Featured Original Articles Urdu Articles

شام میں وہابی دہشت گردوں نے عظیم صحابی رسول حضرت حجر بن عدی کی قبر کھود کر جسد مبارک اغوا کر لیا

h3

شام میں سعودی عرب اور امریکہ کے حمایت یافتہ وہابی دیوبندی دہشت گردوں نے جلیل القدر صحابی رسول (صلی الله علیہ والہ وسلم) حضرت حجر بن عدی رضی الله تعالیٰ عنہ کی قبر مبرک کی بے حرمتی کی اور ان کے جسد مبارک کو کھود کر اپنے ساتھ لے گئے

شام میں سعودی عرب، لیبیا، پاکستان اور دیگر ممالک کے وہابی دیوبندی دہشت گردوں کی کثیر جماعت القاعدہ سے منسلک النصر ہ فرنٹ کے تحت جہادی دہشت گردی کی کاروائیوں میں حصہ لے رہی ہے

سلفی امام ابن تیمیہ اور وہابی ملا محمد بن عبدالوہاب کے پیروکارو وہابی اور دیوبندی (نیم وہابی) سنی صوفی مسلمانوں اور شیعہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور اہلبیت عظام ، صحابہ کرام اور اولیااللہ کے مزارات کو منہدم کرنا چاہتے ہیں وہابی دیوبندی منصوبے میں روضہ رسول الله کو گرانا بھی شامل ہے تکفیری وہابی اور دیوبندی دہشت گرد امام حسین رضی الله تعالیٰ عنہ، حضرت زینب رضی الله تعالیٰ عنہا اور حضرت غوث الاعظم عبدلقادر جیلانی رحمت الله علیہ کے مزارات بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں یہ وہی بدبخت لوگ ہیں جنہوں نے پاکستان میں لاہور میں حضرت داتا گنج بخش،کراچی میں عبداللہ شاہ غازی ، پاکپتن میں بابا فرید گنج شکر اور خیبر پختونخواہ میں رحمان بابا کے مزاروں پر حملے کیے – انڈیا میں دار العلوم دیوبند کے فتوے کے مطابق یہ لوگ اہلبیت رسول صلی الله علیہ والہ وسلم کو شہید کرنے والے اموی خلیفہ یزید ملعون کو امیر المومنین اور رحمت الله علیہ کہنا جائز سمجھتے ہیں

دمشق سے آنے والی اطلاعات کے مطابق شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والے تکفیری وہابی دہشتگروں نے صحابی رسول (ص)حضرت حجر ابن عدی رضی الله تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک کو کھود کر آپ کے مزار کو منہدم کر دیا ہے۔ ایک عرب نیوز چینل کے مطابق حجر بن عدی کا جسد خاکی صحیح و سالم ہے اور تکفیری وہابیباغیوں نے اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ خبر کے مطابق یہ واقعہ 2 مئی کو شام میں واقع دمشق کے مضافاتی علاقے ” عدرا “ میں پیش آیا۔ حجر ابن عدی قبیلہ کندی سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ قبیلہ ایک یمنی قبیلہ ہے جس نے کوفہ کی جانب ہجرت کی۔ پینتیس سنہ ہجری میں حجر کندی حضرت علی رضی الله تعالیٰ عنہ کے انصار میں شامل ہوئے۔ ہجر پچپن میں ہی اپنے بھائی ہانی بن عدی کے ہمراہ رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ حضرت حجر بن عدی زہد و کثرت عبادت کی وجہ سے بہت مشہور تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بارے میں روایت ہے کہ ہر شب و روز میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے۔ حضرت حجر بن عدی اپنی کم سنی کے باوجود پیغمبر اسلام(ص) کے بزرگ اور فاضل صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔

امام ِاہل ِسنت ابن عبدالبر نے صحابہ کے متعلق لکھی گئی کتاب الاستیعاب فی تمیز الاصحاب، ج 1 ص 97 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کو بھی شامل کیا ہے اور ان کے متعلق لکھا ہے:

كان حجر من فضلاء الصحابة
حجر فاضل صحابہ میں سے ایک تھے

امام ِاہل ِسنت ابن اثیر جزری نے صحابہ کی زندگیوں پرلکھی گئی کتاب اسد الغابہ فی معرفت الصحابہ، ج 1 ص 244 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کو بھی شامل کیا ہے اور ان کے متعلق لکھا ہے:

كان من فضلاء الصحابة

وہ فاضل صحابہ میں سے ایک تھے

امام حاکم اپنی حدیث کی مشہور کتاب المستدراک، ج 3 ص 468 میں لکھتے ہیں:

ذكر مناقب حجر بن عدي رضى الله تعالى عنه وهو راهب أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم وذكر مقتله

حجر بن عدی رضی اللہ تعالی ٰ عنہ کے مناقب اور ان کے قتل کا ذکر جو اصحاب ِمحمد (ص) میں سے ہیں

ابن عساکر نے بیان کیا ہے کہ حضرت حجر بن عدی (رض) رسول اللہ (ص) سے ملے اور ابن عساکر کے اسی حوالے پر نواصب کے پسندیدہ امام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ، ج 8 ص 55 انحصار کیا ہے:

قال ابن عساكر‏:‏ وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وسمع علياً وعماراً وشراحيل بن مرة، ويقال‏:‏ شرحبيل بن مرة‏.

ابن عساکر کا قول ہےکہ حجر رسول اللہ (ص) کے پاس تشریف لائے اور انہوں نے علی، عمار، شراجیل بن مرۃ جو کہ اصل میں شجیل ہیں، سے احادیث سنیں۔

امام ِاہلِسنت کمال الدین عمر بن العدیم (متوفی 660 ھ) اپنی کتاب بغیت الطلب فی تاریخ الحلب، ج 2 ص 298 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کے متعلق لکھتے ہیں:

وكان من أهل الكوفة، وفد على النبي صلى الله عليه وسلم، وحدث عن علي بن أبي طالب

وہ کوفہ کے لوگوں میں سے تھے، وہ رسول اللہ (ص) کے پاس بحیثیت سفیر تشریف لائے اور انہوں نے علی بن ابی طالب سے احادیث سنیں۔

امام ابن قتیبہ (متوفی 276 ھ) اپنی مشہور کتاب المعارف، ص 76 میں ضرت حجر بن عدی (رض) کے متعلق لکھتے ہیں:

وفد إلى النبي صلى الله عليه وسلم وأسلم وشهد القادسية وشهد الجمل وصفين مع علي، فقتله معاوية بمرج غدراء مع عدة

وہ رسول اللہ (ص) کے پاس بحیثیت سفیر تشریف لائے اور السلا م قبول کرلیا، انہوں نے قادسیہ کی جنگ میں حصہ لیا پھر انہوں نے علی کے ہمراہ جنگ جمل اور صفین میں حصہ لیا پھر معاویہ نے انہیں ان کے ساتھیوں سمیت عذراء میں قتل کردیا۔

صحابہ کے کرامات کا ذکر کرتے ہوئے علام حبت اللہ للکائی الشافعی (متوفی 418 ھ) اپنی کتاب شرح اصول اعتقاد اہل سنہ، ج 17 ص 18 لکھتے ہیں:

ما روي من كرامات حجر بن عدي أو قيس بن مكشوح في جماعة أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم

ہم نے رسول اللہ (ص) کے صحابہ میں سے حجر بن عدی اور قیس بن مکشوح کے کرامات بیان کیئے ہیں۔

اور اگر، اب بھی کوئی شک و شبہ باقی رہ گیا ہو تو اہل ِسنت میں علم الرجال میں امیر المومنین تسلیم کئے جانے والے امام زھبی کے الفاظ بیان کئے دیتے ہیں جو انہوں نے اپنی کتاب سیراعلام النبلاء، ج 3 ص 463 میں حضرت حجر بن عدی (رض) کے متعلق بیان کیئے ہیں:

وہ صحابی اور سفیر تھے

مولانا مودودی نے کتاب خلافت و ملوکیت، ص 164-165 میں پورا احوال یوں پیش کیا ہے:

اس نئی پالیسی کی ابتداء حضرت معاویہ کے زمانہ میں حضرت حُجر بن عدی کے قتل 51 ہجری سے ہوئی جو ایک زاہد و عابد صحابی اور صلحائے امت میں ایک اونچے مرتبے کے شخص تھے۔ حضرت معاویہ کے زمانے میں جب منبروں پر خطبوں میں علانیہ حضرت علیؓ پر لعنت اور سب و شتم کا سلسلہ شروع ہوا تو عام مسلمانوں کے دل ہر جگہ ہی اس سے زخمی ہو رہے تھے مگر لوگ خون کا گھونٹ پی کر خاموش ہو جاتے تھے۔ کوفہ میں حُجر بن عدی سے صبر نہ ہو سکا اور انہوں نے جواب میں حضرت علیؓ کی تعریف اور حضرت معاویہ کی مذمت شروع کر دی۔ حضرت مغیرہؓ جب تک کوفہ کے گورنر رہے وہ ان کے ساتھ رعایت برتتے رہے۔ ان کے بعد جب زیاد کی گورنری میں بصرہ کے ساتھ کوفہ بھی شامل ہو گیا تو اُس کے اور ان کے درمیان کشمکش برپا ہو گئی۔ وہ خطبے میں حضرت علیؓ کو گالیاں دیتا تھا اور یہ اُٹھ کر اس کا جواب دینے لگتے تھے۔ اسی دوران میں ایک مرتبہ انہوں نے نماز جمعہ میں تاخیر پر بھی اُس کو ٹوکا۔ آخر کار اس نے انہیں اور ان کے بارہ ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور ان کے خلاف بہت سے لوگوں کی شہادتیں اِس فرد جُرم پر لیں کہ ’’انہوں نے ایک جتھا بنا لیا ہے، خلیفہ کو علانیہ گالیاں دیتے ہیں ، امیر المومنین کے خلاف لڑنے کی دعوت دیتے ہیں، ان کا دعوی یہ ہے کہ خلافت آل ابی طالب کے سوا کسی کے لئے درست نہیں ہے ، انہوں نے شہر میں فساد برپا کیا اور امیر المومنین کے عامل کو نکال باہر کیا، یہ ابوتُراب و حضرت علیؓ کی حمایت کرتے ہیں ، اُن پر رحمت بھیجتے ہیں اور اُن کے مخالفین سے اظہارِ برائت کرتے ہیں ۔‘‘ ان گواہیوں میں سے ایک گواہی قاضی شُریح کی بھی ثبت کی گئی ، مگر انہوں نے ایک الگ خط میں حضرت معاویہ کو لکھ بھیجا کہ میں نے سُنا ہے آپ کے پاس حُجر بن عدی کے خلاف جو شہادتیں بھیجی گئی ہیں ان میں ایک میری شہادت بھی ہے۔ میری اصل شہادت حجر کے متعلق یہ ہے کہ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکواۃ دیتے ہیں ، دائما حج و عمرہ کرتے رہتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے اور بدی سے روکتے ہیں۔ ان کا خون اور مال حرام ہے۔ آپ چاہیں تو انہیں قتل کریں ورنہ معاف کر دیں۔

اِس طرح یہ ملزم حضرت معاویہ کے پاس بھیجے گئے اور انہوں نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ قتل سے پہلے جلادوں نے ان کے سامنے جو بات پیش کی وہ یہ تھی کہ ’’ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اگر تم علیؓ سے برا ئت کا اظہار کرو اور ان پر لعنت بھیجو تو تمہیں چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کردیا جائے۔‘‘ ان لوگوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور حُجر نے کہا’’ میں زبان سے وہ بات نہیں نکال سکتا جو رب کو ناراض کرے۔‘‘ آخر کار وہ اور ان کے سات ساتھی قتل کر دئیے گئے۔ ان میں سے ایک صاحب عبد الرحمن بن حسان کو حضرت معاویہ نے زیاد کے پاس واپس بھیج دیا اور اس کو لکھا کہ انہیں بدترین طریقہ سے قتل کرو چنانچہ اس نے انہیں زندہ دفن کرادیا۔
(تاریخ طبری، ج 4، صفحہ 190 تا 208۔
الاستیعاب ، ابن عبد البر ، ج 1، صفحہ 135
تاریخ ابن اثیر، ج 3، صفحہ 234 تا 42۔
البدایہ والنہایہ ، ابن کثیر، ج 8، صفحہ 50 تا 5۔
ابن خلدون، ج 3۳، صفحہ 13)۔
خلافت و ملوکیت، ص 164-165

Related:

 

http://worldshiaforum.wordpress.com/2012/08/22/are-the-saudi-wahhabi-clergy-waiting-for-an-opportunity-to-destroy-the-prophets-mosque-in-medina-by-ali-taj/

About the author

SK

14 Comments

Click here to post a comment
  • Bismillah …

    Assalamu Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuh , We pray this finds everyone well, wrapped in Allah’s mercy and steadfastly traveling the path to eternal felicity, in sha Allah.

    The Grave of the Sahabi Sayyidina Hujr ibn Adi Radi Allahu Anhu has been desecrated In Syria and his grave has been dug up and his blessed body has been stolen.

    We will be posting more information soon InshahAllah

    In the Arabic Language:

    بيان بخصوص تهديم ونبش قبر الصحابي الجليل حجر بن عدي الكندينتقدم بالعزاء لأهل السنة والجماعة بتهديم أعداء الله ونبش قبر الصحابي الجليل حجر بن عدي الكندي ثم نأسف بسبب جهل بعض أدعياء الثورة كما ورد بصفحة تنسيقية عدرا البلد و ما حولها : الثورة السورية في ريف دمشق مايلي: ”هذا مقام حجر بن عدي الكندي : احد مزارات الشيعة في عدرا البلد قام ابطال الجيش الحر بنبش القبر و دفنه بمكان غير معروف و بعد أن اصبح القبر مركز للشرك بالله … الحمد لله والله ينصر ابطال الجيش الحر”نقول كم جهلتم بنسبتكم حجر بن عدي ابن جبلة بن عدي بن ربيعة بن معاوية الأكرمين بن الحارث بن معاوية رضي الله عنه للشيعة وإن أحبوه فإن ذكر أنه من شيعة علي رضي الله عنه في كتب الحديث فؤلائك الشيعة كانوا أهل سنة ولم يكونوا روافض كحال من يتسمى زورا بالشيعة اليوم? ثم كيف تتصورون أن يتحصل النصر بهذه الأعمال المخالفة للشرع الإسلامي? فلايوجد قبر في العالم الإسلامي مركزاً للشرك إلا في العقول المتعفنة التي ملئت غباءً وجهلاً بأسس الشريعة الغراء!وإنا نحمل مسؤولية هذا الفعل لنظام بشار المثير للفتن ولانسبتعد أنه هو الفاعل والمستفيد الأكبر من هذا العمل، ثم نؤكد أننا ننزه جيشنا الحر عن مثل هذه الأفعال النكراء فمن يفعل هذا الفعل ليس حراً بل أسيراً لحمق وجهل وفكر قميئ غريب عن مجتمعنا المتسامح المحب لرسول الله ولأصحابه الكرام رضي الله عنهم أجمعين ونسأل الله أن ينتقم ممن يؤذيهم في الحياة وبعد المماتكما وندعو المجلس العسكري بريف دمشق بفتح تحقيق للتأكد من هوية المجرمين الفاعلين ونطالب الهيئات الشرعية تقديمهم للقضاء فوراً
    وسيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون

    ٢_٥_٢٠١٣

  • Hijr ibn Adi and his son were killed in 660 CE by Muawiya ibn Abu Sufyan, due to his firm loyalty to Imam Ali (as).

    Sunni scholar Sayyid Abul Ala Mawdudi in his book Caliphs and Kings writes:

    “Hijr ibn Adi was a pious companion of the Prophet (saw) and played a vital role in the correction of the Ummah. During Muawiyah’s reign when the custom of cursing Ali from the pulpit’s of Mosques began, hearts of the Muslims were being bled dry but people bit their tongues fearing death. In Kufa, Hijr ibn Adi could not remain silent and he began to praise Ali (as) and condemn Muawiyah. Until Mughira remained the Governor of Kufa, he adopted a lenient attitude towards this, but when Ziyad’s Governorship of Basra was extended to include Kufa, serious altercations arose. He would curse Ali (as) during the sermons and Hijr would refute him.

    On one occasion he (Hijr) warned Ziyad for being late for Jummah prayers. Ziyad then arrested him along with twelve of his companions on false accusations of forming an opposition group to overthrow the Khalifa. He also gathered witnesses to testify against them alleging that they claimed that khilafath was the exclusive right of the lineage of Ali (as) and further accused them of creating an uproar, of sending blessings upon him and hating his enemies.

    The accused were sent to Muawiyah and he sentenced them to death. A condition was placed that if they cursed Ali (as) and showed their hatred to him they would be pardoned. They refused and Hijr ibn Adi said `I will not say that which would displease Allah’.

    Finally Hijr ibn Adi, his son Humaan ibn Hijr and his seven companions were murdered. From amongst them Abdur Rahman bin Hasan was sent back to return with a written instruction that he be murdered in the worst possible manner, Ziyad buried him alive.”
    [Chapter 4: “The elimination of freedom of speech” by Sayyid Abul Ala Mawdudi].

    In other traditions, it is said that Hijr’s final wish was that his son be killed before him, in fear that his son would be terrified of death and give in to the demands to curse Ali (as).

    Hijr saw his son be killed before he too stepped forward for martyrdom, both giving their lives in loyalty to Ali (as) and for the sake of Allah (swt).

    http://www.aimislam.com/shrine-of-the-great-companion-hijr-ibn-adi-destroyed-and-body-stolen/

  • Blasphemy: Wahabi Jihadists Exhume Grave Of Prophet’s Companion ‘Hujr Ibn Adi’
    Wahabi Jihadists in Damascus have desecrated the shrine of Hazrath Hujr ibn Adi, who was the pious companion of Hazrath Prophet Muhammad (PBUH).
    The Wahabi jihadist destroyed the mausoleum and exhumed the grave of Hujr ibn Adi in the Damascus suburb of Adra and took his boday to an unknown place.
    Hujr ibn Adi was a pious companion of the Prophet (saws) and played a vital role in the correction of the Ummah.
    Hujr was a notable companion from the Companions of ‘Ali and his son al-Hasan, peace be on them. He was a lord from the lords of the Muslims in Kufa.
    Hujr ibn Adi was a supporter of Hazrat Ali ibn Abi Talib (as), he and his companions were killed by Muawiya (Lanat) for refusing to Curse Imam Ali (as). Hujr asked that his son be killed before he did so that he will be sure that his son stayed on the love of Ali and will not be affected by his death.
    After the battle of Qudsiya Hujr ibn Adi participated in Jamal and Sifeen, alongside Ali and was amongst his Shi’a. He was killed upon the orders of Mu’awiya in a village called Mriaj Adra near Damascus. At the time of his execution he requested: ‘Do not remove these chains after I am killed, nor clean the blood. We will meet again with Mu’awiya and I shall petition my case against him’.
    Regarding the killing of Hujir ibn Addi Ayesha (RA) said: ‘Mu’awiya you killed Hujr and his associates, By Allah! The Prophet told me ‘In the ditch of Adra seven men will be killed, due to this all the skies and Allah will be upset”.
    The Syrian government says that the violence is being orchestrated from outside the country, and there are reports that a very large number of the insurgents are foreign nationals.
    Damascus says the West and its regional allies Qatar, Saudi Arabia, and Turkey are supporting the armed groups.
    In addition, several international human rights organizations have accused the militants fighting the Syrian government of committing war crimes.

    http://en.shiapost.com/2013/05/02/blasphemy-wahabi-jihadists-destroyed-shrine-of-hujr-ibn-adi/

  • ‘Adra (Arabic: عدرا‎) is a town in southern Syria, administratively part of the Rif Dimashq Governorate, located southwest of Damascus. Nearby localities include Douma to the southwest, al-Dumayr and al-Qutayfah to the northeast, and the Eastern Damascus Ghouta to the south. According to the Syria Central Bureau of Statistics, the town had a population of 20,559 in the 2004 census

  • Syrian Militiamen Exhume Tomb of Prophet Mohammad’s Companion in Adra
    Local Editor
    Syrian opposition groups posted photos online Thursday claiming they belong to the holy shrine of the solemn companion of the Prophet Mohammad (pbuh), Hujr Bin Adi al-Kindi, located in Damascus countryside of Adra.

    The so-called “Adra Revolution Coordinaton” confirmed on its Facebook page that militiamen of the dubbed “Free Syria Army” have exhumed Kindi’s tomb and transferred his remains to an unknown location.

    The true goal behind this act seems to blur the shrine’s attractions as happened in similar cases, where takfiri wahhabi-deobandi movements’ involvement was common.

    Syria was hit by a violent unrest since mid-March 2011, where the Syrian government accuses foreign actors of orchestrating the conflict, by supporting the militant opposition groups with arms and money.

    http://www.almanar.com.lb/english/adetails.php?eid=92169&cid=23&fromval=1&frid=23&seccatid=20&s1=1

    Syria militants exhume grave of Prophet’s companion

    Syria militants have reportedly exhumed the grave of Hujr ibn Adi, a close companion of the Prophet Mohammad (PBUH) and Imam Ali (PBUH) in the Damascus suburb of Adra.
    Thu May 2, 2013 3:53PM GMT
    63
    1613

    86

    Reports from Syria say Wahhabi extremists have desecrated the grave of an ancient Muslim figure near the capital, Damascus.

    The militants have reportedly attacked the mausoleum and exhumed the grave of Hujr ibn Adi in the Damascus suburb of Adra, and took his remains to an unknown location.

    Hujr – a close companion of the Prophet Mohammad (PBUH) and a staunch supporter of the first Shia Imam Ali ibn Abi Talib (PBUH) – led the army of Muslims to victory in several crucial battles.

    He and his sons finally fell victim to their loyalty Imam Ali (PBUH) and were murdered on the orders of the Umayyad Caliph Muawiyah in the year 660 CE.

    Syria has been experiencing a deadly unrest since March 2011, and many people, including large numbers of army and security personnel, have been killed in the chaos.

    The Syrian government says that the violence is being orchestrated from outside the country, and there are reports that a very large number of the insurgents are foreign nationals.

    Damascus says the West and its regional allies Qatar, Saudi Arabia, and Turkey are supporting the armed groups.

    In addition, several international human rights organizations have accused the militants fighting the Syrian government of committing war crimes.

    http://www.presstv.ir/detail/2013/05/02/301464/syria-militants-desecrate-holy-site/

  • As-salamo-o-Aleika, Ya Hujar ibne Addi Shaeed. May Allah curse the enemies of the prophet (PBUH and His Descendants) and his Deen. I am afraid the enemies of the Prophet (SAWAW) will turn on Roza Rasool and Ahle-Bait Athar. May Allah protect their shrines.

  • Thank you brother for well written article. Jazak-Allah Wa Khairo-kum.
    Ummal Momnieen Hazrat Aayesha (RA) strongly protested on the murder of Hazrat Hujar (RA) and his companions. That outraged Muavia so much that he eliminated her. My heart is bleeding.
    I agree with Barelvi Bhai, we should seriously worry about the Tabrrakat of Rasool-Allah (Peace Be Upon Him and His Holy Progeny ) and Ahle-Bait Athar. About two decades ago the Nasibi Whabais rulers of Saudi Arabia leveled shrine of Umme Rasool (Salam Allah Uo Alaye Ha). I am pondering what is next. Ordinary humans respect their mothers, but no respect for Umme Rasool (Peace Be Upon Them)!!!
    Where are Sipah Shaba? This case is the litmus test of them. Would they come forward and denounce this crime from the bottom of their heart?

    • No body other Barelvi and Shia will come forward to condemn desecration of Sahabi Rasool. Others are doing business in the of Sahba. SSP, Taliban, AlQaeda and Al-Nusra etc. etc. are possessed by Ibless and all of them are hypocrites of first degree.

  • I always hated ruleof Asad family, have been writing against them through out my life. But from now I will not. Asad is far lesser evil than the Nasibis of AlNusra Front (Al-Yazeed front).