مستقبل ہیں اور نوجوان طبقے کی توجہ اور ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کی اہمیت مسلمہ ہے۔
دونوں نے برطانیہ کی بہترین یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی ہے اور ان دنوں سیاسی و ترقیاتی مہم چلا رہے ہیں اور اپنی تشہیر کے لیے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خاصے سرگرم ہیں۔

جہاں بھٹو اور شریف خاندانوں کے یہ چشم و چراغ اپنی اپنی جماعتوں کے نظریات کی عکاسی کر رہے ہیں وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ ان کی اپنی پارٹی اور سینیئر قیادت سے علیحدہ کیا پہچان بنتی نظر آ رہی ہے؟
اس بات کا جواب جاننے کے لیے سوشل میڈیا ایک اچھا فورم ہے کیونکہ سیاسی رہنما اور مشہور شخصیات اس کے ذریعے براہِ راست اور اکثر عام لوگوں اور صحافیوں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔
فرض کریں کہ آپ مریم نواز یا بلاول بھٹو کو نہ جانتے ہوں، تو بھی ان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

40سالہ مریم نواز شریف کی ٹوئٹر تصویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی سوچ میں گم ہیں۔
بلاول ڈرتے نہیں، مریم کی ذاتی رائے کم

“پی پی پی کے دیگر رہنما جو کہنے سے ڈرتے ہیں، چاہے وہ اقلیتوں کے حق میں ہو یا طالبان کے خلاف، بلاول
کہنے سے ڈرتے نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بلاول کو نفرت کے پیغام بھی بہت موصول ہوتے ہیں۔ مریم نواز شریف اپنی ذاتی رائے کم ہی دیتی ہیں، وہ اپنے بارے میں لکھی گئی تعریفی ٹویٹس کو دوبارہ ٹوئٹ کرتی ہیں اور پارٹی کے موقف کی حمایت کرتی ہیں۔”
طلعت اسلم

وہ اپنے بارے میں کہتی ہیں: ’اپنے خوابوں اور تمناؤں کا دامن مت چھوڑیں، وزیرِاعظم کے یوتھ پروگرام سے آپ ہر چیلنج کا مقابلہ کر سکیں گے اور آپ اپنی کامیابی کے خود مالک ہوں گے اور ساتھ نون لیگ کی یوتھ لون سکیم کی تشہیر بھی کرتی ہیں۔‘

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مریم نواز شریف ٹوئٹر پر محتاط رہتی ہیں اور صرف کام سے کام رکھتی ہیں۔
انگریزی اخبار دی نیوز کے مدیر طلعت اسلم کہتے ہیں’مریم نواز شریف اپنی ذاتی رائے کم ہی دیتی ہیں، وہ اپنے بارے میں لکھی گئی تعریفی ٹویٹس کو دوبارہ ٹوئٹ کرتی ہیں اور پارٹی کے موقف کی حمایت کرتی ہیں۔‘
تجزیہ نگار رضا رومی کہتے ہیں کہ مریم نواز شریف ٹوئٹر پر’عاجزانہ اور خوش اخلاق‘ رویہ رکھتی ہیں۔
ان کا خیال ہے کہ مردوں کی دنیا میں خاتون سیاست دان کو مردوں سے فاصلہ رکھنا پڑتا ہے جو ایک رکاوٹ بھی ہے، اسی لیے وہ محتاط رہتی ہیں۔’ایک خاتون سیاست دان ہونے کی وجہ سے وہ اپنی شخصیت کھل کر سامنے نہیں لا سکتیں۔‘

بلاول بھٹو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنی اور والدہ بینظیر بھٹو کے ہمراہ اپنی تصویر لگائی ہوئی ہے۔
اس کے برعکس بلاول بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ متنازع ہیں اور ’اشتعال انگیز‘ بھی۔ بلاول بھٹو نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اپنی اور والدہ بینظیر بھٹو کے ہمراہ اپنی تصویر لگائی ہوئی ہے۔

اپنے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’میں شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہوں، پیپلز پارٹی کا سرپرستِ اعلیٰ ہوں، غربت مٹانے، انسانی اور خواتین کے حقوق کا حمایتی ہوں۔ مذاق خود ہی کرتا ہوں۔‘

آج کل وہ سندھی ثقافت کے میلے کے انتظام میں مصروف ہیں جس کی وہ ٹوئٹر پر تشہیر کر رہے ہیں۔

رضا رومی کہتے ہیں کہ ٹوئٹر پر ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بلاول نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہے، ان ہی میں سے ایک ہیں۔’پچیس سالہ بلاول پاپ کلچر کی مثالیں دیتے ہیں، مذاق کرتے ہیں، اور ان کی رائے کو بہت ٹویٹ کیا جاتا ہے۔‘
طلعت اسلم کہتے ہیں کہ’پی پی پی کے دیگر رہنما جو کہنے سے ڈرتے ہیں، چاہے وہ اقلیتوں کے حق میں ہو یا طالبان کے خلاف، بلاول کہنے سے ڈرتے نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بلاول کو بہت سے نفرت انگیز پیغامات بھی موصول ہوتے ہیں۔‘
“ٹوئٹر پر ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بلاول نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر رہے، ان ہی میں سے ایک ہیں۔پچیس سالہ بلاول پاپ کلچر کی مثالیں دیتے ہیں، مذاق کرتے ہیں، اور ان کی رائے کو بہت ٹوئٹ کیا جاتا ہے”
رضا رومی

ٹوئٹر پر مریم نواز شریف کے اس وقت دو لاکھ سے زیادہ جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ایک لاکھ سے زیادہ فالوئرز ہیں۔

تاہم بلاول بھٹو اس سال ٹوئٹر پر زیادہ متحرک نظر آئے ہیں۔ مریم نواز شریف کی سب سے مقبول ٹویٹ سات مئی 2013 کی ہے جس میں انھوں نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی صحت یابی کی دعا کی، جسے 188 بار دوبارہ ٹویٹ کیا گیا جبکہ بلاول بھٹو زرداری کی سب سے مقبول ٹویٹ 444 مرتبہ دوبارہ ٹویٹ کی گئی۔
انھوں نے کہا تھا: ’پیارے برگر! معاف کیجیے کہ ہمیں شدت پسندوں کو پکڑنے کے لیے سکائپ، وائبر اور واٹس ایپ بند کرنا پڑ رہا ہے۔ تین ماہ کے لیے ایس ایم ایس کیجیے۔‘

اپنی جماعتوں کے لیے ان دونوں کی ٹوئٹر پر موجودگی کتنی اہم ہے؟

مریم نواز شریف کے اس وقت دو لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ایک لاکھ سے زیادہ ہیں
طلعت اسلم کہتے ہیں کہ مئی کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی سوشل میڈیا سے غائب ہو گئی تھی۔
’بلاول بھٹو کی ایسی شخصیت ہے کہ ان کے بارے میں لوگوں کی رائے بہت شدید ہے، یا ان سے نفرت کرتے ہیں، یا پسند۔ مگر انہیں نظر انداز تو نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ مریم نواز شریف نون لیگ کی سینیئر قیادت سے مختلف نظر آتی ہیں۔‘

رضا رومی کہتے ہیں’مریم نواز شریف سیاست میں جدت لائی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تہا کہ پنجاب کے شہری اور سوؤنگ ووٹرز کے لیے نون لیگ کا مقابلہ پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتہ ہے، جنھوں نے 2013 کے انتخابات میں سوشل میڈیا کا بہت مؤثر استعمال کیا تہا۔
’ٹوئٹر بااثر لوگوں، شہری آبادی اور بین الاقوامی میڈیا تک رسائی کا ذریعہ ہے۔‘

بلاول نے ٹوئٹر پر سوال کے جواب میں یہ تصویر بھیجی

خیال رہے کہ ان دونوں رہنماؤں، خاص کر بلاول بھٹو زرداری کو شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کی وجہ سے عوام سے براہ راست رابطے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

کئی لوگ سوال کرتے ہیں کہ سیاست دان کیا اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ خود ہی چلاتے ہیں یا نہیں۔اس کا جواب جب مریم نواز شریف سے ٹوئٹر پر پوچھا گیا تو جواب نہیں آیا۔
تاہم بلاول نے لکھا:’میں دوسرے سیاست دانوں کی طرح ٹوئٹر نہیں استعمال کر رہا۔ میں منہ پھٹ ہوں اور حقیقت پسند۔ میں سوشل میڈیا کو سوشل میڈیا کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔ ویسے بھی کوئی بھی پی آر ٹیم اتنی حاضر جواب نہیں ہو سکتی۔‘

اور اس بات کا ثبوت دینے کے لیے کہ ٹوئٹر وہ خود استعمال کرتے ہیں انھوں نے اپنی تصویر بھی بھیجی۔

=================

خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟
=================

زبانیں، دل، ارادے، فیصلے، جانبازیاں، نعرے
یہ آئے دن کے ہنگامے، یہ رنگا رنگ تقریریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟

صحافت، شاعری، تنقید، علم و فن، کتب خانے
قلم کے معجزے، فکرو نظر کی شوخ تصویریں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟

اذانیں، سنکھ، حجرے، پاٹھ شالے، داڑھیاں، قشقے
یہ لمبی لمبی تسبیحیں، یہ موٹی موٹی مالائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟

علی الاعلان ہوتے ہیں یہاں سودے ضمیروں کے
یہ وہ بازار ہے جس میں فرشتے آ کے بک جائیں
یہاں ہر چیز بکتی ہے
خریدارو! بتاؤ کیا خریدو گے؟