Editorial Original Articles Urdu Articles

اداریہ تعمیر پاکستان: مسئلہ شیعہ سنّی تنازعہ نہیں، مسئلہ تو دیوبندی تکفیری دھشت گرد ہیں

shia

اداریہ تعمیر پاکستان:مسئلہ شیعہ –سنّی تنازعہ نہیں،مسئلہ تو دیوبندی تکفیری دھشت گرد ہیں

تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو فون پر بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کراچی کے علاقے انچولی سوسائٹی میں ہونے والے دونوں بم دھماکوں کی زمہ داری قبول کرتی ہے اور یہ دھماکے راولپنڈی واقعے کے ردعمل میں کئے گئے ہیں-ان کا کہنا تھا کہ شیعہ برادری ان کا ہدف ہے جسے آئندہ بھی نشانہ بنایا جائے گا-

http://urdu.dawn.com/2013/11/23/ttp-claims-responsibility-for-twin-bomb-attacks-in-karachi/

ٹی ٹی پی کی جانب سے شیعہ کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی زمہ داری قبول کرنے سے پہلے کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی اے کے چشتی نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر انکشاف کیا تھا کہ دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت کا کور گروپ کراچی میں جامعہ بنوریہ کی حمائت کے ساتھ فرقہ وارانہ جنگ کررہا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ جنداللہ،لشکر جھنگوی اہل سنت والجماعت نامی دیوبندی تنظیم کے عسکری دھشت گرد چہرے ہیں-انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ان کے پاس دیوبندی جماعت اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھنے والوں کی ای میلز موجود ہیں جس میں انہوں نے جلد راولپنڈی کا بدلہ دینے کا وعدہ کیا تھا-

جامعہ تعلیم القران راولپنڈی کے اندر تاجی کھوکھر جیسے قبضہ گیر بدمعاش کے دو گارڑز کی لاشوں کی جو وڈیو سامنے آئی اس میں بھی “امام بارگاہوں”کو جلادینے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں-

جبکہ گذشتہ جمعہ وفاق المدراس کی کال پر ہونے والے مظاہروں کو جیسے دیوبندی تنظیم اہل سنت والجماعت نے قابو میں کیا اور ہر احتجاجی جلوس میں کافر،کافر شیعہ کافر کے نعرے گونجتے رہے اور شیعہ کے خلاف جس طرح سے تقاریر کی جاتیں رہیں اس سے ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ تنظیم کس قدر منافرت پھیلانے اور دھشت گردوں کی پناہ گاہ بنی ہوئی ہے-

جب وفاق المدراس دیوبندی دھشت گرد تنظیموں کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا تھا تو ایسے وقت میں اہل سنت بریلوی یوم امن،یوم دعا منارہے تھے-

اس ساری تفصیل سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ملک میں شیعہ سنّی کوئی تنازعہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ ہے تکفیری دیوبندی دھشت گردگروپوں کی پورے ملک میں نفرت،انتہا پسند ،تشدد،دھشت گردی اور اپنے علاوہ دوسرے تمام مسالک کے خلاف تکفیری مہم-یہی وہ بنیادی مسئلہ جس پر پردے ڈالنے کا کام صرف دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی نہیں کررہے بلکہ یہ کام میڈیا میں بیٹھے جہادی صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار اور نام نہاد لبرل بھی کررہے ہیں-وہ بددیانتی کا ثبوت دیتے ہوئے ایک دھشت گرد،فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والی دیوبندی جماعت اہل سنت والجماعت  کو معتبر سیاسی جماعت بناکر پیش کرنے کی کوشش میں سب سے بازی لے گئے ہیں اور یہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہی جماعت تو پورے پاکستان میں فرقہ وارانہ منافرت اور تشدد،عدم برداشت اور پاکستان کی پرامن مذھبی برادریوں کے خلاف دیوبندی عام سادہ لوح نوجوانوں کو بہکانے کا کام کررہی ہے-اس جماعت کی کوکھ سے لشکر جھنگوی ،تحریک طالبان پاکستان ،جنود الحفصہ المعروف پنجابی طالبان نکلی ہیں اور یہ سب دھشت گرد گروپ اپنی آئیڈیالوجی اور دھشت گردی کے لیے درکار زاد راہ دیوبندی تکفیری جماعت اہل سنت والجماعت سے لیتے ہیں-

دیوبندی تکفیری دھشت گرد تنظیم اہل سنت والجماعت کے بارے میں یہ حقائق میڈیا،سیاسی جماعتوں ،ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سب کو معلوم ہیں-اس کے باوجود اس دھشت گرد فرقہ پرست جماعت کو ایک معتبر سیاسی جماعت کا سٹیٹس ریاست،میڈیا اور سول سوسائٹی کی کافی ساری پرتیں دے رہی ہیں-اس تنظیم سے تعلق رکھنے والوں کو ضلعی امن کمیٹی ،صوبائی امن کمیٹی اور وفاقی سطح پر بھی پروٹوکول کے ساتھ نمائندگی دینے کا عمل جاری و ساری ہے-اور اس جماعت کی جانب سے شیعہ اور بریلوی کے محرم اور ربیع الاول کے جلوسوں پر پابندی کے مطالبے کو ایسے پیش کیا جارہا ہے جیسے یہ مطالبات کسی بہت درمند اور غیرجانبدار حلقے کی جانب سے پیش کئے گئے ہوں-ان مطالبات کا مقصد شیعہ اور بریلوی کی مذھبی آزادیوں کو اسی طرح سے محدود کرنا ہے جس طرح سے اس ملک میں ہندؤ،عیسائی اور احمدیوں کی مذھبی آزادیوں کو محدود کیا گیا تھا-

دیوبندی تکفیری جماعت اہل سنت والجماعت شیعہ کو کافر اور بریلویوں کو مشرک قرار دلوانے کے لیے سپاہ صحابہ پاکستان کے نام سے جو کوششیں شروع کی تھیں وہ اپنی انتہا کو جاپہنچیں ہيں-

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی مسلم آبادی کے 85فیصد حصّے کی نمائندگی کرنے والی سنّی بریلوی اور شیعہ آبادی کی نمائندگی کرنے والے علمائے کرام اور حقیقی روشن خیال ترقی پسند دیوبندی تکفیری دھشت گرد اہل سنت والجماعت کی خود ساختہ ساکھ،اعتبار اور جھوٹے سیاسی جماعت ہونے کے بنائے جانے والے امیج کی نفی کریں اور ان کی حوصلہ شکنی کریں-اس کا سب سے بہتر حل یہ ہے کہ شیعہ اور سنّی علماء اور سیاسی جماعتوں کے رہنماء اس جماعت کے لیڈروں کے ساتھ کسی ٹی وی ٹاک شو کا حصّہ نہ بنیں اور نہ ہی کسی حکومتی ،آفیشل اجلاس میں ان کے ہوتے ہوئے شریک نہ ہوں-پاکستان کی سیکولر،لبرل ہونے کی دعوے دار سیاسی جماعتیں ایم کیو ایم،پی پی پی اور اے این پی کنفیوژن سے باہر آجائیں کیونکہ ٹی ٹی پی کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ یہ تینوں جماعتیں ان کے نشانے پر ہیں-گویا اس ملک کی اکثریت سوائے چند فیصد دیوبندی اور وہابیوں کے تکفیری،خارجی دیوبندی دھشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہے-اس لیے اس فتنہ سے متحد اور یکجا ہوکر ہی نمٹا جاسکتا ہے-