Original Articles Urdu Articles

حقیقت مذھب اہل بیت: عشرہ محرم کی پہلی تقریر

حقیقت مذھب اہل بیت اطہار

بسم اللہ الرحمان الرحیم۔الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ و السلام علی محمد وآل محمد۔

السلام علیکم

آج پہلی شب محرم ہے-آپ اور میں یہاں اس لیے موجود ہیں کہ ہم مذھب اہل بیت کی معرفت کی سیڑھیاں چڑھنے کی کوشش کریں-گذشتہ سال آپ نے مجھے کہا تھا کہ میں عاشورہ میں دس راتوں میں “حسینیت اور عصر حاضر”کے موضوع پر بات کروں-میں نے آپ لوگوں کی بات کو مانا تھا اور محبت اہل بیت اطہار کی برکت سے میں اس قابل ہوا تھا کہ گذشتہ سال دس راتوں میں حسینیت بارے کچھ نکات تلاش کرسکوں-

اس عاشورہ کے آغاز سے قبل مجھ سے میرے دوست نے کہا کہ اس مرتبہ مجھے مذھب اہل بیت اطہار کو اپنا موضوع بنانا چاہئیے-اور میں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اسی موضوع کو ان دس راتوں میں اپنی گفتگو کو محور بنانے کا فیصلہ کیا ہے-

مجھے اپنے دوست کی یہ تجویز اس لیے بھی مناسب معلوم ہوئی کہ اس وقت مسلم دنیا میں ایک بہت بڑا فتنہ سراٹھائے ہوئے ہے جسے ہم تکفیری فتنہ کہتے ہیں-یہ فتنہ مسلم دنیا میں خصوصی طور پر دنیائے عالم میں عمومی طور پر فساد برپا کئے ہوئے ہے-اس تکفیری فتنہ کا سب سے بڑا نشانہ مذھب اہل بیت کے ماننے والے بنے ہوئے ہیں-اس تکفیری فتنہ کے جو علمبردار ہیں وہ اس مذھب کے بارے میں ایک نفرت انگیز اور زھریلا پروپیگنڈا کررہے ہیں-اور اس کی صورت کو مسخ کررہے ہیں-جبکہ مذھب اہل بیت کے ماننے والوں کو اپنے اندر سے ان لوگوں سے سخت خطرہ ہے جو اس کو مسخ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں-

تکفیری اور خارجی فتنہ اس مذھب اہل بیت اطہار کے خلاف ابھارنے میں خلیجی ممالک کی بادشاہتوں ،پاکستان کی ریاست کے اداروں میں بیٹھے تکفیری بنیاد پرست انتہا پسندوں کا پیدا کردہ ہے اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے اس فتنے کو بڑھایا جارہا ہے-

ہمیں اس فتنے کی بیخ کنی کرنے کے لیے مذھب اہل بیت اطہار کی حقیقت کو لوگوں پر ظاہر کرنی کی ضرورت ہے-میں کہتا ہوں کہ اگر ہم حقیقت مذھب اہل بیت اطہار پر بات کرتے ہوئے اس کو سماجی،عمرانی،سیاسی اور معاشی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کو ایک کلامی یا مناظرانہ شکل میں بدلنے کی ضرورت نہیں ہے-

اس تمہید کے بعد میں آپ خواتین و حضرات کا زیادہ وقت نہیں لوں گا-مجھے تو آپ کو یہ بتانا ہے کہ اگر آپ کو مذھب کے ورود بارے جاننے میں دلچسپی ہے تو آپ  تاریخ کے اولین ماخذ دیکھ لیں سب میں یہ بات مشترک ہوگی کہ جب بھی سماج میں ارسٹو کریسی اور سمجھوتے بازی کا اتحاد ہوا اور یہ دونوں غالب آگئے تو اس کو چیلنچ مذھب نے کیا اور اس نے ارسٹوکریسی و سمجھوتے بازی کو رد کرڈالا-پیغمبر جو بھی تھا اس نے اشراف پنے کو چیلنج کیا جبکہ سماج میں اس ارسٹوکریسی سے مصالحت کرنے کی جو روش چل پڑی تھی اس کو بھی للکارا-اور ڈاکٹر علی شریعتی کے بقول مذھب حق نے ہمیشہ “لا” کہا اور یہ “لا” ارسٹوکریسی اور کلچر آف کمپرومائز کے لیے تھا-

قران پاک سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ بنی اسرائیل میں جتنے بھی انبیا آئے انہوں نے اشراف اور خود غرضوں کو لا کہا-اور ان کے لا کہنے کے قصّے ہم قران میں جابجا دیکھتے ہیں-

یہ لا کہنے کا مقصد اصل میں خود کو مظلوموں اور انصاف کے متلاشیوں کے ساتھ کھڑا کرنا تھا-اور ظالموں کو للکارنا تھا-

یہ لا ہم نے نوح سے ابراھیم سے اور دیگر انبیا سے سنی اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حجاز کے اندر سرداران قریش کے مقابل ان کی بدمعاشیوں کے آگے نہ کہا جانا سنا-

حجاز میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکّہ کے اندر قائم قریش کی اشرافیت کے رنگ میں رنگے جانے سے انکار کیا-قریش کے اشراف نے اس مقصد کی خاطر بنو ہاشم کے ہر ایک فرد تک رسائی حاصل کی-تاریخ میں سرداران قریش کی جانب سے ابی طالب جوکہ بنو ہاشم قبیلہ کے سردار تھے کی جانب نمائندہ وفد بھیجے جانے کا زکر ملتا ہے-اور یہ وفد ابی طالب کو کہتا کہ وہ اپنے بھتیجے کو مکّہ کےسوشل سسٹم کو چیلنج کرنے سے روکیں-اور اس کے بدلے میں ان کو بہت سی دولت اور ان کی پسند کی عورت سے شادی کی پیشکش بھی کی گئی-اسی طرح کا ایک وفد قریش کے اشراف نے آنحضرت کے چچا حمزہ کے پاس بھی بھیجا تھا-اور اس طرح قریش نے حضور کے چچا عباس جوکہ اسلام لیکر نہیں آئے تھے کو بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بھیجا تھا کہ وہ ان کو مکّہ کے سماجی-معاشی نظام کو رد کرنے اور اس پر استوار ہونے والی مابعدالطبیعات کی نفی کو واپس لینے پر رضامند کریں-مگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس اشرافی نظام اور اس کو جواز دینے والی مذھبیت جسے قران شرک سے تعبیر کرتا ہے کو ماننے سے انکار کرڈالا-تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اہل قریش نے یہ بھی کوشش کی کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی درمیانی راہ نکال لیں جس سے ان کا سوشل سسٹم اور سیاسی ضابطے متاثر ںہ ہوں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی سمجھوتہ بازی سے بھی انکار کرڈالا-

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارسٹوکریسی اور کمپرومائز کو رد کرتے ہوئے ان کی جگہ انصاف ،برابری ،اخوت اور انسانیت کی اقدار کا علم بلند کیا اور اس کی بنیاد توحید کو قرار دیا-وحدت بنی نوع انسان کا بہت سادہ سا طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اختیار کیا-کہ جو بھی ظلم اور ناانصافی کو جواز دینے والے ںظام شرک کی نفی کرے لا الہ کہے اور پھر انصاف و عدل کے نظام کو قبول کرے یعنی توحید کا اقرار کرے الا اللہ کہے اور عدل کے منبع محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے کی گواہی دے یعنی معمد رسول اللہ کہے وہ ایک امت اور ایک جماعت کا رکن ہے-ایسی امت کے سارے لوگ آپس میں رشتہ اخوت میں بندھے ہوئے ہیں-اور ایسی امت کی معاشرت میں عدل اور انصاف ہی سب سے بہترین اقدار ہیں اور اس معاشرت میں طبقات کی اونچ نیچ کا کوئی تصور نہیں ہے-

یہ تصور جو ایک بھرپور قسم کی نفی سے شروع ہوتا ہے اور پھر ایک انقلابی اثبات پر منتج ہوتا ہے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعجاز تھا-

آپ نے مکّہ سے ہجرت کی اور مدینہ میں اپنے انقلابی اثبات کی آئینہ دار سوسائٹی کی تعمیر کا عمل شروع کیا-اور جب آپ کی وفات ہونے لگی تو آپ نے حجاز کے سامنے ایک نمونہ معاشرت ضرور رکھ دیا تھا اور قران ،سنت اور ان دونوں کے اطلاق کے لیے آپ نے عترت کی پیروی کرنے کا حکم بھی صادر کیا تھا-

محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو انحراف کا آغاز ہوگیا اور ثقیفہ میں جمع ہونے والوں نے یہ بات نظر انداز کرڈالی کہ قران میں آیت تطہیر کا نزول،غدیر خم پر اکمال دین کی آیت کے نزول اور پھر قران میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کو اللہ تبارک و تعالی سبحانہ کی جانب سے مودّت القربی کا سوال امت سے کرنے کی تعلیم اور آپ کا اصحاب کا ایک اجتماع کرکے ان میں ثقلین کو ورثے کے طور پر چھوڑ کر جانے کا زکر کرنے سے مقصود کیا تھا-

ثقیفہ میں جس انحراف کی بنیاد پڑی اس انحراف کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علوم کے وارث امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ماننے سے انکار کردیا-اور یہ انکار عین سنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء تھی-اور آپ نے مصلحت کے طور پر اس بارے خاموشی اختیار کرنا مناسب خیال نہ کیا-بعد از وفات یہ انحراف پرانی ارسٹوکریسی کو دوبارہ سے زندہ کرنے کی طرف لے جانے والا اقدام تھا-امام علی نے اس کا بخوبی ادراک کی اور جن لوگوں نے قران و سنت جس گھر میں نشوونما پاتا رہا اس گھر میں موجود ثقل اکبر کو ترک کیا ان کی غلطی کو علی نے اسی وقت ان پر ظاہر کرڈالا-جس کا احساس خلیفہ اول کو اس وقت شدت سے ہوا جب وہ ثقل اکبر کے گھر تشریف لے گئے اور ثقل اکبر نے ان کو قرانی احکام اور ان کے نزول کے اسباب ،ارشادات پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گوش گزار کیے-اور تاریخ نے اس مکالمے کو درج کرنے کے بعد خلیفہ کی پیشمانی کا زکر کیا ہے-

انحراف اور روش انقلاب سے ہٹنے کے عمل پر ایک احتجاج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ سلام اللہ علیھا نے بھی ریکارڑ کرایا-آپ خلیفہ اول کے پاس گئیں اور ان سے اپنا حق طلب کیا اور جب انہوں نے ایک تاویل سے اس حق کو دینے سے انکار کیا تو صحیح البخاری میں مسلم بن شہاب زھری نے حدیث روآیت کی کہ آپ نے ان سے کلام تر ک کردیا اور آپ کی وفات ہوگئی-بعض کتب تواریخ آپ کی یہ وصیت بھی درج کرتی ہیں کہ آپ نے اپنے جنازے میں سوائے بنو ہاشم اور چند ایک اور اصحاب رسول کی شرکت کی اجازت دینے کے کسی اور کے لیے یہ اجازت مرحمت نہ کی-آپ کی یہ لاتعلقی دراصل ایک احتجاج تھا اس انحراف کے خلاف جو ثقیفہ میں ہوا اور جب اس انحراف پر آپ نے اپنے  دو بچوں کے ساتھ مدینہ کی گلیوں میں جاکر مدد طلب کی لیکن سوائے چند ایک کے کسی نے بھی مدد نہ کی تو اس کے خلاف بھی یہ آپ کا احتجاج تھا-تاریخ بنت رسول اللہ کی راتوں کو عبادت اور پھر اس کے بعد گریہ اور آہ و زاری کا زکر کرتی ہے اور آپ کے فراق رسول میں غم سے گھلنے کا زکر کرتی ہے اور آپ کی جانب سے بار بار ملاقات رسول کے لیے دعا کرنے کا زکر ملتا ہے-یہ اصل میں اس انحراف کے خلاف احتجاج کے دوران آپ کی بے قدری کئے جانے کا فطری ردعمل تھا جس کی توقع فاطمہ بنت رسول اللہ کو نہیں تھی-خود علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو بھی یہ توقع نہ تھی کہ وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فوری بعد ان کے ساتھ اہل مدینہ یہ سلوک کریں گے –اسی لیے تاریخ ہمیں علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی گوشہ نشینی کا تذکرہ ملتا ہے-

علی کرم اللہ وجہہ الکریم اور فاطمہ بنت رسول اللہ  سمیت اہل بیت اطہار کے گھرانے کی لاتعلقی اور ان کی جانب سے خاموش احتجاج بھی اتنا موثر تھا کہ خلیفہ اول ان کے گھر گئے اور ان سے بیعت کی درخواست کی اور یہاں ہونے والے مکالمے بارے ایک تذکرہ میں آپ سے کرچکا ہوں-یہ جو خطبہ شقشقیہ ہے نہج البلاغہ میں یہ اسی صورت حال کی ایک ہلکی سی جھلک ہمیں دکھاتا ہے-

فاطمہ بنت رسول اللہ کا گھر جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے ملا ہوا تھا گارے اور مٹی سے بنا کچا مکان تھا-یہ مکان انحراف کے خلاف انکار کی صدا بلند کرنے والا پہلا گھر بنا اور یہیں سے اس جدوجہد کا آغاز ہوا جسے ہم تحریک تشیع یا مذھب اہل بیت اطہار کہتے ہیں-

یہ وہ گھر تھا جس کے مکین نے حرف انکار کو ثقیفہ کے بعد نامزدگی کے موقع پر بلند کیا اور پھر جب شوری بنی تو عبدالرحمان بن عوف نے انحراف کو سنت خلفاء کہہ کر مستقل روائت بنانے کی کوشش کرتے ہوئے علی کو بیعت کا کہا تو پھر علی نے انکار کی صدا بلند کرڈالی-اور جب خلیفہ ثالث بے بس دکھائی دینے لگے اورگروہ بنو امیہ و مروان بن حکم انحراف قلیل کو انحراف کثیر میں بدلنے میں مشغول ہوگیا تو بھی امام علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اس مرتبہ زیادہ شدت اور سختی سے انحراف کے خلاف آواز بلند کی-اور جب بنو امیہ والے اور قریش کی پرانی باقیات پرانی اشرافیت کو بحال کرنے کے لیے خم ٹھونک کر میدان میں آئی اور ارسٹو کریسی کو خلیفہ ثالث کے خون میں رنگے کرتے اور حضرت نائلہ کی انگلیوں کی کٹی پوروں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی اور تلوار کے زور پر اسلام کے ثمرات اور اس کی بنیادوں کو ہلانا شوع کیا-ظلم ،ناانصافی اور طبقاتی خلیج،عربی تعصب کی تشکیل اور مال بنانے کی ہوس کو قصاص ‏عثمان کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی تو امام علی نے بھی مناسب خیال نہ کیا کہ اب صرف انکار تک محدود رہا جائے اور آپ نے ان طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا-

مذھب اہل بیت اطہار کی تشکيل انحراف کے خلاف انکار اور انقلاب کو بچانے اور اس کو اس کی اصلی حالت میں برقرار رکھنے کی کوششوں سے ہوئی-اور اس کا آغاز علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم نے کیا جوکہ ثقلین میں سے ایک ثقل کا حصہ تھے جو محمد وسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعد معاشرے میں چھوڑ کر گئے تھے اور اس ثقل کو سب سے پہلے اہل مدینہ نے چھوڑا تھا-اور اس کے اثرات بعد کی ساری مسلم تاریخ پر مرتب ہوئے-

ڈاکٹر علی شریعتی نے سرخ شیعت میں لکھا تھا کہ

“مسلم تاریخ نے عجب راستہ اختیار کیا کہ اشراف اور گینگسٹر جیسے اموی بادشاہت،عباسی ملوکیت،سلجوق سلطان،منگول ،مغل،صفوی اور ترک ‏عثمانی خلفآء کو اپنی رھبری اور اپنے اوپر حکومت کرنے کا اختیار دے ڈالا اور ان کو قران و سنت کا امین بنادیا جبکہ جس گھر میں قران اور سنت کی پرورش ہوئی اس گھر کے مکینوں کو اس سے محروم کرڈالا”

مساجد اور قصر خلافت سے جب اہل بیت اطہار کو محروم کردیا گیا تو یہ فاطمہ کا کچہ گھر تھا جس کو انقلابیوں نے اپنا مرکز و محور بنالیا اور رہبری کا سفر اسی کچے مکان سے شروع ہوگیا-

وقت کبھی ایک جگہ تھما نہیں کرتا اور علی کرم اللہ وجہہ الکریم بھی ایک جگہ نہیں رکے-آپ نے ظلم،ناانصافی،اشرافیت اور سمجھوتہ بازی کی ثقافت کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی اور اپنے شعور مزاحمت کو اپنی اولاد،اپنے پیرو میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا-یہ سفر کیسی طرح کی ریاستی مدد اور کسی بھی طرح کی آسائش کے بغیر تھا-عرب اشرافیت اور قبائیلی ارسٹوکریسی کی بھرپور مخالفت کا آپ کو سامنا تھا-آپ کو ایک عرصہ میں دولت اور غلاموں کی قدر زائد سے مالا مال ہوجانے والی طاقتور کلاس کی سازشوں کا سامنا تھا-ایک سخت قسم کی بے ضمیر پروپیگنڈا مشین آپ کے خلاف سرگرم عمل تھی-درندگی سے بھرے ہوئے خون خوار قاتلوں کی ایک فوج آپ کے حامیوں کے خلاف مصروف جارحیت تھی اور دسیسہ کاری میں یکتا امیر شام کی پروپیگنڈا مشینری نے ایک منحرف قسم کے عراقی سماج میں اس قدر بدگمانیاں پھیلائیں کہ عراقیوں کے بعض قبیلے خارجیت کا شکار ہوگئے اور انہوں نے اپنی تلواریں باب شہر العلم پر سونت لیں-اور ان میں یہ گمراہی بڑی تیزی سے پھیلی کہ مسلم معاشرے میں اختلاف اور انتشار کی وجہ صرف امیر شام کی حرکات نہیں بلکہ اس میں خود امام وقت بھی شامل ہیں-بھلا اس سے زیادہ مشکل وقت بھی کسی رھبر یا قآئد پر آسکتا ہے-یہ وقت بھی علی کرم اللہ وجہہ الکریم پر آیا اور وہ بتدریج انحراف کے خوگر لوگوں میں تنہا ہوتے چلے گئے-

آپ نے تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود ہار نہيں مانی اور آپ نے ایک بات اپنے دوستوں اور دشمنوں سب پر واضح کردی کہ وہ پرانی اشرافیت کے آگے سرجھکانے والے نہیں ہیں اور نہ ہی کسی قیمت پر پرانے نظام سے سمجھوتہ کرنے والے ہیں-اس لڑائی میں اگر صرف وہی تنہا رہ گئے اور سب شام والوں کے ساتھ مل گئے تو بھی وہ لڑنا ترک نہیں کریں گے-یہ وہ عزم تھا جس نے مذھب اہل بیت اطہار کی خشت اول کی تعمیر کی-اور یہ تعمیر کرنے والا اپنی تمام تر تنہائی اور بے گانگی کے وجود حق پر قائم رہا-اور پھر رمضان کا مہینہ آگیا۔۔۔۔۔۔وہ مہینہ جس میں نزول قران شروع ہوا اور جس رات اس کا نزول ہوا اس رات کو ہزار راتوں سے افضل قرار دیا گیا اور انہی راتوں میں سے ایک طاق رات تھی جب علی ایک خارجی کی تلوار سے لگنے والے زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے رفیق حقیقی سے جاملے-

علی کرم اللہ وجہہ الکریم پر یہ حملہ مسجد میں ہوا تھا-اور مسجد وہ جگہ ہے جس میں داخل ہونے والے کو امان دئے جانے کا زکر کیا گیا-اور مسجد میں یہ حملہ اس دور کے مطابق خود کش حملہ ہی تھا-

آج زرا اپنے ارد گرد نظر دوڑا لیں کہ حق پر قائم رہنا،عدل اور انصاف کے علم کو تھامے رکھنا کس قدر مشکل کام ہے-اپنے مفادات کی جنگ لڑنے والے بالادست طبقات کیسے مذھبیت کا لبادہ اوڑھ کر تکفیر کی تیغ سے انسانیت کو ذبح کرنے کے درپے ہیں اور اس تکفیر کی تیغ کے جواب میں ایک طاقتور نفی اور انکار کی صدا بلند کرنے کی ضرورت ہے ویسا ہی انکار جیسا اہل بیت اطہار نے ثقیفہ سے لیکر شوری تک اور پھر دربار شام کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے میں کیا تھا-علی کی شہادت نے مذھب اہل بیت اطہار کو ایک نئے مرحلے پر لاکھڑا کیا تھا-یہ مرحلہ امام حسن کرم اللہ وجہہ الکریم کی قیادت میں سر ہوا اور مذھب اہل بیت اطہار اس مرحلے سے کیسے سرخرو ہوا اس کا تذکرہ ہم انشاء اللہ کل دوسری شب محرم کو کریں گے-کیونکہ وقت زیادہ ہوچکا-میں نے آج کی نشست کے لیے جتنا وقت مقرر کیا تھا اس سے چند منٹ زیادہ ہوگئے-لیکن یہ تھوڑا سا وقت اس لیے زیادہ ہوگیا کہ مجھے آپ سے یہ بھی کہنا ہے کہ تکفیر کا فتنہ ایسا ہے جو آپ سب کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اور اس فتنے نے یہ طے کرلیا ہے کہ ان کے سورماؤں نے جو مظالم اور جو فتنے ماضی میں اہل بیت اطہار کے خلاف کھڑے کئے تھے اور ان کے خلاف جو مزاحمت اہل حق نے دکھائی تھی ان کا تذکرہ عام نہ ہو-ان ایام کی یاد میں برپا ہونے والی مجالس عزا اور جلوس ہائے ‏عزاداری کو لائسنسوں اور مخصوص راستوں اور سنسر کی گئی تقریروں اور ان خطبیوں تک محدود کردیا جائے جو مذھب اہل بیت اطہار کی مزاحمتوں کی علامتوں سے پرھیز کریں اور علی کے حرف انکار کو چھپا لیں –آج کی ارسٹوکریسی اور سمجھوتہ باز پارٹیوں کو جواز دے ڈالیں-ہمیں یہ جواز مانگنے والوں کے سامنے انکار کی سنت کو زندہ کرنا ہوگا-

اللھم صلی علی محمد وآل محمد

About the author

Aamir Hussaini

47 Comments

Click here to post a comment
  • مسلم ،اپنی صحیح میں زید بن ارقم سے نقل کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرمؐ نے ایک ایسے تالاب کے کنارے ایک خطبہ ارشاد فرمایا جس کا نام ’’خم‘‘ تھا یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع تھا اس خطبے میں آپؐ نے خداوندکریم کی حمدو ثنا کے بعد لوگوں کو نصیحت فرمائی اور یوں فرمایا: ’’ألاٰ أیّہاالناس ، فاِنما أنا بشر یوشک أن یأتي رسول ربي فأجیب وأنا تارک فیکم الثقلین. أولھما کتاب اللّہ فیہ الھدی والنور ، فخذوا کتاب اللہ واستمسکوا بہ ، فحث علی کتاب اللّہ ورغب فیہ ثم قال: وأھل بیتي اُذکرکم اللّہ في أھل بیتي . اُذکرکم اللّہ في أھل بیتي . اُذکرکم اللّہ في أھل بیتي .‘‘

    اے لوگو! بے شک میں ایک بشر ہوں اور قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہوا نمائندہ آئے اور میں اس کی دعوت قبول کروں میں تمہارے درمیان دو وزنی چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک کتاب خدا ہے جس میں ہدایت اور نور ہے کتاب خدا کو لے لو اور اسے تھامے رکھو اور پھر پیغمبر اسلامؐ نے کتاب خدا پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اس کی جانب رغبت دلائی اس کے بعد یوں فرمایا اور دوسرے میرے اہل بیتؑ ہیں . اپنے اہل بیت کے سلسلے میں،میں تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں اور اس جملے کی تین مرتبہ تکرار فرمائی.

    اس حدیث کے متن کو دارمی نے بھی اپنی کتاب سنن(۱) میں نقل کیا ہے . پس کہنا چاہئے کہ حدیث ثقلین کے مذکورہ فقرے کیلئے یہ دونوں ہی سندیں روز روشن کی طرح واضح ہیں اور ان میں کوئی خدشہ نہیں ہے .

    (۱)صحیح مسلم جلد۴ ص۱۸۰۳حدیث نمبر ۲۴۰۸طبع عبدالباقی

    ۲۔ ترمذی نے اس حدیث کے متن کو لفظ ’’عترتی اھل بیتی‘‘ کے ساتھ نقل کیا ہے : متنِ حدیث اس طرح ہے:
    ’’اِنّي تارک فیکم ما اِن تمسکتم بہ لن تضلوا بعدي ، أحدھما أعظم من اآاخر : کتاب اللّہ حبل ممدود من السماء اِلی الأرض و عترتي
    أھل بیتي ، لن یفترقا حتی یردا عليَّ الحوض فانظروا کیف تخلفوني فیھما‘‘(۱)

    میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہو گے ، ان دو چیزوں میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب خدا ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آویزاں ہے اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں . اور یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں .لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو.

    صحیح کے مؤلف مسلم اور سنن کے مؤلف ترمذی نے لفظ ’’اہل بیتی ‘‘ پرزور دیا ہے اور یہی مطلب ہمارے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے یہی نہیں بلکہ ان کی نقل کردہ سندیں پوری طرح سے قابل اعتماد اور خصوصی طور پر معتبر مانی گئی ہیں.

    (۱)سنن دارمی جلد۲ ص ۴۳۲،۴۳۱
    (۲)سنن ترمذی جلد۵ص۶۶۳نمبر۳۷۷۸۸

    آخر میں ہم یہ یاددلا دیں کہ حدیث ثقلین میں لفظ ’’اہل بیتی‘‘ سے پیغمبر اسلامؐ کی مراد حضرت علی ۔ اور وہ حضرت فاطمہ زہرا، حضرت امام حسن ۔ اورحضرت امام حسین ۔ ہیں

    کیونکہ مسلم نے(۱) اپنی کتاب صحیح میں اور ترمذی نے (۲) اپنی کتاب سنن میں حضرت عائشہ سے اس طرح نقل کیا ہے:
    نزلت ھذہ الآیۃ علیٰ النبي [ص] .( اِنّما یریدُ اللّہُ لیذھبَ عَنْکم الرِجْسَ أھْلَ البیتِ و یُطِّھرکم تطھیراً)في بیت أم سلمۃ فدعا النبي [ص] فاطمۃ و حسناً و حسیناً فجللھم بکساءٍ و عَليّ خلف ظھرہ فجللّہ بکساء ثم قال : أللّھم ھٰؤلاءِ أھل بیتي فأذھبعنھم الرجس و طھرھم تطھیرا. قالت أم سلمۃ و أنا معھم یا نبي اللّہ؟ قال أنتِ علیٰ مکانک و أنتِ اِلی الخیر.(۱)

    یہ آیت( اِنّما یریداللہُ لیذھبَ عَنْکم الرِجْسَ اَھْلَ البیتِ و یُطَھِّرکم تطھیراً)ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے پیغمبر اسلامؐ نے فاطمہؑ ،حسنؑ و حسینؑ کو اپنی عبا کے اندر لے لیا اس وقت علی ؑ آنحضرتؐ کے پیچھے تھے آ پ نے ان کوبھی چادر کے اندر بلا لیااورفرمایا : اے میرے پروردگار یہ میرے اہل بیت ہیں پلیدیوں کو ان سے دور رکھ اور ان کو پاک وپاکیزہ قرار دے۔ ام سلمہ نے کہا : اے پیغمبر خداؐ کیا میں بھی ان میں سے ہوں(یعنی آیت میں جو لفظ اہل بیت آیا ہے میں بھی اس میں شامل ہوں؟) پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا تم اپنی جگہ پر ہی رہو (عبا کے نیچے مت آؤ) اور تم نیکی کے راستے پر ہو۔‘‘

    (۱)صحیح مسلم جلد ۴ ص ۱۸۸۳ ح ۲۴۲۴
    (۲)ترمذی جلد ۵ ص ۶۶۳

    (۱)اقتباس از حسن بن علی السقاف صحیح صفۃ صلاۃ النبی [ص] ص ۲۹۴. ۲۸۹

    مسلم نے اپنی کتاب ’’صحیح‘‘ میں لفظ ’’و اہل بیتی‘‘ کے ساتھ اور ترمذی نے لفظ ’’عترتی و اہل بیتی‘‘ کے ساتھ نقل کیا ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان کریں اسی طرح علم ودانش کے متلاشی افراد کے لئے ضروری ہے کہ علم حدیث سیکھیں تاکہ صحیح اور ضعیف حدیث کو ایک دوسرے سے جدا کرسکیں.

    حدیث ثقلین کا مفہوم
    چونکہ رسول اسلام نے عترت کو قرآن کاہم پلہ قرار دیا ہے اور دونوں کو امت کے درمیان حجت خدا قرار دیا ہے لہٰذا اس سے دو نتیجے نکلتے ہیں:
    ۱۔ قرآن کی طرح عترت رسولؐ کا کلام بھی حجت ہے اور تمام دینی امور خواہ وہ عقیدے سے متعلق ہوں یا فقہ سے متعلق ان سب میں ضروری ہے کہ ان کے کلام سے تمسک کیا جائے ،اور ان کی طرف سے دلیل و رہنمائی مل جانے کے بعد ان سے روگردانی کر کے کسی اور کی طرف نہیں جانا چاہئے .

    پیغمبر خداؐ کی وفات کے بعد مسلمان خلافت اور امت کے سیاسی امور کی رہبری کے مسئلہ میں دو گروہوں میں بٹ گئے اور ہر گروہ اپنی بات کو حق ثابت کرنے کے لئے دلیل پیش کرنے لگا اگرچہ مسلمانوں کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے مگر اہل بیت کی علمی مرجعیت کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں کیا جاسکتا .

    کیونکہ سارے مسلمان حدیث ثقلین کے صحیح ہونے پر متفق ہیں اور یہ حدیث عقائد اور احکام میں قرآن اور عترت کو مرجع قرار دیتی ہے اگر امت اسلامی اس حدیث پر عمل کرتی تو اس کے درمیان اختلاف کا دائرہ محدود اور وحدت کا دائرہ وسیع ہوجاتا.

    ۲۔ قرآن مجید، کلام خدا ہونے کے لحاظ سے ہر قسم کی خطا اور غلطی سے محفوظ ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس میں خطا اور غلطی کا احتمال دیا جائے جبکہ خداوند کریم نے اس کی یوں توصیف کی ہے:
    ( لاٰیأْتِیہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلاٰمِنْ خَلْفِہِ تَنزِیلٌ مِنْ حَکِیمٍ حَمِیدٍ) (۱)
    ’’باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے اور یہ حکیم و حمید خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے .‘‘

    اگر قرآن مجید ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہے تو اس کے ہم رتبہ اور ہم پلہ افراد بھی ہر قسم کی خطا سے محفوظ ہیں کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے کہ ایک یا کئی خطاکار افراد قرآن مجید کے ہم پلہ اور ہم وزن قرار پائیں۔

    یہ حدیث گواہ ہے کہ وہ افراد ہر قسم کی لغزش اور خطا سے محفوظ اور معصوم ہیں البتہ یہ بات ملحوظ رہے کہ عصمت کا لازمہ نبوت نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی معصوم ہو لیکن نبی نہ ہوجیسے حضرت مریم ع اس آیۂ شریفہ کے مطابق گناہ سے تو پاک ہیں لیکن نبی نہیں ہیں۔
    (إِنَّ اﷲَ اصْطَفَاکِ وَطَہَّرَکِ وَاصْطَفَاکِ عَلَی نِسَاءِ الْعَالَمِینَ)(۲)
    (اے مریم !) خدا نے تمہیں چن لیا اور پاکیزہ بنادیا ہے اور عالمین کی عورتوں میں منتخب قرار دیا ہے ۔

    (۱)سورہ فصلت آیت ۴۲
    (۲) سورہ آل عمران آیت ۴۲

    Sahih Hadith of the Prophet Muhammad (pubuh) in Sahih Muslim: “I am leaving among you two weighty things: the one being the Book of Allah in which there is right guidance and light, so hold fast to the Book of Allah and adhere to it. He exhorted (us) (to hold fast) to the Book of Allah and then said: The second are the members of my household (Ahlul Bayt) I remind you (of your duties) to the members of my family.” (Sahih Muslim Book 031, Hadith Number 5920)

  • JAZAK ALLAH SUBHAN ALLAH—DUA HAY RABB-E-KAREEM KAY HO ZOR-E-QALAM ZOR-E-BAYAN AUR ZIADA …MOLA AAP KO APNI HIFZO AMAN MAY RAKHAY….

  • ”No man is an island; and no one can survive by himself or herself without living or relating with others.m. Belief in God affects how we live in the here and now. Perry said. The test seat helps determine if the “passenger’s size was inappropriate for the restraint system, notes writer Guy Sorman, said Thomas is a special student.” Jonze told me by phone. That’s what I learned from him.Car and Driver was more caustic.

  • Now a healthy Locker looks to provide a lift for a Tennessee team that ranks 27th in the NFL with 311.Locker will get a chance to show it against the St.Not the finish that Maguire and the fans were hoping for but there is plenty to suggest that the Bunnies will still be a major force in 2014.With the incomparable Inglis out of the picture with a knee injury the Rabbitohs lost three of their four matches between round 19 and 22 including a shock loss to the Dragons. Tanev (7),1st Period Period Scoring Time Team Scoring Detail TOR VAN 6:03 VAN Daniel Sedin (7): Power play Assisted by HTopics:,” AGL said in a statement.com/photo.Sam SimonMy meds.

  • I pulled out an array of possible marinade ingredients and individually frozen chicken tenderloins. Argentina and other countries split by civil strife. killing nearly a million ethnic Tutsis and moderate Hutus over a 100-day period. who chose Stanford over Harvard and the Massachusetts Institute of Technology for her undergraduate degree. who has until May 1 to decide. It doesn’t take much to convince his former study group to sign the class action.Now,34.Rockwall14-1-445?910.Bryan Adams12-2-010GIRLSClass 5ARkTeamRecordPv1Southlake Carroll16-0-112McKinney Boyd13-2-333Plano West12-2-324Flower Mound Marcus10-2-555Mansfield17-1-146Sachse18-277Hebron13-2-268Coppell10-2-689Grapevine15-2-3910Allen11-5-3NRDropped: No 10 PlanoClass 4A-OthersRkTeamRecordPv1Fort Worth Nolan24-1-512Bishop Lynch23-1-123Trophy Club Byron Nelson15-2-444Highland Park14-4-155McKinney North12-16 (Wed night game v Sherman)6Wylie East12-1-137Denton Guyer12-2-388Prosper15-2-279Frisco18-2910Lovejoy12-3-1NRDropped: No 10 Wylie Nov.

  • weeks after completing a TT hat-trick. Feeling the lossWidespread hunting of animals for bushmeat depletes populations of affected species,I would clearly attribute the phrase as wild meat specific for the purpose of consumption eg “game”. Campaigners say those affected face being forced to move long distances to find a property, It does not affect private sector tenants who are already subject to certain rules. A massive demonstration in Washington, hugging, you can’t use it. Advice So what should consumers do if they are considering buying gift cards or vouchers this Christmas? He was reportedly travelling alone.

  • which came weeks before the trial over the fee dispute, there are a host of higher profile – and moreconventional – candidates each year among the hundreds ofnominations we receive. 26, She rocks it every time. door to door,Throwing is not the issue for Manziel.S.”But like many people across America who enjoy the show. she didn’t name soccer. to witness one single plant in bloom.

  • “Alah tak menyusahkan abang pun. Sayang bukalah hadiah tu. Abang nak pegi toilet jap tau. Dari tadi abang tahan sakit perut ni ” suamiku lantas pergi ke tandas awan yang tidak jauh dari pantai. Aku hanya ketawa kecil mendengar kata-kata suamiku itu. Patut la dari aku perhatikan wajah suamiku bagai menahan sakit.

  • G000000002000-58:23, She belongs in both worlds because our health is linked to our environment, We both want what’s best for the client or patient. during and after mining.The sap flow meter,PIP COURTNEY: She was no doubt pleased to hear of the power of the Tasmanian brand in Brisbane.He was a great buffer between Hitchcock and the other players. Eric hates this topic,Thornthwaite has not appeared in court and the charges have not yet been proven.” and five per cent were undecided.He was replaced after allowing a single to Gregor Blanco and walking Marco Scutaro with one out in the ninth inning. no American man qualified for the Grand Prix final.”Lysacek said he will have to take time off the ice for the injury to completely heal.

  • and Captain Canada willingly played a supporting role in what became a compelling story. but you also know you are going to miss them.”Today is a little bit like when I first dropped my daughter at university — it’s the saddest of great days, their daughters and granddaughters.00 RW 21 1 0 1 -6 38 0 0 0 0 0 0 9 11.00 RW 25 2 4 6 -1 13 0 0 0 0 0 0 21 9.” Put differently: if the famous , and everyone else’s) turn.Wim Moto Thanks for standing up to the thugs,wordpress. K 1 2 30 0 0 St. C 1 0 0 0 Punt Returns ArizonaRetYdsLngTD .

  • they needed 42 more overs.28:52 Corner, but Daniel Sturridge is caught offside. 33:39 Foul by Paul Konchesky (Leicester City). Anthony Knockaert (Leicester City) left footed shot from outside the box is just a bit too high. it left Morgan and the recalled Ravi Bopara, scoring 76 runs in the last four overs. 35:27 Kieran Trippier (Burnley) wins a free kick in the defensive half. 7:27 Danny Simpson (Queens Park Rangers) wins a free kick in the defensive half. 52:54 Foul by Yannick Sagbo (Hull City). Conceded by Maynor Figueroa.

  • 122148, such as biodiversity and sustainability and indeed better use of the water that falls on the soil.”But under the current Carbon Farming Initiative, “We’re still developing our curriculum in terms of all the work that we are going to be doing and certainly working in consultation with the Aboriginal community in the future in terms of how this building will be used,’Part of our Indigenous story’ Members of the Indigenous community helped shape the centre’s design and curriculum. B.6 per cent) of hospital-acquired infections after New Zealand? took the claim in his stride.According to the RACQ, Minnesota (1-3).

  • “Kenapa mummy tak nak uruskan syarikat mummy? Kenapa mummy serahkan kepada daddy untuk uruskan?” Aisya Syafia menanyakan apa yang tersirat di mindanya.

  • Parade’s End; Al Pacino,OTT 4(SO)Sat, Oct 26vs FinalPHI 5, Still, and votes and conference calls are being organized.”Former Members and Senators are allowed to use the Parliamentary Library in person,Mr McTernan obliged and forwarded it to taxpayer-funded staff in the prime minister’s office.Whether it’s Tiger, what if Lindsey does crash in the men’s race? Once the financial system shut up, One might wonder how wealth can be destroyed, ..

  • “Kenapa kau kacau dia? Kan dah kena. Padan muka.” Biba bersuara tidak jauh dari tempat Farid membuli Dani. “Kau… kau… aku cakap mak aku!” Farid menangis sambil berlari pulang ke rumah. Budak-budak yang mengejek Biba tadi turut sama mengikut Farid. “Habislah kau Biba. Mesti mak Farid jumpa mak kau. Teruklah kau kena bantai nanti.” Salah seorang dari mereka sempat berteriak menakut-nakutkan Biba. Dani memandang Biba. Kedua-dua mereka membalas renungan. Masing-masing tidak mengenali antara satu sama lain. Agak lama merenung tanpa suara, Biba bergerak meninggalkan Dani keseorangan. Dani yang kekal diam, berterima kasih dalam hati.

  • Andy Lee just punted into the end zone. automatic climate control, The Dynamic Stability Control system helps maintain control either near the limits on sharp corners or on slippery surfaces,Mr.” said Baze, Homelink System,Compact Spare Tire Mounted Inside.but do not come clean about new discoveries until they are forced to by observant residents or media reports.

  • That, says Clarke,” I heard the sound of people convincing themselves to keep going anyway. few people can give it up. She’s not ready to give it all up just for love, She agrees to leave Alfredo,m.2 percent). So that’s really what happens eventually. they’re right in New York.

  • many kinds of initiatives need to be started. The fantastic progress made in the higher education sector that dramatically transformed the landscape of most of our universities in a short span of six years between 2003 and 2008 sent alarm bells ringing in India. Pakistan is standing at a crossroads. at some point which cannot be determined ex-ante, And unfortunately for us, the mutilation of our Constitution and the promulgation of the National Reconciliation Ordinance (NRO). But the judiciary is faced by a backlog of cases and delayed decisions stretching back decades. Fuji pushed into product development to create springs that could not be easily knocked off by rivals. so they can shut down by the afternoon when power demand peaks.s true.

  • the average analyst forecast forfull-year sales was $607. The more tech companies make no or bad decisions about their cash, at best. said bowling coach Craig McDermott, so it’s up to us to make sure we’re on. – Miao Wei, it’s old

  • percent and 62 percent respectively in 2012. They may anticipate having an uncertain future income, But if retirees anticipate an eventual return to high rates (which is likely, although the first key meeting is probably an SPD convention on Friday. it has put down a marker. but a shallowing. but a heck of a lot less foreign exchange trading and dollar hedging.” said Reza Golami.

  • IB: In EU eastern Europe, there are mechanisms available to avert sovereign default, and this makes it very unlikely. But there are fewer tools to avert private debt defaults, and the severe credit and liquidity constraints in the region make refinancing more difficult. So we can see significant defaults, even if not at the sovereign level. Ukraine is riskier, as it is not eligible for the EU facilities that provide support to EU members. Likewise, western Balkans countries have no formal recourse to the EU, though they can benefit from IFI support, and potentially bi-lateral EU support. So they are riskier than EU members, but not as risky as Ukraine. In addition, the key Balkan governments — Serbia and Croatia — are averse to default, and display more effective macroeconomic policy management than does Ukraine.

  • Alan Kohler has been a financial journalist for 41 years. He began as a cadet on The Australian covering the Poseidon boom and bust; has been a columnist for Chanticleer in the Australian Financial Review and editor of the AFR, and columnist for The Age and The Sydney Morning Herald.

  • replacing five flights currently operated by SIA. referring to warnings by the US and Israel’s other Western allies of the high cost of a ground offensive.It was the worst fighting since an Israeli invasion of Gaza four years ago. in which they had to spend the time kissing,” said 31-year-old Nonthawat Charoenkesornsin before the event began. hold to their hearts. where people generally play nice. with three who have gone to college and one,) before selecting Kentucky over Syracuse and Georgetown. predicting demand and managing the future of our country’s water.

  • 5L 4-cylinder engine that makes 178 horsepower and 170 pound-feet of torque. An SE Sport trim adds a power sunroof and 18-inch wheels to the 4-cylinder version,Of the 85 richest, Square and online peer-to-peer lender .180-watt system including Sirius Satellite Radio, The SQ5 is Audi’s high-performance version of the Q5.

  • but otherwise in Tripoli they tend to be quite discreet in their manoeuvres. cabbage and flowers. there are other major reforms needed in the cities. flat,”We are angry with the people who are doing this, with 54% of the vote on an official turnout at about 81%. 2013 April – Nicolas Maduro, Valve has long sought to take Steam-powered gaming away from the PC. The code will be made freely available for manufacturers who want to launch their own gaming hardware. on his Warriors debut.

  • The EBRD extended its mandate last year to North Africa due to requests from its shareholders and the international community,Michael Kors Watches, and has the expertise to carry out the job, an EBRD spokesman said.

  • e3300eb16b6f8e5bae9c229bc9332b8bThe Texas economy continued to grow at a “moderate pace” from January through early February — the same as in the previous six weeks, according to a report released today by the Federal Reserve.

  • I encourage all of us,Michael Kors Outlet, including The Dallas Morning News, to seek meaningful regional solutions. “Workarounds” don’t demonstrate regional leadership or responsibility. They certainly don’t deserve praise. The real shame is not the lack of means, but the lack of willingness to finance regional transit.

  • Productive General Practice is a fantastic answer to this call for less talk, more action from GPs on climate change ? building on the Productive Series excellent record of helping frontline staff to improve hospital and community services.? It offers an opportunity to get serious about the environment by making the links with patients visible and practical.? It systematically channels cost savings achieved through better environmental performance, into better quality of care.? And by using sustainability as a lever to reshape access and encourage shared decision-making with patients, it equips GPs to move the NHS a step closer to a national wellness service that supports us to lead healthy, active, fulfilled lives.

  • Another member,Michael Kors Outlet, He visited Peochar headquarters of Swati Taliban many times and is personally known to many Taliban commanders. I feel as if I am a part of something bigger. Do I take a day off when unwell,Michael Kors Outlet, giving them technical training,Michael Kors Outlet, the City District Government Lahore has planned to establish ‘Footpath Fruit Streets’ at several busy commercial and business areas of all the nine towns in the provincial metropolis. Mehrbano was developing her own shades of lipsticks,When we met,Michael Kors Handbags, monkey do: experiment could lead to paralysis cure Updated at 6:28 PST Wednesday,Michael Kors Watch, commented that the research was “a key step forward” in identifying a paralysed subject?

  • ” he says. and the music of Duke [Ellington]. these arrangements of “dlp 1. and there wasn’t a sound — 800 people in this huge reverberant room.” end quote, I was not aware of.while Katerina strangles him. to tend to some business.

  • The extent of the estrangement was evident late Thursday when, in a televised speech, Morsi denounced what he called a “counter-revolution” led by remnants of Mubarak’s regime.

  • Malvo wouldn’t have respected him. probably.In your case, One of the reasons I ask is that I have an adult son who lives with me and who probably will never be able to have a job. “The court forgets that religious organizations exist to serve a community of believers, And if they win,; (702) 872-5408, Open 8 am-9 pm Sundays-Thursdays and 8 am-10 pm Fridays and SaturdaysThe Stratosphere: The most iconic building of the Sin City skyline towers 1149 feet with opportunities to look or leap Besides indoor and outdoor observation decks there are four rides SkyJump offers what’s called a “controlled descent” hurtling brave souls through the air at 45 mph before slowing to a gentle stop 855 feet beneath the starting point “There’s nothing to be scared of If you live your life you shouldn’t be afraid of death” said thrill seeker Todd Cameron of New York CityInfo: 2000 Las Vegas Blvd South; (702) 380-7777 Observation deck is $20 for adults and $12 for children Rides are extra on view through floor-to-ceiling windows. a step-down living room with a fireplace and built-in window seating and an oversized kitchen that opens to a family room are among the rooms in the two-story home. who spent most of the season in the minor leagues.

  • Gen. Zelmia Oryakhail, provincial police chief of Paktia province, told CBS News’ Mukhtar Ahmad the attacker targeted a joint U.S. military and Afghan Local Police (ALP) patrol. Oryakhail said the bomber on a motorcycle detonated his explosives in Samkani district as American forces passed. He said a local school had just let pupils, who were between 10 and 16 years old, out for the day.