Original Articles Urdu Articles

ذرا سوچیے – از قمر رضوی

2_64818

سانحہء راولپنڈی کو گزرے کئی دن ہوگئےلیکن اس آگ کا دھواں ابھی بھی دل سے اٹھ رہا ہے۔ دیکھنے والوں نے بہت کچھ دیکھا، بولنے والوں نے بہت کچھ بولا اور سننے والوں نے بھی بہت کچھ سنا لیکن  دل کا حال تو وہی جانے جس پر بیتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس واقعے کے ہیں کواکب کچھ، دکھلائے جاتے ہیں کچھ۔اک  شرارِ بولہبی سے وہ آگ بھڑکی جس نے  پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیااور شب و روز کی طرح تماشا دنیا نے دیکھا۔ ہمیشہ ہی کی طرح ہمیشہ کے رٹے رٹائے بیانات جاری ہوئے۔ واقعے کی مذمت، عدالتی تحقیقات کا وعدہ، ذمہ داران کی معطلی، نئے نئے چہروں کی آمد، ازالے کی چسنیاں اور وہی سب کچھ۔ لیکن اس بار صورتحال کچھ اس انداز میں مختلف ہوگی کہ اس خاص واقعہ میں ظالم کسی اور کو بنا کر پیش کیا جارہا ہے اور مظلوم کسی اور کو۔ عین ممکن ہے کہ اس مرتبہ بھی  ہونے والی تحقیق مصلحت اور خوف کا شکار ہو کر حقیقت کی نقاب کشائی نہ کرپائے کہ انسان کے تخلیق کردہ  ہر قانون میں چونکہ، چنانچہ اور اگرچہ کی گنجائش  ضرور رکھی جاتی ہے۔ لیکن وقت وہ محقق اور منصف ہے جو سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ ثابت کرکے ہی دم لیتا ہے۔ وہ بھی دن کے اجالے میں اور ڈنکے کی چوٹ پر۔۔۔ کہ وقت کا تو کام ہی جھوٹ کو بینقاب اور سچ کو عیاں کرنا ہے۔ اب یہ ہر ایک کا اپنا پنا  ازخودتحریر کردہ مقدر کہ وہ وقت کے فیصلے کو مانے یا رد کرے۔

راولپنڈی میں پیش آنے والا بظاہر یہ معمول کا واقعہ دراصل اس ملک کی تاریخ کا وہ موڑ ہے جہاں اس وقت پوری قوم کھڑی ہے۔ قوم کا لفظ میں نے اس امید کے ساتھ استعمال کیا کہ شاید یہ واقعہ ہم سبکو ایک ہجوم سے چھانٹ کر ایک قوم کی شکل بخش دے۔ شاید یہ اس ملک میں جاری کشیدگی اور انارکی کے خلاف ایک نئے سفر کا آغاز ثابت ہوجائے۔ کیونکہ اس واقعے  میں طاقت کے غرور میں مبتلا طاغوت کا گروہ وہ تمام حدود پار کر گیا جن سے اس ملک میں بسنے والے اٹھارہ کروڑ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے دلوں کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔

رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین سے اس مسئلے کا آغاز ہوا۔ تمام واقعہ توہینِ رسالت کا عملی مظاہرہ رہا اور اسکا خاتمہ بھی اہانتِ رسول پر ہی ہوا۔ جی ہاں! توہینِ رسالت !!! نہ صرف توہینِ رسالت بلکہ شرمناک حد تک توہینِ رسالت۔ اس مخصوص واقعے میں رسولِ اسلام  کی تعلیمات کی یکسر نفی کرتے ہوئے مکروہ ابلیسی ڈرامے کو کمالِ ڈرامہ سازی اور  اداکاری کے ساتھ پیش کیا گیا۔ یہاں اس وقوعہ کی تفصیلات کا ذکر کرنا مقصود نہیں کہ سب کو معلوم ہے کہ کیا، کیوں، کیونکر اور کیا نتائج حاصل کرنے کے لئے ہوا۔ جسے خبر نہیں،اسے وقت خود خبردار کردے گا۔

یہ واقعہ جہاں بہت سارے زاویوں اور عوامل کا محور ہے، وہیں یہ ہم سب پر کچھ ذمہ داریوں اور سوالات کا متقاضی بھی ہے۔ تشیع اور اسکے ابلاغ کو دبانے، جھوٹا اور غلط ثابت کرنے اور سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لاکھوں واقعات و سانحات  اور افسانوں سے چودہ سو سالہ تاریخ بھری پڑی ہے، لیکن اب معاملہ محض اہلِ تشیع تک محدود نہیں رہا۔ اس وقت جو طاغوت کے مکروہ اور شیطانی کھیل کا نشانہ اورشکار ہے، وہ ہے مسلکِ اہلِ سنت۔ اہلِ سنت اس ملک کا سب سے بڑا مذہبی مسلک ہے جو صرف اس بنیاد پر اہلِ سنت کہلاتا ہے کہ سنتِ نبوی کا پیروکار ہونا اس مسلک کا امتیاز و افتخار ہے۔ لیکن وہی شیطانی ٹولہ جس نے کبھی اصحابِ رسول کی فوج  (سپاہِ صحابہ) کے نام کا سہارا لیکر اصل معنی میں شانِ صحابہ میں عملی گستاخیاں کی تھیں، آج وہی شیطانی ٹولہ اہلِ سنت والجماعت کے نام کا سہارا لیکر مسلکِ اہلِ سنت پر دن دیہاڑے ڈاکہ زن ہے۔

سوال یہ ہے کہ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان،   منشیات،  ڈاکے، قتل،  دھماکے،  انسانوں کو ذبح کرنا، خواتین کی عصمت دری کرنا،  ملک کا امن و امان تاراج کرنا،  مساجد و امام بارگاہوں  اور دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کو نذرِ آتش و بم کرنا،  قبور کی بے حرمتی کرنا اور اسی طرح کے ہر ہر جرم کا ارتکاب کرنا کیا صحابہ ء کرام رضوان اللہ علیہم کی فوج کا کام ہوسکتا ہے؟ کیا یہ سب کام کرنے والے اہلِ سنت والجماعت ہیں؟ اگر نہیں، اور بلاشبہ نہیں تو پھر سنتِ رسول اور شانِ صحابہ میں عملی گستاخیاں کرنے والا یہ ابلیسی ٹولہ صحابہء کرام اور اہلِ سنت کے ناموں سے یہ تمام کاروائیاں کیوں اور کیسے کرتا پھر رہا ہے؟ زرا سوچیئے!

کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ مٹھی بھر شرپسندوں کے اس ٹولے کو اپنے اتحاد کے زریعے لگام دی جائے اور اس سے سپاہِ صحابہ اور اہلِ سنت والجماعت کے پاکیزہ و ارفع   ناموں کو چھین کر اسے تنہا و نہتہ کرکے قرار واقعی سزا دی جائے؟ نہیں تو جو کچھ ماضی  میں اہلِ تشیع کے ساتھ  اور ماضی قریب میں اہلِ سنت  برادران کے ساتھ ظلم و بربریت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اسکو دوام ہی حاصل ہوگا جسکے نتیجے میں ہم ہلاکت کی کسی اندھی کھائی میں جا گریں گے جہاں ہماری چیخ و پکار سننے والا بھی کوئی نہ ہوگا۔  (خاکم بدہن) ۔ کیونکہ حکومت کے مذمتی بیانات اور عدالتی تحقیقات کا ریکارڈ اتنا اچھا دکھائی نہیں دیتا۔