Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ تعمیر پاکستان: کیا نیا آرمی چیف پی ایم نواز، فوج، آئی ایس آئی کو جہادی پراکسی کی دلدل سے نکال پائے گا؟

131127103904_gen_raheel_shareef

اداریہ تعمیر پاکستان:جنرل راحیل شریف کیا پی ایم شریف،فوج اور آئی ایس آئی کو پراکسی دلدل سے نکال پائیں گے؟

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان کی بری فوج کا سربراہ جنرل راحیل شریف کو بنایا ہے جن کا ایک ایسے خاندان سے تعلق ہے جو پیشہ ور فوجیوں کا خاندان کہلاتا ہے-شائد وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے راحیل شریف کو فوج کا سربراہ بھی اسی وجہ سے بنایا ہے-جنرل راحیل شریف بری فوج کے وہ پہلے سربراہ ہیں جنہوں نے نہ تو فوج کے ڈی جی ایم او کے طور پر کام کیا-نہ ہی ان کا انٹیلی جنس بیک گراؤنڈ ہے-وہ سنیارٹی میں بھی تیسرے نمبر پر آتے تھے-جنرل کیانی نے جب پاکستان کی فوجی ڈاکٹرائن میں تبدیلی کی تو اس میں کاؤنٹر انسرجنسی کو بھی فوکس کیا-اس حوالے سے تربیت کا ایک الگ سے پروگرام شروع کیا گیا جس کا سربراہ راحیل شریف کو بنایا گیا-جنرل راحیل شریف کرسچن مشنری اسکول اور اعظم گریژن اسکول میں پڑھے اور ان کی بہن مسز نجمی کے بقول ان کے خاندان کے لڑکے اور لڑکیاں انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھتی رہے ہیں-جنرل راحیل کا خاندان عرف عام میں لبرل اور اعتدال پسند خاندان کہلاتا ہے-وہان فوجی افسران میں شمار کئے جاسکتے ہیں جو نیشنلسٹ ہیں مگر پولٹیکل اسلامسٹ جہادی آئیڈیا لوجی سے دور ہیں-وہ تحریک طالبان پاکستان کو اسی طرح سے پاکستان کے تزویراتی مفادات کے لیے سخت خطرات کا سبب خیال کرتے ہیں جیسے ان کی نظر میں انڈیا سے تزویراتی چیلنجز کا سامنا پاکستان کو ہے-ان کی ان خصوصیات کی بنا پر ان کے بارے میں وہ حلقے پرامید نظر آتے ہیں جو پاکستانی فوج کی مذھبی دھشت گردی کے خلاف جنگ میں پنڈولم کی طرح جھولتی پالیسی کے ناقد رہے ہیں-

61 سالہ سابق آرمی چیف جنرل پرویز اشفاق کیانی کے 6 سالہ دور میں فوج کے امریکہ سے تعلقات الزامات اور شکوک و شبہات اور ری لکٹنٹ تعاون کے درمیان درمیان گردش کرتے رہے-جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بارے میں امریکیوں کے خدشات،بیڈ فیتھ نجی محفلوں میں اکثر سامنے آتے رہے-نیویارک ٹائمز کے پاکستان سے ناپسندیدہ صحافی قرار دے کر نکال دئے جانے والے صحافی ڈیکلان والش کے بقول جنرل کیانی پر امریکیوں نے الزام عائد کیا کہ وہ ڈبل ڈیلنگ میں ملوث ہیں-ایک طرف امریکہ کے سٹریٹجک پارٹنر تو دوسری طرف افغان طالبان اور ایسے عسکریت پسندوں کی حمائت کررہے ہیں جو امریکی سفارت خانے،فوجی اڈوں پر حملے اور اسامہ بن لادن کو پناہ دینے میں مصروف تھے-ان کے دور میں اگرچہ فوج نے سوات میں آپریشن کیا-وزیرستان اور قبائیلی ایجنسیوں میں فوج دھشت گردوں سے برسرپیکار رہی اور انہوں نے فوج میں کاؤنٹر انسرجنسی تربیتی پروگرام متعارف کرایا مگر اس کے باوجود آرمی اور ان کی ماتحت خفیہ ایجنسیوں پر یہ الزامات لگتے رہے کہ وہ فرقہ پرست دھشت گردوں کو ملک کے اندر اور باہر پراکسی وار کے لیے استعمال کررہی ہے-حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں آئی ایس آئی کا بازوئے شمشیر زن کیا جاتا رہا اور آرمی،خفیہ ایجنسی،ایف سی پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ وہ بلوچستان کے اندر اور باہر بلوچستان کی آزادی اور اس کے حقوق کے لیے جدوحہد کرنے والوں کے خلاف ایک ڈرٹی وار لڑنے میں مصروف ہیں-اس پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرنے اور حقوق کی مہم چلانے والے لوگوں کا اغواء اور قتل بھی معمول بن چکا ہے-سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی فوج کے اندر لوگوں پر تکفیری،خارجی،دیوبندی-وہابی دھشت گردوں سے رابطے اور ان کی سرپرستی کرنے اور ان کے زریعے سے بلوچ،سندھی قوم پرستوں کی نسل کشی کرنے کے الزامات بھی موجود ہیں-یہ تکفیری دیوبندی-وہابی دھشت گرد بلوچستان اور سندھ کے اندر پراکسی وار لڑنے کے ساتھ ساتھ پنجاب سمیت دیگر علاقوں میں بھی غیر دیوبندی –وہابی مذھبی برادریوں اور سیکولر لبرل روشن خیال حلقوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ان کی مذھبی آزادیاں سلب کرنے میں مصروف ہیں-فوج کی ضیاء دور میں پیدا ہونے والی دیوبندی-وہابی اشرافیہ کی سرپرستی میاں محمد نواز شریف اور ان کی حکومت کررہی ہے-جنرل راحیل شریف کے لیے فوج کے امیج کو درست کرنے کے لیے ایک طرف تو فوج اور خفیہ اداروں اور خاض طور پر آئی ایس آئی کے کردار کو ٹھیک کرنے اور ان کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے-6سالہ دور میں جنرل کیانی کم از کم یہ کرنے سے تو قاصر رہے-

تعمیر پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ جنرل راحیل شریف کے لیے یہ تو ممکن نہیں ہوسکتا کہ وہ پاکستان کی نیشنل سیکورٹی اور فارن پالیسی میں ہندوستان پر عدم اعتماد اور افغانستان کے اندر اپنی پراکسی کو مکمل طور پر وائنڈ اپ کرڈالیں –لیکن جیسا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ ثی ثی پی کو بھارت جتنا ہی خطرناک خیال کرتے ہیں کو دیکھتے ہوئے ان سے یہ امید رکھی جاسکتی ہے کہ وہ سپاہ صحابہ پاکستان،لشکر جھنگوی جیسے دیوبندی تکفیری گروپوں کو پاکستان کی سرزمین کام کرنے کی تھوڑی بہت اجازت بھی نہیں دیں گے-

جنرل راحیل شریف کو پاکستان کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر فوج اور حکومت میں سعودیہ عرب کے ساتھ سٹرٹیجک پارٹنرشپ کی حامی قوتوں کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ان کو سعودی حکمرانوں کی خواہش پر پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں اور خفیہ اداروں کو مڈل ایسٹ میں خصوصی طور پر شام کے اندر کسی بھی پرو سعودی-وہابی پراکسی وار میں ملوث نہیں کرنا چاہئیے-اسی طرح سے پاکستان کو سعودیہ عرب کے ساتھ کسی بھی مبینہ ایٹمی ڈیل کا حضہ بننے سے روکنے کے لیے اپنے ادارے اور اپنے عہدے کا اثر و رسوخ استعمال کرنا جنرل راحیل شریف کی زمہ داری بنتا ہے-