اردو لیوب انٹرویو

پاکستان دیوبندی سٹیٹ بننے جارہا ہے جہاں ہرغیر دیوبندی خوف کے ساتھ زندگی گزارے گا: عارف جمال

Arif-jamal-2

Related post: Deobandization of Pakistan: TNS’s interview with Arif Jamal
https://lubpak.net/archives/293991

پاکستان دیوبندی سٹیٹ بننے جارہا ہے،جہاں ہر غیر دیوبندی خوف سے زندگی گزارے ہوگا-عارف جمال

انٹرویو:وقار گیلانی

مترجم:رپورٹر تعمیر پاکستان

مترجم کا نوٹ:جنگ گروپ کے انگریزی اخبار دی نیوز انٹرنیشنل کے سنڈے دی نیوز میں وقار گیلانی نے معروف صحاقی عارف جمال کا انٹرویو کیا جوکہ امریکہ میں مقیم ہیں اور شیڈو وار جیسی کتاب کے مصنف ہیں-ان کی لشکر طیبہ پر ایک کتاب آنے والی ہے-وہ پاکستان کی جہاد پراکسی پر ماہر خیال کئے جاتے ہیں-پاکستان کی جہادی اور فرقہ پرست تںطیموں اور گروپوں پر ان کی تحقیق کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے-اپنے انٹرویو میں عارف جمال نے اگرچہ بہت واضح طور پر لفظ دیوبندی اور اہل حدیث استعمال کیا ہے-لیکن وہ بھی میڈیا کے اندر پائے جانے والے عام رجحان کے مطابق مسلم معاشروں میں بالعموم اور پاکستانی معاشرے میں بالخصوص ابھرنے والی فرقہ وارانہ دھشت گردی کو سنّیفیکشن کا نام دیتے ہیں-ان کے خیال میں موجودہ فرقہ واریت اور اس میں ریاست کا کردار پاکستان کو ایک سنّی ریاست بنانے کی جانب لے جارہا ہے جبکہ میرے خیال میں ان کا اگلا جملہ خود اس بات کی تردید کرتا ہے کہ پاکستان ایسی ریاست بننے جارہا ہے جہاں غیر دیوبندی اور غیر اہل حديث کا جینا مشکل اور اس کے لیے وہاں خوف کے بغیر رہنا مشکل ہے-عارف اپنے اس انٹرویو میں خود واضح کرتے ہیں کہ دیوبندی اور اہل حدیثوں کے حملے کی زد میں پاکستان کا اکثریتی سنّی مسلک بریلوی بھی ہے تو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان سنّیفیکشن کی بجائے دیوبندیفیکشن کی طرف جارہا ہے جسے ہم پاکستان کو دیوبندی سٹیٹ بنانے کی کوشش سے تعبیر کرتے ہیں-اسی لیے میں نے دیوبندستان کی اصطلاح استعمال کی ہے-جبکہ عارف جمال نے اپنے اس انٹرویو میں ایک اور تاریخی غلطی کی ہے کہ انہوں نے ملّی یکجہتی کونسل میں صرف دیوبندی سیاسی جماعتوں اور گروپوں کو شامل بتایا جبکہ اس کے پہلے صدر بریلوی عالم مولانا شاہ احمد نورانی رحمۃ اللہ علیہ تھے جو جمعیت علمائے پاکستان کے صدر تھے اور ملّی یکجہتی کونسل کو ناکام بنانے میں کردار دیوبندی جماعتوں اور گروپوں کا تھا-

سوال:پاکستانی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو فرقہ واریت کی جڑیں ایرانی انقلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال اور افغان جہاد میں پیوست ہیں-یہ اس وقت پیدا ہوئی جب پاکستان میں سپاہ صحابہ پاکستان کی بنیاد رکھی گئی-کیا فرقہ واریت کا یہ تاریخی تناظر ٹھیک ہے؟

عارف جمال:یہ ٹھیک ہے-اگر ہم تاریخی تناظر میں دیکھیں تو پاکستان میں پرتشدد فرقہ واریت کی فصل اس وقت بوئی گئي جب جنرل ضیاءالحق نے ایک فرقہ کی شریعت کو دوسرے فرقوں کی قیمت پر مسلط کرنا چاہا-شیعہ مسلمانوں نے اس پر سخت ردعمل دیا-انہوں نے اسلام آباد پر عملی طور پر قبضہ کرلیا تھا-کئی دن تک ملک میں کوئی حکومت نہیں تھی-ضیاءالحق کو شیعہ مسلمانوں کے مطالبات کے آگے جھکنا پڑا –لیکن شیعہ مسلمانوں نے احتجاج کا جو طریفہ اپنایا تھا اس سے جنرل ضیاء الحق اور اس کے دیوبندی اتحادی بہت مجروح ہوئے-

اس کے بعد جنرل ضیاء اور اس کی اتحای دیوبندی پارٹیوں نے مسلسل کوشش شروع کردی کہ کسی بھی طرح سے پاکستان کو دیوبندی ریاست میں بدل دیا جائے-گویا یہ ریاست کی دیوبندی نائزیشن کی باقاعدہ منظم کوشش تھی جسے جنرل ضیاءالحق کی پشت پناہی حاصل تھی-اس طرح سے ریاست خود اپنے آپ کو دیوبندی ریاست میں بدلے جانے میں سرگرم ہوگئی اور اس سرگرمی کے نیجے میں پاکستان ایسی ریاست بنتا جارہا ہے جس میں غیر دیوبندی مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کا جینا مشکل ہوتا جارہا ہے-اگر ایرانی انقلاب نہ آیا ہوتا تو شاید پاکستان کے شیعہ مسلمان ایسا ردعمل نہ دیتے-تو ایرانی انقلاب کا بس اتنا ہی کردار تھا-پاکستان اصل میں “دیوبندی نائزیشن”کے نام پر دوسرا ویسا ہی ایران بننے جارہا ہے جیسا کہ وہ شیعہ انقلاب کے بعد بنا تھا-مجھے لگتا ہے کہ پاکستان اس سے بھی بدتر بننے جارہا ہے-

پاکستان میں غیر دیوبندی اور غیر اہل حدیث کے لیے خوف کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوتا جارہا ہے-المیہ یہ ہے کہ یہاں جو اکثریتی مسلک بیلوی ہے اس کو بھی دیوبندیوں اور اہل حدیث کے حملوں کا سامنا ہے-پاکستان کے شیعہ کو ایران کی حمائت وہابی عرب ریاستوں کی جانب سے دیوبندی اور وہابی پارٹیوں اور گروپوں کو ملنے والی حمائت کا نتیجہ ہے-

جب ہم پاکستان پر طالبان کے قبضے کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ اینٹی شیعہ،اینٹی بریلوی اور اینٹی نان مسلم آئیڈیا لوجی کا قبضہ ہوتی ہے جس کو سب دیوبندی اور اہل حیث مانتے ہیں
جب ہم پاکستان پر طالبان کے قبضے کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد وہ اینٹی شیعہ،اینٹی بریلوی اور اینٹی نان مسلم آئیڈیا لوجی کا قبضہ ہوتی ہے جس کو سب دیوبندی اور اہل حیث مانتے ہیں

سوال:لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ پاکستان سے کیسے الگ ہوئی اور کیوں ہوئی؟پاکستانی معاشرے پر اس الگ ہونے نے کیا اثرات مرتب کئے؟

عارف جمال:میں نے کبھی سپاہ صحابہ پاکستان اور لشکر جھنگوی کو الگ خیال نہیں کیا-لشکر جھنگوی سپاہ صحابہ پاکستان جو اب اہل سنت والجماعت کے نام سے کام کررہی ہے کا مسلح ونگ ہے-1990ء کے درمیان میں ہوا یہ کہ سپاہ صحابہ پاکستان یہ جان چکی تھی کہ اس کی مقبولیت (دیوبندی)لوگوں میں بڑھ رہی ہے-اور یہ جماعت اسلامی پاکستان کی طرح ایک مذھبی سیاسی پارٹی بن سکتی ہے-تاہم اس کو یہ بھی معلوم تھا کہ دھشت گردی کا لیبل اس کے فوقی سیاسی پارٹی بننے کی راہ میں مزاحم ہوسکتا ہے-دوسرے لفظوں میں لوگ اس کے اینٹی شیعہ اور اینٹی ایران خیالات کو ووٹ دینے کو تیار تھے لیکن وہ اس کی جانب سے اینٹی شیعہ ایجنڈے کو طاقت کے ساتھ نافذ کرنے کی حمائت کرنے کو تیار نہ تھے-یہ وہ مقام تھا جب سپاہ صحابہ پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ سیاست میں جائے گی-اور اس کا بازوئے شمشیر زن لشکر جھنکوی اس ایجنڈے کو دھشت گردی کے زریعے سے نافذ کرے گا-لشکر جھنگوی اپنی جگہ پر یہ کھیل مہارت سے کھیل رہا ہے-اور بظاہر الگ ہونے کا ڈرامہ بھی کررہا ہے-یہ مدرپارٹی کو قانون سے بچانے کی حکمت عملی ہے-ہم نے دیکھا کہ کس طرح لشکر جھنگوی کے بانی رہنماء راتوں رات سپاہ صحابہ پاکستان /اہل سنت والجماعت کے مرکزی رہنما بن گئے-اس عمل سے سپاہ صحابہ پاکستان اور لشکر جھنگوی کے درمیان انتہائی قریبی ررشتوں کا پتہ چلتا ہے-یہ بہت کامیاب سٹرٹیجی رہی-اس حکمت عملی کی وجہ سے سپاہ صحابہ پاکستان/اہل سنت والجماعت کو مختلف ناموں سے کام کرنے کا آزادانہ موقعہ میسر آیا-سپاہ صحابہ پاکستان /اہل سنت والجماعت مختلف ناموں کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایک اہم سیاسی جماعت کا درجہ حاصل کرچکی ہے-یہ قومی و صوبائی اسمبلی کافی نشستیں جیت سکتی ہے اور بہت سے حلقوں میں اس کا ووٹ بینک کسی کی ہار یا جیت کا سبب بن سکتا ہے-اس اہم مقام سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ نواز کیوں اس قدر سپاہ صحابہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتی ہے-

سوال:لشکر جھنگوی کا آج کل کیا کام ہے؟اس کے جو بہت سے دھڑے ہیں وہ کیا ہیں اور ان کے سپاہ صحابہ پاکستان سے کیا تعلقات ہیں؟لشکر جھنگوی اور لشکر جھنگوی العالمی میں کیا فرق ہے؟ملک اسحاق اور اکرم لاہوری جیسے بانی رہنماؤں کا لشکر جھنگوی میں اب کیا مقام ہے؟

عارف جمال:لشکر جھنگوی کے بہت سے دھڑے ہیں-لیکن یہ س دھڑے اپنی مدر پارٹی سپاہ صحابہ کے وفادار ہیں-مختلف دھڑے جو لشکر جھنگوی کے ہیں ان میں کافی سریس اختلافات بھی ہیں مگر انہوں نے کبھی سپاہ صحابہ سے وفاداری نہیں توڑی-ان کے اختلافات زیادہ تر حکمت عملی کے حوالے سے ہیں-اوراختلاف ایک بنیادی یہ ہے کہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف دھشت گردی کی شدت کس قدر ہونی چاہئیے-لشکر جھنگوی العالمی لشکر جھنگوی سے زیادہ انتہا پسند اور زیادہ تشدد کی طرف مائل ہے-

سوال :پاکستان کے اندر فرقہ واریت کو انٹرنیشنل فرقہ واریت سے کیسے جوڑ کر دیکھا جاسکتا ہے-کیا اس ربط کو ہم مالیاتی اور لاجسٹک دونوں طرح سے دیکھ سکتے ہیں؟

اسلام کے اندر بھی فرقہ واریت کا وجود اسی طرح سے ہے جیسے دوسرے مذاھب میں ہوا ہے-لیکن جس دھشت گرد فرقہ واریت کو ہم نے پاکستان میں دیکھا اس کی بنیاد افغانستان پائی جاتی ہے-فرقہ پرست اپنے زیادہ تر فنڈ چندہ،زکات عشر وغیرہ سے حاصل کرتے ہیں-گلف اور مغرب میں رہنے والے تارکین وطن بھی ان کو بڑے پیسے بھجواتے ہیں اور یہ زیادہ تر مذھب کے نام پر آتے ہیں-

سوال:1990ء میں تمام فرقوں کے بڑے گروپس نے ملکر ملّی یکجہتی کونسل بنائی تھی-یہ ناکام کیوں ہوئی-کیا اب ایسی کوئی اور کوشش کامیاب ہوسکے گی؟کیا لشکر جھنگوی جیسے گروپ اس میں شامل ہوں گے؟

عارف جمال:میرے خیال میں ملّی یکجہتی کونسل فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے سنجیدگی پر مبنی اقدام نہیں تھا-یہ سنّی پارٹیوں کا اتحاد تھا جو دیوبندی گروپس اور پارٹی کی حمائت کرتا تھا-ان کی کوشش تھی کہ شیعہ دیوبندیوں کے مطالبات مان لیں-سنّی ممبرز(ریوبندی)ہمیشہ سنّی (دیوبندی)لیڈروں کے قتل کی مذمت کرتے اور شیعہ مسلمانوں کا قتل ہوتا تو خاموش رہتے-

سوال:لشکر جھنگوی کے تحریک طالبان پاکستان اور القائدہ سے کیا تعلقات ہیں؟کیا یہ درست ہے کہ لشکر جھنگوی ان دھشت گردوں اور انتہا پسند گروپوں میں کے آپریشنل ونگز میں سے ایک ونگ ہے؟

عارف جمال:لشکر جھنگوی ٹی ٹی پی کا فعال حضہ ہے-سپاہ صحابہ پاکستان اور لشکر جھنگوی کی آ‏ئیڈیالوجی تحریک طالبان کی ریڑھ کی ہڈی ہے-اصل میں یہ تمام گروپس تنگ نظر فرقہ وارانہ سوچ رکھتے ہیں-یہ شیعہ اور دوسرے غیر مسلموں کا قتل جائز خیال کرتے ہیں-اصل میں دیوبندی فرقے کی سیاسی جماعتیں اور گروپس ٹی پی پی کی حمائت کرتے ہیں-وہ اگرچہ ان سے رابطوں سے انکاری ہیں-ان سب کا نکتہ نظر یکساں ہے-اگرچہ حکمت عملی پر اختلاف ہے-

سوال:پاکستانی ریاست کا کردار فرقہ واریت سے نمٹنے کے حوالے سے کیا بنتا ہے؟

عارف جمال:پاکستانی ریاست فرقہ واریت کا خاتمہ کرنے کی بجائے دیوبندی اور اہل حدیث فرقہ پرستوں کی سرگرمی سے حوصلہ افزائی اور مدد کررہی  ہے-اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فرقہ پرست کشمیر اور افغانستان کے اندر لڑرہے ہیں-سعودی عرب بھی کشمیر اور افغانستان میں جہاد سے بریلوی اور شیعہ کو آؤٹ کرنے پر فوکس کرتا آیا ہے-یہی وجہ ہے کہ ان دونوں جہادوں میں دیوبندی-وہابی کو ہی سرگرم دیکھتے ہیں-چونکہ دیوبندی اور اہل حدیث پاکستانی فوج کی جانب سے کشمیر اور افغانستان میں لڑتے ہیں تو پاکستان میں ان کی فرق وارانہ دھشت گردی سے صرف نظر کی جاتی ہے-

ریاست کی ان پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان ایک دیوبندی سٹیٹ بننے جارہا ہے-مجھے یقین ہے کہ پاکستان کی دیوبندیفیکشن نہ صرف پاکستان کے لیے وجودی خطرہ ہے بلکہ یہ امن عالم کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے-ہم پہلے ہی دیکھ چکے کہ دیوبندی جہادیوں کی بندوقیں پاکستانی فوج کے خلاف اٹھ گئیں ہیں-اور بدقسمتی سے مستقبل میں اس سے بھی برا وقت آنے والا ہے-

About the author

Aamir Hussaini

33 Comments

Click here to post a comment
    • ma is arif jamal k thery sa satisfied nahi, ya kisi ki representation kar raha ha…kis ki ap khud dakh lo

    • YAR YA SHIAAT KIA HOTEE HA,, KIA ISKA WAJUD 1400 SAAL PAHLAY BHEE THA, TO PHIRR RASUL PAKSAW NA MATUM YA AZADAARI KA DARS KIO NAHI DIA?PANJATAN PAAK K YAHAN SA BHEE KOI EXAMPLE NAHI HA, YAAR YA KAHIN BIDDAT TO NAHI HA,, LAKIN BIDAT TO BOHAT BURA KAM HA, OR ISKO ZALALAT KAHA GIA HA.DEEN MA KOI NEW ADDITION BIDAT

  • ye gilani pagal hy
    haqeeqat to ye hy k hr secular person sahi religeous people se darta hy
    ab halway waly to kuch mazhab klye karty nahi, unko isliye kuch nhi kaha jata..

  • Exactly , Saudia Arabia started its mission to convert ” Pakistan to Deobandistan ” since 198o . TTP is fighting with Pak army in the name of Jehad . SSP and Leshkr Jhanguvi for killing Shias and “Tableeg Markaz ” to convert “sunni berailuwi” to deobandi sect . And they are also succeeded to some extend but now Sunni Berailuwi and shias are unite against the Deobandi sect . Deobandies were (before 1947) and are against Pakistan . Shias and Beraluwi sunnis made pakistan and Insha allah they will save Pakistan .. Quaid e Azam Zindabad , Pakistan Paindabad .

    • jis kisi ko ziada pain ha wo janab ait- khumaini ki books ka study karain ,, firr aap sab ko pata lag jaway ga k kion sipah or lashkar in k mannay walo ko marta ha,, zahar ha khumaini ko to mar nai sakta,, lihaza oskay pirokaroon ko martaha.

  • All fake and absurd and false propaganda against a patriot Religious Organization LeJ, ASWJ, TTP. This site is ready to destroy Pakistan. It is LUDP. They get funding from Iran and USA, Iran, Turkey which is illegitimate Son of America. Such biased and destroying information by Traitor Site.
    Shame Shame Shame
    #ShiaTerrorists
    #SunniBarelviTerrorist
    #SecterianMedia
    Shame Shame

    • Sir, agr shia terrorists hain tou shia he Q mar rhay hain shia aur sunnion ka he jalooson pa humlay Q ho rhay hain ? Deobandion k madrsay pa tou kabhi bhe, koi khudkush humla nhe hwa ? Q ?

      • isliay k tumhara ander itna courage nai ha k bomb bandh k madarsay to kia toilet ma bhee nai ja sakta,, or ya darr tumhari biddat or panjatan paak ki be hurmati sa paida hoee ha,, abhee bhee time ha toba karlo,,, tum khud ja k dakho k shia jab marta ha to oska shakal kitna khrab hota ha

      • o yaaar saudia ke fuzlay per palney waalon ….. tumharey baap yazeed ne to khana e Kaaba ko nahi chorda, Masjid e Nabawi ko nahi chorda 🙂 tum kesey musalman ho jo Qatl e imam Hussain:) ko bhi jaayaz samajhtey ho ….. sahi kaha hai buzargon ne ….. Panjetan Pak AS ke bugz rakhney waalay HARAAMZAADAY HI HOSAKTAY HAIN ……

  • Qaid malik ishaq aap ka aik ishara . .hazir hai khoon hamara.
    Ssp.lej.ttp zindabad.amrici kutty murdabad ..kafir kafir shia kafir . .mushrik sunni barelvi qabron kay pujari

      • londay baazon … madrason main lerdkon ki izzat per hamla kertay ho ….. kese molvi ho … thari aurtain baahar moo marti hain …. aur tum bachon per guzaara kertay ho ….. apney malik ishaq se pooch aur Faarooqi KUTTAY se bhi pooch …. kis madrassay main merwatay thay 🙂

  • اب وقت مصلحتوں سے کام لینے کا نہیں ،کھل کر بات کی جانی چاہیے

  • Insan apny batoon sy jana jata hy, kay us kay dil aur mind man kia hay.Actually they are terroist, Harami,son of bitch and American iranian kay pithio like Arif jamal &lashari mind peoples (barking dogs all life is your fourtune) whose abuses Lover of Islam Deobadi

  • All the men whose abuses in this page they are actually dogs,they barked all life is their fortune. May Allah sent him in heaven whose abuses Lover of Islam Deobandi.

  • The duties of dog is barking. So dogs are barked all life is their nature (jamal aur lashari kay mind may kia sawar hay pakistan Aal-e-Sunnat key qubaniyon say bana hay, Muttay key padawar zinakari say naheen.

  • American and Iranian and barelvi Real brother. Their fathers are many and mother is One and their harami (koi shak nai )childrens abuses to Ghulaman e Sahaba. pittay raho qiyamat tak (mari Amma key badua chhi hay)

  • پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کو ایک مسلم سٹیٹ بننا چاہیے نا کہ کوئی شیعہ یا سنی یا دیوبندی سٹیٹ۔ اوپر کمنٹس میں کسی دوست نے لکھا ہے کہ اس مضمون میں عارف جمال کسی کی اور کی زبان بول رہے ہیں۔کس کی یہ وضاحت نہیں کی گئی تاہم جیسے باقی محب وطن پاکستانی یہ سمجھ سکتےہیں کہ ایسے لوگ کس کی زبان بولتےتو میں سمجھتا ہوں۔
    عارف جمال نے اپنے انٹرویو میں جگہ جگہ جھوٹ بولا ہے اور غلط بیانی سے کام لیا ہے۔
    جن تنظیموں کو اس مضمون میں زیر بحث لایا گیا ہے عارف جمال ان کی تاریخ پیدائش،وجود میں آنے کی وجوہات،اسباب،مقاصد اور اغراض سے بالکل نابلد ہیں۔ انہیں اس حوالے سے کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔سپاہ صحابہ 1985 میں بنی تھی اور اول روز سے اس کا مقصد پاکستان میں بانیان اسلام حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تحفظ کو آئینی حوالے سے یقینی بنانا تھا۔اس مقصد کے حصول کیلئے جماعت کے بانی مولانا حق نواز شہید نے جمعیت علماء اسلام کے ذریعے سیاست میں کودنے کا فیصلہ کیا اور 1988میں ہی جھنگ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔عارف جمال نے جو 1990 کی کہانی سنائی ہے اس کا جماعت کی قیادت سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ عارف جمال کی ذاتی اختراع ہے۔
    لشکر جھنگوی 90 کی دہائی میں بنی اور اپنی جماعت سے جھگڑ کر ،اختلاف کرکے وجود میں آئی۔لشکر جھنگوی بنانے والے سپاہ صحابہ کے باغی تھے اور آج تک وہ باغی ہیں۔ملک اسحاق کو جب عدلیہ نے رہا کرنے کا حکم دیا تو آئندہ کسی قسم کی دہشت گردی میں ملوث نہ ہونے کی ضمانت مانگی گئی۔رہائی کے جب وہ سپاہ صحابہ میں شامل ہونے لگے تو بھی جماعت کی قیادت نے ان سے کسی قسم کی شدت پسندی میں ملوث نہ ہونے کا وعدہ لیا تو جماعت نے رکن بنایا۔
    یہ سوال بڑا اہم ہے کہ فرقہ واریت سے نمٹنے کیلئے ریاست کاکیا کردار بنتا ہے۔لیکن عارف جمال نے اس کا جواب بھی محض فیڈ کی گئی باتوں اور سنی سنائی باتوں سے دینے کی کوشش کی ہے،اس کا صحیح تجزیہ نہیں کیا گیا۔ملی یکجہتی کونسل کو غیر سنجیدہ کوشش قرار دینا ملی یکجہتی کونسل کی کوششوں سے ناواقیت کی دلیل ہے۔اس کونسل کے پلیٹ فارم سے مولانا شاہ احمد نورانی،قاضی حسین احمد،مولانا سمیع الحق،مولانا محمد ضیاء القاسمی،ڈاکٹر اسرار احمد اور علامہ ساجد علی نقوی نے فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے مثبت کوششیں کیں اوراس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے 17 نکاتی فارمولاپیش کیا۔اب اگلی ذمہ داری حکومت کی تھی کہ وہ ان کوششوں سے فائدہ اٹھاتی اور اسے قانونی شکل دیکر ہرایک کو اس قانون پر عمل کرنے کا پابند بنا دیتی مگر حکومت نے ایسا نہیں کیا۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی سربراہی بننے والی مولانا عبد الستار خان نیازی والی کمیٹی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا۔سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ جو کہ بذات خود شیعہ تھےمگر فرقہ واریت اور اس عنوان پر ہونے والی دہشت گردی کو روکنے کیلئے بہت سنجیدہ کوشش کی مگر انہیں زبردستی اپنے منصب سے ہٹادیا گیا اور اس ہٹائے جانے کا ذکر انہوں نے اپنی آٹو بائیوگرافی میں بھی کیا ہے۔
    ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم اور پنجاب حکومت کے زیر اہتمام متحدہ علماء بورڈ نے بھی اپنے فرائض مکمل ادا کیے مگر ہمیشہ حکومتیں غیر سنجیدگی کا مظاہر ہ کرتی رہیں۔آج تک عارف جمال جیسے کسی محترم کو یہ زحمت نہیں ہوئی کہ وہ حکومتوں کی اس غیر سنجیدگی کا کوئی نوٹس لیں اور دوحرف اس پر بھی لکھ دیں۔صرف علماء کی انتہائی سنجیدہ کوشووں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور شاید اسکی بھی وہ علماء دشمنی ہے ۔
    یہ بات غلط ہے کہ پاکستان دیوبندی سٹیٹ بننے جارہا ہے حق بات یہ ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک بنتا چلا جارہا ہے اور یہ بنانے میں عارف جمال کجیسے غیر سنجیدہ ،جھوٹے اور ملک دشمن طاقتوں کے پے رول پر کالم نگار ان پڑھ تجزیہ نگار ایسے غلط تجزیے کرکے پاکستان کو اس نوبت تک پہنچانے میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔
    دیوبندی مکتبہ فکر کی تمام جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ہیں اور پاکستان میں قیام امن کیلئے بھرپور کردار ادا کررہی ہیں۔میں دوسرے مکاتب فکر کے جماعتوں کے حوالے سے بھی مطمئن ہو ں مگر انکی بات یہاں اس لیے نہیں کررہا مذکورہ انٹرویومیں دیوبندی مکتبہ فکر کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔
    کوئی دہشت گرد دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتا کیونکہ یہ مکتبہ فکرپر امن ہے اور ہرجگہ اپنے رہنے والوں کو ہمیشہ امن کے قیام کی تلقین کرتا ہے۔ ویسے بھی دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور اگر کوئی دہشت گرد اپنے آپ کو دیوبندیوں کی طرف منسوب کررہا ہے تو اس سے پوچھ لینا کہ وہ اس نوبت کو کیوں پہنچا ہےیہ آئین اور قانون کا تقاضا ہے جسے حکومت تو پورا کرنا چاہتی ہے مگر عارف جمال جیسے لوگ پورا نہیں ہونے دیتے۔یہ لوگ پوری دنیا میں امن چاہتے ہیں مگر پاکستان میں امن قائم ہوتا برداشت نہیں کرتے۔