Featured Original Articles Urdu Articles

دیوبندی علما کو سپاہ صحابہ اور طالبان کے دہشت گردوں کے بارے میں غیرمشروط اورغیر مبہم پالیسی اختیار کرنی چاہیے – راجہ ناصرعباس

nasir

English version: Disown banned terrorist outfits: Raja Nasir Abbas’s sane advice to Deobandi clerics – by Ahad Hussain – https://lubpak.net/archives/297939

تعمیر پاکستان نیوز رپورٹ – مجلس وحدت المسلمین کے رہنما راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تکفیری دہشت گردوں کا نشانہ صرف شیعہ مسلمان نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں سنی بریلوی، احمدی، اعتدال پسند دیوبندی و اہلحدیث اور مسیحی بھی طالبان اور سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیں

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ تکفیری خوارج کی دہشت گردی کو سنی شیعہ فرقہ واریت کا نام دینا غلط ہے کیونکہ پاکستان میں سنی شیعہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے ساتھ مل کر رہتے ہیں جس کا ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کو رنج ہے

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے، آنے والا وقت پاکستان کے لئے مزید مشکل نظر آرہا ہے – اب دیوبندی علما کو فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کالعدم سپاہ صحابہ نام نہاد اہلسنت والجماعت اور طالبان کے لوگ دیوبندی ہیں یا تکفیری خوارج – اب دیوبندی اکابرین گو مگو کی کیفیت سے باہر نکل کر صاف اعلان کریں کہ سپاہ صحابہ اور طالبان کے تکفیری خوارج دہشت گردوں سے مسلک دیوبند کا کوئی تعلق نہیں

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ جس طرح اہلسنت کے بریلوی مسلک کے زعما نے نشاندھی کر کے سپاہ صحابہ اور طالبان کے تکفیری خوارجی کی مذمت کی ہے اسی طرح کی غیر مشروط اور غیر مبہم مذمت دیوبندی مسلک کے اکابرین کی بھی ذمہ داری ہے – علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ طالبان، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی اپنے آپ کو دیوبندی کہ کر دہشتگردی کرتے ہیں، دیوبندی علما کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ یہ لوگ ان کے ہیں یا نہیں.

راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک میں کوئی فرقہ واریت کا مسئلہ نہیں، اسلام دشمن عناصر بیرونی ایجنڈے کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ حکومت نے طالبان سےتوجہ ہٹاکر فرقہ واریت کی طرف موڑ دی ہے. راجہ ناصر عباس نے کہا کہ پنجاب میں ہونے والے دہشتگردی میں ملوث کوئی قاتل نہیں پکڑاگیا، نہ ہی ان کی گرفتاری کیلئے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی گئی توملک بچانا مشکل ہو جائے گاان کا کہنا تھا کہ وہ قانون ہاتھ میں نہیں لیں گے لیکن اپنےحق سے بھی پیچھےنہیں ہٹیں گے

راجہ ناصر عباس نے کہا ک دیوبندی علما کے لئے بہت بڑا امتحان ہے کہ ایک طبقہ جس نے ہاتھوں میں اسلحہ اٹھایا ہے طالبان کی شکل میں، لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ کی شکل میں، جو دیوبندی مکتب کا نام استعمال کر رہے ہیں اس خارجی دہشت گرد طبقے سے بغیر کسی تاویل کے، بیزاری اور مذمت کا اعلان کریں – یہ لوگ مذھب کا نام استعمال کر کے پولیس، فوج، میڈیا اور عام لوگوں کو قتل کر رہے ہیں ان کی حرکتوں سے اسلام بدنام ہورہا ہے – ان دہشت گردوں کی جڑیں ایک مسلک میں ہیں اگر شیعہ، سنی بریلوی وغیرہ کے خلاف کفر کے فتوے نہ دیے جاتے، جب یہ پاک فوج اور جمہوری حکومت کو مرتد اور واجب القتل قرار دیتے ہیں، جب یہ پشاور میں ہمارے مسیحی بھائیوں کے قتل کو شرعی طور پر جائز قرار دیتے ہیں تو ان کے مسلک کے علما بڑھ کی ان کی مذمت کرتے – افسوس ایسا نہیں ہوا – مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دیوبندی مسلک ان دہشت گردوں کی وجہ سے مشکل میں جانے والا ہے جو امن پسند دیونندی علماء کی بات نہیں سنتے اور علماء کی خاموشی سے غلط فائدہ اٹھاتے ہیں

ud

31

32

3312456