Original Articles

The ‘non-decision’ on 18th amendment: Go east, go west, our Supreme Court is the best!

Related article:
18th Amendment: The Parliament must not surrender its sovereignty to grade-22 bureaucrats in the Supreme Court

The Supreme Court has ordered that Article 175-A that has been amended through the epic 18th Amendment be sent back to the Parliament for review as it harmed the independence of the judiciary. The apex court in its decision ordered that Article 175-A, detailing the amendments to the procedure of appointing superior court judges, be sent back to the parliament for review. “Parliament is asked to review Article 175-A, for it has harmed judiciary’s freedom,” Chief Justice Iftikhar Chaudhry stated. It is significant that the apex court decided to send Article 175-A back to the parliament for reconsideration instead of striking it down. Some say that this is a “Middle of the Path decision”, avoiding what was feared to be an imminent collision with the parliament had the article been annulled directly.


The Supreme Court had started hearing of the case on May 24 and it took four months on the part of both sides to complete the arguments. The hearing continued with brief intervals for more than four months. A larger bench had concluded the hearing of the case on September 30 and reserved its judgment.

Around 20 petitions were filed in the SC challenging the amendment. However, most of the petitioners challenged the new procedure of appointment of judges in the superior and lower courts, under the amended Article 175-A of the Constitution.

The first petition was filed by Nadeem Ahmed Advocate (whose law firm incidentally has a client by the name of Ansar Abbasi) through his counsel Akram Sheikh. The second petition was filed by the District Bar Association Rawalpindi through Muhammad Ikram Chaudhry, who is also a candidate in the upcoming Supreme Court Bar elections. The third petition was filed by the Wattan Party through its chairman Barrister Zafar Ullah Khan.  The fourth one was filed by the Supreme Court Bar Association through Hamid Khan and the fifth by the President of Pakistan Muslim League-Zia Ijaz-ul-Haq. The PML-Z chief mainly objected to article 63-A of the Constitution, which empowers a party leader to disqualify a party member from his membership to the parliament, even if he is not an elected representative.

Though confrontation has been avoided (apparently), what is surprising is that by sending it back to the parliament for review, the current process of appointment where the CJ is the main authority in presenting names for judicial officers remains the same. In this time, the parliamentary committee will not be formed and hence the jagga raj continues!  I can only say, Go East, Go West, Our Supreme Court is the best.

Sources: Dawn.com and Tribune.com.pk

About the author

Ahmed Iqbalabadi


Click here to post a comment
  • In other words, except for the Article 175-A which the parliament has been asked to review, the 18th amendment is effective.

    This CJ and his team (Ramday et al) wasted 6 months of this nation to give us a middle path? and to waste further time on this non-issue in January 2011?

    This PCO judge and his pro-Nawaz Sharif cronies must be sent home, sooner better than later.

  • @Abdul,
    At the end of the day, the Supreme Court under the able leadership of “Highly Honorable” CJ and vice-captainship of “Most Revered” Khalil Ramday have only tried to safeguard their interest of judicial apointments. The whole nation is kept on tenterhooks every now and then.

  • So, is this article effective or not while its being reviewed? What a nasty attempt of a power grab by these paid servants. The only thing they want to be reviewed is related to “their” powers only. And they assemble at night if they think something against “their” interest is going on. What cheap display of extreme selfishness. And they have the gall to act holy. They are a laughing stalk.

  • پاکستانی پارلیمان نے آٹھ اپریل سنہ 2010 کو آٹھویں ترمیم کی منظوری دی تھی اور اس کے سولہ دن بعد ہی اس کی کچھ شقوں کو عدالتِ عظمٰی میں چیلینج کر دیا گیا تھا جن میں ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کی شق بھی شامل تھی۔

    ججوں کی تقرری کے طریقۂ کار کو چیلنج کرنے والے درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کی یہ شق عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ نے چوبیس مئی کو آئینی درخواستوں کی سماعت شروع کی تھی اور چار ماہ کی سماعت کے بعد تیس ستمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

    جمعرات کو فیصلہ سناتے ہوئے عدالت کا کہنا تھا کہ اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور پارلیمان شق ایک سو پچھہتر اے پر سامنے آنے والے تحفظات کا ازسرِ نو جائزہ لے۔ عدالت نے کہا کہ ججوں کی تقرری میں چیف جسٹس کی مشاورت کو اولین اہمیت حاصل ہے۔

    عدالت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک پارلیمان کی جانب سے اس شق پر نظرِ ثانی نہیں کی جاتی اس وقت تک نئے ججوں کی تعیناتی اسی شق کے مطابق ہی ہوگی۔ تاہم وہ جج جو پہلے سے تعینات ہیں یا انہیں عبوری ریلیف دیا گیا ہے ان پر یہ طریقۂ کار لاگو نہیں ہوگا تاہم اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی اٹھاوہویں ترمیم میں دی گئی شق 175 اے کے تحت ہی ہوگی۔۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تیس اگست کو چاروں صوبائی ہائی کورٹس میں تعینات بتیس ایڈہاک ججوں کو عبوری ریلیف دے کر اُن کی مدتِ ملازمت میں اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں سے متعلق عدالت عظمٰی کے فیصلے تک توسیع کر دی تھی۔ ہائی کورٹس میں تعینات مذکورہ جج صاحبان پانچ ستمبر 2010 کو اپنی ایک سال کی مدت ملازمت مکمل کر کے ریٹائر ہو رہے تھے۔

    فیصلے میں جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد دو سے بڑھا کر چار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کمیشن کا سربراہ ہونے کے ناتے اس کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس بلائے گا اور اس کمیشن میں چیف جسٹس کا بھی صرف ایک ہی ووٹ ہے۔فیصلے میں ججوں کی تعیناتی کے لیے بنائے جانے والی پارلیمانی کمیٹی کو ویٹو پاور کا اختیار دیا گیا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان تحلیل ہونے کے صورت میں پارلیمانی کمیشن نامکمل ہوگا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی 14 روز کے اندر اندر اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے لیے جن افراد کے نام بھجوائے جائیں گے اُنہیں اکثریت کے ساتھ منظور کرے گی اور مقررہ وقت تک ایسا نہ ہونے کی صورت میں ان ناموں کی منظوری تصور کی جائے گی جس کے بعد ان ناموں کو منظوری کے لیے صدر کو بھجوایا جائے گا۔

    دو ہی راستے تھے یا تو اٹھارہویں ائینی ترمیم میں جن شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا اُن کا فیصلہ سُنا دیتے یا پھر انہیں پارلیمنٹ کو بھجوا دیتے چنانچہ عدالت نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔سپریم کورٹ
    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر پارلیمانی کمیٹی جوڈیشل کمیشن کی طرف سے بھجوائے گئے ناموں کو تین چوتھائی سے مسترد کرتی ہے تو اُسے ان ناموں کو مسترد کرنے کی ٹھوس وجوہات بتانی ہوں گی۔

    عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ان کیمرہ ہوگا تاہم اس کا ریکارڈ رکھا جائے اور اس کی ایک کاپی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو بھی بھجوائی جائے اور اس کمیٹی کی سفارشات وزیراعظم کو دی جائیں گی جو اسے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ یعنی چیف جسٹس آف پاکستان کو بجھوائیں گے۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اعلی عدالتوں میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے درخواست گُزاروں کی طرف سے خدشات ظاہر کیے گئے تھے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ قوم ایک نازک دور سے گُزر رہی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اُن کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو اٹھارہویں ائینی ترمیم میں جن شقوں کو چیلنج کیا گیا تھا اُن کا فیصلہ سُنا دیتے یا پھر انہیں پارلیمنٹ کو بھجوا دیتے چنانچہ عدالت نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔

    ان درخواستوں کی سماعت آئندہ برس جنوری کے آخری ہفتے تک کے لیے ملتوی کرد ی گئی


  • The article 175 A is effective as well. They have simply postponed the decision pending a debate in the parliament.

    In other words, since the Supreme Court, Media and Establishment suffered considerable humiliation recently on various grounds, they are going to wait for the establishment to assimilate, maybe create further unrest to force MQM or ANP to break away from the government so they can have their beloved Bangladesh model.

  • As I kept saying that it was sheer waste of precious time of people of Pakistan by CJ IMC, I however wasted my time reading the short order by CJ. And after reading that order my first reaction was:
    چھہ مہینے تک مسخروں کو سنکر سپریم کورٹ نے ایسا ہی فیصلہ دینا تھا. مجھے ان سترہ ججوں کے وقت کی تو زیادہ پریشانی نہیں البتہ ہزاروں سائلین کا جو وقت ضائع ہوا ہے اس پر چیف جسٹس کو کچھ شرم آنی چاہیے

  • @peja

    according to BBC Urdu, the Supreme Court has still the option to waste further time in January, and they sure will.

    In the meanwhile, the mourners (Akram Sheikh, Shahid Masood, Ansar Abbasi, Kamran Khan, Imran Khan etc) are in a state of shock.

    سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟

    اعجاز مہر
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، اسلام آباد

    جب پونے گیارہ بجے تک جج صاحبان فیصلہ سنانے نہیں آئے تو عدالتی کمرے میں موجود وکیل اور صحافی طرح طرح کی پیش گوئیاں کرتے رہے

    پاکستان کی موجودہ پارلیمان کی جانب سے منظور کردہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی چند شقوں کے خلاف جمعرات کو سپریم کورٹ کے سترہ رکنی فل کورٹ کا سنایا جانے والا متفقہ عبوری فیصلہ ان حلقوں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے جنھیں حکومت اور عدلیہ میں ٹکراؤ پیدا کرنے والا حلقہ کہا جاتا ہے۔

    عدالتی فیصلہ سننے کے لیے صبح سے ہی بڑی تعداد میں وکیل اور صدراتی ترجمان سمیت بعض سیاستدانوں کے علاوہ ذرائع ابلاغ کے نمائندے بھی عدالت پہنچے۔

    عدالتی وقت صبح ساڑھے نو بجے شروع ہوتا اور توقع تھی کہ شاید عدالت صبح فیصلہ سنا دے گی کیونکہ فیصلہ سنانے کا اعلان دو روز قبل ہوا تھا۔ لیکن جب پونے گیارہ بجے تک جج صاحبان فیصلہ سنانے نہیں آئے تو عدالتی کمرے میں موجود وکیل اور صحافی طرح طرح کی پیش گوئیاں کرتے رہے۔

    ایک وکیل نے کہا کہ ’ارے بھائی آپ نے امریکی صدر اوباما کا بیان پڑھا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری نظام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتا،خود ہی سمجھ لیجیے۔‘

    ایک اور سینیئر وکیل نے کہا کہ عدالت ججوں کی تقرری کے نئے طریقہ کار پر نظر ثانی کے لیے پارلیمان کو کہے گی۔ ایک صحافی نے طرح لگائی کہ فیصلے پر ججوں میں اتفاق رائے نہیں ہورہا۔ کسی نے کہا کہ جب بھی اہم فیصلے ہوتے ہیں تو عین وقت پر فون آجاتے ہیں۔

    ابھی اس طرح کی بھانت بھانت کی بولیاں چل رہی تھیں کہ گیارہ بجنے سے چند منٹ پہلے جج صاحبان فیصلہ سنانے عدالت میں آگئے۔ ہر طرف خاموشی چھا گئی اور چیف جسٹس نے پہلے سے تحریر شدہ اپنا فیصلہ پڑھنا شروع کیا۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ ’ ہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ بطور قوم ہمیں کثیرالجہتی چیلینجز کا سامنا ہے۔ جن سے مختلف طریقوں اور اقدامات کی مدد سے نمٹا جاسکتا ہے‘۔

    ہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ بطور قوم ہمیں کثیرالجہتی چیلینجز کا سامنا ہے۔ جن سے مختلف طریقوں اور اقدامات کی مدد سے نمٹا جاسکتا ہے
    سپریم کورٹ
    ’ہمارے پاس دو راستے تھے ایک تو یہ کہ تمام درخواستوں پر فوری فیصلہ سناتے یا اس معاملے کو نظرِ ثانی کے لیے پارلیمان کے منتخب نمائندوں کو بھیج کر ان سے مشورہ لیتے۔ ہمارا دوسرا راستہ اختیار کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ مختلف اداروں کا مختلف کردار ہے لیکن ان کا مقصد ایک ہی ہے کہ وہ آئینی مینڈیٹ کے تحت اپنا کام کریں‘۔

    چیف جسٹس نے ماسوائے ایک آدھ مرتبہ کے اپنا فیصلہ کافی پراعتماد انداز میں روانی کے ساتھ پڑھا۔ عدالتی حکم کے مطابق اگر ججوں کی بھرتی کے سوال پر چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن کی سفارشات اگر پارلیمانی کمیشن مسترد کرتا ہے تو انہیں اس کی ٹھوس تحریری وجوہات وزیراعظم کو فراہم کرنی ہوں گی اور وزیراعظم وہ اختلافی وجوہات چیف جسٹس کو فراہم کریں گے جس پر نظر ثانی کا اختیار سپریم کورٹ کو ہوگا۔

    پارلیمان کی ججوں کی بھرتی والی کمیٹی کی کارروائی بند کمرے میں کرنا اور پارلیمانی کمیٹی کو اپنی سفارشات صدر کے بجائے وزیراعظم کو بھیجنے کی عدالت نے جو شرائط لگائی ہیں وہ اٹھارویں ترمیم کے خلاف ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی عدالتی کمرے میں موجود لطیف کھوسہ سمیت حکومت کے حامی وکلاء خوش نظر آئے۔ دوسری جانب فیصلہ سننے کے بعد سینیئر وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ اور اکرم شیخ مایوس دکھائی دیے کیونکہ انہوں نے آئینی ترامیم کے خلاف دلائل دیے تھے۔

    فیصلے کے بعد مختلف چینلز سے براہ راست نشریات شروع ہوگئیں۔ سینئر وکلاء کے تبصرے اور تجزیے بھی نشر ہوتے رہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کی چند شقوں کو چیلنج کرنے والے بعض درخواست گزار اور وکیل میڈیا کے سامنے آنے سے ہچکچا رہے تھے۔

    بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عدالت نے اب بھی ترپ کا پتہ اپنے ہاتھ میں ہی رکھا ہے

    سابق وفاقی وزیر اور سینیئر وکیل افتخار گیلانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حکومت کے لیے بہت مثبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں ہے کہ پارلیمان عدالتی سفارش پر ترامیم پر نظر ثانی کرے اور اس دوران جب جج بھرتی ہوجائیں گے تو وہ فیصلے واپس کرنا مشکل ہوجائے گا۔

    جبکہ سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہ خاور نے کہا کہ عدالت نے ججوں کی بھرتی کا فیصلہ تو مانا ہے لیکن انہوں نے جنوری سنہ دو ہزار گیارہ کے آخری ہفتے میں دوبارہ سماعت کی جو بات کی ہے وہ کافی دلچسپ ہے۔

    ان کے مطابق اس عرصے میں عدالت کچھ جج بھرتی کرے گی اور دیکھےگی کہ پارلیمانی کمیٹی سفارشات مانتی ہے یا نہیں۔ ان کے بقول اس بات کو بنیاد بنا کر عدالت جنوری میں دوبارہ سماعت کرکے حتمی فیصلہ دے سکتی ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عدالت نے اب بھی ترپ کا پتہ اپنے ہاتھ میں ہی رکھا ہے۔


  • Pat XI of Constitution of Islamic Republic of Pakistan contains Articles 238 and 239 related with Constitutional Amendments.
    Article 239 reads as

    239.Constitution Amendment Bill
    (1) A Bill to amend the Constitution may originate in either House and, when the Bill has been passed by the votes of not less than two-thirds of the total membership of the House, it shall be transmitted to the other House.

    (2) If the Bill is passed without amendment by the votes of not less than two-thirds of the total membership of the House to which it is transmitted under clause (1), it shall, subject to the provisions of clause (4), be presented to the President for assent.

    (3) If the Bill is passed with amendment by the votes of not less than two-thirds of the total membership of the House to which it is transmitted under clause (1), it shall be reconsidered by the House in which it had originated, and if the Bill as amended by the former House is passed by the latter by the votes of not less than two-thirds of its total membership it shall, subject to the provisions of clause (4), be presented to the President for assent.

    (4) A Bill to amend the Constitution which would have the effect of altering the limits of a Province shall not be presented to the President for assent unless it has been passed by the Provincial Assembly of that Province by the votes of not less than two-thirds of its total membership.

    (5) No amendment of the Constitution shall be called in question in any court on any ground whatsoever.

    (6) For the removal of doubt, it is hereby declared that there is no limitation whatever on the power of the Majlis-e-Shoora (Parliament) to amend any of the provisions of the Constitution.] ”

    Clause 5 @ 6 of Article are very clear,categorical and unambiguous.While being this article( alongwith its all cluses and ,in particluar clause 5 & 6,) are fully effective,one can simply infer that although it is said that notorious “Doctrine of Necessity ” has died out and burried out forever but it seems that in-fact it is over-riding the Constitution of Islamic Republic of Pakistan as compared to the past with even greater strength.

  • @abdul
    yes you are right , but to be honest I think the strings of such cases are pulled from somewhere else. I was reading the short order and as expected CJ IMC asked for specific changes in the article 175-A , good think is that he stopped short of acting upon the advice of “joker” Akram Sheikh , instead he asked for the inclusion of another 2 judges from the supreme court. Which I think will not be difficult for the parliament to approve.
    In the end as aptly labelled by you as “non-decision”, this decision is nothing. Just like NRO case , this case is being used as publicity stunt by the Judges and Media.
    Well only good thing about this decision is that until January hopefully 17 judges of SC will be doing something better (hopefully).

  • @peja

    I agree; the strings are being pulled from the usual quarters. the judges have shown that their interest revolves around their employment and its terms and conditions.

    in the meanwhile, media will be busy in fooling (the usual fools) once again until January 2011 and indeed beyond.

    us ke baad Allah maalik hai.

    جانے ہمیں کب سمجھ آئے گی
    ہارون رشید | 2010-10-21 ،17:52

    ایک نجی ٹی وی چینل جمعرات کو صبح سے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ‘پوری قوم’ سپریم کورٹ کے اٹھارویں آئینی ترمیم کے مقدمے کے فیصلے کی منتظر ہے۔

    حیرت ہوئی کہ میڈیا کی حد تک تو یہ شاید درست ہو، اعلیٰ ججوں اور وکلا کی حد تک درست ہو اور شاید حکومت کی حد تک بھی اس میں دلچسپی ہو لیکن کیا ان چند ہزار افراد کو سترہ کروڑ میں سے منفی کرنے کے بعد باقی بچی عام عوام کو بھی اس میں کوئی دلچسپی تھی؟ کیا ‘دیہاڑی’ کی تلاش میں نکلے کروڑوں لوگ آج کام کاج چھوڑ کر ٹی وی یا ریڈیو کے آگے بیٹھے ہیں؟ کیا نجی یا سرکاری ملازمت کرنے والوں کا بھی یہ حال ہے؟ کیا طلبہ آج کالج یونیورسٹی نہیں گئے تاکہ گھر پر رہ کر ٹی وی پر فیصلہ سن سکیں؟ قصہ مختصر پوری قوم کو دوسرے زیادہ اہم کام بھی ہیں، جانے کب ہمیں سمجھ آئے گی۔

    اٹھاریوں آئینی ترمیم میں فوجی سربراہان، پبلک سروس کمیشن کے چئرمین اور آڈیٹر جنرل کی تقرری یا مدت ملازمت میں بھی تبدیلی متعارف کروائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں دیگر ترامیم پارلیمان نے منظور کی تھیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے پانچ ماہ تک سماعت کے بعد ججوں کی تقرری کے معاملے پر ہی اعتراض کیا ہے۔ عدالت نے اب اس اشو پر دوبارہ غور آئندہ برس جنوری تک ملتوی کر دیا ہے۔ بقول عدالت عظمیٰ باقی سب ٹھیک ہے۔

    آزاد عدلیہ یقیناً ایک مہذب معاشرے کا لازمی جز ہے لیکن اس واحد معاملے پر اعتراض سے محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ کو محض اس سے متعلق ترمیم اچھی نہیں لگی ہے۔ تو کیا یہ اپنے مفاد کے تحفظ کی جنگ ہے یا کچھ اور؟ عام آدمی کے ذہن میں ایک ہی تاثر ہے کہ بظاہر ہاتھیوں کی اس لڑائی میں اس کا براہ راست کوئی لینا دینا نہیں۔ اعلی عدلیہ کے بارے میں ابھرنے والے تاثر کو درست کرنے کی یقیناً اس وقت ضرورت ہے۔

    جو بھی ہو ججوں کی تقرری کے قضیے کے لٹکنے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی بھی کم از کم جنوری تک نوکری پکی ہوگئی ہے۔ اس کے بعد اللہ مالک ہے۔


  • well, thanks for sharing good piece of information. Dont you think giving sole powers of appointing judges to the apex court would politicise the judiciary? Our governance has already suffering from political intervantions. And i would like to give an example of karachi where the administration is suffering from political influences and hence poor delivery of public services.

    Mr Naveed Gabool Federal Minister called for the Army to come in and take the control of the city.

    A former IG sind when asked for the comments, he told the major problem in handeling the Karachi mess is the politicisation of police. The situation could have been handled giving a free hand to Police.

    The sole power to appoint judges by parliamentary committee would harm both, independence of judiciary and delivery of public service. It does not mean that the power of appointing judges may rest solely to the CJ.

  • And now, after a quick read of the 18th Amendment order, it seems pretty clear 175A — the judicial appointment process under the 18th Amendment — has been operationalised, though the court has dictated its operation in such a manner that it will pretty much look like the previous appointment process.

    In lay terms: no fresh constitutional amendment likely; the chief justice of the Supreme Court will continue to be the guiding force in the appointment process; and, if parliament objects to any judicial nomination, the reasons for doing so will be justiciable by the Supreme Court — a neat circularity guaranteeing the pre-eminence of the chief justice of the SC in the appointment process. All in all, judicial read-down of the constitution parliament isn’t likely to get too bothered about.

    So the status quo once again looks set to hold for some time. Or does it?

    Breathing room
    By Cyril Almeida
    Dawn, 22 Oct, 2010

  • Chore machai shore:

    عدلیہ اور پارلیمنٹ میں محاذآرائی کی خواہش رکھنے والے مایوس ہوگئے

    اسلام آباد (رپورٹ:…انصار عباسی) حکومت میں شامل وہ بعض افراد جو ذاتی مفادات کے لیے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان تصادم کے شدت سے خواہش مند تھے، سپریم کورٹ کے 18/ویں ترمیم کیس پر عبوری حکم کے بعد، جسے بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے، اب سوجے ہوئے چہروں کے ساتھ تنہا رہ گئے ہیں۔

    e.g., Ansar Abbasi himself.


  • معروف قانون دان چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ججز کی تقرری کا اختیار پارلیمنٹ کو ہونا چاہئے ، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اداروں میں تصادم کا خطرہ بہت حد تک ٹل جانا چاہئے، سپریم کورٹ نے انتہا پسندی سے کام لیا نہ ہی کسی حد سے تجاوز کیا ہے، اب معاملہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے سپرد کردیا ہے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو میں کیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ” کیا اداروں میں تصادم کا خطرہ ٹل گیا“ کے موضوع پر ہونے والے اس مباحثے میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی ، نیشنل پارٹی کے نائب صدر سینیٹر حاصل بزنجو ، پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات عظیم دولتانہ اورلاہور میں معروف دانشور و تجزیہ کار نذیر ناجی شریک ہوئے۔ اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے تحفظات بیان کئے ہیں جسے رد نہیں کیا جاسکتا ، خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے اداروں میں تصادم کے خطرے کو ٹال دیا ہے، عدلیہ کی آزادی آئین کا بنیادی معاملہ ہے۔ آئینی ترامیم کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے لیکن ہماری سپریم کورٹ نے ایسا نہیں کیا۔ امریکا میں چیف جسٹس کو صدر نامزد کرتا ہے لیکن یہاں امریکا کی مثال دینا مناسب نہیں، پاکستان میں ججوں کو چیف جسٹس نامزد کرتا ہے ۔ اب اگر سپریم کورٹ نے ایک راستہ دیا ہے تو اُس پر ہمارا مثبت انداز ہونا چاہئے۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت میری پارٹی کی ہے لہٰذا اُنہیں میرا مشورہ ہے کہ وہ اِس فیصلے کے مثبت پہلوؤں کو دیکھیں اور تصادم سے بچیں۔ ابھی تک پارلیمانی کمیٹی کے ضوابط کار نہیں بنے ، اگر بنا دیئے جاتے تو بہت سے چیزیں حکومت خود بھی کرسکتی تھی حالانکہ میں نے کہا تھا کہ آپ رولز بنادیں اور ججز کے خدشات ختم کردیں، ججز پر تنقید تسلیم لیکن جس طرح کے الزامات لگائے گئے اس وجہ سے بھی ججز کو تحفظات تھے۔ حنیف عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو سن کر پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا ہے، ججز نے بہت مدبرانہ فیصلہ کیا ہے، حکومت کو سپریم کورٹ نے3 ماہ دیئے ہیں کہ جائیں اور اس پر نظر ثانی کریں۔ اگر نواز شریف کی اس بات کو تسلیم کرلیا جاتا کہ جوڈیشل کمیشن کے معاملے پر چیف جسٹس کو شامل کرلیں تو آج تمام ترامیم اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتیں۔18 ویں ترمیم تمام سیاسی جماعتوں کی مشترکہ Move تھی یہ صرف پیپلز پارٹی کا کارنامہ نہیں۔ پارلیمنٹ نے 102 ترامیم کردی ہیں، ایک شق کو بھی حل کرلیا جائے گا


  • @Abdul, I was gobsmacked reading Ansar Abbasi’s report in today’s Jang that you have highlighted. Imagine the guy who is all the time coming up with reports that only highlight tensions, is now saying that someone in the PPP wanted to see conflict! What a jerk he is!