Blogs Cross posted Newspaper Articles

راولپنڈی واقعہ: کیا کیمرے بھی جھوٹ بولنے لگے ہیں؟

131124133724_fake_images_624x351_bbc_nocredit

یہ تصویر اصل میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی سنہ 2009 میں کراچی میں ہوئے ایک خودکش حملے کی تصویر ہے جسے راولپنڈی میں جھڑپوں کے طور پر دیکھایا جا رہا تھا

حال ہی میں جب پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر چند تصاویر گردش کرنے لگیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ ان فرقہ وارانہ جھڑپوں کی تصاویر ہیں۔ جلد ہی ان تصاویر کے بارے میں سوالات اٹھائے جانے لگے۔

گذشتہ جمعے کو ملک کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یومِ عاشور کے موقعے پر ایک شیعہ ماتمی جلوس کے ساتھ جھڑپ میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے علاوہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور کئی دکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔

ن جھڑپوں کو عکس بند کر کے انٹرنیٹ پر تصاویر شائع کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ فیس بک پر شائع ایک تصویر پر تنزیہ انداز میں کیپشن لکھا گیا تھا ’یہ وہ ہیں جن پر ظلم ہو رہا ہے‘ مگر وہ تصویر اصل میں ایسوسی ایٹڈ پریس کی سنہ 2009 میں کراچی میں ہوئے ایک خودکش حملے کی تصویر تھی اور بی بی سی نیوز کی ایک تصویری گیلری میں 2009 میں دیکھی گئی تھی۔

کلِک بی بی سی کی اس وقت کی تصاویر

بلاگر سید فرخ عباس نے یہ غلطی پکڑ لی اور ٹوئٹر پر انہوں نے پیغام بھیجا: ’جھوٹی تصویر کا راز فاش، تکفیر کے حامی یہ 2009 کی کراچی کی تصویر شیعہ افراد کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

صحافی طٰحہ صدیقی نے ٹوئٹ کیا کہ ’پاکستانی سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ’پرِنگ‘ دنیا کے مختلف علاقوں کی پرتشدد تصاویر کو راولپنڈی کی تصاویر کی شائع کر رہا ہے۔‘

مقامی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اب حکومتِ پاکستان نے سوشل میڈیا یا موبائل فون کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔

سمارٹ فونز کے پھیلاؤ کی وجہ سے تیزی سے بدلتے واقعات کی تصاویر جلد ہی سوشل میڈیا پر پھیل جاتی ہیں۔ اگرچہ ان میں سے اکثر حقیقی تصاویر ہوتی ہیں، یہ بات بھی عام ہے کہ کچھ تصاویر بالکل علیحدہ ہی واقعات کی ہوتی ہیں اور انہیں کسی اور احتجاجی مظاہرے، قدرتی آفت یا کسی مختلف واقعے کی تشبیہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

بی بی سی نیوز کو ہر روز دنیا بھر سے ہزاروں لوگ تصاویر بھیجتے ہیں جن میں موجودہ حالات کی عکس بندی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

بی بی سی کے صارفین سے حاصل ہونے والے مواد کی نگراں ٹیم کے ٹروشار بیروٹ کہتے ہیں کسی بھی تصویر کی صداقت جانچنے کے دو پہلو ہوتے ہیں، ایک تکنیکی جائزہ اور ایک اداراتی تجزیہ۔

’ہمارے پاس کسی تصویر کے تکنیکی جائزے کے لیے متعدد طریقے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم معلومات کے ساتھ تصاویر کو بھی جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، مثال کے طور پر موسم، مقام، نمبر پیلٹیں، سائن بورڈ، زبان وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ ہم یہ بھی معلوم کرتے ہیں کہ کیا یہی تصویر انٹرنیٹ پر کہیں اور استعمال تو نہیں ہو رہی۔‘

’اداراتی طور پر ہم تصاویر کے حوالے سے سب سے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ کہیں یہ تصویر حقیقت کی عکاسی کرنے میں کہیں بہت زیادہ سچی تو معلوم نہیں ہو رہی۔ ہم اس تصویر کے خدو خال کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ اسے بھیجنے یا انٹرنیٹ پر شائع کرنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم تصویر میں کیے گئے دعویٰ کو تصدیق شدہ ذرائع سے جانچنے کی بھی کوشش کریں گے جیسے کہ خبر رساں ادارے یا موقعے پر موجود ہماری اپنی ٹیمیں ہوں۔

Source :

http://www.bbc.co.uk/urdu/science/2013/11/131124_altered_images_social_media_pictures_sa.shtml

 

ایڈیٹر نوٹ : ہم تعمیر پاکستان کی پوری ٹیم بلاگر سید فرخ عباس اور طٰحہ صدیقی کو ان کی اس کامیاب کاوش پہ مبارک باد اور خراج تحسین پیش کرتی ہے جس میں انہوں نے تکفیری دیوبندیوں اور ان  کے ظاہر اور باطنی حامیوں کے جھوٹے پروپگنڈے اور سازش کو بے نقاب کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا