Blogs Cross posted Urdu Articles

طالب زدہ……قسط 9

taliban-afghanista_1202045c

یہ قسط شروع کرنے سے پہلے ایک گزارش کرنا چاہونگا کہ میری کوشش رہی ہے کہ اس تمام سلسلے میں اپنی راۓ بلکل شامل نہ کروں ..اور اگر کروں بھی تو اس کی وضاحت کر کے کہ یہ میری ذاتی راۓ ہے کیونکہ ایک تو میں ان حادثات کا وکٹم اور دوسرا مذہب سے اب میرا کوئی خاص تعلق نہیں رہا ، جتنا ہے وہ بس اتنا کہ میں ایک ایسے خدا پر یقین رکھتا ہوں جو کہ مذہبی نہیں ہے ، جسکو قتل و غارت سے خوش نہیں کیا جا سکتا وغیرہ وغیرہ ، تو اسلیے میری راۓ ایک قسم کی ون سایڈڈ ہوگی ..تو اسلیے جتنا کچھ بھی تحریر کیا ہے وہ بس آسان لفظوں میں حقیقت اور چشم دید واقعات کی روداد ہے

اس قسط کے پہلے حصے  میں، میں تھوڑا بہت تبلیغی جماعت کے کردار اور طالبان کے ساتھ انکی اخلاقی اور افرادی تعاون کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں

تبلیغی جماعت کیسے بنی یا کیا ہے اس تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ وہ آپ سب کو مجھ سے بہتر پتہ ہوگا لیکن پختون اور خصوصاً قبایلی علاقوں میں اس کے کردار ، اہمیت اور طالبان کے ساتھ ان کے تعلقات ایک بہت ہی غلیظ حقیقت ہے –

افغان -روس جنگ کے دوران انکا کیا کردار رہا ہوگا ، اسکا تو نہیں پتہ لیکن موجودہ جنگ اور خاص طور پر  اگر تبلیغی جماعت  پاکستانی طالبان کو ایک محفوظ دینی بیک اپ اور افرادی قوت فراہم نہ کرتی  تو شاید آج طالبان اتنے مضبوط نہ ہوتے ، کیونکہ آپ میں سے بہت سے میری طرح سوچتے ہونگے کہ چلیں، آئ ایس آئ ہی سب کچھ کررہی ہے جو کہ کافی حد تک حقیقت ہے اور میں بیان بھی کرچکا ہوں پہلے ، تو صرف قبائلی علاقوں میں اور قبائلی علاقوں کے لوگوں کو ہی استمعال کر کے کیوں کررہی ہے ؟…تو اس کی اس وجہ ، کہ ایک تو اس پورے بیلٹ کے خد و خال ہی ایسے ہیں کہ جب تک وسطی ایشیا میں ٹینشن رہیگی یہ علاقہ میدان جنگ بنا رہیگا لیکن اس کے علاوہ ایک بہت ہی اہم سوال یہ ہے کہ صرف اسی علاقہ کے لوگ ہی کیوں ہر دفعہ جنگ و جدل و جہاد و قتل و اسلام و زندہ بعد و مردہ باد پے ہی اتنے آسانی سے کیوں راضی یا اتر آتے ہیں ؟ تو  ٢٠٠٠ء سے لیکر آج تک کی تاریخ تک میرا جواب ہوگا ”تبلیغ” کی وجہ سے ،
کیونکہ آپ کسی بھی مجاہد ، کمانڈر وغیرہ کا ماضی دیکھ لیں تو ان میں بہت سے سابقہ یا موجودہ تبلیغی ہی ہیں ، اگر چہ بظاھر طالبان تبلیغ کو اپنے بیانات میں اچھا نہیں سمجھتے یا اسے ایک غیر عملی اور بے نتیجہ عمل سمجھتے ہیں لیکن پس پشت ایک ہی ہیں ، وہ اس طرح کہ آپ میں سے بہت سوں نے منگل باغ کا نام سنا ہوگا ،
منگل باغ خیبر ایجنسی کے جہادی تنظیم ”لشکر اسلام ” کا چیف ہے ، اس تنظیم کی تفصیلات میں میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ آپ کو معلوم بھی ہوگا اور اگر نہیں تو بس وہی چیز ہے اور اس کی تشکیل اور فروغ بھی ویسے ہی ہے جیسے تحریک طالبان کی ہے کہ پہلے امن کے نام پے شہرت پا کے اپنے اوقات پے اتر آنا  ، اس تنظیم کا تو اب کافی عرصہ سے طالبان کے ساتھ جھگڑا چل رہا ہے لیکن ان کے نام پر بھی بہت بڑے بڑے کارنامے ہیں ، ان میں چند یہ ہیں کہ
اغوا براۓ بہت ہی بڑے بڑے تاوان انہی نے متعارف کرواے اور طالبان نے انہی سے سیکھ کے آج کل دائرہ پورے پاکستان تک بڑھایا

پشاور کی ڈبگری اور حیات آباد کی مارکیٹوں سے خواتین ڈانسرز اور خسروں کو اٹھا کر سر عام ذبح اور ذبح کر کے انکی لاشوں کو سڑکوں پر گاڑیوں سے باندھ کر پھرایا جاتا ، ان اغوا شدہ عورت ڈانسرز کے ساتھ بہت سے مجاہدین نے غلاموں اور آقاؤں والا سلوک بھی کیا تھا اور اس سلوک کے بعد ذبح بھی کیا جاتا ،
پشتو کے جتنے بھی مشہور سنگرز ہیں سب ہی منگل باغ کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہیں ہیں
اور بھی ایسی بہت سی مثالیں ہیں  …اور اس منگل باغ کو آج بھی پشاور اور خیبر ایجنسی کے بہت سے قابل ذکر تبلیغی  علما اپنا امیر مانتے ہیں
جس بندے کا جرم ذبح کرنے سے کم والا ہوتا تو اسکو منگل باغ تبلیغیوں کے ساتھ چار مہینہ میں بھیج دیتا ….اور تبلیغی یہ کہتے کہ دیکھو الله نے ایک چور کی زندگی کیسے بدل دی ؟..الله نے کیسے ہدایت نصیب کی ؟….یعنی اتنی منافقت، کہ سب دیکھ رہے ہوتے تھے کہ کسی الله واللہ کی طرف سے کوئی ہدایت شدایت نہیں …سب کرم منگل باغ کا ہے پر ادھر، اسی جگہ، منگل باغ کے ساتھ لوگوں کے سامنے تبلیغی امیر صاب فرما رہے ہوتے کہ الله نے منگل باغ کو بس ایک وسیلہ بنایا ہے

اسی طرح طالبان کے ساتھ بھی انکی کہانی کوئی مختلف نہیں ،
یعنی دور جانے کی ضرورت نہیں ، میری ہی مثال ……میں ایک چلّہ اور پندرہ بیس سہ روزے لگا چکا ہوں اور میں لشکر طیبہ کا تربیت یافتہ بھی ہوں ، اس طرح میرے بہت سے قریبی دوست آج بھی طالبان کے ساتھ ہیں جنہوں نے تبلیغ میں اندرونی و بیرونی سال لگاے ہوے ہیں …اور بہت سے مجاہدین تو اس نظریہ پر جہاد میں شامل ہیں کہ ہمیں طارق جمیل کا بیان کردہ جنّت چاہیے …

تبلیغیوں کے لیے جو پر امن کا لفظ مشہور ہے وہ شہری اور پڑھے لکھے  تبلیغیوں کے لیے ہے …لیکن یہ تبلیغی ان گاوں والے تبلیغیوں سے زیادہ زہریلے ہوتے ہیں ..وہ ایسے کہ یہ تبلیغی اسلام کے نام پر اٹھنے والی ہر تحریک و آواز کے اندھے حامی ہوتے ہیں …اور چونکہ یہ امن پسندی کے لیے مشہور ہیں اور آج کل تو خاصی تعداد میں بھی ہیں تو وہ تحریک ان کے کندھوں پر پروان چڑھتی ہے اور جب وہ تحریک اپنے اصلی اسلامی کرتوتوں پے آ جاتی ہے تو یہی تبلیغی سوری سوری کر کے پیچھے ہٹ جاتے ہیں …”اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ ہمارا مقصد یہ تو نہیں تھا ”

مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ یہ بڑے بڑے صاحب علم لوگ کیسے تبلیغ کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں لیکن میں اگر عام یا میرے جیسے سطحی علم اور ان پڑھ لوگوں کی بات کروں تو ان کو بہت ہی عجیب عجیب جھوٹی جھوٹی کہانیاں معجزات کی طرح  پیش کر کے ترغیب دی جاتی ہے ، جیسے افریقہ کے جنگلوں میں تبلیغی جماعت راستہ بھول گئی اور پھر خونخوار درندوں نے انکی کئی دن تک سہی  راستے تک رہنمائی کی ، اپنے بسترے اور ساز و سامان انہی جانوروں پر لاد لیتے ، اور اگر کوئی  خونخوار کافر جانور پھر بھی نہ سمجھتا اور سامنے آجاتا تو یہی سامان سے لدھے مہربان تبلیغی مومن جانور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے وغیرہ وغیرہ …اور پھر انچاس کروڑ کا مسلہ بھی تھا —– تو عام گنہگار مسلمان کی تو چاندی ہوجانی ہے تبلیغ میں جا کر —

برین واشنگ تقریباً اسی  قسم کی چیز کو کہتے ہیں ، جب آپ چالیس دن یا پھر چار ماہ ایک ہی ماحول اور ایسے قصّے سنتے گزار دیتے ہیں تو گھر آ کر اپنے والدین بھی کافر لگتے ہیں ،
لیکن جہادی اور تبلیغی ذہنیت میں بہرحال ایک فرق ہے ، کہ مجاہد ہوتے ہوے آپ اپنے آپ کو تبلیغیوں سے افضل سمجھتے ہیں اور اسی وجہہ سے زیادہ کٹر یا گاوں والے جاہل تبلیغی جہاد میں چلے جاتے ہیں ،

اور جب کسی بھی لحاظ سے کسی بھی معاملے میں اپنے آپ کو افضل سمجھتے ہیں تو آپ اس چیز پر اعتراض یا راۓ دینے کی جرات بھی کرتے ہیں …مثلا عام مسلمان اسلام کے بارے میں کوئی سوال یا راۓ دینے سے بہت ڈرتا ہے لیکن چونکہ ایک مولوی اپنے آپ کو باقی مسلمانوں سے افضل سمجھتا ہے تو اسلیے وہ اسلام کے اپنی معانی اور مطلب نکالنے اور اسے پھر سے اسلامی شکل دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا –

تو اسی طرح جب میں لشکر طیبہ کی  ٹریننگ سے آیا تھا تو ایک سہ  روزہ میں امیر صاحب پنجاب کے کسی گاوں کا واقعہ بیان کررہے تھے کہ وہاں کیسے لوگ مخالف تھے اور پھر وہاں کا چودھری جب ہمیں نکالنے کے لیے آیا تو اس چودھری کا کتا سب گاوں والوں کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کسی کی ہمّت نہیں ہوئی کہ ہماری طرف بڑھے …واقعہ بہت لمبا ہے لیکن مختصرا یہ کہ جب ہم دس دن گزارنے کے بعد اس گاوں سے نکل رہےتھے تو وہ کتا ایک اونچی جگہ پے  کھڑا ہمیں جاتا ہوا دیکھ رہا تھا جب ہم کئی کلومیٹر چلے تو پیچھے دیکھا کہ اس کتے کی آنکھوں سے آنسو بہہ  رہے تھے ….تو میں نے امیر صاحب سے پوچھا کہ امیر صاحب ”کئی کلومیٹر دور سے آپ کو اس کتے کے آنسو کیسے دکھائی دے رہے تھے ؟…جس پے وہ خاموش ہوے اور کئی دن مجھ سے خفہ بھی رہے کہ تم امیر کی بات میں بات یا اطاعت نہیں کرتے …

ایسے بہت سے دقیانوسی واقعات ہیں ..بس ایک دفعہ آپ رائونڈ مرکز جائیں اور کسی دیہاتی جماعت کے امیروں کے واقعات سنیں …آپ کی ہنسی نہیں رکیگی….اس ساینسی دور میں اتنے بڑے بڑے جھوٹ …کہ عقل حیران
لیکن اسی جھوٹ کو وہ دیہاتی علاقوں میں بہت کیش کرتے ہیں – جب ہم جیسے عقل سے پیدل لوگ ان کے کہنے میں آ کر ان کے ساتھ چل نکلتے ہیں …اور ایک دفعہ آپ تبلیغ میں جائیں تو چاہتے ہوے بھی آپ بہت ہی مشکل سے باہر نکلنگے کیونکہ آپ تھوڑا سا بھی ادھر ادھر ہوجائیں یہ آپ کا پیچھا نہیں چوڑھتے …
ایک اور بات یہاں بہت ضروری بتانا سمجھتا ہوں کہ پٹھان تبلیغیوں کو وہاں کے علماء  پنجاب ، بلوچستان اور سندھ کے دیہی علاقوں کے لوگوں کو کافروں کی صف میں پیش کرتے ہیں اور  چونکہ تبلیغ کو نہیں مانتے تو وہ کافر ہیں ، اور جب کوئی دلیل پیش کرے کہ جاؤ کفار کو دعوت دو ، مسلمانوں کو کیوں دے رہے ہو تو ہم اپنے حساب سے کفار کو ہی دعوت دے رہے ہوتے ہیں –

میں نے یہاں تبلیغ کی اجتماعی خاصیتوں اور آثار کی بات کی ہے …یہاں میں وہ واقعات بیان نہیں کرنا چاہتا جو کہ عام طور پر ہر جگہ ہوتے ہیں …یعنی  تبلیغ میں بھی بہت سے بڑے بڑے امیر صاحبان لونڈے باز ہیں اور رنگے ہاتھوں پکڑے بھی گئے ہیں لیکن وہ ہر شعبے میں ہوتے ہیں خصوصاً دینی مدرسوں وغیرہ میں تو اس کے لیے آپ صرف تبلیغ کو الزام نہیں دے سکتے

یہ تو ہوگئی تبلیغیوں کی بات ، اب آتے ہیں  واپس طالبان کی جانب
____________________________________________________________________
یہ حصّہ اس روداد کا تسلسل ہے جو پچھلی اقساط میں بیان کرچکا ہوں تو اسلیے اوپر والی تبلیغی تحریر کے ساتھ جو غصے یا مادی جذبات ہیں انکو کنٹرول کر کے اس باقی حصے کو اس پرانی انسانی جذبے کے ساتھ پڑھیں ، ایک ماں ، ایک باپ ، بھائی ، بہن اور انسان ہو کے پڑھیں

فوج اور طالبان کی یہ آنکھ مچولی ایک دو ماہ تک جاری رہی اور اس بہت ہی تھوڑے عرصہ میں طالبان بہت ہی زیادہ مضبوط ہوے یا کردیے گئے اور انھوں نے اب باقاعدہ حکومت کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا ، لوگوں میں بھی کمال حد تک مایوسی اور خوف پھیلا ہوا تھا ، اس دوران میرے کچھ بہت ہی قریبی طالبان دوستوں کے مطابق القاعدہ کے چند اہم لوگ بھی وہاں آ گئے تھے اور اسلیے یہ جگہ ایک بہت ہی اہم ٹارگٹ اور ایک بہت ہی مضبوط گڑھ بن گیا
یہی سے طالبان کا عروج شروع ہوا اور عروج شروع ہوتے ہی اپنی کمینگی پے اتر اے
یہاں سے اب آپ مظالم گنتے جائیں

طالبان کا ساتھ شروع میں جن لوگوں نے دیا تھا ان میں بہت سے ایسے تھے جن کی اپنی ذاتی دشمنیاں تھیں اور وہ کمزور ہونے کی وجہ سے طالبان کے ساتھ مل گئے تھے کہ انکو ایک محفوظ پناہ چاہیے تھی اور کھانا پینا رہنا مفت میں ، تو جب طالبان اپنے عروج پے آ گئے تو پہلے تو ایسے تھا کہ کوئی کام یا کسی کو قتل ، ذبح وغیرہ کرنے  پہلے اس کے لیے ایک اسلامی دلیل یا روایت پیش کردیتے ، لیکن اب بس سر عام صرف لٹکا دیتے …کسی کو پوچھنے کی جرات نہ ہوتی .

تو سب سے پہلے تو ان کمزور دشمنی والوں کو اپنے دشمن یاد آ گئے ….

اب آنکھوں دیکھا، اور تحریر شدہ پڑھنے میں بہت فرق ہے اسلیے میں آپ کو وہ حالات نہیں بیان کر سکتا کہ کیا کچھ نہیں ہوا ان کے ساتھ اور دوسرا میں ایک پٹھان ہوں تو اسلیے میرا انداز بھی شاید اس طرح سے متاثر کن نہیں کہ اپنے الفاظ میں وہ شدت پیدا کرسکوں، لیکن بہرحال آسان الفاظ میں ان ذاتی دشمنوں کے ساتھ طالبان کی چھتری کے نیچے بلکل وہی سلوک ہوا جو بنو قریظہ اور بنو نظیر کے ساتھ ہوا تھا ،

ایک طالبان کا امیر تھا ، وہ صرف اپنے سخت پن  اور ظلم کی وجہہ سے اپنے طالبان میں بہت مشہور تھا ، وہ بھی ان لوگوں میں شامل  تھا جو دشمنی کی وجہ سے طالبان میں شامل ہوے تھے ، جب طالبان کے سامنے کی ساری رکاوٹیں ختم ہوئیں اور سب طالبان اپنے دشمنوں سے بدلہ لینے لگے تو سب کو اندازہ تھا کہ یہ امیر صاحب بھی لیگا ، لیکن وہ پتہ نہیں کیوں فلحال خاموش تھا – اس کا دشمن ایک ملک تھا اور اس ملک کو بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا تھا کہ علاقہ چھوڑ دو لیکن وہ کہتا کہ میں اپنے جائداد ، اپنا گھر حجرہ اور لوگوں کو چھوڑ کر یہ بغیرتی کا الزام لینا نہیں چاہتا ..انھوں نے مارنا ہے تو آ کے مار دے..پر میں جاؤنگا نہیں ،
اس ملک کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا پشاور میں پڑھتے تھے ، ہماری طرح وہ بھی چھٹیوں میں ہی گاوں آتے تھے ، دو بیٹے اس کے دبئی میں کاروبار کرتے تھے لیکن ایک بیٹا آج کل گاوں آیا ہوا تھا ،

ہم پختونوں کی دشمنی کا ایک اصول ہوتا ہے کہ ہم بچوں اور عورتوں کو کچھ بھی ہوجاے ، کسی بھی حال میں کچھ نہیں کہتے ..بس مردوں کی آپس میں ہوتی ہے اور ٹھیک ٹھاک ہوتی ہے تو اسلیے یہ خیال ہی کسی کو نہیں آیا تھا کہ طالبان انکی خواتین کو کچھ کہینگے،اور اسی وجہ سے وہ ملک بھی مطمین تھا کہ جو ہوگا مردوں کے آپس میں ہوگا ،

اس کے بچے چھٹیوں پر گاوں اے ہوے تھے اور اچانک خبر آئ کہ اسی امیر کمانڈر صاحب نے اس ملک پر حملہ کردیا ہے ،- تب سمجھ آئ کہ وہ اب تک چپ کیوں تھا ؟
پختون روایات کے مطابق  بدلہ لینے کے لیے وہ اس ملک کا خون کر کے جاتا تو بس اسکی غیرت اور بدلہ پورا ہوجاتا ، لیکن اس نے جاتے ساتھ ہی سارے خاندان والوں کو اکھٹا باہر نکال کر گاوں کے مسجد سے اعلان کیا کہ سارا علاقہ آ جائے، آج فلاں ملک اور فلاں کمانڈر کا فیصلہ ہے ، ایک گھنٹے میں پورے علاقے کے لوگ آ گئے …وہ ملک اور اسکے دو بیٹوں کو طالبان نے پکڑا ہوا تھا اور انکے خاندان کی چار عورتیں طالبان کی گاڑی میں بٹھائی گئیں تھیں –
جب لوگ آ گئے تو کمانڈر نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے اس ملک نے میرے بھائی کو قتل کیا تھا آپ سب کو یاد ہوگا …حالانکہ غلطی اس لڑکے کی ہی تھی جو ملک کے ہاتھوں قتل ہوا تھا لیکن بات پھر لمبی ہوجاےگی ..تو کہا کہ آج اس کا فیصلہ ہے

مختصرا ..اس ملک کو اس کے بیٹوں کے سامنے ذبح کیا …میں بھی وہاں موجود تھا …میں بیان نہیں کر سکتا …بلکل نہیں بیان کر سکتا …میں بہت دنوں سے یہ لکھنے بیٹھا تھا لیکن اس واقعے کی وجہ سے میں پھر کمپیوٹر بند کردیتا …میرے ہاتھ …میرا دماغ پھٹ رہا ہے …
اس ماں کی چیخیں …ان بیٹیوں کی چیخیں …اور ہم لوگ بت…طالبان غیر متزلزل ..
.
اس ملک کو آدھا گلہ کاٹ کر تڑپتا چھوڑ دیا اور کچھ دیر میں پاؤں رگڑ رگڑ کر مر گیا ..
اس کے بعد لوگ سمجھ رہے تھے کے تماشا ختم ہوگیا لیکن نہیں …..آنکھوں کو ایسے اسلامی منظر دیکھنے تھے کہ جسے دیکھ کر اسلام …الله اور اپنے آپ سے مسلمان ہوتے ہوے گن آنے لگی …
کمانڈر نے مختلف روایات پڑھنا شروع کیں کہ شرعی طور سے انکی عورتوں پر بھی ہمارا حق ہے …
ان عورتوں کو نکالا گیا …ان میں ایک اس دبئی سے اے ہوے لڑکے کی بیوی تھی ..ایک انکی ماں اور دو انکی بہنیں …وہ پردے میں تھیں …اور ان بھایوں ، اس ماں اور ہم ہزاروں لوگوں کے سامنے وہ خنزیر کہ رہا تھا کہ ان دو بہنوں میں سے  ایک کا نکاح میرے اور دوسری کا میرے باپ کے ساتھ ہوگا …ان بھائیوں اور ماں پر کیا گزر رہی تھی وہ الگ لیکن ان لڑکیوں پر …………..فککککککککککککک

ان بھایوں کے سامنے انکی بہنوں کے ساتھ نکاح کر کے طالبان اپنے ساتھ لے گئے …ایک بہن کا نکاح اس کمانڈر کے ستر سالہ باپ خنزیر کے ساتھ کیا گیا ،
تماشہ ختم ہوا تو ہفتہ بعد خبر آئ کہ ان بھایوں میں سے ایک نے اس کمانڈر کے باپ کو گولی مار دی ہے …نتیجتاً ایک مہینے کی تگ و دو کے بعد ان دونوں بھایوں کو پکڑ کر اسی میدان لایا گیا ..اسی طرح بہت سے لوگوں کو جمع کر کے اس میدان میں  ان کی ماں سے پوچھا کہ کہ کونسا بیٹا زیادہ پسند ہے ..کونسے سے زیادہ محبّت کرتی ہو ؟ وہ کیا جواب دیتی  …اس ماں اور ان بہنوں کے سامنے پہلے ایک اور پھر دوسرے بھائی کو ایک ایک عضو ، پہلے ہاتھ ، پھر پاؤں ، کان وغیرہ کاٹ کر ٹکڑوں میں ادھر چھوڑ دیا گیا اور اس ایک بھائی کی بیوہ کو بھی ساتھ لے گئے ..
وہ ماں ایک ہفتہ بعد ہسپتال میں مر گئی اور اس ایک بندے کی بیوی نے طالبان کی تحویل میں زہر کھا لیا تھا
ان دو بہنوں میں آج کل ایک افغانستان اور دوسری ادھر گاوں میں ہی دو دو تین تین دفعہ مختلف کمانڈر حضرات کے ساتھ  طلاق اور نکاح کے بعد محفوظ حالت میں ہیں –
انکا آخری بھائی آٹھ سال سے دبئی میں ہے اور گاوں یا پاکستان نہیں جا سکتا
اس سے آگے نہیں لکھا جا رہا

 

طالب زدہ قسط 8

https://lubpak.net/archives/257251

طالب زدہ.قسط7

https://lubpak.net/archives/257257

طالب زدہ-قسط 6

https://lubpak.net/archives/257265

طالب زدہ–قسط 5

https://lubpak.net/archives/257271

طالب زدہ-قسط 4

https://lubpak.net/archives/257277

طالب زدہ -قسط 3

https://lubpak.net/archives/257285

طالب زدہ -قسط 2

https://lubpak.net/archives/257291

1طالب زدہ – قسط

https://lubpak.net/archives/257297

About the author

Shahram Ali

2 Comments

Click here to post a comment
  • Shame on people like Imran Khan for defending these people. Taliban are worse than barbarians. IK keep on chirping the BS that the insurgency is a Pakhtun phenomenon. A pakhtun would never do such barbarities to women and children. The author very truly point out the resemblance to what the Taliban does to what happened with Banu Nazir and Banu Qainqa.

  • حوصلہ ہے آپ پٹھانوں کا جو ان ظالموں کو اپنے علاقے میں دیکھ رہے ہو اور برداشت کر رہے ہو۔ ان کتوں کا بڑا برا حشر ہوگا مگر اس کے لیے سب کو ایک آواز ہونا پڑے گا