Featured Original Articles Urdu Articles

لال مسجد کے تکفیری دیوبندی مفتی احسان کے ہاتھوں 5 ہزار لوگ 5۔6 ارب سے محروم

تیری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
تیری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
تیری صراحی سے قطرہ قطرہ نئے حوادث ٹپک رہے ہیں
رؤف کلاسراء کو تبلیغی جماعت،لال مسجد ،دیوبندی تکفیری گروہ اور فوج و ایجنسیوں کے اندر بیٹھے لوگوں کے درمیان تعلق کی کہانی کو بھی کھل کردیان کرنا چاہئیے
رؤف کلاسراء کو تبلیغی جماعت،لال مسجد ،دیوبندی تکفیری گروہ اور فوج و ایجنسیوں کے اندر بیٹھے لوگوں کے درمیان تعلق کی کہانی کو بھی بیان کرنا چاہئیے

غریبوں کی بچتوں کا لٹیرا مفتی احسان

جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ہیں اسلام آباد میں ناجائز قبضہ کرکے بنائی جانے والی لال مسجد اور اس کے ملحقات سے نئی نئی کہانیاں جنم لے رہی ہیں-اب کہ جو کہانی سامنے آئی ہے وہ لال مسجد کے مفتی اور تبلیغی جماعت کے امیر مولانا طارق جمیل کے معتمد خاص مفتی احسان کی جانب سے 8000لوگوں سے 5۔6 ارب روپے لوٹنے کی داستان پر مبنی ہے-ان آٹھ ہزار لوگوں میں 5000 ہزار سے زائد لوگ نچلے متوسط اور غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جمع پونجی ایک ایسے آدمی کے حوالے کردی تھی جو دیوبندی مکتبہ فکر کی تبلغی جماعت کا اس قدر سرکردہ آدمی تھا کہ اس کو مولانا طارق جمیل کی سرپرستی حاصل تھی-مولانا طارق جمیل نے بھی اس مفتی کے حوالے پیسے کئے تھے مگر وہ پیسے کسی بھی راستے سے مولانا طارق جمیل کو واپس مل گئے-ویسے ایک عامرہ احسان نام کی خاتون نوائے وقت کے ادارتی صفحات پر کالم لکھتی رہتی ہیں جس میں وہ دینداری ،صاف گوئی ،دیانت داری کی قدروں کا زکر کرکے بار بار شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی جماعت پر تبراء کیا کرتی ہیں میں ان کے ایک تبراء لیے کالم کا انتظار کررہا ہوں جس میں وہ اپنے تبراء کا رخ مفتی احسان کی جانب کریں اور مولانا طارق جمیل کی طرف کریں تو میں مان لوں گا کہ وہ لوگوں کے چہرے اور ان کے عقیدے کو دیکھ کر تنقید کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کرتیں-

رؤف کلاسرا نے اپنی انوسٹی گیشن میں بتایا ہے کہ مفتی احسان نے جہاں غریبوں کو سبز باغ دکھاکر پیسے ہی نہیں بٹورے بلکہ اس نے فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کئی افسران کی رقوم پر بھی ہاتھ صاف کیا-اس سٹوری کے بین السطور میں ہمیں یہ بات بھی پتہ لگتی ہے کہ پاکستان کی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے اندر بہت سارے افسران کے لال مسجد اور تبلیغی جماعت والوں سے کتنے گہرے رشتے اور تعلقات موجود ہیں-

نیب نے 5۔6 ارب روپے میں سے چند کروڑ کی ریکوری مفتی احسان سے کی اور باقی کی رقم ایک افغانی کے زریعےسے تھائی لینڈ چلی گئی-وہاں سے یہ پاکستان کی دھشت گرد دیوبندی تکفیری جماعتوں اور گروپوں تک کیسے پہنچے گی اس رخ پر تو کسی کو تفتیشش کرنے نہیں دی گئی-مفتی احسان اب اڈیالہ جیل میں ہیں-جبکہ ہزاروں غریب گھروں کا مستقبل ایک تبلیغی-تکفیری دیوبندی مولوی کے ہاتھوں تاریک ہوگیا-

mudaraba-story

About the author

Aamir Hussaini

1 Comment

Click here to post a comment
  • Red Mosque and Redlight areas in Islamabad have been enjoying the same connections in establishment. No wonder!!!!