Original Articles Urdu Articles

ایک سنی مسلمان کے ڈاکٹر علی حیدر شہید کے بارے میں جذبات

160315_69674245

ڈاکٹر علی حیدر پاکستان کے ایک مایہ ناز ماہر امراض چشم تھے جن کو سپاہ صحابہ کے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں نے لاہور میں شہید کر دیا بتایا جاتا ہے کہ شیعہ ڈاکٹرز اور دیگر پروفیشنلز کے نام پتے کی فہرستیں سپاہ صحابہ کو فراہم کی جاتی ہیں جو اس کے بعد ان کو ٹارگٹ کر کے شہید کر دیتے ہیں حال ہی میں نجم سیٹھی کے لئے کام کرنے والے جناح انسٹیٹوٹ کے بلاگر اور کپیٹل ٹیلی ویژن کے ملازم رضا رومی نے براہ راست اور بالواسطہ فرہاد جرال کے ذریعے شیعہ بلاگرز، پروفیشنلز اور ان کے خاندان کے نام پتے شایع کیے ہیں اور ان کو دھمکیاں دی ہیں جس سے پاکستان میں شیعہ حقوق لے لیے کام کرنے والے بلاگرز اور پروفیشنلز کی زندگی کو سخت خطرات لاحق ہو گئے ہیں جن کا ورلڈ شیعہ فورم اور شیعہ پوسٹ نے بھی نوٹس لے لیا ہے

“میرا ایک ہی بیٹا تھا ۔۔۔۔ مالک نے دیا ۔۔۔۔۔۔ اس کا انعام تھا ۔۔۔۔ اس نے لے لیا ۔۔۔۔”
آپ سوچ بھی سکتے ہیں کہ ایک باپ، اپنے ہونہار بیٹے کی موت پہ، یہ الفاظ، کس دل سے ادا کرتا ہے؟ رسم ابراہیمی ادا کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے، نہیں ہے
ڈاکٹر علی حیدر کے والد، ڈاکٹر وحید ظفر کی رندھی ہوئی آواز اور بھیگی ہوئی آنکھیں، اور اس پہ صبر و شکر کا یہ جملہ ۔۔۔ “یا خدا، میری قربانی قبول کر” ۔۔۔۔

میں تکفیری ہوں یا تفریقی یہ تو نہیں پتہ، ہاں لیکن میرے تکفیری بننے سے جو تفریق پیدا ہوئی اس سے دنیا بھر کے لیئے تفریح کا ساماں ضرور پیدا ہوا ۔۔ اور دنیا بھر کی ایجنسیوں نے، جنرل ڈائر سے لیکر جنرل جان ایلن تک مسلمانوں کو خوب تفریح کا ساماں بنایا ۔۔۔۔
ویسے تفریح کا سامان تو ہم نے خود بھی ڈھونڈھ ہی لیا ہے، ریمنڈ ڈیوس سے لیکر شاہ زیب کیس تک، ہم شمشیر و ثنا اول پہ عمل کرتے ہوئے کراچی تا خیبر احتجاج کرتے ہیں، اور پھر دیت و پرکشش عہدہ طاؤس و رباب آخر ثابت ہوتا ہے ۔۔۔
تو کیا اب ہم ڈاکٹر علی حیدر اور ان کے بیٹے کے لیئے ریلی نکال رہے ہیں؟ کوئی دھرنا؟ کوئی احتجاج؟ چھوڑیں یار ۔۔۔۔ آپ تو فیس بک پہ کوئی ایونٹ اور ٹوئٹر پہ ٹرینڈ بھی نہ بناسکے ۔۔۔اور کیا ہمیں کس حیثیت سے احتجاج کرنا چاہیئے؟ کہاں کرنا چاہیئے؟ لواحقین سے پوچھ کہ کرنا چاہیئے؟

میری باتوں کا برا نہ مانیئے گا ۔۔۔ میں ایک سنی ہوں، اور شیعہ ڈاکٹر علی کے قتل پر میرا دل ویسے ہی روتا ہے، جیسے کراچی کی سڑکوں پہ قتل کیئے جانے والے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما کے قتل پہ روتا ہے، جیسے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو ہٹلری انداز میں جلا کر ماردینے پہ روتا ہے ۔۔۔۔

ارے ۔۔۔ میں تو ایک سنی ہوں ۔۔ تو پھر میں ڈاکٹر علی حیدر کے لیئے کیوں لکھ رہا ہوں؟ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔ ان کے قاتل پکڑے جائیں گے؟ پتہ نہیں ۔۔۔۔ ہزارہ برادری کا قتل عام بند ہوگا؟ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا میں تکفیری ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

مجھے نہیں پتہ کہ اس لفظ کا مطلب بھی کیا ہے، نہ ہی میں جاننا چاہوں گا، میں اتنا جانتا ہوں کہ میرے بہت سے دوست شیعہ ہیں، میں جن کیساتھ بیڈمنٹن کھیلتا ہوں ان میں بھی کئی شیعہ ہیں، میں نے اس چینل میں کام کرنے سے پہلے جس چینل میں کام کیا وہاں میرے بہت سے دوست شیعہ تھے، اور جہاں اب کام کررہا ہوں، وہاں بھی بہت سے شیعہ ہیں ۔۔۔ میں ان کے کام کرتا ہوں، ہنسی مذاق بھی، میں ان کے ساتھ کھانا کھاتا ہوں، اپنی روٹی انھیں دیتا ہوں، اور ان کا لایا ہوا چاول کھاتا ہوں ۔۔۔۔ رزق تو خدا کا ہے، اور خدا شیعہ سنی ہندو مسلمان دیکھ کر تو رزق نہیں دیتا!

تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب میں ایک سنی ہوتے ہوئے اپنے شیعہ بھائیوں کیساتھ، اور وہ شیعہ ہوتے ہوئے میرے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کرتے، تو پھر کون ہیں یہ لوگ، جنھیں کہ سیاہ دلوں میں نفرتوں اور کدورتوں کے اتنے کرخت و کھردرے کانٹے ہیں کہ یہ صرف گولیاں نہیں مارتے، چہرے پہ گولیاں مارتے ہیں ۔۔۔

جہاں تک بات ہے ڈاکٹر علی اور ان کے نو عمر بیٹے کی، تو ہم کمزور لوگ سوائے افسوس کے علاوہ اور کر بھی کیا کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کا خاندان چار پشتوں سے انسانیت کی خدمت پہ مامور ہے، ہاں وہ ہی انسانیت جو ایک انسان کے قتل ہونے پہ مکمل قتل ہوجاتی ہے ۔۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کے والد اور چچا بھی ڈاکٹر ہیں، اور ان کے دادا، قائد اعظم کے قریبی ساتھی اور ۱۹۴۷ میں بننے والی باؤنڈری کمیشن کے رکن بھی رہے ۔۔۔۔۔۔

تو ہاں ۔۔۔ میں تو ایک سنی ہوں ۔۔ تو پھر میں ڈاکٹر علی حیدر کے لیئے کیوں لکھ رہا ہوں؟ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔ ان کے قاتل پکڑے جائیں گے؟ پتہ نہیں ۔۔۔۔ ہزارہ برادری کا قتل عام بند ہوگا؟ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا میں تکفیری ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ کیا ڈاکٹر ظفر جیسے کئی اور باپ، اپنے ڈاکٹر بیٹے جیسے ہونہار سپوتوں کا رونا اسی طرح روتے رہیں گے؟ اور مرتضٰی؟؟؟؟ اس کا قصور؟

نہیں یہ اچھا ہی ہوا، کہ مرتضٰی بھی چلا گیا، کیوں کہ جو باپ اپنے بیٹے کو دولہا بنا دیکھے، اور وہ ہی باپ اسی دولہا بیٹے کے جنازے کو کاندھا بھی دے ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر ظفر میں تو بطور باپ اتنی ہمت تھی، لیکن کل کو بڑے ہونے والا مرتضٰی جب دولہا بنتا، کتنی چاہت سے باپ ڈاکٹر علی اس کی شیروانی بار بار ٹھیک کرتا ۔۔۔ اور پھر کسی نام نہاد مسلمان کے دل میں دنیا سے کافروں کے مٹانے کا عزم جاگتا، مرتضٰی کو موت کی نیند سلادیتا، ہاں شاید ڈاکٹر علی میں ڈاکٹر ظفر جیسا صبر نہ ہوتا ۔۔۔ ہاں شاید ۔۔۔۔۔