Original Articles Urdu Articles

ماشکیل بلوچستان میں زلزلہ زدگان کی امداد کی آڑ میں دہشت گرد جماعتوں کی سرگرمیاں

mashk

صوبہ بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں زلزلہ زدگان کی امداد کی آڑ میں دہشت گرد جماعتوں کی سرگرمیاں

حال میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں آنے والے ہولناک زلزلے کے نتیجے میں سینکڑوں گھر تباہ ہوۓ اور درجنوں لوگ جاں بحق ہوۓ پاکستان کے ماشکیل کے علاقے میں شدید ترین نقصان ہوا

بدقسمتی سے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں رہنے والے پنجابی، مہاجر اخبار نویسوں اور فلاحی کارکنوں کے لئے بلوچستان اور ماشکیل کے زلزلے کی کوئی اہمیت نہیں کراچی کے ندیم پراچہ اور علی چشتی سے لے کر لاہور کے رضا رومی اور اعجاز حیدر تک سب لوگ نام اور مال بنانے میں مصروف ہیں لیکن کسی نے ماشکیل کے غریب مقہور لوگوں کی امداد کے لئے ایک کالم تک نہیں لکھا نہ ہی امدادی تحریک میں حصہ لیا

جنوب مغربی پاکستان میں آنے والے سات اعشاریہ آٹھ شدت کے زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان صوبہ بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں ہوا ہے جو کہ ایرانی سرحد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تنگ گلیوں، کھجور کے درختوں اور مٹی کے گھروندوں پر مشتمل یہ چھوٹا سا گاؤں جہاں فرنٹیئر کور کے جوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جیسا کہ صوبے کے باقی علاقوں میں صورتحال ہے

فوجی ہیلی کاپٹر صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے خیمے پہنچا رہے ہیں مگر کئی خاندانوں کو اپنے گھروں کی باقیات پر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے دیکھا جن کے پاس کوئی سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔ ماشکیل میں ایک سماجی کارکن لاریف بلوچ نے کہا کہ قصبے کے اکثر گھر رہنے کے قابل نہیں رہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گھروں کے ڈھانچے تو کھڑے ہیں مگر ان میں دراڑیں آ چکی ہیں۔ ہم نے قصبے میں فوجی ہیلی کاپٹر آتے جاتے دیکھے ہیں مگر اب تک ہمیں اب تک کوئی خیمے، کمبل، دوائیں یا خوراک نہیں ملی‘۔

زلزلے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی جس نے اپنے زخمیوں کو سرحد پار ایران میں سیستان صوبے کے شہر زاہدان لیجانے کو ترجیح دی۔ اس صورتحال میں ایرانی حکام نے جلد ہی سرحد پر آمدورفت کے عمومی قوانین میں سہولت دے دی تاکہ امدادی کاموں میں آسانی ہو سکے۔

ماشکیل سے زاہدان تک کا راستہ چند گھنٹوں کا ہے جو کوئٹہ تک جانے کے لیے درکار پندرہ سے اٹھارہ گھنٹوں کے سفر کی نسبت بہت آسان ہے۔ اب تک چند اسلامی رفاحی تنظیموں کو اس علاقے میں پہنچنے کا موقع ملا ہے جن میں سے ایک جماعت الدعوۃ ہے۔ اس تنظیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاکستانی فوج کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور اس کے سربراہ حافظ سعید ہیں جو کالعدم جہادی تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی ہیں۔

ادھر پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے اپنا پرانا کھیل شروع کر چکے ہیں ماشکیل کے زلزلہ کے متاثرین کی امداد کی آڑ میں وہابی دہشت گرد جماعت لشکر طیبہ جماعت الدعوه کے لوگ بلوچستان آنا شروع ہو گئے ہیں اور انہوں نے وہابی مساجد اور مدرسوں کی تعمیر شروع کر دی ہے ان کے ساتھ ساتھ تکفیری دیوبندی جماعت سپاہ صحابہ کے لوگ بھی سر گرم عمل ہیں جن کو پاکستانی آئی ایس آئی اور فرنٹیر کانسٹبلری کی مکمل حمایت حاصل ہے بلوچستان میں جمیعت علما اسلام کا ایک گروہ بھی سپاہ صحابہ کے تکفیری دیوبندیوں کی حمایت کر رہے یہ دہشت گرد صرف شیعہ مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ سنی بریلوی صوفی مسلمانوں، ذکر ی مسلمانوں، ہندوؤں، مسیحیوں، احمدیوں کے خلاف بھی ان کے نظریات تشدد اور نفرت پر مبنی ہیں بروہی بلوچ علاقوں میں تکفیری فرقہ وارانہ گروہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے کے بعد اب ماشکیل کے علاقے کا رخ کر چکے ہیں یہ گروہ آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر سیکولر اور قوم پرست بلوچ نوجوانوں اور دانشوروں کی نشاندھی کرتے ہیں اور ان کے قتل میں ایجنسیوں کی امداد کرتے ہیں

http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/04/130420_mashkel_earthquake_tim.shtml