Original Articles Urdu Articles

ٹوکے اور گنڈاسے – از وسیم الطاف

aq-khan1

محسن پاکستان ،ایٹمی سائنس دان ،حال کے سیاست دان ،اور امن پسند دنیا کے شیطان ،جناب ڈاکٹر عبدل قدیر خان نے گزشتہ روز فرمایا کہ “اگر میں سستا ایٹم بم نہ بناتا تو بھارت پاکستان کے ٹکڑے کر دیتا “-اس بیان پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں اور توقع کی جانی چاہیے کہ محترم ان سوالات کے تسلی بخش جواب دیں گے -پہلا سوال یہ کہ قوم کو بتایا جاۓ کہ یہ سستا ایٹم بم خان صاحب بلال گنج کے “بھولے”خرا دتے سے مفت بنوا کر لاۓ تھےیا اس کے لئیے وسائل اس غریب قوم نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے مہیا کیۓ- یہ وسائل چند لاکھ یا چند کروڑ روپے کی مالیت کے نہیں بلکہ کھربوں میں تھے جن کا آج تک کسی کو آڈٹ کرنے کی بھی جرات نہیں ہوئی – اور جن کی زیر نگرانی اور فرمائش پر یہ “شیطانی” کام ڈاکٹر صاحب نے سرانجام دیا انہوں نے ہی بعد ازاں ان سے اقبالی بیان پوری قوم کے سامنے دلوا کر فارغ کر دیا -قوم کو بڑی امید تھی کہ ڈاکٹر صاحب چند “نسخہ چوروں” کو بےنقاب کریں گے لیکن وہ ہر چیز کو ایٹم بم ہی میں لپیٹ گۓ – ایک بحث اسس ملک میں یہ بھی جاری ہے کہ کیا ایٹم بم کے بعد ہم زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں؟
قوم کو یہ بھی پتہ چلنا چا ہیے کہ وہ کون سا “ٹوکا ” ہے جس کی مدد سے بھارت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے درپے ہے اور ہمارا ایٹم بم دیکھ کر اس حرکت سے باز آ چکا ہے -پچھلے پینسٹھ  سالوں کا ریکارڈ دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ جس انواع و اقسام کے “ٹوکے “پاکستان بھارت کے ٹکڑے کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے ان کا شمار ہی ممکن نہیں مثلا انیس سو اڑتا لیس  اور انیس سو پینسٹھ  کی کشمیر میں در اندازی ،انیس سو ننانوے  کی براستہ “کارگل ” پنگے بازی اور طرہ یہ کہ بدنام زمانہ” ٹوکا برداروں “کی سرکاری پشت پناہی -آ ے دن یہ لوگ ٹوکے لہرا لہرا کر بھارت کو للکار رہے ہوتے ہیں اور لال قلہ دہلی پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کا اعلان کرتے رہتے ہیں-بھارتی پارلیمنٹ سے لے کر اندرون بمبئ تک یہ لوگ ٹوکوں سے وار کر چکے ہیں ان میں سے ایک تو با قائدہ پیشہ ور قصاب بھی تھا جو ٹوکے سمیت اپنے انجام کوپہنچا –
انیس سو اکہتر میں جو ہوا اس کا سہرا بھی ہمارے ٹوکا برداروں کے ہی سر جاتا ہے جس کا آغاز انیس سو اڑتا لیس  ہی سے ہو گیا تھا اور اس ملک کے بیشتر حصوں میں آج بھی کامیابی سے جاری ہے –
حیرت اس بات پر ہے کہ اس ملک میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں رہ گیا جو اپنی سیاست کا محور “پر امن بقا ے باہمی کو بناتے -یارو اب تو کان ترس گۓ ہیں کہ کوئی اس ملک میں امن چین ،دوستی اور محبت کی بات کرنے والا بھی ہو -ہر طرف مولا جٹ اور نوری نت گنڈاسے اور ٹوکے لہراتے نظر آتے ہیں -اب تو امن ،محبت اوربھائی چارے کی بات کرنے والےاپنے آپ کو اس ملک میں اجنبی محسوس کرنے لگے ہیں کے کہیں ملک دشمن غدار یا غیر ملکی ایجنٹ ہی قرار نہ دے دیے جائیں -کاش ہم نوشتہ دیوار پڑھ سکیں اور جان جائیں کہ آنے والے دور میں کسی مولا جٹ ، نوری نت یا ٹوکا بردار کی کوئی گنجائش موجود نہیں -آنے والا دور صرف ان قوموں کو ہی زندہ رکھے گا جن کا طرّ ہ امتیاز امن، چین ،دوستی ،تعاون ،مضبوط معیشت اور پر امن بقا نے باہمی ہو گا .