Blogs Cross posted Urdu Articles

ننگ دین، ننگ اسلاف – کوئٹہ میں سپاہ صحابہ کا رقص ابلیس

quetta girls

سردار بہادر خان ویمن میڈیکل یونیورسٹی کی بس پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ اور پھر بولان میڈیکل ہسپتال کی عمارت پر خود کش حملہ اور فائرنگ اس لحاظ سے زیادہ خطرناک اور وحشت ناک حملہ تھا کہ اس میں مرکزی نشانہ خواتین تھیں-یہ سب کرنے والوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور پھر لشکر جھنگوی کے مبینہ ترجمان نے بی بی سی کے دفتر فون کرکے اس واقعے کی زمہ داری قبول کرلی اور کہا کہ یہ خروٹ آباد میں ہونے والے مقابلے میں ہلاک ہوجانے والوں کا بدلہ ہے-

سردار بہادر خان یونیورسٹی کی جس بس پر حملہ کیا گیا اس میں سوار طالبات کا تعلق بلوچ، پشتون اور ہزارہ شیعہ کمیونٹی سے تھا-اور بولان ہسپتال میں میں مرنے والے ڈپٹی کمشنر ،ایف سی کے اہلکاروں اور کئی ایک نرسوں کا تعلق اہل سنت سے تھا-یہ سب کے سب لشکر جھنگوی کے دھشت گردوں کی وحشت اور جنون کا نشانہ بن گئے-

کس قدر حیرت کی بات ہے کہ حملہ آور اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے معصوم بچیوں پر بارود کی بارش کررہے تھے-اور ان دھشت گردوں نے ہسپتال کے چلڈرن وارڈ پر قبضہ کرنے اور آپریشن تھیٹر کو تباہ کرنے کی کوشش بھی کی-اس سے ان دھشت گردوں کی سفاکیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے-

میں نے جب یہ سنا کہ ایک آدمی نے اپنی قمیض اٹھائی تو اس پر خودکش جیکٹ بندھی ہوئی تھی اور اس نے اللہ اکبر کا نعرہ لگاکر خود کو پھاڑ ڈالا اور پھر چھت پر چڑھے دھشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کرڈالی تو مجھے اقبال کا شعر یاد آگیا کہ

کسے خبر تھی کہ ہاتھ میں لیکر چراغ مصطفوی

جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

فدائی حملوں کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن مجھے ایسے فدائی حملے تو تاریخ میں کسی گروہ کی جانب سے ہوتے نظر نہیں آئے جس میں معصوم طالبات اور نرسوں کو نشانہ بنایا گیا ہو اور پھر ان حملوں میں بچوں کے وارڈ کو تباہ کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہو-ہسپتالوں ،اسکولوں ،کالجوں،یونیورسٹیوں،مساجد،امام بارگاہوں،مندر،کلیساؤں اور جنازوں پر حملے کرنے کی یہ بدعت دور جدید میں سامنے آئی ہے اور ستم گری یہ ہے کہ یہ سب ظلم اور وحشی پن کرنے والے یہ کام نعرہ تکبیر بلند کرکے کررہے ہیں-اللہ کی بڑائی بیان کرنے والے اللہ کی بڑائی ثابت کرنے کے لیے جو کام سرانجام دے رہے ہیں وہ کام انتہائی شرمناک ہے اور بدترین ہے-

یہ واقعہ کوئٹہ شہر کے اندر ہوا اور دن دیہاڑے ہوا ہے-اس واقعے نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ کوئٹہ شہر کے اندر بم لیکر آنا ،اس کو کسی بھی س پر نصب کرنا اور پھر اسلحے کی بڑی مقدار کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا کس قدر آسان کام ہے اور ہماری خفیہ ایجنسیاں اس حوالے سے کس قدر مستعد ہیں اس کا اندازہ بھی آسانی سے لگایا جاسکتا ہے-

میں یہ کہتا ہوں کہ ہماری خفیہ ایجنسیاں اب تک لشکر چھنگوی سمیت ان نیٹ ورکس کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں جو پاکستان کے اندر مذھبی بنیادوں پر قتل و غارت گری کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہیں-یہ ایجنسیاں ان نیٹ ورکس کو دھماکہ خیز مواد کی سپلائی کرنے والے نیٹ ورک کا سراغ لگانے میں ناکام ہیں اور ان دھشت گردوں کے فنڈز اکٹھے کرنے کے جو سورس ہیں ان کو بند کرنے کی جانب بھی پیش رفت ہوتی نظر نہیں آرہی-

اس کے برعکس ان ایجنسیوں پر یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ یہ بلوچستان کے اندر بلوچ مزاحمت کو دبانے اور اس ایشو کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے فرقہ وارانہ دھشت گردی کے نیٹ ورک کو منظم ہونے اور اس کے پھیلنے میں مدد دے چکی ہیں-یہ بہت سنگین الزام ہے اور جتنی آسانی کے ساتھ لشکر جھنگوی بلوچ علاقوں میں کام کررہا ہے اس سے اس طرح کی افواہوں کو مزید تقویت مل رہی ہے-

لشکر جھنگوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ان دھشت گردوں کا نیٹ ورک ہے جن کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ کے باغی گروپ سے ہے اور ان کا تعلق پنجاب سے ہے-کہنے والے کہتے ہیں کہ پنجابی سے آنے والے دھشت گرد کس طرح سے آسانی کے ساتھ بلوچستان میں خود کو چھپائے ہوئے ہيں؟سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کہتے رہے ہیں کہ لشکر جھنگوی کے لیے ریکروٹمنٹ پنجاب سے ہوتی ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر جھنگ میں ہے-اس سے قبل بلوچ تنظیموں کی طرف سے بھی کہا جاتا رہا ہے کہ بلوچ قوم کے قتل میں ملوث ڈیتھ اسکواڈ کے لوگوں کا تعلق پنجاب کی عسکریت پسند مذھبی تنظیموں سے ہے اور ان کو اسٹبلشمںںٹ کی حمائت حاصل ہے-

پاکستان کی عسکری اشرافیہ اور خفیہ اداروں پر یہ تنقید اندر اور باہر سے ہوتی آئی ہے کہ وہ مذھبی عسکریت پسندی کو قائم رکھنے کے زمہ دار ہیں-ان پر یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ وہ افغانستان اور پاکستان کے اندر اراہ راست یا بلواسطہ مذھبی عسکریت پسندی کو باقی رکھنے کے زمہ دار ہیں-یہ الزامات اس لیے بھی لگ رہے ہیں کہ صرف مذھبی بنیادوں پر دھشت گردی کرنے والے ہی آذادی سے اپنے نیٹ ورک قائم کرکے اپنا ایجنڈا نافذ کرنے کی چھٹی نہیں دی گئی بلکہ کراچی جیسے شہر میں مختلف گینگز کو پنپنے کی اجازت بھی ملی ہوئی ہے-لیاری کی گینگ وار کو بھی کچھ حلقے بلوچستان کے ایشو سے لنک کرتے دکھائی دیتے ہیں-

سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ ریاست کے سیکورٹی اداروں اور خفیہ اداروں پر سپریم کورٹ تک یہ الزام عائد کرچکی ہے کہ وہ ماورائے آئین اور قانون سرگرمیوں میں ملوث ہیں-فاٹا ،خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں اس کے کافی شواہد موجود ہیں-انسانی حقوق کی تنظیمں بھی ریاستی سطح پر جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کئی مرتبہ رپورٹس مرتب کرچکی ہیں-

بلوچستان میں سیکورٹی کے ادارے اور انٹیلی جنس ادارے اپنا قبلہ درست نہیں کرتے تو بلوچستان میں بھڑکی ہوئی آگ کے ٹھنڈا پڑنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ہے-

سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی وہ سیاسی اور مذھبی جماعتیں جو مذھبی بنیادوں پر ہونے والی دھشت گردی کی مذمت چوںکہ چنانچہ اگر مگر اور لیکن کے ساتھ کرنے یا اس کے جواز کے بے معنی سفر کی بہت شائق رہتی ہیں ان کو اپنی روش میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے-

یہ دھشت گرد ننگ دین اور ننگ اسلاف ہیں-یہ جن اکابر کا نام استعمال کرتے ہیں ان سے ان کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہے-میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ان کے ننگ کو اگر مولانا قاسم نانوتوی اپنی نگاہوں سے ملاحظہ کرلیتے تو وہ بلا جھجھک ان کو اپنے متوسلین کی فہرست سے خارج کردیتے-اور ان کے “جہاد”کو اسیر مالٹا حضرت مفتی ہند محمد حسن یا شیخ الحدیث مولانا حسین احمد مدنی یا عبیداللہ سندھی دیکھتے تو ان کے شیطان کے چیلے ہونے کا فتوی دینے میں دیر نہ کرتے-

اور سب سے بڑی مثال حضرت عثمان غنی ذی النورین رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے کہ وہ محصور کردئے گئے تھے اور ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق تھا اس کے باوجود وہ مدینہ کے اندر خون ریزی اور خانہ جنگی سے بچنے کی ہرممکن کوشش کرتے رہے اور ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں کے درمیان صلح کا امکان پیدا ہورہا تھا تو کیسے سبائیوں نے اس امکان کو معدوم کرڈالا تھا-ایسے ابلیسں نما انسانوں کی آج بھی کمی نہیں ہے جو دینداری اور مذھب کا لبادہ اوڑھ کر شیطنت کو پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں-ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کے رہنے والے نسلی اور مذھبی بنیادوں پر ایک دوسرے کے درپئے جاں ہوجائیں اور یہ ملک عراق یا شام بن جائے جہاں دشمن سنی اور شعیہ کے درمیان خانہ جنگی کرانے میں کامیاب رہا ہے-ہمارے جو اہل علم و دانش ہیں ان کو مصلحتوں کو بالائے طاق رکھکر اور حق اور انصاف کا علم بلند کرکے آگے آنے کی ضرورت ہے اگرچہ یہ راہ بہت پرخطر ہے اس میں جان کا خطرہ بہت ہے اور بلکہ کسی حدتک یقینی بات ہے-لیکن معاشرے میں فساد اور فتنہ کے وقت آگے آکر فساد اور فتنہ کی جڑ کے خاتمے کے لیے کوشش کرنے کا نام ہی علم اور دانائی ہوا کرتا ہے-ہر عالم اور دانا پر فرض ہے کہ وہ ننگ دیں و ننگ اسلاف سے قوم کی نجات میں اپنا کردار ادا کریں-

atia syeda