Original Articles

مسلم ذہن کی تعمیر – مبارک حیدر

covered-women

انٹرنیٹ اور عالمی رابطوں کے موجودہ نظام نے تقدّس کے غلا فوں میں لپٹے ہوئے ان گنت حسّاس شعبوں کو اٹھا کر کھلے آسمان کے نیچے رکھ دیا ہے – چنانچہ دوسرے مذاھب کے ساتھ اسلام بھی کرخت تنقید کی بارش میں بھیگ رہا ہے – یہ فطری رد عمل تھا ایسے دبے ہوئے لوگوں کا جنہوں نے اپنے منجمد مسلم معاشروں کی گھٹن اور ریاکاری کو شمشیر بہ کف دندناتے دیکھا تھا –
لیکن کیا مسلم معاشروں کو کسی باغیانہ رد عمل سے متحرک کیا جا سکتا ہے ؟ نہیں – اس لئے کہ مسلم ذہن کی تعمیر ہی یوں ہوئی ہے کہ ایمان کے بڑے بڑے پتھر احساس فضیلت کے سیمنٹ سے جوڑے گئے ہیں –

مسلم معاشروں اور افراد کو فکری انقلاب کی جتنی ضرورت آج ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی کیونکہ اسلامی غلبہ اور خلافت کی تحریکیں مسلم عوام کو دنیا سے ٹکرانے کے لئے اکسا رہی ہیں جس کا انجام کروڑوں کی موت یا بربادی کے سوا کچھ نہ ہوگا –
فکری انقلاب علم سے ممکن ہے – علم جستجو اور انکسار سے جنم لیتا ہے اور برداشت کو جنم دیتا ہے کیونکہ علم بقا کے سفر کا رہبر ہے اور بقا بچنے اور بچانے کا نام ہے-

عقیدہ باندھتا ہے – لیکن تحفظ بھی دیتا ہے – بندھے ہوئے کو اذیت سے آزاد کرنا محبّت کا عمل ہے ، لیکن تحفظ سے محروم کرنا محبّت کا عمل نہیں- تیز اور اکھڑ ہوا کے تھپیڑے الجھی ہوئی گرہوں کو کھول نہیں سکتے ، مزید الجھا سکتے ہیں- اگر آپ بندھے ہوئے عزیز کو آسودہ کرنے کے لئے آئے ہیں تو گرہیں کھولتے وقت اسے برا بھلا مت کہیں، اسے چٹکیاں نہ کاٹیں ، اسے قیدی ہونے کا طعنہ نہ دیں –

اگر آپ کم علم ہیں تو انکسار سے بات کریں اور سیکھیں – سوال پوچھیں اور جواب کے آگے انا کی دیوار کھڑی نہ کریں- جواب پریشان کرے تو خاموش ہو جائیں یا دوستانہ انداز سے شکوہ کریں –
اگر آپ عالم ہیں تو آپ کی ذمہ داری اس کے مقابلہ میں بڑی ہےجو عالم نہیں – اپنے مخاطب کی عزت نفس کا احترام آپ کی ذمہ داری ہے – کم علم کی بد کلامی کو برداشت اور معاف کرنا عالم کی پہچان ہے – ہمیں پڑھے لکھے مسلمانوں کی ایک نئی نسل پیدا کرنی ہے جو نسل انسانی کی بقا کے لئے مسلم دنیا کو لیکر جدید دنیا کے ساتھ چلے –

سائنٹفک یعنی عآلمانہ استدلال میں انا نہیں ہوتی یا اگر ہوتی ہے تو کام کی منطق کے تابع – انا کا وافر اظہار کم علمی اور کم اعتمادی کی علامت ہے – انا اکثر اوقات ابلاغ کے رستے کی دیوار بن جاتی ہے- اس دیوار برلن کو آپپس کے درمیان ابھرنے ہی نہ دیں –

ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کی محبتوں کا احترام کرتے ہیں – ہم مسلم معاشروں اور افراد کا فکری انقلاب اس لئے مانگتے ہیں کیونکہ ہم اپنے لوگوں کی بقا چاہتے ہیں ، یعنی ان سے محبت کرتے ہیں – ہم ان شخصیتوں اور باتوں کا احترام کرتے ہیں جو ہمارے ماں باپ اور ہمارے پیاروں کو پیارے ہیں- غلط کو غلط کہنے کے لئے سخت لفظ ضروری نہیں ہوتے- یہی عالمانہ یعنی سائنٹفک طرز استدلال ہے –

ایک سچا پیشہ ور ڈاکٹر مریض سے محبت کئے بغیر بھی اس کے ساتھ ہمدردی اور نرمی کا سلوک کرتا ہے کہ یہی اس کی کمٹمنٹ ہے-
ہمیں ان لوگوں سے بھی نرمی اور شفقت سے پیش آنا چاہیے جن سے ہمارا محبت کا کوئی رشتہ نہیں ، اسلئے کہ ان کی صحت ہماری کمٹمنٹ ہے

Tags