Featured Original Articles Urdu Articles

پاکستان میں شیعہ نسل کشی پر معاشرے اور میڈیا کی خاموشی: میں کہاں اور یہ وبال کہاں – عمار کاظمی

Army-Controlled-Rawalpindi-curfew-imposed

فائن آرٹس کا طالب علم ہونے کا ناطے میرے لیے مذہب اور فرقہ پرستی پر لکھنا ہمیشہ سے ایک مشکل کام رہا ہے۔مگر بد قسمتی سے آپ جس بات سے زیادہ بھاگتے ہیںوہ بات اتنا ہی سامنے آتی ہے۔کوئی سال دو سال پہلے جب لاہور ماڈل ٹائون میں احمدیوں کی عبادت گاہ پر حملہ ہوااور بہت سے معصوم لوگ مارے گئے تو میرا ایک روشن خیال دوست جوبرداشت اور روشن خیالی کے حوالے سے بہت سی جگہوں پر لیکچر بھی دیتا ہے اس نے ایک بہت دردناک اور خوبصورت کالم تحریر کیا۔میں جب اسے ملا تو اس کی بہت تعریف کی اور کہا یار تم نے بہت اچھا کالم لکھا ہے مگر کیا بات ہے کہ تم ایسا کوئی کالم شیعہ اوربریلوی کمیونٹی کے لیے نہیں لکھتے اورشیعہ تو سب سے زیادہ مارے جا رہے ہیں؟تو غصے میں جواب ملا’’میں نے احمدیوں کے لیے لکھ دیا ضروری تونہیں کہ میں شیعہ کے لیے بھی لکھوں‘‘۔اس کا کہنا میرے لیے کافی تھا تو میں نے خود ہی اس موضوع پر نہ چاہتے ہوئے بھی قلم اٹھا لیا۔

پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت میں جتنے شیعہ مارے گئے شاید اتنے پہلے کبھی نہیں مارے گئے ہونگے اور یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ مقتولین میں سے کسی کو بھی انصاف نہیں ملا۔یہ الگ بات کہ پیپلز پارٹی کو خود بھی انصاف نہیں ملا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں خوف تو تھا مگر حکومت کی طرف سے کسی مسلک یا مذہب کے لیے فیورٹ ازم کا تاثر نہیں تھا۔موجودہ حکومت جو قاتلوں سے مذاکرات کامینڈیٹ لے کرآئی ہے اس کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ کچھ سوال ہیں جو من ہی من سر اُٹھا رہے ہیں۔مثال کے طور پریوم عاشور پر سی این جی کس کوخوش کرنے کے لیے بند کی گئی؟ہفتے میں دو دن سی این جی دینے کا فیصلہ دس محرم سے ہی کیوں شروع کیا گیا؟ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عیدین کی طرح نو اور دس محرم کو بھی سارے ملک میں سی این جی کھلی رہتی تاکہ لوگوں کو آمد و رفت میں مشکل پیش نہ آتی مگر نواز حکومت نے تو وہاں بھی سی این جی بند کردی جہاں پچھلے ہفتے تک مل رہی تھی(پچھلے جمعہ تک پنجاب میں سی این جی مل رہی تھی)۔پی ٹی وی پر (ماضی کی نسبت) محرم کے پروگرام کس کو خوش کرنے کے لیے کم دکھائے گئے؟ جیو،دنیا اور اے آر وائی پر کس کے ڈرسے اس بار احترام محرم کم نظر آ یا؟ گزشتہ سالوں میںتو ان تمام چینلز پر چھٹی اورساتویں محرم سے ہی مجالس دکھائی جا رہی تھیں اب کی بار کیا ہوا؟فقہء جعفریہ جس کے سب سے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار بنے اسی کو دبانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ کیا دبانے سے یہ مسلک ختم ہوجائے گا؟

اگر کوئی یہ سوچتا ہے تو وہ غلط ہے۔آپ دنیا میں کسی بھی مسلک،مذہب اور نظریہ پر پابندی لگا کے دیکھ لو‘ آپ جتنا دبائو گے وہ اتنا ہی ابھر کر سامنے آئے گا۔میرے ایک مرحوم بزرگ اپنی جوانی میں بہت طاقتور تھے اور وہ عقل کے لیے بھی طاقت کا استعمال کر لیا کرتے تھے۔مثال کے طور پر ایک دن پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہاکی کا میچ دیکھتے ہوئے فرمایا ’’یہ ہندو ہمارا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے۔ان کے پاس مذہب اور ایمان کا وہ جذبہ ہی نہیں جو ہمارے پاس ہے۔ہمارے لوگ تو انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں چھاتیوں سے بمب باندھ کر ٹینکوں کے نیچے بھی لیٹ گئے تھے‘‘۔قسمت نے انھیں بہت مہلت نہیں دی کہ وہ پاکستان کے خود کش بمبار دیکھ سکتے مگر بابری مسجد ان کی زندگی میں ہی شہید کر دی گئی تھی۔ایک لاکھ کے قریب ہندو جنتا نے محض ڈنڈوں اور ہتھوڑیوں کے ساتھ تھوڑے سے وقت میں پہاڑ جتنی بڑی مسجد کا صفایا یوں کیا تھا کہ جیسے وہاں کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔ ان کے اس عمل کے پیچھے دو وجوہات بہت واضع تھیں‘ایک مذہب کا جذبہ اور دوسری صدیوں تک مسلمانوں کا ان کو ان کی اکثریت کے باوجود دبا کر رکھنا اوراپنے حقوق کی آواز اٹھانے والوں کی گردنیں اڑانا۔آج پاکستان میں خود کش بمباروں سے لیس طبقہ کے لوگوں بھی اسی طرح کی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ان کا خیال ہے کہ خود کش حملہ آور صرف انہی کے پاس ہو سکتے ہیں لہٰذا دھماکے پہ دھماکے کرو جتنے مرتے ہیں مار لو باقی جو بچیں گے وہ خود ہی ڈر کر عذاداری چھوڑ جائیں گے

اس ساری صورتحال میں ریاست خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔نواز حکومت ان سوالوں کے جواب دے نہ دے مگر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پنجاب حکومت اگر ان کے ساتھ نہیں (ظاہراً ایسا محسوس نہیں ہوتا) تو ان سے خائف ضرور ہے۔بڑے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کا بھی یہی حال ہے ابھی چند روز پہلے ہی انھیں طالبان کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ پنجاب میں موبائل فون بند کرنے سے ثابت ہوگیا کہ رحمان ملک درست تھے اور ان پر نواز لیگ کی تنقید غلط تھی۔اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے کہ عاشورہ امن و امان سے گزر گیا تو شام کوٹی وی پر خبرملی کہ راولپنڈی کے محرم کے جلوس میں ہنگامہ آرائی ہوئی ہے جس میںمتعدد لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔راجہ بازار میں مدینہ مارکیٹ کو آگ لگا دی گئی۔خبر کے مطابق لڑائی جمعہ کے خطبہ میں مولوی صاحب کے شر انگیز خطاب کی وجہ سے شروع ہوئی جس میں انھوں نے شیعہ کے ساتھ بریلوی حضرات کے لیے بھی سخت اور نفرت انگیز لہجہ اپنایا جو اس وقت محرم کے جلوس میں بھی شامل تھے۔پہلے دونوں طرف سے پتھرائو کیا گیا پھر فائرنگ ہوئی، پولیس سے بندوقیں چھین کر بھی فائیرنگ کی گئی، جلائو گھیرائو کیا گیا اورپولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔یہ حقیقت اپنی جگہ کہ مذکورہ مسجد کے لوگ پہلے سے لڑائی کے لیے تیار تھے مگر اس کے باوجود شیعہ یا دیوبند کسی کا بھی مارا جانا افسوسناک امر ہے اور جو بھی اس واقعہ میں ملوث ہیں انھیں قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔مفتیان اور علماء کی طرف سے بھی حکومت کو الٹی میٹم دے دیا گیا ہے کہ واقعہ میں ملوث مجرموں کوسر عام پھانسی دی جائے اور انھیں کھمبوں پر الٹا لٹکا دیا جائے۔گو ابھی تک مجرموں کی وابستگی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔تاہم کسی مسلک کے مجرم سے کوئی ہمدردی نہیں مگریہ ان لوگوں کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے جنھوں نے جولائی دو ہزار تیرا تک 22,000 ہزار شیعہ شہادتوں پر کبھی زبان نہیں کھولی۔گردنیں کاٹ کر وڈیوز جاری کی گئیں،ٹارگٹ کلنگ ہوئی،خود کش دھماکوں میںبچے،بوڑھے جوان مارے گئے، شیعہ زائرین اور کالج کی بچیوںسے بھری ہوئی بسیں بم دھماکوں سے اڑا دی گئیں مگر کبھی کسی ایک بھی مفتی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ قاتلوں کو چوک میں سر عام پھانسی دے کر الٹا لٹکا دیا جائے۔دیوبند اور شیعہ بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ جس کو جی چاہے درست مانیں اور جس کو جی چاہے نا مانیں مگرلڑائی سے پرہیز کریں۔)
Jinnah khoja shia roshni
1474908_599255496797898_466855248_n

About the author

Dr Uzma Ali

2 Comments

Click here to post a comment
  • عمار میاں !یہ ڈر اور خوف کی بات بھی خوب کہی آپ نے -میڈیا میں خاص طور پر اردو میڈیا میں جہادی-تکفیری-خارجی سوچ سے مطابقت رکھنے والے صحافیوں کی ایک معتدبہ تعداد موجود ہے جو اہن سنت بریلوی اور شیعہ کے خلاف ہونے والی دھشت گردی اور ان کے خلاف نفرت پھیلانے والی جماعت پر تنقید کرنے اور ان کو بے نقاب کرنے کی بجائے ان کی پروجیکشن فراہم کرتی ہے اور پھر بھی وہ خود کو آزادی صحافت اور سچائی کا علمبراد کہتے ہیں-شیعہ اور بریلویوں کی حالت زار سے ہمدردی والا کالم یا تجزیہ ان اداروں میں بیٹھے لوگوں کے لیے فرقہ پرستی کے زمرے میں آتا ہے اور جو ان کے نکتہ نظر کے مطابق اس تکفیری-خارجی فرقہ پرستوں کو مجاہد اسلام اور ان کی جدوجہد کو سلام کرے وہ فرقہ پرستی نہیں ہے-اس تجربے سے یہ خاکسار کئی مرتبہ اپنی صحافتی زندگی میں گزرا ہے-

  • Sahi kaha aamir bhai… rawalpindi may khud apni paida karda soort-e-haal ka shikar honay kay bawajood itna shor sharab ho raha hay…aur saray anchor apna zor-e-bayan sarf kar rahay hain iss per magar afsos say kahna parta hay kay jo waqae zulm hota raha hay aur ho raha hay uss per bolnay wala koi nahi saray arbab-e-ikhtiar bhi “un ” kay ikhtiar may hain….APNA TU BUS MOLA WARIS HAY…