Original Articles Urdu Articles

دہشت گردوں کا فرار اور رہائی – سیکورٹی اداروں اور نگران حکومتوں کا کردار – از حق گو

0 (1)

انتخابات کے بعد ہونے والی پیش رفت میں یہ بات تو سامنے آگیی کہ وفاق اور پنجاب میں حکومت بنانے والی نواز لیگ بلوچستان میں حکومت سازی کے لئے بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختون خواہ میں تحریک انصاف کی حکومت بننے کے امکانات بہت بری حد تک نظر آرہے ہیں – لیکن اس سب میں ایک چیز کو نظر انداز ہو رہی ہے وہ ہے تکفیری دیوبندیوہابی  طالبان اور اس کے ساتھ ملی ہوئی دہشت گرد تنظیموں کی دہشت گردی کی – حال ہی میں پنجاب کی صوبائی نگران حکومت جس کے وزیر اعلی نجم سیٹھی ال معروف چڑیا والی سرکار ہیں ان کی حکومت کی چھتر چھایا میں ایک سو بارہوہابی  دہشت گردوں کو رہا کیا گیا ہے ، اور یہ دشت گرد عام دہشت گرد نہیں بلکہ یہ سپاہ صحابہ ، لشکر جھنگوی کہ وہابی دشت گرد ہیں جن کا جیل میں رہنا امن امان کو صورت حال کو بہتر رکھنے کے لئے نہ گزیر تھا مگر سیٹھی صاحب کے کیا کہنے پہلے تو وہ اپنی اخبار میں ان دہشت گردوں کے سرپرست لدھیانویوہابی  دیوبندی کا ایک بہت ہی غیر سنجیدہ اور جانب دارانہ قسم کا انٹرویو چھاپتے ہیں اور پھر اس دہشت گرد کی تعریف و توصیف میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ بلا شبہ ہزاروں پاکستانیوں کا قاتل ہے

https://lubpak.net/archives/265751

پنجاب کی صورت حال کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی صورت حال بھی کچھ بہتر نہیں ہے ابھی چند ہی دن پہلے لشکر جھنگوی کے دہشت گرد کویٹہ کی جیل سے فرار ہوے ہیں – یہ روز مرا کی معمول کی بات نہیں ہے کیوں کہ لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کا فرار سیکورٹی فورسز کے مشکوک کردار کی نشان دہی کرتا ہے – ہائی سیکورٹی زون کی ایک جیل سے یوں دہشت گردوں ک فرار کی سوالات کو جنم دیتا ہے – آخری بار جب لشکر جھنگوی کے دہشت گرد جیل سے فرار ہوے تھے تو انہوں نے بارہ سو ہزارہ اور غیر ہزارہ شعیوں کا قتل عام  کیا اور تقریباً تین ہزار کے قریب شیعہ زخمی بھی ہوے

http://islamtimes.org/vdccopqi12bqe48.c7a2.html

اس کے علاوہ بھی لشکر جھنگوی کے دہشت گرد کراچی میں عباس ٹاؤن اور لاہور میں بھی شیعہ مسلمانوں پر حملے میں ملوث رہے ہیں لیکن ان کے خلاف کسی کاروائی کا نہ ہونا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ انھیں اپنی دہشت گردی کے لئے اسٹیبلشمنٹ اور سیکورٹی اداروں کی مکمل آشیر بعد حاصل ہے

https://lubpak.net/archives/266439

لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے فرار کے بعد کویٹہ میں شیعہ ہزارہ پولیس افسر عیوض علی اور پھر اگلے ہی دن سات اور اہلکاروں کی شہادت تو اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے فرار کی قیمت اب بڑے عرصے تک چکانی ہوگی

https://lubpak.net/archives/247965

اور پھر لشکر جھنگوی ، طالبان کے سیاسی چہرے سپہا صحابہ کے سیاست میں بڑھتا ہوا عمل دخل کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے شاید کچھ خفیہ ہاتھ کسی بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو کر پاکستان میں شیعہ اور پر امن سنی بریلوی کے ساتھ ساتھ اقلیتوں پر سپاہ صحابہ طالبان اور لشکر جھنگوی اهل سنت والجماعت کےوہابی  دہشت گردوں کی دہشت گردی پر آنکھیں موند کر سمجھ رہے ہیں کہ یہ آگ ان کے گھروں تک نہیں پہنچے گی

 

https://lubpak.net/archives/261635

shahzad

sh2