Original Articles

PPP and its sympathisers – by Ali Arqam

ہمارے ناراض دوست اور میڈیا

پاکستان پیپلز پارٹی اپنی تمام تر مصلحت آمیزی، ہییت مقتدرہ کی خوشامد پر مبنی  روش، سیاسی اصطلاح میں درست اقدامات کے باوجود اپنے نام و عنوان، اپنے ماضی اور عوامی بنیادوں کے باعث کبھی حتمی فیصلہ سازی کے حامل مقتدر حلقوں اور اس کے زیر اثر ، اس کے تعلقات عامہ کے شعبے سے سند یافتہ میڈیا کے جغا دری کالم نگاروں، ٹی وی میزبانوں میں مقبولیت بلکہ قبولیت حاصل نہیں کر سکی۔

اس کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن اس عمومی برتاو کی کی انفرادی درجے میں کچھ مستثنیات ضرور موجود ہیں۔ البتہ اس استثناء کی بنیادیں بھی پیپلز پارٹی سے روایتی بغض اور ناپسندیدگی پر مبنی ہیں۔ جیسے اگر پتہ چلے کہ کوئ فرد پارٹی کی مرکزی پالیسی سے انحراف کا مرتکب ہے، یا وہ اپنے زعم میں اپنے استحقاق کے مطابق مقام دئے جانے یا اسمبلی یا سینٹ کا ٹکٹ نہ دیئے جانے پر شاکی ہے تو میڈیا کے جواری اس گھوڑے پر داوَ لگانا شروع کر دیتے ہیں، اور وہ حضرت ٹی وی کی اسکرین پو متفرق میزبانوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے پارٹی کی مخدوش حالت ، اندرونی اختلافات کے افسانوں اور ذاتی شکایات پر ٹسوے بہاتے نظر آتے ہیں۔

اب آپ کہیں گے کہ آپ کس سے مخاطب ہیں، تو بقول کوثر نیازی صاحب کے

اشعار کے  پردے  میں ہم  کس  مخاطب ہیں

وہ خود ہی  جان  لیں گے کیوں نام لیا جائے

اب ان حضرات کا مخمصہ بھی عجیب ہے، نہ یہ پارٹی کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، نہ یہ پارٹی کے متوازی ہم خیالوں کا کوئی پینل تشکیل دیتے ہیں، نہ پارٹی کی جان چھوڑ کر کسی اور پارٹی میں جاتے ہیں اور اگر پارٹی ان کے خلاف ڈسپلنری ایکشن کرنا چاہے تو یہ میڈیا کی رودالیوں کے کندھے پر سر رکھ کر آنسو بہاتے ہیں۔

اور کالم نگار، ٹی وی میزبان اور سوڈو لبرل بلاگرز ان کے حمایت میں تلوار سونتے میدان میں آدھمکتے ہیں۔ پییپلز پارٹی پاکستان کی وہ واحد پارٹی ہے جس کے تحفظ بقاہ اور مقبولیت کی فکر اس کے مخالفین کو اس کے حمایتیوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

ان تمام محولہ بالا شخصیات بشمول خواتین و حضرات، جس شخصیت کے حصّے میں آڈینس کی سب سے زیادہ داد و تحسین آئی ہے وہ ہمارے چاکلیٹی ہیروز جیسی لکس رکھنے والے ، دنیا کے سو دانشوروں میں گنے جانے والے جناب اعتزاز احسن ہیں۔ لیکن ان کا ذکر ایک الگ عنوان اور مضمون کا مستحق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فی الحال ان کی خدمت میں اک شعر کہ وہ اچھا شعری ذوق رکھتے ہیں۔۔۔۔

بقول محسن چنگیزی کہ

سورج  کا  طرف  دار  ہوا  میرا مخالف

اک موم کا پیادہ میرے لشکر سے نکل کر

About the author

Ali Arqam

74 Comments

Click here to post a comment