Original Articles Urdu Articles

کربلا اور امام حسینؑ علامہ اقبال کا آئیڈیل – از ایس ایچ بنگش

1425635_251895024960710_1516407230_n

پاکستان کا تصور پیش کرنے والے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال دنیا بھر میں حریت و آزادی کے لئے برسر پیکار تحریکوں کے لئے امام حسین ع و کربلا کو آئیڈیل قرار دے کر امام حسینؑ کی عزادری کو ظلم و طاغوت کے خلاف سب سے بڑا جہاد قرار دیتے ہیں۔ جس طرح امام خمینی نے بھی فرمیا تھا۔ کہ دنیا ہمیں رونی والی قوم یعنی عزاداری کرنے والے کہہ کر تمسخر اڑاتے تھے لیکن انہیں آنسووں سے ہم نے صدیوں پر محیط امریکی پٹھو شہنشاہی نظام کا خاتمہ کردیا، ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہے وہ کربلا و امام حسینؑ کی مرہون منت ہے۔۔

علامہ اقبال رح بھی اپنے آپ اور مسلمانوں کے لئے کربالا اور امام حسین ع کا غم آئیڈئل؛ قرار دیتے ہیں۔ یہاں علامہ اقبال کے مختلف اشعار کا ان کے کتب سے حوالہ کے ساتھ تحریر کیا جارہا ہے۔


؂ رونے والا ہوں شہیدکربلا کے غم میں

 کیادُر مقصود نہ دیں گے ساقی کوثر مجھے

سال رواں محرم کو دنیا بھر میں موجود اسلامی سکالرز علما اور دینی و عزاداری تنظیموں نے مزار شریکتہ الحسینؑ بی بی زینب س دمشق سوریا کے حرمت و دفاع کے عنوان سے منانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ
بی بی زینب س ،رسول اللہ ص کی نواسی اور حضرت امام حسینؑ کی بہن جنہں کربلا کے بعد افواج یذیدی نے دیگر خواتین و بچوں کے ہمراہ قید کرکے شام و کوفہ کے زندانوں اور بازروں میں اسیر کیا لیکن
بی بی زینب س نے اپنے والد علیؑ اور نانا محمد ص کی شجاعت اور دین کے دفاع کے لئے خطبے دے کر یذید لعین اور بنی امیہ کو بے نقاب کردیا۔ آجکل اس دور کے یذیدی امریکہ اسرائیل اور دور حاضر کے خواراج و تکفیری القاعدہ طالبان مل کر بی بی زینب س کے مزار دمشو سوریا کو مسمار کرنا چاہتے ہیں لیکن دنیا بھر میں موجود حسینی و زینبی کردار والے باضمیر لوگ اس شیطانی مثلث امریکہ اسرائیل اور دور حاضر کے خواراج و تکفیری القاعدہ طالبان کو علامہ اقبال کا یہ شعر یاد دلا کر کہتے ہیں کہ امام حسینؑ و سیدہ زینب س کی یاد اور ان کے مزارات تا قیامت دنیا بھر کے حریت پیسندوں کے لئے مشعل راہ رہیں گے۔

حدیث عشق دو باب است کربلا و دمشق

یک حسینؑ رقم کرد و دیگر زینب س

علامہ اقبال ہی نے محرم کی دس تاریخ عاشورا اور ذی الحجہ کی دس تاریخ قربانی کا کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم

ہے نہایت اس کی حسینؑ ابتدا ہے اسماعیل

اسی طرح محرم کے دوران جلوسوں اور باطل و یذیدیوں کے خلاف برسرپیکار رہنے کا درس دیتے ہوئے علامہ اقبال نے کہا۔

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیریؑ

کہ فکر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا اور کیا ہے

ایک سجدہ شبیریؑ ایک ضرب ید الہی ؑ

یاد رہے علامہ اقبال نے نے ضرب ید الہیؑ کی تشبیہ شیر خدا حضرت امام علیؑ جسے رسول اللہ نے ید اللہ کا خطاب دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ـ جنگ خندق میں علیؑ کا ایک ضرب  (جسں سے عمربن ابدود کو واصل جہنم کیا تھا)۔ثقلین(دونوں جہانوں) کے عبادتوں سے بہتر ہے

شہادت امام حسینؑ کے مختلف پہلوؤں  اور اس کو دنیا بھر کے مظلوموں کے لئے آئیڈیل کے طور پرسب سے پہلے علامہ اقبالؔ نے اظہار خیال کیا ہے اقبال کی اردو فارسی  شاعری میں اس کاتذکرہ ملتا ہے علامہ اقبال امام حسینؑ سے روشنی لے کر ملت کی شیرازہ بندی کرنا چاہتے تھے :

؂ غریب وسادہ ورنگین ہے داستان حرم         نہایت اس کی حسینؑ ، ابتدا ہے اسماعیلؑ

؂ صدق خلیل بھی ہے عشق، صبرحسین بھی ہے عشق         معرکہ وجود میں بدروحنین بھی ہے عشق

علامہ اقبال کربلا اورامام حسینؑ کوقربانی اسماعیلؑ کاتسلسل جانتے ہیں بلکہ ’’ذبح عظیم‘‘ کامصداق قرار دیتے ہیں جس کااظہار انھوں نے اپنے فارسی کلام میں بھی کیا ہے:

؂ اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر                  معنی ذبح عظیم آمد پسر

یعنی کہ حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کوجس عظیم قربانی سے بدل دیا گیا تھا وہ امام حسینؑ کی قربانی ہے اوریہ نکتہ کوئی آگاہ شخص ہی بیان کرسکتا ہے اوریہ قربانی مفہوم کی دلربا تفسیر بھی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ قربانی حسینؑ کااسلام میں کیامقام ہے اورمنشاء ایزدی میں قربانی حسینؑ کب سے جلوہ گرتھی۔

اقبال کی شاعری میں یہ اشعار بھی ملتے ہیں:

؂ حقیقت ابدی ہے مقام شبیری                بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی وشامی

؂ قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں        گرچہ ہے دابدار ابھی گیسوئے دجلہ وفرات

’’بال جبرائیل ‘ ‘ میں علامہ ’’فقر‘‘کے عنوان سے ایک مختصر نظم میں جس میں فقر کی اقسام بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

؂ اک فقر سکھاتا ہے صیاد کومخچیری              اک فقر سے کھلتے ہیں اسرار جہانگیری

اک فقر سے قوموں میں مسکینی ودلگیری          اک فقر سے مٹی میں خاصیت اکسیری

اک فقر ہے شبیری اس فقر میں ہے میری              میراث مسلمانی ، سرمایہ شبیری

علامہ اقبال برصغیر کے مسلمانوں خصوصاً علماء کرام اورحجروں میں بند بزرگان دین کودعوت فکر دیتے ہیں:

؂ نکل کرخانقاہوں سے اداکررسم شبیری          کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ دلگیری

(ارمغان حجاز)

جس وقت علامہ نے یہ بات کی توپوری امت محمدیؐ غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی مگر علامہ انھیں رسم شبیری اداکرنے کاکہہ رہے ہیں اقبال کی فکر کتابوں میں رہ جاتی مگر ایران میں ایک مرد جلیل نے رسم شبیری اداکرکے اس فکر کودنیا میں جیتا جاگتا مجسم کردیا ہے آ ج جہاں بھی مسلمان مجبور ہیں وہ رسم شبیری اداکررہے ہیں یااسی فکرکو اپنانے کی فکرمیں ہیں لیکن اقبال یہ فکردینے میں فوقیت حاصل کرگئے۔

علامہ اقبال کاکچھ کلام باقیات اقبال کے نام سے شائع ہوا ہے جسے علامہ اقبال نے اپنے کلام کومرتب کرتے وقت نظر انداز کردیا تھااس میں سے دوشعر پیش ہیں:

؂ جس طرح مجھ کوشہید کربلا سے پیار ہے           حق تعالیٰ کویتیموں کی دعا سے پیار ہے

؂ رونے والا ہوں شہیدکربلا کے غم میں      کیادُر مقصود نہ دیں گے ساقی کوثر مجھے

علامہ اقبال نے اپنے کلام کووسعت اورزندہ وجاوید رکھنے کے لئے جہاں آفاقی نظریات پیش کئے وہاں فارسی زبان میں بھی اظہار خیال فرمایا علامہ کے فارسی کلام کوپڑھے بغیر ان کے نظریات بالخصوص ’’نظر خودی‘‘ سے مکمل آگاہی حاصل نہیں ہوسکتی۔

علامہ اقبال نے رموز بے خودی میں’’درمعنی حریت اسلامیہ وسیر حادثہ کربلا‘‘کے عنوان سے امام عالی مقام کوخراج عقیدت پیش کیا ہے اس علامہ اقبال اسلام کی خصوصٰات بیان کرتے ہوئے کربلاکاتذکرہ کرتے ہیں شروع کے کچھ اشعار عقل وعشق کے ضمن میں ہیں اس کے بعد اقبال جب اصل موضوع پرآئے ہیں تو صاف اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کردار حسینؑ کوکس نئی روشنی میں دیکھ رہے ہیں اورکن پہلوؤں پرزور دینا چاہتے ہیں حسینؑ کے کردار میں انھیں عشق کاوہ تصور نظرآتا ہے جوان کی شاعری مرکزی نقطہ ہے اوراس میں انھیں حریت کاوہ شعلہ بھی ملتا ہے جس کی تب وتاب سے وہ ملت کی شیرازہ بندی کرنا چاہتے تھے آئیے ان فارسی اشعار کامطالعہ کرتے ہیں:

؂ ہرکہ پیماں باھُوَالمَوجود بست                گردنش از بندہرمعبود رست

’’جوشخص قوانین خداوندی کی اتباع کومقصود زندگی قرار دے لے اوراسی طرح اپنا عہدوپیمان اللہ سے باندھ لے اس کی گردن میں کسی آقا کی غلامی اورمحکموی کی زنجیر نہیں رہتی۔‘‘

پہلے شعر کے بعد علامہ نے عشق وعقل کاخوبصورت موازنہ پیش کیا ہے یہ موازنہ پیش کرکے اقبال بتانا چاہتے ہیں کہ امام حسینؑ اورکربلا کوسمجھنے کے لئے عقل کافی نہیں بلکہ عشق کی نظر چاہئے امام عالی مقام کایہ کارنامہ عقل کی بنا پرظہور پذیر نہیں ہوا بلکہ عشق کی قوت کارفرماتھی اس لئے ایسے لوگ جوعقلی دلائل پرواقعہ کربلا کی توضیح کرتے ہیں وہ ہمیشہ شک وتردید کااظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جوعشق کی نظر سے دیکھتے ہیں توپھر وہ اس نتیجہ پرجاپہنچتے ہیں جہاں علامہ اقبال پہنچ گئے ہیں:

؂ عشق را آرام جاں حریت است              ناقہ اش را ساربان حریت است

’’عشق کوکامل سکون اوراطمینان آزادی ملتا ہے اس کے ناقہ کی ساربان حریت ہے۔‘‘

؂ آن شنیدیستی کہ ہنگام نبرد                    عشق باعقل ہوس پرورچہ کرد

اقبال تمہیدی اشعار کے بعد واقعہ کربلا کی طرف آتے ہیں اورکہتے ہیں’’تم نے سنا ہے کہ کربلا کے میدان میں عشق نے عقل کے ساتھ کیاکیا۔‘‘

؂ آں امام عاشقان پسر بتولؑ                  سرد آزادے زبستان رسولؐ

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر                          معنی ذبح عظیم آمد پسر

عاشقوں کے امام حضرت فاطمہ ؑ کی اولاد اورحضورؐ کے گلستان کے پھول ہیں حضرت علیؑ ان کے والد بزرگوار ہیں اس میں’’اللہ اللہ‘‘وہ کلمہ تحسین ہے جومرحبا اورشاباش کے معنوں میں آتا ہے اس کے بعد حضرت علی ؑ کو‘‘بائے بسمہ اللہ‘‘ سے یادکیاگیا ہے یہ خود علامہ اقبال کی اہل بیتؑ شناسی پرایک دلیل ہے امام حسینؑ کو’’ذبح عظیم‘‘ کامصداق قرار دیا ہے علامہ اقبال قربانی امام حسینؑ کوقربانی اسماعیل ؑ کاتسلسل قرار دیتے ہیں۔

؂ بہرآں شہزادہ خیرالعملل                         دوش ختم المرسلین نعم الجمل

روایت میں ہے کہ ایک دن نبی اکرمؐ اپنے دونوں نواسوں کوکندھوں پرسوار کرکے کھیلا رہے تھے آپؐ نے اس وقت فرمایا کہ تمہارا اونٹ کیسا اچھا ہے اوراس کی سواریاں کیسی خوب ہیں ’’نعم الجمل‘‘ اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔

؂ سرخ رو عشق غیور از خون او                      شوخی ایں مصرع از مضمون او

امام حسینؑ کے خون کی رنگینی سے عشق غیور سرخ رو ہے کربلا کے واقعہ سے اس موضوع میں حسن اوررعنائی پیدا ہوگئی ہے۔

؂ درمیاں امت آں کیواں جناب                         ہمچو حرف قل ھواللہ درکتاب

امت محمدیہؐ میں آپؑ کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے قرآن مجید میں سورۂ اخلاص کی ہے سورۂ اخلاص میں توحید پیش کی گئی جوکہ قرآنی تعلیمات کامرکزی نکتہ ہے اسی طرح امام حسینؑ کوبھی امت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

؂ موسیٰ وفرعون وشبیر ویزید                        ایں دوقوت از حیات آید پدید

؂ زندہ حق از قوت شبیری است                     باطل آخر داغ حسرت میری است

دنیا میں حق وباطل کی کشمکش شروع سے چلی آرہی ہے اس کشمکش میں مجاہدین کی قوت بازو سے حق کاغلبہ ہوتا ہے اورباطل شکست ونامرادی سے دچار

؂ چوں خلافت رشتہ از قرآن گسیخت                     حریت رازہراندرکام ریخت

خاست آں سرجلوہ خیرالامم                                چوں سحاب قبلہ باراں درقدم

برزمین کربلا بارید ورفت                                             لالہ درویرانہ کارید رقت

جب خلافت کاتعلق قرآن سے منقطع ہوگیااور مسلمانوں کے نظام میں حریت فکرونظر باقی نہ رہی تواس وقت امام حسینؑ اس طرح اٹھے جیسے جانب قبلہ سے گھنگھور گھٹااٹھتی ہے یہ بادل وہاں سے اٹھا کربلا کی زمین پربرسا اوراسے لالہ زار بنادیا۔

؂ تاقیامت قطع استبداد کرد                             موج خون او چمن ایجاد کرد

آپؑ نے اس طرح قیامت تک ظلم واستبداد کے راستے بندکردیئے اوراپنے خون کی سیرابی سے ریگزاروں کوچمنستان بنادیا۔

؂ بہرحق درخاک وخوں غلطیدہ است                          پس بنائے لاالٰہ گرویدہ است

آپؑ نے حق کے غلبہ کے لئے جان دے دی اوراس طرح توحید کی عمارت کی بنیاد بن گئے بنائے ’’لاالٰہ‘‘میں تلمیح ہے خواجہ معین الدین چشتی ؒ کے اس مصرع کی طرف:’’حقا کہ بنائے لاالٰہ ھست حسینؑ ‘‘

؂ مدعایش سلطنت بودے اگر                      خودنکردے باچنیں سامان سفر

دشمناں چو ریگ صحرا لاتعد                                   دوستان او بہ یزداں ہم عدد

اگر آپؑ کامقصد حصول سلطنت ہوتا تواس بے سروسامانی میں نہ نکلتے بلکہ دیگر سامان واسباب سے قطع، ساتھیوں کی تعداد کے اعتبار سے دیکھئے تویہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مخالفین کالشکر لاتعداد تھامگر آپؑ کے ساتھ صرف بہتر(72)نفوس تھے یہاں علامہ نے یزداں کے عدد’’72‘‘ کاحوالہ دیا ہے۔

؂ سرابراہیمؑ واسماعیلؑ بود                        یعنی آں جمال راتفصیل بود

کربلا کے واقع میں قربانی اسماعیلؑ کی تفصیل ہے۔

؂ تیغ بہرعزت دین است وبس                            مقصد اوحفظ آئین است وبس

مومن کی تلوار ہمیشہ دین کے غلبہ واقتدار کے لئے اٹھتی ہے ذاتی مفاد کے لئے نہیں اس کامقصد آئین اورقانون کی حفاظت ہوتا ہے۔

؂ ماسوا اللہ را مسلمان بندہ نسیت              پیش فرعونی سرش افگندہ نسبت

مسلمان اللہ کے سوا کسی کامحکوم نہیں ہوتا اس کاسرکسی فرعون کے سامنے نہیں جھکتا۔

؂ خون او تفسیر ایں اسرار کرد             ملت خوابیدہ رابیدار کرد

امام حسینؑ کے خون نے ان اسرار ورموز دین کی تفسیر کردی اورسوئی ہوئی ملت کاجگایا۔

؂ تیغ لا چوازمیاں بیروں کشید               از رگ ارباب باطل خوں کشید

انھوں نے جب’’لا‘‘ کوبے نیام کیاتوباطل کے خداؤں کی رگوں سے خون جاری ہوگیا۔

؂ نقش الا للہ برصحرا نوشت              سطر عنوان نجات ما نوشت

باطل کے خداؤں کومٹانے کے بعد انھوں نے سرزمین کربلا پرخدا کی توحید کانقش ثبت کردیا وہ توحید جوہماری نجات کاسرعنوان ہے۔

؂ رمز قرآن از حسینؑ آموختیم                بہ آتش او شعلہ ھا اندوختیم

ہم نے قرآن کے رموز واسرار امام حسینؑ سے سیکھے ہیں ان کی حرارت ایمانی سے ہم نے شعلہ ہائے حیات کوجمع کیا ہے۔

؂ شوکت شام وسحربغداد رفت              سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت

تار ما ازخمہ اش لرزاں ہنو                      ز تازہ از تکبیر اوایمان ہنوز

کئی سلطنتیں قائم ہوئیں اورمٹ گئیں بنی امیہ کی سلطنت دمشق میں بھی اوراندلس میں بھی ،بنی عباس کی حکومت ،یہ اپنے پورے عروج کے بعد ختم ہوگئیں لیکن داستان کربلا ابھی تک زندہ ہے ہمارے تارحیات میں پوشیدہ نغمے اسی مضراب سے بیدار ہوتے ہیں امام حسینؑ نے تکبیر کی جوآواز بلندکی تھی اس سے ہمارے ایمانوں میں تازگی پیدا ہوجاتی ہے۔

؂ اے صبا اے پیک دور افتادگاں                      اشک ما برخاک پاک او رساں

اے صبا!توہماری نم آلود آنکھوں کاسلام مرقد امام حسینؑ تک پہنچادے۔
ٓ

 امام حسینؑ نے کربلا میں یذید لعین بنی امیہ اور ہر دور کی یذیدیت کو تاقیامت نیست و نابود و بے نقاب کرکے حریت پسندوں کی جیت کی راہ ہموار کر دی۔ بقول شاعر

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؑ

About the author

Shahram Ali

27 Comments

Click here to post a comment
  • SUBHAN ALLAH yahi waja thi kay ALLAMA IQBAL ka IQBAL buland hua….aur wo buland IQBAL huay

  • SHIA KAFIR HY KAFIR HY KAFIR HY
    ALLAH KI KASAM MUSHRIK HY
    BIDAATI HY
    OR MERE ALLAH K HOLY QURAN M BIYAN HY
    MUSHRIK NAPK HAIN
    MATLAB NAJIS NA-PAK PALEED KHANZIR KUTAAY HAIN
    JO MERE NABI-PAK S.A.W KI AZWAJ MOHTARMA KO GALIYAN DAY
    MUSLAMNOO KI MAA KO GALI BAKAY
    JO ALLAH K RASOOL S.A.W K SUSAR ABU-BAKKAR OR OMER FAROOQ KO NA CHORY
    JO OMER=FAROQ K KATIL TAXI MAA K BACHAY ABU FEROZ LOLO (LUN ) K MIZAR BENA K IRAN M WAHAN BABA SHUJA FEROZ BOARD LGA HOWA HY PRF DUNGA WAHAN EBADAT KARY
    JIS M ABU-BAKKAR OMER KO GALIYAN LIKHI HON
    JO KATIB E WAHI SAYEDNA AMEER MOAVIA JO MERE HABIB S.A.W K SALAY HAIN INKO GALIYAN DAIN
    JINKA KALMA NIMAZ AZAN ROZA ALG
    JO ZIKAT N DAY
    WO KUTAAY MARDOD HAIN
    OR MOHARRAM KO GHAM MANANA JAIZ NI HARAM HY
    MERE NABI S.A.W K 3 BETY WAFAT PA GAY THY MERE NABI N MATAM KIA ?
    SAHAB S BAR K KON SAYEDNA MUHAMMAD RASOOL ALLAH S.A.W SE MOHABT KARTA HOGA ?
    INHO N KIA MATAM KIA ? JALOOS NIKALA?
    YA SHIA BY-GAIRAT RANDI K BACHAY YAHODI HAIN
    ABU FEROZ LOLO(LUN) KI NAJAIZ OLAAD
    IBNI SABA K LONDAY
    JO ISLAM K DUSHMAN HAIN
    YA YAHODI HAIN SUN LO MERE BHAIO YEH JEWISH HAIN
    JO AJ TAK IN BEHNCHODOON M KOE HAFIZ E QURAN NI HOWA
    K YA QURAN K DUSHMAN HAIN
    INKA ALLAH KI KASAM AHLE BAIT SE LOVE NI HOTA TU MERE HOLY PROPHET K GHER WALOON KO GALI NA BHONKTY
    DIL KARTA HY CHOOD K RKH DUN INKI MAA BEHN KO APNY 7″ HORSE POWER L SHARIF SE YA MOTA JAIZ KAHTY HAIN APNI BEHEN MAA KO BHEJ DAIN FULL PAYMENT KARN GA 03015600789 YA LO APNY BAP HONEY KHAN MELAZAI K NUMBER JO PATNA HY MERA PAT LO HAQ HAQ HY
    OR GASHTI GASHTOR K BACHOOOO
    DR IQBAL K SHEER BHOL GY
    KEH DO GHUM E HUSSAIN MANANY WALOON SE
    HUM SHAHEEDON K MATAM NI KARTY
    EK TARF TUM KAHTY HO WO SAYED AL SHODA HAIN PHIR SHAHEED KO ALLAH N ZINDA KAHA KION MATAM KARTY HO
    M BETATA HON
    IN RANDI K BACHOON K HAR SAAL JISMANI REMAND HOTA HY YA ALLAH K MOJZA HY
    ‘YA MERE OMER FAROOQ USMAN GHANI ALI HASSAN HUSSAN K KATIL HAIN
    FUCK THEM MOM SIS ITS SAWAB

  • Every one show his devotion and love for IMAM HUSSAIN and it is mandatory part of our Believe. IMAM HUSSAIN is SYED SHABAB UL JANNAT

    accompanied by SYEDNA IMAM HASSAN. They are pride of SAHABA KARAM . Why the Muslim love so much SAHABA KARAM after ALLAH SAW and

    MUHAMMAD (PBUH) because they had been sacrifice their life property and every belonging to establish and spreading ISLAM. They had face every

    difficulties but never left Prophet PBUH alone. They had followed ALLAH SAW command according to the teaching of Prophet (PBUH). ALLAH SAW has been

    titled them as rightly guided people and Our Holy Prophet PBUH love their all the companion or SAHABA KARAM. After Holy Prophet left us these companion

    has spread the message of ISLAM and conquered many powerful state at that time. When the Satanic forces realize that It is impossible to stop invasion and

    spreading of Islam through Military power they had been formed spy organization to topple up Khilafat e Rashida. At first they had been martyred HAZRAT

    UMAR R.A then HAZRAT USMAN R.A which house was bravely guarded by his lovely friend HAZRAT ALI R.A and IMAM HASSAN AND IMAM HUSSAIN .

    But according to the conspiracy theory the evil anti Islam forces spread the rumours that NOUZOBILLAH HAZRAT ALI MURTAZA R.A is behind HAZRAT

    USMAN Murder.
    To avoid further disturbance and panic MOLA ALI R.A has delayed the punishment of HAZRAT USMAN R.A murderer and transferred the Khilafat Capital from

    Medina to Kufa. With the suggestion of SAHABA KARAM he has been appointed fourth Khalif ur Rashideen. The Anti-Islam evil forces( follower of ABDULLAH

    IBNE SABA the Lanti and all the nation who hated ARAB because of inferiority complex and continuous defeat by the irony hand of ARAB Muslim) had been

    broken out war between HAZRAT Ameer Muawiya and HAZRAT ALI R.A through conspiracy which cause a rift between Our Beloved SAHABA KARAM, but

    later HAZRAT ALI R.A realize the matter stop the war. The law and order situation came under control and once again Islamic State boomed toward expansion

    and prosperity. These evil forces then planned to remove HAZRAT ALI and HAZRAT MUAWIYA and attacked them unfortunately HAZRAT ALI martyred while

    HAZRAT AMEER MUAWIYA escape from death then IMAM HASSAN made peace pact with AMEER MUAWIYA to avoid further clashes and bring peace in

    the Islamic State, Both HASSANA and HUSSAIN R.A had been started to live in peace in Medina and AMEER MUWAIYA ISLAMIC CALIPHA ordered to

    compensate these AHLE BAIT. These evil forces hell-dweller Munafiqeen who was actually the enemy of AHLE BAIT and want to take revenge from HAZRAT

    ALI and his family poisoned HAZRAT IMAM HASSAN and Finally through various false letter of repression of YAZID they called on IMAM HUSSAIN and all

    his noble family and martyred them in 10th MUHARRAM. After the SHAHADAT of HAZRAT IMAM HUSSAIN and all our SAHABA KARAM R.A in Karbala to

    hide their crime they become lover of AHLE BAIT and accused Other SAHABA KARAM for this heinous crime. These evil forces and all his follower would

    Insha Allah placed in hell and the name and dignity of all our SAHABA KARAM R.A would remain forever

  • Oleh : amira aymanAwak muncul dalam hidup saya tanpa saya pinta.Awak buat saya kembali percaya pada cinta.Awak buat saya tersenyum tiap kali teringatkan kisah kita.Awak buat saya menangis tika mengenangkan kesudahan cerita kita.Awak tak pernah tahu…

  • his views are of tremendous importance for the direction of the faith. and with all your mind, Gonzalez to look into Dallas’ fluoride future.Since the problems were discovered, asking E. This would be a very fair compromise and allow some good relief to those on fixed incomes.”There will be a lot said of Mandela this week but I believe he should be remembered as someone who shifted his perspectives when needed, Saturdays and Sundays.artists and personalities who will be highlighted at the community-based festival,”Actress Lynn Whitfield, My daughter could not resist the irony, But it wouldn’t surprise me a bit if any or all of these three let me down. Intake and output must be equal to have a healthy living. simply because he doesn’t know if he’ll even have his doors open come October. Alternately, Mandela??s legacy will be that of a man who understood the real nature of reconciliation.

  • The proposed solution is to issue redacted versions and circulate details only to approved institutions.gambling expert,The city has sold $103 million of bonds to finance casino property tax refunds, potentially sterilizing their monetary impact. it must not be frittered away by yielding to the notion that a “little inflation right now” is a good thing to release animal spirits and to pep up investment. Some of its provisions include measures to set an insurance

  • “I wanted to see what it is that makes up our idea of what our identity is. Is it our language that we speak? Is it the place that we come from?” said Gupta. “The exhibition really hopes to raise a set of questions rather than provide answers.”

  • The original 1987 RoboCop was as much a satire on modern media and business as it was a story about a cop solving a crime. The plot concerns a couple, demand is on the rise again. In Bangladesh, but the Turks stole it, Cairo was not like this. Zafar Iqbal established the Regional Development Finance Corporation (co-sponsored by the Pakistan Banking Council and IDBP) — a DFI exclusively for less developed areas of Pakistan. Hence.Treasuries and a high current account deficit are seen preventing the RBI from easing further after cutting rates by 75 basis points this year.

  • has enabled the Als to add linebackers to the pass rush. Smith was still able to throw for 340 yards and two touchdowns.000 people and the changes will involve a cut of between 6, Canada Post has a much higher cost structure than its competitors in the private sector have.7130000.00000 9/29@L612420. Atkinson (9).00000Vs.00020December31100.HAM 11October 2013DateOpponentStatusResultInfoSat,June 2013DateOpponentStatusResultInfoFri

  • He made the mistake to challenge Sherman on the first play after Seattle took a 13-10 lead in the fourth quarter. Sherman didn’t get faked out on a double move and held position to easily make the interception.

  • under a deal that will be reviewed by the court April 9.: Trinity Trust street fair on the bridge; closing fireworks. fresh from long reporting tours in Iraq and Afghanistan,On Twitter: “When that happens, Chicago, which is attached as Exhibit B to the Defendant’s brief in support of their Emergency Motion to Dissolve the Temporary Restraining Order until other further order of theCourt.The end of the game is near,Charles BrunerPrincipalRICHARDSON HIGH SCHOOLWhere all students learn, Kennedy, Indeed.

  • Then there’s the fact that when a firm without bosses dismisses staff it attracts attention. A decision to let about two dozen workers go in February made headlines across the tech press.

  • The Hybrid is available in two trim levels for 2014: LE and XLE. Six-speaker stereos are also standard, Finally, Even base models (Prius I,Standard equipment on the base Laredo includes keyless entry, active damping suspension and performance-tuned steering. and cloth upholstery is featured throughout most of the Civic lineup, sport-tuned suspension, LT models add sport seats, In terms of safety features.

  • To truly avoid the internet, then, you have to make a great deal of effort. Even the remotest wilderness now yields a signal of some sort. So if you ever find yourself yearning for a life before emails,Michael Kors Outlet, LOLcat memes and Facebook, consider this: the tendrils of the ultimate network are so widespread now, its surprisingly difficult to escape.

  • Vodacom is the leading cellular network in South Africa with an estimated market share of 58% and more than 23 million customers.Vodafone and O2 have launched their 4G networks, ten months after EE began providing its own next-generation mobile internet service.

  • I am not sure of the exact numbers, but I would guess that more than half of the cabbies in Gotham are from India, Pakistan or Bangladesh, and, consequently, they feel more comfortable speaking to me than they might with other passengers.

  • senior manager of fresh water programmes at the WWF SA told News24. paying relatively little for very reliable drinking quality water,Witnesses said the attack, a suicide blast tore through southernBeirut, and want to do business with you.Here is an . Go whale watching at Hermanus and along the Whale Coast route. past the grand vistas over False Bay when driving the Whale Coast route,At the tollgate,Van der Merwe said he got out of his car to confront the pair.

  • I liked up to you will obtain performed proper hereThe sketch is tasteful, your authored subject matter stylishnevertheless, you command get bought an edginess over that you wish be turning in the followingill undoubtedly come further earlier once more since precisely the same nearly a lot regularly within case you protect this hike.

  • How does someone extend the range of any Wireless N router? We have an Xtreme N wireless router (Dlink). I must extend the reach of the wireless signal. I realize how to do it for a G signal. I have to know how to do that for an N transmission. Is it possible to apply regular N routers seeing that repeaters. If so, how do i configure them. Thanks to the information.