اداریہ: تعمیر پاکستان ویب سائٹ مجبور و مظلوم عوام کے حق میں آواز اٹھاتی رہے گی

lubp-banner20131

الیگزا ویب انفارمیشن کمپنی نے تعمیر پاکستان کی سائٹ ایل یو بی پاک ڈاث کام کو پاکستان کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی سیاسی ویب سائٹ ‍قرار دیاہے-پاکستان میں اس سائٹ کووزٹ کرنے کے اعتبار سے یہ 984 ویں نمبر پر ہے- تعمیر پاکستان کی اس پذیرائی کا سبب پاکستان کے مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا اور ان کے حق میں آواز بلند کرنا ہے- تعمیر پاکستان نے کبھی بھی مظلوم کے عقیدے،رنگ، جنس،نسل، مذھب، فرقے کو دیکھ کر اس کے حق میں آواز اٹھانے یا نہ اٹھانے کا فیصلہ نہیں کیا- وہ اس حوالے سے کوئی تعصب یا امتیاز برتنے کی قائل نہیں رہی- مظلوم اور متاثرہ کوئی بھی ہو چاہے وہ مذھبی شناخت کے لحاظ سے سنّی بریلوی،شیعہ،دیوبندی،اہلحدیث،احمدی،ہندؤ،عیسائی ہو یا نسلی اعتبار سے بلوچ ہو،سندھی ہو،پنجابی ہو یا سرائیکی ہو یا گلگتی-بلتی ہو یا کشمیری ہو یا جنس کے اعتبار سے عورت ہو ،مرد ہو ،مخنث ہو تعمیر پاکستان نے اس پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور اس راہ میں کسی تعصب، ٹیبو کو آڑے نہیں آنے دیا-ہم سب مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں-اور آئیندہ بھی کھڑے رہیں گے

https://lubpak.net/archives/294385

تعمیر پاکستان نے اپنے آغاز سے ہی پاکستان کے اندر مظلوموں اور ظالموں کی شناخت چھپانے جیسی بری اور شرمناک روآئت اور چلن کے خلاف آواز اٹھآئی اور ہم نے ظالم اور مظلوم دونوں کی شناخت اور دونوں کی فکری جہتوں کو واضح کرنے کا کام جاری رکھا-تعمیر پاکستان نے بلوچ قوم کی نسل کشی اور پاکستان کے اندر انسانی حقوق کی سنگین تر ین خلاف ورزی کی مرتکب ہونے والی پاکستان آرمی،آئی ایس آئی،ایم آئی اور ایف سی کی شناخت کو کبھی قومی مفاد قرار دیکر چھپانے کی کوشش نہیں کی-تعمیر پاکستان نے پاکستان آرمی اور پاکستان کی سول نوکر شاہی ،عدلیہ اور سیاسی پارلیمانی جماعتوں کے اندر ڈیپ ریاست اور تزویراتی گہرائی کے علمبرداروں کو بے نقاب کرنے ویں لیل ولعل سے کام نہیں لیا-اور اس نے کبھی بھی پاکستان کے ریاست کے اداروں فوج،عدلیہ ،انٹیلی جنس ایجنسیوں میں سعودی ریاست کی آئیڈیالوجی کے امپورٹرز اینڈ ایکسپورٹرز کو بے نقاب کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا-اور ان نفرت و دھشت پر مبنی تکفیری آئیڈیالوجی کے درآمدگان و برآمد کنندہ کے تکفیری دیوبندی انتہا پسند دھشت گردوں سے رشتے اور تعلقات کو بھی وقت پر ہی عریاں کیا-تعمیر پاکستان نے یہ سب کام ایسے وقت میں کیا جب سب نام لینے تک سے یا تو شرماتے تھے یا گبھراتے تھے

تعمیر پاکستان نے جب یہ کہنا شروع کیا کہ پاکستان میں احمدیوں ،ہندؤں ،عیسائیوں کو دوسرے درجے کا شہری بنادینے کے بعد اب شیعہ ،سنّی بریلویوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش ہورہی ہے اور اہل سنت والجماعت (سپاہ صحابہ پاکستان)لشکر جھنگوی ،تحریک طالبان پاکستان،جنودالحفصہ سمیت تمام نام نہاد اسلامی جہادی تنظیموں اور نام نہاد پاکستان کی فوج کی فرنٹ لآئن کی پاکستان کے سماجی تانے بانے کو ادھیڑنے والوں کے اصل چہرے بے نقاب کئے تو بہت سے نام نہاد جعلی لبرل اور جعلی بالشتیے صحافیوں،اینکرز ،تجزیہ نگاروں نے اسے ماننے سے انکار کردیا-پاکستان کے میڈیا کا حال یہ تھا کہ وہ دیوبندی تکفیری دھشت گردوں کو بھی سنّی لکھتا تھا اور وہ اول اول دھشت گردی کا نشانہ بننے والے اور بنانے والوں کے مسلکی اور فرقہ وارانہ پس منظر اور شناخت نہ بتانے کا کلچر عام تھا-جبکہ اردو میڈیا تو امام بارگاہوں،مساجد،مزارات،جلوس ہائے عزاداری و میلادالنبی پر ہونے والے حملوں کو راء،موساد،بلیک واٹر،سی آئی اے ،راما کے کھاتے میں ڈالنے کی روش پر قائم تھا-تعمیر پاکستان نے ان کلیشوں کو ختم کرنے اور ان کی جگہ حقیقت کو بیان کرنے کی ثقافت کی بنیاد ڈالی-آج بہت کھل کر بات کی جارہی ہے-اب بہت سارے لوگ یہ کہتے ہیں کہ دھشت گردی کی بنیادیں تکفیری دیوبندی دھشت گرد تںظیموں کے اندر پیوست ہیں-اور لوگ سوال کرتے ہیں کہ آخر ہر خود کش حملہ آور اور ہر ایک ماسٹر مائنڈ دیوبندی تکفیری انتہا پسند گروہوں اور ان کے زیر انتظام چلنے والے مدارس سے ہی کیوں تعلق رکھتا ہے؟

پاکستان کے اندر اور باہر اب بہت سارے لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ پاکستان کے اندر ایک اقلیتی اشرافیہ ایسی ہے جس کے پنجے سیاست،صحافت ،فوج ،عدلیہ اور تجارت میں پیوست ہیں اور یہ اشرافیہ پاکستان کی مظلوم نسلی اور مذھبی گروہوں کے خلاف تکفیری دھشت گرد ٹولے کو تحفظ اور حمائت دیتی ہے-صحافت میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دیوبندی تکفیری دھشت گرد ٹولے کی امیج بلڈنگ کرنے کا کام کررہے ہیں-انتظامیہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اس دیوبندی تکفیری ٹولے کو کھلے عام نفرت کی سیاست اور دھشت کا کلچر پھیلانے کی اجازت دئے ہوئے ہیں-وہ پکڑے جانے والوں کے کمزور چالان پہلے سے دیوبندی تکفیری دھشت گرد ٹولوں کے لیے ہمدردی رکھنے والے ضیالحقی ججوں کے سامنے لیکر جاتے ہیں جہاں سے یہ رہا ہوکر پھر سے دھشت اور نفرت کا کاروبار شروع کردیتے ہیں-یہ اقلیتی اشراقیہ پاکستان کی غیر مسلم اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے بعد اب اس ملک کی مسلم آبادی کے 85 فیصد سنّی اور شیعہ کو ٹارگٹ کئے ہوئے ہے-پاکستان کو دوسرا سعودیہ عرب بنانے اور خود اس کے بادشاہ اور وزیر بن جانے کے خواب روز اس اشرافیہ کے لوگ دیکھ کر سوتے ہیں-یہ سارا پروجیکٹ “اسلام اور جہاد “کے نام پر چلایا جارہا ہے-تعمیر پاکستان اکثریت کی ثقافت کو ملیامیٹ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف اس ملک کی مظلوم مذھبی اور نسلی برادریوں کو جگانے کا کام کررہی ہے-تعمیر پاکستان نے اپنے ان خیالات کو کبھی نہیں چھپایا اور نہ ہی آئیندہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے-اس کے باوجود اس نے اپنے اوپر ہونے والی ہر تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور اپنے ناقدوں کو بھی اس سائٹ پر جگہ فراہم کی ہے-

تعمیر پاکستان کی ٹیم کو کبھی بھی یہ خوش فہمی نہیں رہی کہ وہ جن کڑوی اور ٹیبو کی شکل آختیار کرنے والی حقیقتوں کو یوں سرعام بیان کرنے جارہی ہے اور اس ملک میں ظالم اور مظلوم کی مذھبی و نسلی شناختوں اور ان کے پس پردہ ریاست کے اداروں کے اندر بیٹھے لوگوں کی شناختوں کو بے نقاب کرے گی تو اس پر پھول برسیں گے-اس پر کوئی الزام نہیں لگے گا-ہم جانتے ہیں کہ کبھی ہمارے تانے بانےواشنگٹن کی اس سفید عمارت سے جوڑے جاتے ہیں جہاں کبھی افغان جہاد کو انڈسٹری بناکر اپنی نام نہاد جہادی ایمپائر تعمیر کرنے والے سرکاری مہمان ہوا کرتے تھے-کبھی ہمارے رشتے ناطے  چینوٹ کے قریب ربوہ سے جوڑے جاتے ہیں اور کبھی ہمیں تہران سے جوڑنے کی کوشش ہوتی ہے اور کبھی ہمیں اسلام دشمن تو کبھی ملک دشمن کہا جاتا ہے-سازشی نظریات پر مبنی یہ گمراہ کن الزامات اصل میں ایک ہسٹریا کی علامت ہے جو تلخ حقیقتوں اور اصلی عکس پیش کرنے سے پیدا ہوا ہے

https://lubpak.net/archives/295155

تعمیر پاکستان نے بہت مختصر عرصے میں تکفیری دھشت گردوں اور خارجی فکر کے علمبرداروں کو آئیڈیل بناکر پیش کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں بہت حوصلے کا ثبوت دیا ہے اور اس نے ان کے اصل چہرے عوام کے سامنے  پیش کئے ہیں- اس پر ان لوگوں کی تلملاہٹ اور تکلیف کا اندازہ کیا جاسکتا ہے-انصار عباسی،سلیم صافی،خالد سیف اللہ اور ان جیسے اور بہت سے جو پاکستانکی عوام اور سیکورٹی فورسز کے جوانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والوں کو اپنے لفظوں سے پھولوں کے ہار پہناتے رہے ہیں جو ڈرونز پر تو بہت تکلیف میں ہیں لیکن انھیں 50 ہزار لاشے نظر نہیں آتے ہیں اور لاکھوں گھروں کی بربادی کا کوئی احساس نہیں ہے-جو ان درندوں کی حمائت کرتے ہیں جو علی۔حسین،حسن۔علی اکبر،زینب،فاطمہ ،سیکنہ،رباب ،شہر بانو جیسے نام شناختی کارڑ پر دیکھ کر کارڑ والے اور والیوں کو ان کے اپنے خون میں نہلانے والوں کو شہید کہنے سے گریز نہیں کرتے اور اگلے دنوں میں نیلسن منڈیلا کا سانگ بھر کر عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے ہیں-تعمیر پاکستان آئیندہ بھی ایسے جعلی جمہوریت پسندوں،سول سوسائٹی والوں کو بے نقاب کرتا رہے گا-

کچھ لوگ تو دیوبندی تکفیری دھشت گردوں،پاکستان کے مقتدر اداروں،سیاسی جماعتوں ،جعلی فیک لبرلز ،تکفیری صحافیوں کے درمیان تعلقات اور ان کی کارستانیوں کا پول کھلنے پر اس قدر بوکھلائے اور بولائے ہوئے پھرتے ہیں کہ وہ تعمیر پاکستان کی ٹیم میں موجود لوگوں کے ناموں کے ساتھ سید،رضوی ،نقوی ،قادری  جیسے سابقوں اور لاحقوں کو جھوٹ قرار دینے پر تل گئے ہیں اور اس کے پیچھے احمدیوں کے چہرے تلاش کرنے لگ گئے ہیں-ان کی بوکھلاہٹ سمجھ میں آنے والی ہے کیونکہ وہ پاکستان کو سنّی اور شیعہ کی اپنے متعین کردہ خطوط میں جس تقسیم کے خواہاں تھے اور اس ملک کی اکثریت سنّی اکثریت کے نام پر شیعہ،احمدی،ہندؤ،عیسائی اور سیکولر لبرل حلقوں پر جو قیامت ڈھانے کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے اور اہل سنت کے نام پر جو فساد پھیلانے کی کوشش کررہے تھے تعمیر پاکستان نے اس کو ناکام بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے-آج پاکستان کے سواد اعظم اہل سنت المعروف بریلوی پاکستان کو بچانے کے لیے سینہ سپر ہوگئے ہیں-اور پاکستان میں اس وقت اہل سنت اور اہل تشیع نے بے مثال اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے خارجی تکفیری دیوبندی دھشت گرد ٹولے کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے-تعمیر پاکستان کے خلاف سازشی اور چھوٹی دیومالآئی داستانوں کو ٹیوٹر ،فیس بک اور دیگر سوشل نیٹ ورک پر پھیلانے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ تعمیر پاکستان اعتدال پسند دیوبندی اور وہابی عوام اور ان کے اعتدال پسند علماء ،دانشوروں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں گھس جانے والے ان تکفیری خارجی دھشت گرد ٹولے کو نکال باہر کریں اور اپنے اکابر بزرگوں کی اعتدال پسند راہ کو اپنانے کا سبق نوجوان نسل کو پڑھائیں-پاکستان کی تعمیر اور ترقی کے لیے تکفیری آئیڈیالوجی سم قاتل ہے-اس نے ہزاروں نوجوانوں کو گمراہ اور ان کے مستقبل کو تباہ کرڈالا ہے-اور ان نوجوانوں کے اندر پیدا ہونے والی فسطائت نے پاکستان کے 50 ہزار سے زائد مرد،عورت،بچوں ،بوڑھوں کو زندگی سے محروم کردیا ہے-پاکستان کی معشیت تباہ ہوگئی ہے-پوری دنیا میں جہادی پراکسی نے ہمارا تماشہ بناکر رکھ دیا ہے-ہم انسانی حقوق کی پامالی میں کانگو اور شام سے پیچھے باقی سب سے آگے ہیں-ہمارا ملک عورتوں کے لیے سب سے غیر محفوط ملک بن گیا ہے-یہ ملک یہاں کی غیر دیوبندی –وہابی مذھبی برادریوں کے لیے سب سے بدترین ملک بن گیا ہے-تعمیر پاکستان یہ حقیقی تصویر اہل وطن کو دکھاتا رہے گا چاہے کسی کو کتنی ہی بری لگے

پاکستان کو سخت قسم کی سرجری کی ضرورت ہے اور تبھی اس ملک کی سلامتی برقرار رکھی جاسکتی ہے-اس ملک کی مظلوم مذھبی اور نسلی برادریوں سے کیا جانے والا کھلواڑ جب تک بند نہیں ہوتا اور تکفیری دھشت گردوں اور انسانی حقوق  کی بدترین خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا نہیں ملتی پاکستانی قوم کے اندر یک جہتی پیدا نہیں ہوسکتی-تعمیر پاکستان یہ یاد دھانی بار بار کراتا رہے  گی

Comments

comments

Latest Comments
  1. Hussaini
    Reply -

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*