Newspaper Articles Urdu Articles

پاکستانی سیاست میں موقع پرستی کا عروج

pol

تحریر: امام بخش

یہ بات اب بالکل واضح ہو گئی ہے کہ”صادق وامین” فرشتوں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ پاکستان پیپلزپارٹی سے جان چھڑانے کے لیےاپنےمن پسند ابنِ الوقت قسم کے جمورے وجود میں لاتی رہی ہے ۔ 1988ء میں الیکشن سے قبل صادق و امین فرشتوں کا خیال تھا کہ پی پی پی الیکشن جیتنے کے بعد اس کے ساتھ کی گئی سب زیادتیوں کا بدلہ لے گی۔ پی پی پی کا راستہ روکنے کے لیے بہت ہی منظم انداز میں دھاندلی ترتیب دی گئی۔ ایجنسیوں نے میڈیا کے کرتادھرتوں کو خریدا اور بے تحاشا پراپیگنڈا، من گھڑت اور اخلاق سے گرے ہوئے افسانوں کا طوفان برپا کردیا جو آج تک جاری ہے۔

گو کہ اس وقت وطن عزیز میں ابن الوقت جموروں کی ورائٹی موجودہے مگر پاکستان کی تاریخ میں صادق وامین فرشتوں کے سب سے زیادہ لاڈلےہمیشہ میاں محمد نواز شریف رہے ہیں۔ میاں نوازشریف نے 1981ء سے لے کر 1988ء تک پاکستان میں ان گنت مکروہات کے موجِد یعنی حقیقی صادق وامین ضیاءالحق کی معنوی پسری میں رہ کر” اصولوں” پر چلنے کے سارے سبق ازبر کرلیے تھے جن پر وہ آج تک عمل پیرا ہیں۔

ضیاءالحق کے جانے کے بعددور اندیش میاں محمد شریف نے اپنے پاس صرف ایک بیٹا (میاں عباس شریف) رکھ کر دو بیٹوں کو اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کے پاس لے گئے اور کہا کہ میرے دو بیٹے آپ کے حوالے اورآج سے آپ ان کے روحانی باپ۔

سردوگرم چشیدہ سیانےمیاں محمد شریف کے طریقہ واردات کے بارے میں ڈاکٹر مبشر حسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ” ایک شام وزیراعظم پاکستان (نوازشریف) اور ان کے والد محترم نے لاہور میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل آصف نواز کوعشائیہ دیا ۔ شہر اور حکومت کے معتبر ترین حضرات موجو د تھے۔ جنرل نواز اور میاں شریف کی گفتگو کے دوران میاں صاحب نے اپنے دونوں پسران نواز اور شہباز کو طلب کیا اور جنرل صاحب سے کہا کہ وہ ان دونو ں کو جنرل صاحب کے سپرد کرتے ہیں اور جنرل صاحب جو ہدایت کریں گے برخورداران اس پر عمل کریں گے”۔ عشائیہ کے اختتام سے پہلے وزیراعظم نے اپنے ملٹری سیکریٹری کو جنرل صاحب کے پاس بھیجا اور کہا کہ ڈنر کے بعد وہ کچھ دیر ٹھہر جائیں لیکن جنرل صاحب نے ملٹری سیکریٹری کو جواب دیا کہ ان کے پاس وقت نہیں ہے۔

میاں برادران کے سیاست میں آنےاور ترقی در ترقی کے مظاہرات کے بعد پاکستان کی سیاست میں نظریات پر کاربند رہنے کی بجائے ابن الوقتی کے اصولوں پر چلانے کا وائرس باقی سیاست دانوں میں بھی بُری طرح پھیل چکا ہے۔ جب کسی پارٹی کا حکومت میں آنے کا تاثر پیدا ہو جاتا ہے تو لوٹوں کا رُخ اُسی پارٹی کی طرف ہو جاتا ہےاور پارٹی کے سربراہ بھی اِسی طرزِسیاست پر یقین رکھنے والے ہوں تو ٹرانزیشن کے تمام مراحل آسا نی سے طے ہوجاتے ہیں۔

عمران خان بھی ابن الوقتی وائرس کا شکار سیاست دان ہے۔ ان کو سمجھنے کے لیے مردِمومن کے سیکرٹری اطلاعات، جنرل مجیب الرحمان کی بات ذہن میں رکھی جائے ،جس کے مطابق اس نے 1996ء میں اسٹیبلیشمنٹ کی خواہش پر عمران خان کو سیاست کے میدان میں اتارا تھااوردعوٰی کیا تھا کہ “عمران خان میری پروڈکٹ ہے اور میری پروڈکٹ کبھی ناکام نہیں رہتی”۔

ہمیں عبدالستار ایدھی ایسے فقیر منش آدمی کی گواہی کو بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ کیسے کپتان صاحب محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لئے عبدالستار ایدھی کو اپنے ساتھ ملانے کی خاطرخفیہ اداروں کے حواریوں کے ساتھ آکردھمکایا کرتے تھے؟

اگر ہم عمران کے بارے میں ساری باتیں بھول جائیں تب بھی ان کے اتالیق محترم ہارون الرشید صاحب کے حالیہ اعتراف کو کیسے بھولیں جس میں وہ اب بھی فرماتے ہیں کہ “میں پرویز مشرف کے ریفرنڈم کے دنوں میں عمران خان کو سمجھاتارہا کہ پرویز مشرف تمھیں دھوکہ دے رہا ہے اور یہ شخص تمھیں کبھی بھی وزیراعظم نہیں بنائے گامگر خان صاحب اپنی دُھن میں لگے رہے اور ہرگز نہ مانے”۔

شریف برادران تو پہلے ہی اپنے قول وفعل کی باکمال ساکھ رکھتے ہیں مگر اب لگتا ہے کہ بات بات پر بڑھک مارنےوالے عمران خان اُن کا ضرورریکارڈ توڑنے والے ہیں۔ انھوں نے پچھلے دنوں فرمایا ہے کہ” پرویز مشرف کو آئین توڑنے کی سزا میرا نہیں نون لیگ کا مسئلہ ہے”۔ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ 61سالہ بزرگ اور “نئے پاکستان ” کے بانی اُمیدوار “سُونامی” کا کیا وژن ہے۔سبحان اللہ!

آصف علی زرداری نامی “قابلِ نفرین” شخص نے صادق وامین فرشتوں پر مشتمل اسٹیبلشمنٹ کو چکرا کر رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے اپنے طریقہ واردات، تراکیب اور فیصلے بدلنے کی رفتار بڑھا دی ہے ،جس سے معصوم ابن الوقتوں کو خوامخواہ میں فُٹ بال بننا پڑتاہے۔ جیسے ہی مخصو ص اِشارے ملتے ہیں تو ان “نظریاتی” سیاستدانوں میں دوسری پارٹی میں جانے کے لیے بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ اور یہ ابن الوقت فرط یقین کے آسیب کے زیراثر ان اِشاروں پر فی الفور عمل کرناشروع کردیتے ہیں اوراپنے آپ کے علاوہ اپنی لبالب بھری تجوریاں بھی بڑے اِبن الوقت کے حوالے کردیتے ہیں۔

جمورا پارٹیوں میں نئے آنے والے سیاست دانوں کےماضی کاکردار ، نظریات ، خلوص، بے لوثی اور سیاسی شعور ہرگز نہیں دیکھی جاتی،صرف اور صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ فائدہ کتنا ہو گا۔ اِسی اصول کے تحت اس وقت مُشرف کے علاوہ سب ڈکٹیرز کی اولادیں مسلم لیگ (ن )میں ہیں۔ قوی امید ہے کہ اگر نون لیگ نے مشرف کو اپنی پارٹی میں نہ بھی لیا تو اس کے بیٹے یا بیٹی کو مُستقبل میں ضرور اپنائے گی۔ ویسے بھی پرویز مشرف جو شریف برادران کے دس سالہ ایگریمنٹ پارٹنر رہے ہیں، ان کی پارٹی کے 99 فیصد سیاست دان اپنی “مادرپارٹی” میں واپس لے چکے ہیں ۔ حالانکہ میاں نواز شریف نے بذات خودجدہ اور لندن میں اپنے ملنے والوں صحافیوں کے سامنے قسمیہ وعدے اور دعوے کیے تھے کہ وہ اب اصولوں کی سیاست کیا کریں گے۔ پارٹی چھوڑ کر جانے والوں اور فخر سے لوٹا کہلانے والوں کو پارٹی میں واپس لینا تُھوک کر چاٹنے کے مترادف ہوگا۔ یہی ایک مثال میاں صاحب کے قول و فعل اور اصول پسندی کا اعلیٰ شاہکار ہے۔

تحریک انصاف پر ایک نظر ڈالنے سے بھی اچھی طرح پتہ چل جاتا ہے کہ اس پارٹی میں کس قماش کے سیاست دان بیٹھے ہیں جو پارٹی کے پرانے اور نظریاتی کارکنوں کو پیچھے دھکیل کر فرنٹ لائن پر براجمان ہیں۔

پچھلے دنوں وقتِ موجود کی سیاست پرپوری دسترس رکھنے والے سیاست دان ارباب خضرحیات نے ایک انٹرویو میں پاکستان کی سیاست کا نچوڑ پیش کرتے ہُوئے فرمایا ہے کہ “سیاست نظریات کا نہیں بلکہ طاقت کا کھیل ہے اور جب سیاست دان کسی پارٹی کو مشہور ہوتا دیکھتے ہیں تو وہ اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں”۔ یا د رہے کہ ارباب نے 1996ء میں اپنے سیاسی کیرئیر کی شروعات کے بعد سے اب تک چودہ مرتبہ پارٹیاں تبدیل کی ہیں۔ آج کل ارباب خضرحیات نون لیگ میں ہیں۔

بات صرف ارباب خضرحیات تک نہیں رُکتی۔ جمورا پارٹیوں میں لگتا ہے ہر چھوٹا بڑا سیاست دان “ارباب خضرحیات سکول آف تھاٹ” پر دلجمعی کے ساتھ عمل پیرا ہے۔ مثال کے طور پر نواز شریف کے جدّہ جانے کے بعد نون لیگ سے ق لیگ میں جانے والوں کے اپنے لیڈر کے خلاف اگر بیانوں کو جمع کیا جائے تو ایک طویل “ہیر” بن جائے۔ ان دنوں چوہدری نثارتک،جو ایک دور میں تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے پر تول چکے تھے، یار دوستوں میں بیٹھ کر فرمایا کرتے تھے کہ’یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ایک نابالغ دماغ اور بھگوڑے کی قیادت میں اپنی سیاست جاری رکھوں، میں شہباز شریف کے ساتھ تو کام کرلوں گا لیکن میاں نوازشریف کے ساتھ کام کرنے کی بجائے سیاست سے کنارہ کشی کر لوں گا۔’ اور آج کل چوہدری نثار عمران خان کو کن القابات سے نوازتے ہیں، کچھ پوشیدہ نہیں۔

بزرگ صحافی ہارون الرشید نے پچھلے دنوں اپنے کالم میں پرائز بانڈ والی سرکار خواجہ سعد رفیق کے ماتم ، نون لیگ کو چھوڑنے اور تحریکِ انصاف جوائن کرنے کے تمام مراحل طے ہونے کا ذکر کیا ہے۔ جوکہ آخری وقت پرپارٹی چھوڑنے کے اپنے ارادے پربوجہ عمل نہ کرسکے۔آج کل خواجہ سعد رفیق سے تحریک انصاف کے بارے میں پوچھیں تو بے نقط تنقیدکے انبار لگا دیں گے۔

پاکستان کے بزرگ اور ایک نامی گرامی سیاست دان جاوید ہاشمی، نون لیگ میں ہوتے ہوئے نوازشریف کو پاکستان کا سب سے بڑا لیڈر گردانتے تھے۔ حتیٰ کہ انھوں نے نون لیگ کو چھوڑنے سے ایک ہفتہ قبل کہا کہ ‘میں قسم کھاکر کہتا ہوں، کوئی بندہ پاکستان کو بچا سکتا ہے تو وہ صرف نواز شریف ہے’۔ حال ہی میں دانشور ایاز امیر نے نون لیگ کا ٹکٹ نہ ملنے پراپنی قیادت کا اگلے ہی دن جو ‘آپریشن ‘ کیا ہےوہ نون لیگ کی لیڈرشپ اوراس جماعت میں موجودباقی سیاست دانوں کی اصول پسندی اور نظریات جاننے کے لیے کافی ہے۔ آج کل ایاز امیر “اصولی طور” پر تحریک ِ انصاف کی حمایت کر رہےہیں۔

اگر اسٹیبلشمنٹ نے 11 مئی کو الیکشن میں ایک بار پھر عوام کے ساتھ دھوکہ کیا اور کامیابی کا قرعہ نون لیگ کے نام کا نکالا تو کچھ بعید نہیں کہ سُونامی کا سارا زور نون لیگ میں سما جائےاور خان صاحب اصغر خان کا رول نبھاتے ہوئے تاریخ کا حصّہ بن جائیں۔

حرف آخر یہ کہ طالبان ، عدلیہ اور میڈیا کی بھرپور حمایت کے باوجودمیاں برادران اور عمران کی طرزِ سیاست کے ساتھ ساتھ جاوید ہاشمی، ایاز امیر، چوہدری نثار اور سعد رفیق جیسے سیاست دانوں کی مثالوں کے بعد نون لیگ اور تحریک انصاف کی ابن الوقتی پر مبنی ہیئتِ مجموعی عوام سے اب ہرگزپوشیدہ نہیں رہی۔

کیا عوام ووٹ ڈالتے ہوئے اِن مفاد پرست اِبن الوقت سیاست دانوں سے نپٹے گی؟

بشکریہ ٹاپ سٹوری آن لائن، 10مئی2013ء

http://www.topstoryonline.com/imam-bakhsh-blog-130510