Featured Original Articles Urdu Articles

امن کے خلاف آل سعود اور صہیونی متحد

ایران اور جی فائیو پلس ممالک(امریکہ،برطانیہ،فرانس،جرمنی،روس،چائنا) کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام بارے مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا ہے جبکہ دوسرا دور 7-8 نومبر 2013ء کو ہوگا-دونوں اطراف سے مذاکرات کے پہلے دور کو تسلی بخش قرار دیا گیا ہے-http://isna.ir/en/news/92072415258/Iran-Russia-delegations-meet-in-Geneva

جبکہ ان مذاکرات پر اسرائیل اور سعودیہ عرب کی جانب سے سخت بےچینی کا آظہار کیا جارہا ہے-اسرائیل کی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے اراکین عقابی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں-وزیر اعظم اسرائیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مغرب اور امریکہ کو ایران کے ایٹمی پروگرام کی پالیسی میں حقیقی بدلاؤ کے بغیر پابندیوں کو نرم کرنا غلطی ہوگی اور اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے-انہوں نے عالمی برادری پر تنقید کی کہ وہ ایران کے خلاف فیصلہ کن ٹھوس اقدام اٹھانے سے قاصر رہی ہے-

http://original.antiwar.com/lobe/2013/10/16/israel-and-the-gulf-increasingly-nervous-over-iran-us-detente/

اسرائیل کا میڈیا بھی ایران اور امریکہ و یورپ کے درمیان تازہ رابطوں پر سخت تنقید کررہا ہے-ایسا نظر آتا ہے کہ اسرائیلی عقابی قوتیں فاختائی قوتوں پر غالب آگئی ہیں-اسرائیل کا ایک ہائی لیول کا وفد امریکہ کے دورے پر ہے اور اس دورے کا مقصد اب تک ایران سے ہونے والی امریکی اور جی فائیو پلس کے ایرانی مذاکرات کاروں سے ہونے والی بات چیت پر بریفنگ حاصل کرنا ہے-

http://www.mcclatchydc.com/2013/10/15/205430/what-israel-wants-from-iran-talks.html

http://www.unitedjerusalem.org/index2.asp?id=1729014

دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سٹریٹجک مذاکرات کا وقت بھی قریب ہے جو ہر دوسال بعد ہوتے ہیں-ان مذاکرات میں اسرائیل کی جانب سے سٹرٹیجیک افئیرز کے وزیر،انٹیلی جنس ایجنسیوں کی نمائندہ ٹیم اور دفاع و خارجہ وزراتوں کے اہلکار شریک ہوں گے اور سرفہرست امریکہ-ایران بات چیت ہوگی-

 سعودیہ عرب کی جانب سے بھی ان مذاکرات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے-جس وقت حسن روحانی نے جنرل کونسل کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی اور پھر ایران-امریکہ تعلقات کونسل سے خطاب کیا تھا تو اس دوران لندن اور امریکہ میں سعودی عرب کے سابق سفیر پرنس ترکی بن فیصل بن سعود نے ایران سے جی پلس فائیو کے مذاکرات کی بحالی پر تشویش کا اظہار کیا تھا-ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے مکمل خاتمے اور مڈل ایسٹ میں اس کے بالادست ہونے کے منصوبے کے خاتمے کے بغیر ایران سے پابندیاں ہٹانا یا نرم کرنا غلط ہوگا-سعودیہ عرب اس کی حمائت نہیں کرے گا-سعودیہ عرب نے امریکہ اور مغرب کی مڈل ایسٹ بارے پالیسی اور طرز عمل میں حالیہ بدلاؤ پر اظہار ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی عارضی نشست سنبھالنے سے انکار کیا تھا اور یو این او کی جانب سے شام ایران اور اسرائیل بارے طرز عمل پر اظہار مایوسی کیا تھا-

http://www.spiegel.de/international/world/interview-with-saudi-prince-turki-bin-faisal-on-syria-and-hezbollah-a-906197.html

سعودیہ عرب سمیت گلف کی ریاستوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ امریکہ اور ایران میں اگر تعلقات معمول پر آتے ہیں تو اس کا لامحالہ مطلب یہ ہوگا کہ شام میں بشارالاسد رجیم اور شامی حزب اختلاف کی ان قوتوں کے درمیان معاہدے کے امکانات زیادہ ہوجائیں گے جو ایران،امریکہ،مغرب اور روس و چین کے قریب ہوں گی اور شام میں جو نیا سیٹ اپ آئے گا اس میں گلف سٹیٹس اور سعودی عرب کا اثر نہیں ہوگا-اسی طرح سے ایران کے اگر مغرب اور امریکہ سے تعلقات بہتر ہوتے ہیں تو اس سے ایرانی معشیت کی گروتھ کے امکانات زیادہ ہوں گے-اور ایران خطے میں زیادہ بااثر ہوگا-اور سب سے زیادہ تشویش گلف ریاستوں کو اپنے ملکوں کے اندر چلنے والی جمہوری تحریکوں سے ہے جس میں شیعہ برادری اور غیر سلفی سنی اہم کردار ادا کررہے ہيں-جبکہ ان ملکوں میں حماس جیسی تنظیموں میں بھی سعودیہ عرب اور گلف ریاستوں کی جانب سے مصر میں فوجی بغاوت کی حمائت کرنے سے مزید نفرت ان ممالک کی حکومتوں سے پیدا ہوئی ہے-سعودیہ عرب سمیت گلف ریاستوں کی سٹرٹیجک پالیسیوں سے گہری آشنائی رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودیہ عرب اور اس کی اتحادی عرب حکومتیں اپنے آپ کو بتدریچ محاصرے میں گھرا ہوا دیکھ رہی ہیں-اور ان عرب حکومتوں کو اپنی جہادی پراکسی سلفی آئیڈیالوجی کے جھنڈے تلے مطلوبہ نتائج دیتی ہوئی دکھائی نہیں دی رہی-

افریقہ اور مڈل ایسٹ میں عالمی سلفی جہادی پراکسی جس طرح سے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکارہا ہے اور خاص طور پر لیبیا میں سلفی جہادیوں کو فری ہینڈ دینے سے جو خرابیاں پیدا ہوئیں اس نے مغرب اور امریکہ کی حکومتوں کو جہادی پراکسی کے موثر ہونے بارے سخت شکوک و شبہات پیدا کردئے ہیں-اس لیے امریکہ اور یوروپی یونین سیکولر ،لبرل طاقتوں سے ہٹ کر جہادی گروہوں کے ساتھ تعاون کو تیار نہیں ہے-اور اس معاملے میں چین و روس بھی مغرب کے ساتھ متفق نظر آتے ہیں-

مڈل ایسٹ میں سلفی جہادی مکتبہ فکر عوام کے بڑے حلقے میں تیزی سے غیر مقبول ہورہا ہے-اور اس سے سعودی عرب کے سلفی عرب حاکموں کے خلاف نفرت میں اضافہ بھی ہورہا ہے-جبکہ عرب سپرنگ میں ابھر کر آنے والی اسلام پسند جماعتوں میں بھی اس آئیڈیالوجی کے خلاف ردعمل اخوان المسلمون مصر اور النہادہ تیونس کی حکمران پارٹی کے جلادی دھشت گردوں کے خلاف موقف سے لگایا جاسکتا ہے-

مڈل ایسٹ میں اس وقت ایران،شام کے ایشوز پر امن پسندانہ جس روش کا آغاز ہوا ہے اس پر سعودیہ عرب اور اسرائیل کے عقاب ہی بروفروختہ نہیں ہیں بلکہ مڈل ایسٹ میں عراق و شام میں سرگرم اسلامک سٹیٹ آف عراق،لیونٹ اور النصرہ فرنٹ جیسی دھشت گرد تنظیمں بھی زیادہ غصے اور جنون میں ہیں-وہ سفارتی سطح پر ایران کی اصلاح پسند حکومت کی کامیابی اور شام میں پیدا ہونے والے امن کے امکانات کا بدلہ عراق اور شام میں خودکش فرقہ وارانہ حملوں کے سلسلے کے زریعے لینے کی کوشش کررہے ہیں-اور ان کا نشانہ سنّی غیر سلفی ،شیعہ،عیسائی،کرد،عرب سب بن رہے ہیں-

آنے والے دنوں میں سعودیہ عرب کی قیادت میں خلیجی ریاستیں مڈل ایسٹ کے معاملات پر اپنے کنٹرول میں کمی پر اور زیادہ سلفی جہادی تکفیری دھشت گرد گروپوں پر سرمایہ کاری کریں گی-مڈل ایسٹ میں عرصہ دراز سے چلی آنے والی پولرائزیشن کے الٹ پلٹ ہونے کا امکان بھی ہے-

About the author

Aamir Hussaini

4 Comments

Click here to post a comment