Original Articles

Pragmatic secular: Najam Sethi ditches his secular ideals for 2-month CM’ship – by Abdullah Tariq Sohail

oath

“I will strive to preserve the Islamic ideology which is the basis for the creation of Pakistan”, Najam Sethi’s oath

Sethi vows to protect Islamic ideology of Pakistan

Compromising his lifelong secular vision about Pakistan, the caretaker chief minister Punjab, Najam Sethi, Wednesday (27 March 2013) vowed under oath that he would strive to preserve the Islamic ideology of Pakistan. He also acknowledged, under oath, that this Islamic ideology was the basis for the creation of Pakistan.

Only recently he had written in an article that Quaid-i-Azam Muhammad Ali Jinnah was a man of liberal views and that the imposition of Objectives Resolution upon the citizens should be given a second thought.

Najam Sethi while taking oath as caretaker CM swore that he would bear true faith and allegiance to Pakistan. He further promised: “That, as a chief minister (or minister) of the government of the province of Punjab, I will discharge my duties, and perform my functions, honestly, to the best of my ability, faithfully in accordance with the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan and the law, and always in the interest of the sovereignty, integrity, solidarity, well-being and prosperity of Pakistan:

“That I will strive to preserve the Islamic ideology which is the basis for the creation of Pakistan;

“That I will not allow my personal interest to influence my official conduct or my official decisions;

“That I will preserve, protect and defend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan;

“That, in all circumstances, I will do right to all manner of people, according to law, without fear or favour, affection or ill- will;

“And that I will not directly or indirectly communicate or reveal to any person any matter which shall be brought under my consideration or shall become known to me as chief minister except as may be required for the due discharge of my duties as chief minister or as may be specially permitted by the chief minister. May Allah Almighty help and guide me (A’meen).”

Source: http://www.thenews.com.pk/Todays-News-2-167895-Sethi-vows-to-protect-Islamic-ideology-of-Pakistan

Video: Najam Sethi takes oath as Caretaker CM Punjab (27 March 2013)

http://youtu.be/0q289oIu_Ho?t=2m20s

While the oath is already a part of the constitution, the irony of the wording of that oath being affirmed by Najam Sethi is unmistakable. That shows that in the world of politics, compromises on values start from the very first moment. Sethi is an ever compromiser. However, compromises of the noble are different from compromises of political opportunists who remain aligned to military establishment, hurt the Baloch cause and enable Shia genocide by promoting and humanizing sectarian terrorists.

Here’s an article by Abdullah Tariq Sohail, published in daily Nai Baat (31 March 2013), in which the author highlights the opportunistic, non-idealistic nature and history of Najam Sethi and also his connections with his chief financier Malik Riaz of Bahria Town.

sohail

sohail1

nazaria

About the author

SK

2 Comments

Click here to post a comment
  • اقتدار اور نسوار میں اتنی کشش ہوتی ہے کہ جس کے منہ کو بھی لگ جائے وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر، والی بات ہوتی ہے۔ بہرحال سیاست و اقتدار کی کچھ”مجبوریاں“ بھی ہوتی ہیں۔ میرے مشاہدے کے مطابق اقتدار کی سب سے بڑی مجبوری اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا ہوتا ہے اور اقتدار کے مجنوں لیلیٰ حکومت کو اپنے حرم میں شامل کرنے کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے ”بالکل“ تیار رہتے ہیں۔ دور نہ جائیں گزشتہ چند دنوں کی سیاسی پیش رفت پر نگاہ دوڑائیں تو آپ ان مجبوریوں اور قربانیوں کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ میرے نزدیک یہ اقتدار کے حصول کی مجبوری تھی کہ میرے دوست نجم سیٹھی نے پنجاب کی نگران وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہوئے قلب و ذہن پر جبر کرکے یہ فقرہ ادا کیا کہ میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی بنیاد کی حفاظت کروں گا یا قائم رکھوں گا۔ دوسرے الفاظ میں ، میں نظریہ پاکستان سے وفادار رہوں گا۔ دراصل یہ فقرے اداکرکے نجم سیٹھی صاحب نے بہت بڑا ایثار کیا اور اقتدار کے لئے قربانی کی کیونکہ وہ عمر بھر پاکستان کی اسلامی و نظریاتی بنیاد کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں بلکہ اس کی نفی کرتے رہے ہیں

    میں نے عرض کیا ناں کہ ہماری سیاست نسوار کھانے کی مانند ہے۔ نسوار کھا کر انسان ذرا سی مستی میں کھو جاتا ہے اور دکھاوے کیلئے بہت سی ایسی باتیں کرنے لگتا ہے جس سے اس کے عقائد کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔بہرحال میں اخبار میں ان کی تقریب حلف وفاداری کی تفصیل پڑھ کر بہت محظوظ ہوا اور مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ ان کے ہم خیال دوست ان پر لعن طعن کریں گے۔ اے کاش وہ سمجھیں کہ یہ اقتدار کی مجبوری ہے۔ مزار اقبال اور داتا دربار پر حاضری بھی ایک مجبوری ہے اور یہ مجبوری صرف پچاس دن کی ہے اس کے بعد وہ پھر آزاد ہوں گے اور دل کی باتیں خوب کھل کر کریں گے

    سیاست کی نسوار…صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود

    http://jang.com.pk/jang/mar2013-daily/31-03-2013/col2.htm

    ——-

    ۔ نجم سیٹھی بلاشبہ پڑھے لکھے، بیدار مغز اور متوازن تجزیہ نگار ہیں اور ہماری صحافی برادری یقینا خوش ہو گی کہ سابق و بزرگ ججوں کے نگران جھرمٹ میں ایک جوان صحافی بھی بڑے صوبے کی بڑی کرسی پر براجمان ہو گیا ہے۔ ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں وقفوں وقفوں سے لاٹری نکلتی ہے ۔ اس لاٹری میں جن کے نام نکلتے ہیں اُنہیں اقتدار میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ ان کا اشارہ فوجی حکومتوں کی جانب ہوتا تھا جو نئے نئے چہروں کی پنیری لگا کر اور اُنہیں ”لیڈر“ بنا کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ اب ماشاء اللہ آئینی ترمیم کے صدقے یہ لاٹری نگران حکمرانوں کے لئے بھی نکلا کرے گی

    محترم نجم سیٹھی اس حوالے سے کامیاب صحافی ہیں کہ ان کی نگران لاٹری دوبار نکل چکی ہے۔ سب سے پہلے وہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد صدر فاروق لغاری کے نامزد کردہ وزیر اعظم محترم معراج خالد مرحوم کی نگران کابینہ میں وفاقی وزیر بنے۔ دوسری بار اب ترقی کر کے ماشاء اللہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔ اس لئے یہ توقع کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح ترقی کی منزلیں طے کرتے رہیں گے۔ یہ ان کا حق ہے اور ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ ان کی نامزدگی سے الٹرا لبرل اور سیکولر حلقے خوش ہوں گے اور شاید مسلم لیگ (ن) کی منشا بھی یہی تھی کیونکہ کچھ عرصے سے مسلم لیگ (ن) کے دانشور اُسے اس طرف دھکیل رہے ہیں۔ انہیں میاں برادران کا مذہبی امیج اور نظریاتی پہچان پسند نہیں

    میں عرض کر رہا تھا کہ سیاست شطرنج کا کھیل ہے۔ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لئے صدر زرداری صاحب پہلی بار جان بوجھ کر دو ایسے نام لائے جن کے بارے میں انہیں یقین تھا کہ وہ ہرگز مسلم لیگ (ن) کو قبول نہیں ہوں گے ۔ اگر وہ نام مسلم لیگ قبول کر لیتی تو ایک صاحب پچاس دنوں کی نگران وزارت اعلیٰ کے دوران مسلم لیگ (ن) کے کڑاکے نکال جاتے۔ پھر پی پی پی نے توازن اور لچک کا ثبوت دینے اورتاثر ابھارنے کے لئے وہ نام واپس لے لئے اور نجم سیٹھی کا نام تجویز کر دیا۔ اول تو اس لئے کہ وہ سوچ اور انداز کے حوالے سے پی پی پی کے قریب ہیں دوم انہیں علم تھا کہ سیٹھی صاحب رائے ونڈ کے بھی پسندیدہ ہیں۔ تیسرے عاصمہ جیلانی کا دانہ پھینک کر صدر صاحب اطمینان کر چکے تھے کہ میاں برادران اسلامی کردار اور نظریاتی بنیاد کی الرجی سے تائب ہو چکے ہیں۔ ان کی اپنی جماعت میں ایسے حضرات کی بہتات ہے جو عملی طور پر ”مسلمانی“ سے باغی ہیں

    محترم میاں نواز شریف صاحب کی ہیوی مینڈیٹ وزارت عظمیٰ کے زمانے میں جب سیٹھی صاحب نے جرات رندانہ کا مظاہرہ کیا تھا تو انہیں نصف شب کے بعد گھر میں سوتے ہوئے بستر سے اٹھا لیا گیا تھا اور ان کی خوب مرمت کی گئی تھی۔ اندرونی و بیرونی دباؤ کے نتیجے کے طور پر انہیں کچھ عرصہ بعد رہا کیا گیا۔ چنانچہ امریکی صحافیوں نے سیٹھی صاحب کو امریکہ بلا کر بہادری کا تمغہ بھی دیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے سیٹھی صاحب پر رضا مندی اُس ”محبت“ کا کفارہ ہے جس کا عملی اظہار مسلم لیگ (ن) نے اپنے اقتدار میں ان سے کیا تھا جبکہ زرداری صاحب جانتے ہیں کہ جس شخص کو یوں ذلیل و خوار کیا جائے اس کا مجروح باطن ہمیشہ دکھتا رہتا ہے

    یوں سیاست کی شطرنج پر ماہرانہ چالیں چل کر زرداری صاحب وفاق، پنجاب اور سندھ میں اپنے نامزد اور پسندیدہ نگران لانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس سے مسلم لیگ (ن) کی حکمت عملی کی ناکامی کا تاثر ابھرا ہے جسے رد کرنے کے لئے میاں برادران کے قلمی ہرکارے حرکت میں آ چکے ہیں حالانکہ یہ وقتی اور لمحاتی تاثر ہے۔ میرے نزدیک اس کے ووٹ بینک پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا، البتہ مخالفین کو سیاسی مہم جوئی کے لئے پوائنٹ ضرور مل گیا ہے

    یہ 1989-90 کے اُن دنوں کا ذکر ہے جب بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں اور میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ تصادم کا الاؤ بھڑک رہا تھا اور محاذ آرائی یعنی ”پولارائزیشن“ عروج پر تھی۔ میاں صاحب اپنے طیارے سے راولپنڈی جا رہے تھے اور ایئرپورٹ پر محترم نجم سیٹھی بھی موجود تھے۔ سیٹھی صاحب نے میاں صاحب سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا ”میاں صاحب میرا دل آپ کے ساتھ ہے اور میرا ذہن بے نظیر کے ساتھ“۔ یہ بات جب مجھے سیٹھی صاحب نے اپنی زبانی سنائی تو میں محظوظ ہوا کہ سیٹھی صاحب نے کس طرح اپنے آپ کو دو حصوں میں کامیابی سے تقسیم کر رکھا تھا۔ دماغ بے نظیر کے ساتھ تھا کیونکہ وہ فکری و نظریاتی حوالے سے پی پی پی کے ساتھ تھے۔ دل میاں صاحب کے ساتھ تھا کہ دونوں لاہوری تھے اور رشتے داروں کے آپس میں سماجی مراسم بھی تھے۔ یہی جناب سیٹھی صاحب کی مقبولیت اور دونوں پارٹیوں سے قبولیت کا راز ہے۔ فی الحال تھوڑے لکھے کو بہت سمجھیں ۔ ان شاء اللہ باقی آئندہ

    سیاست کی شطرنج اور نگران… صبح بخیر…ڈاکٹر صفدر محمود
    http://jang.com.pk/jang/mar2013-daily/29-03-2013/col2.htm