Original Articles Urdu Articles

مہر و وفا کی پیکر ہے فاطمہ

fatima

میں بہت چھوٹا سا تھا-میرے خیال میری عمر 6-سال ہوگی تو میرے گھر میں بی سیدانی کا بہت آنا جانا تھا-بی سیدانی ہم بچوں کی فیورٹ انّا تھیں-اس لیے نہیں کہ وہ جب بھی آتی تھیں تو ہم بچوں کی جھولیاں اور پاکٹس ان کے تحفوں سے بھر جاتی تھیں بلکہ اس لیے کہ وہ رات کو ہمیں سب کو اکٹھے اپنے ساتھ بستر میں لٹاکر جو کہاںیاں سنایا کرتی تھیں وہ اتنی دلچسپ ہوا کرتی تھیں کہ بس کیا بتائیں-بی سیدانی ہمیں ایک کردار کی کہانی بار بار سنایا کرتی تھیں اور ہے مرتبہ اس کردار کا ایک نیا پہلو ہمارے سامنے آتا تھا-اور جب میں سن بلوغ کو پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ کردار اور کہانیاں من گھڑت نہ تھیں بلکہ بی سیدانی تو تاریخ کی بہت بڑی شناور تھیں-اور ان کے سارے کردار حقیقی تھے اور ان کے بیان کردہ واقعات بھی سارے کے سارے جیتے جاگتے لوگوں پر گذرے ہوئے واقعات تھے-سیدانی بی جس کردار کو بار بار ہمارے سامنے تصویر کرتی تھیں اس کردار کے ساتھ ہماری محبت اور عقیدت کم سنی سے ہی استوار ہوگئی تھی-

بی سیدانی کا یہ اور دوسرے کئی کردار خطہ حجاز اور اس کے جغرافیہ اور اس میں آج سے ڈیڑھ ہزار سال سے پہلے کی زندگی سے منسلک تھے-بچپن میں تخیل کے سہارے ہم جو بھی تصویر بناتے وہ ان کہانیوں اور ان کے کرداروں سے مل کر بنتی تھی-

یہ کردار فاطمہ کا تھا اور حجاز ایک طرح سے کوہ قاف تھا پریوں اور شہزادیوں کا مسکن جس میں سب سے زیادہ خوبصورت اور باوقار تمکنت کی حامل شہزادی فاطمہ تھی اور اس شہزادی کی ماں خدیجہ ملکہ تھیں اور اس کے والد کائنات کے خالق کے محبوب تھے تو مقصود تخلیق کائنات بھی تھے-کوہ قاف پر جہالتوں اور تاریکیوں کے جادو،آسیب اور ٹونے کرنے والے دیو اور جنات تھے جو بدی اور برائی کو پورے کوہ قاف میں پھیلائے ہوئے تھے-

اس سماج کی ایسی کایا کلپ ہوئی تھی کہ کوہ قاف میں بچیوں،شہزادیوں کی پیدائش کو نحوست کی علامت خیال کیا جانے لگا تھا-اور بچی پیدا ہوتی تو اس کے باپ کا چہرہ سیاہ ہوجاتا-گھر میں صف ماتم بچھ جاتی تھی-اور بچی کا باپ گھر میں قید ہوجاتا تھا-کومل بچیوں کی آمد پر کسی قسم کی خوشی نہ منائی جاتی اور پھر سماج  میں بچیوں سے حسن سلوک کو معیوب خیال کیا جاتا تھا-بیوہ سے شادی کو معیوب خیال کیا جاتا-اور کم عمر مرد کی زیادہ عمر والی خاتون سے شادی کو بھی برا خیال کیا جاتا تھا-عورت کی تجارت کرنے کی روش کی بھی مخالفت کی جاتی تھی-

بی سیدانی کا کہناتھا کہ ایسے میں حجاز کے سب سے اہم تجارتی شہر مکّہ میں بنو ہاشم کے سردار ابو مطلب کے بیٹے عبداللہ کی بیوہ آمنہ کے گھر پیرا ہونے والے محمد نے اپنی جوانی میں اپنے سے بڑی عمر کی عورت خدیجہ سے شادی کی-جو خود اپنا کاروبار بھی کرتی تھیں-اور ان کے ساتھ بے مثال رفاقت کی بنیاد رکھی-خدیجہ نے جب ایک بچی کو جنم دیا تو محمد اور خدیجہ کی خوشی دیدنی تھی اور پہلی مرتبہ یہ دیکھا گیا کہ مکہ کے اندر ایک گھر میں پیدا ہونے والی بچی کا استقبال غیر معمولی طریقے سے کیا گیا-محمد نے اس بچی کو ہاتھ کا چھالہ بنا ڈالا اور اس بچی کو بے پناہ محبت اور پیار سے نوازا-وہ جدھر کا رخ کرتے بیٹی ان کے ساتھ ہوتی اور پھر اس بیٹی کی آمد پر محمد اٹھ کر کھڑے ہوجاتے اور اپنی چادر تک اس کی راہ میں بچھاتے تھے-ایک غیر معمولی توجہ ان کو ملنے لگی تھی-

جب محمد نے اس سماج میں غار حراء سے روشنی پانے کے بعد انقلاب کی طرف قدم رکھا تو ہم دیکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے سامنے ایک قطار میں محمد،خدیجہ کے ساتھ علی اور فاطمہ بھی نظر آتی ہے-اور یہ منظر آپ کے چچا عباس کے سامنے اس زمانے کے ایک شخص کے سامنے آتا ہے تو وہ کئی سالوں کے بعد تحریک کے سب سے اول سپاہی بارے گواہی دیتے ہوئے اس بات کا تذکرہ کرتا ہے-

میں اپنی کم عمری کے سبب بی سیدانی کی باتوں کا پورا ادراک نہیں کرپاتا تھا-ایک مرتبہ وہ کہنے لگیں کہ”بچوں!حجاز میں سب سے بڑی عفریت عمرو بن ہشام تھا جو اس قدر جاہل تھا کہ اس کا نام محمد نے ابو جہل رکھ دیا تھا-وہ اکثر محمد کو تنگ کرتا اور ایک مرتبہ جب محمد سجدے میں تھے کعبہ کے سامنے تو اس بدبخت نے “اوجھڑی”آپ کے سر پر رکھ دی-اور کسی نے اس کو روکنے کی کوشش نہ کی-فاطمہ کو پتہ چلا تو وہ دوڑی ہوئی آئیں اور اپنے ننھے منے ہاتھوں سے اس اوجھڑی کو ہٹانے لگیں-کمسن فاطمہ روتی جاتی تھی-ایسے میں اس کے بابا ہی تھے جو اپنے عزم میں بہت پختہ تھے وہ بیٹی کو صبر اور تحمل سے کام لینے کی ترغیب دیتے تھے-طائف میں محمد کے ساتھ جو ہوا اور اس حالت میں واپسی ہوئی کہ پورا سر خون آلود تھا اور جوتے خون سے بھرے تھے-اور پھر بھی کوئی شکوہ نہیں تھا لبوں پر اور خیر خواہی کا جذبہ تھا اور ان کے لیے دعاگو تھے”

بی سیدانی کہتی تھیں کہ “بچوں ہمیں کسی کی نادانی اور جہالت کا جواب نادانی اور جہالت سے نہیں دینا ہے بلکہ اپنے مقصد کے لیے اور زیادہ سرگرمی دکھانی کی ضرورت ہوتی ہے”

بی سیدانی کی کہانی نے فاطمہ کو مہر و وفا کا پیکر بنتے ہوئے دکھایا تھا اور اس کے رول ماڈل کی تشکیل میں آنے والے مراحل کی بھی زبردست عکاسی کی تھی-

میں جب اسکول میں ہائر جماعتوں میں داخل ہوا تو اس عکاسی نے مجھے “فاطمہ شناسی”میں بہت مدد کی-

یہ فاطمہ بھی بہت چھوٹی تھی جب شعب ابی طالب میں اس کو اپنی ماں،دادا ابی طالب اور بنو ہاشم و پیروان اسلام کے ساتھ محصور ہونا پڑا تھا-اور اس دوران انھیں اپنی شفیق ماں اور اپنے اوپر جان چھڑکنے والے دادا ابی طالب کی وفات کا صدمہ دیکھنا پڑا تھا-اور یہ “عام الحزن”تھا –

محمد خدیجہ کی چارپائی کے ایک پائے کو پکڑے کھڑے تھے اور فریاد کناں تھے-کیسا غم تھا جو محمد کو لگا تھا-اور یہ ہم شکل خدیجہ و میراث خدیجہ تھی جس نے محمد کی ڈھارس باندھی تھی-

مکہ میں پورا قریش اور دیگر قبیلوں کے لوگ اس خاندان کے درپے آزار تھے-طرح طرح کے مصائب کا سامنا تھا مگر اس دور ميں ابی طالب ڈھال بنتے تھے یا پھر خدیجہ کی رفاقت غم غلط کیا کرتی تھی-اب وفات ابی طالب نے جیسے ایک شجر سایہ دار کو یک لخت ہٹادینے جیسا کام کیا تھا-

محمد مدینہ آگئے اور یہ ہجرت جب ہوئی تو محمد مدینہ میں ایک ایسے حجرے میں فاطمہ کے ساتھ مقیم ہوئے جس کی چھت کجھور کے پتوں اور چھال سے بنی تھی اور اس قدر نیچے تھی کہ سر ٹکرانے کا خدشہ رھتا تھا-لیکن فاطمہ نے کوئی شکائت کی-اور وہ وہاں رہنے لگيں-

فاطمہ کی مدینہ میں ذندگی کے اس دور پر تاریخ ذیادہ تر خاموش ہے-مجھے یہ خاموشی خاصی بے ڈھنگی لگتی ہے-اور ایسے لگتا ہے جیسے کہیں کہیں خود ہی مورخوں نے پردے ڈال دئے ہوں-کیوں؟اس سوال کا جواب یہ ہے ایسے پردے ان لوگوں کی کے دباؤ پر ڈالے گئے جو اس گھرانے کے کرداروں کی انقلابی تحریک میں خدمات اور قربت رسول پر پردہ ڈالنےمیں بہت بےچین تھے-

لیکن یہ قربت کیسے چھپی رہ سکتی تھی-اصل میں ابی طالب کا گھر اور محمد کا گھر ایک ہی ہوچکا تھا-محمد جب یتیم ہوئے تو یہ فاطمہ بنت اسد تھیں جنہوں نے محمد کو پالا تھا-اور ابی طالب کی اس شریک حیات نے کبھی بھی محمد کو ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی-میں یہ کہتا ہوں کہ محمد نے اپنی بیٹی کا نام بھی ان کی نسبت سے فاطمہ رکھا تھا-اور جب ام بو تراب کی وفات ہوئی تو یہ محمد تھے جو ان کی قبر میں لیٹ گئے تھے اور اس کی کشادگی کو دیکھا تھا-اور جب مدینہ میں مواخات کا موقعہ آیا تو ابن ابی طالب کو محمد نے اپنے رشتہ مواخات میں باندھا تھا-اور جب اپنی پیاری بیٹی کی شادی کی بات آئی تھی تو بھی محمد نے اس کے لیے بھی ابن ابی طالب کو چنا تھا-اس طرح سے محمد نے ابی طالب اور اپنے گھر کو ایک کرلی تھا-اور پھر جب مباھلہ کا موقعہ آیا تھا تو بھی ان ہی دو گھرانوں سے ملکر ہی پنجتن بنی تھی-آل کساء بھی ان ہی دو گھرانوں سے ملکر بنی تھی-فاطمہ نے مکی اور مدنی دور میں تحریک انقلاب کے ہر مرحلے کو بہت قریب سے دیکھا تھا-اور محمد سے ان کا رشتہ ماں،باپ اور ایک دوست والا تھا اور یہ اس قدر گہرا تھا کہ فراق بہت بھاری تھا فاطمہ پر-

میں تاریخ میں اس تکون(محمد-فاطمہ-علی)کو دیکھتا ہوں تو مجھے ایک بات بہت زیادہ مشترک نظر آتی ہے کہ وصال محمد کا غم فاطمہ اور علی دونوں پر بہت بھاری تھا اور دونوں اپنے اشعار میں اس فراق اور ہجر کا قصّہ بیان کرتے نظر آتے ہیں-علی تو ہمیں قربت رسول کی ظاہری محرومی پر مرثیہ نگاری کرتے نظر آتے ہیں اور یہ بیان ہمیں نہج البلاغہ میں نظر آتا ہے-اور دیوان غلی میں وہ فاطمہ کا حزن و ملال بھی منظوم کرتے ہیں-

یہ ایک ذاتی سی واردات قلبی ہے جس کا سراغ لگانے کی مورخوں نے بہت کم کی ہے اور وہ سرسری طور پر یہ واقعات بیان کرتے ہوئے گذر جاتے ہیں-لیکن یہ ایسے واقعات نہیں ہیں کہ ان سے سرسری طور پر گذرا جائے-

علی کے ایک شیعہ تھے سلیم قیس ہلالی-انہوں نے ایک رسالہ لکھا تھا-اور یہ رسالہ میرے خیال میں اھل بیت کی سیرت کی سب سے قدیم اور مستند داستان ہے-اور اس رسالہ میں ہلالی نے بہت تفصیل کے ساتھ بعد از وفات اھل بیت پر گذرنے والے واقعات کا احوال رقم کیا ہے-اس میں ہی فاطمہ بنت محمد کی کہانی قلم بند کی ہے-یہ رسالہ ایک عرصہ تک گمنام رہا اور پھر دریافت ہوا-اور اس کی اشاعت پھر سے ممکن ہوئی-میرے ایک دوست شہریار ہیں جنہوں نے کمال مہربانی کرتے ہوئے ترکی سے مجھے یہ رسالہ ارسال کیا-میں نے اس رسالے میں وہ سارا احوال پڑھا تو مجھے فاطمہ بنت علی کی بعد از وفات رسول گریہ ذاری اور نوحہ گری اور بیان فراق کی سمجھ آئی-میں خواہش رکھنے کے باوجود اس احوال کو یہاں رقم کرنے سے معذوری ظاہر کرتا ہوں-جن کو شوق ہو وہ اس رسالے کو دیکھ لیں-یا اھل علم سے استفسار کرلیں-

میں بس اتنا لکھوں گا کہ ایک موقعہ ایسا بھی آیا تھا کہ فاطمہ بنت علی گھر سے نکلیں تھیں اور ان کے ساتھ علی تھے-حسین تھے،حسن تھے-زید بن ارقم تھے-ابوزر غفاری تھے-عبد اللہ بن مسعود کی تائید تھی-فضّہ تھیں –اور فاطمہ اس مختصر سے قافلے کے ساتھ اھل مدینہ کے تمام گھروں پر دستک دیتی تھیں اور اس دستک کے بعد دوران کلام وہ تحریک انقلاب کے آغاز سے لیکر وفات رسول تک ہونے والے واقعات کا بیان کرتی تھیں-وہ دعوت عیشرہ کے وقت “عہد رسول”کا بیان کرتی تھیں-وقت ہجرت بستر پیغمبر پر سونے والے کا زکر کرتیں تھیں-مواخات مدینہ کی یاد دلاتی تھیں-پھر خیبر کی فتح سے قبل جھنڈے کو محب اللہ و رسول کو دینے کا زکر کرتیں تھیں-اور سب سے بڑھ کر آخری حج کے بعد قبل مقام  مقام غدیر پر “من کنت مولاہ “والے واقعہ کی یاد دلاتی تھیں-اور پھر “انی تارک فیکم ثقلین”والی حدیث کا تذکرہ بھی تھا-یہ ایک طرح سے انصاف اور عدل کے نعروں کے ساتھ برادر محمد کی کمپئن تھی جو فاطمہ نے کی تھی-اور اس نے اس مہم کی قیادت کی تھی-لیکن اس کا نتیجہ نہیں نکلا-

اور اس مہم سے واپسی نے فاطمہ کے دل پن کیا اثر کیا تھا؟اس اثر کو دیکھنے کے لیے علی اور دیگر اھل بیت کی طرف سے بیان ہونے والی یہ حقیقت ہے کہ فاطمہ بنت محمد ساری ساری رات قیام،رکوع،سجود کرکے اپنے بابا سے ملاقات کی دعا کیا کرتی تھیں-

بخاری ،مسلم، ترمذی،اور تاریخ طبری،ابن کثیر و ابن اثیر میں درج ہے کہ فاطمہ بنت محمد فدک کے لیے گئی تھیں جب انکار ہوا تو واپس چلی آئیں تھیں اور سلسلہ کلام ترک کردیا تھا اور اپنی وفات تک انہوں نے خاموش احتجاج جاری رکھا-اور اپنے جنازے میں بھی سوائے بنو ھاشم کے کسی اور شریک ہونے کی اجازت نہیں دی تھی-فاطمہ کا گھر محمد کے گھر سے متصل تھا-اور ہمیشہ رہا-اور تسبیح فاطمہ کا پس منظر بھی سب کو معلوم ہے-یہ وہ گھر تھا جس میں حسن اور حسین کے رونے کی آواز سنکر محمد مبتلاء اذیت ہوجاتے تھے اور بنت محمد کو کہتے تھے کہ”ان کو رونے مت دیا کرو مجھے اذیت ہوتی ہے”خود فاطمہ بنت محمد کی جان ان بچوں میں اٹکی ہوئی تھی اور علی نے بھی ان بچوں کو کو اتنا عزیز رکھتے تھے کہ ان کو کبھی اپنے سے جدا نہ کیا تھا-میں سوچتا ہوں جب حسن کے جگر کو ٹکڑے اور حسین و آل محمد کو انہوں نے کربلاء میں خاک و خون میں غلطان دیکھا ہوگا تو ان پر کیا گذری ہوگی؟

فاطمہ بنت محمد کی شہادت کے دن میں نے یہ تحریر لکھنا شروع کی تھی اور اپنی یاداشت کے کئی نہاں گوشوں کو عیاں کرنا شروع کیا تھا تو کبھی تو میری آنکھوں کی نمی اس قدر بڑھی کہ جھڑی بن گئی اور کبھی کی بورڑ پر انگلیوں نے لزنا شروع کردیا تو خود کو سنبھالنا مشکل ہوگیا-اس دوران دیوان علی میں علی کا وفات فاطمہ پر لکھا ایک مرثیہ پڑھ کر تو بس دل بے قابو ہوگیا-اور اس سے آگے لکھنے کی ہمت جواب دے گئی-آخر میں میں بس یہ لکھوں گا کہ میرے محبوب و مرغوب دانشور اور مفکر اھل بیت ڈاکٹر علی شریعتی نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام” فاطمہ فاطمہ است”رکھا تھا اس لیے کہ فاطمہ کی تمثال ڈھونڈنا مشکل اور ناممکن تھا-اور ناممکن ہے-کیونکہ فاطمہ تو بس فاطمہ ہے-اور میں یہاں یہ بھی واضح کردوں کہ یہاں میرا مقصود فاطمہ بنت محمد کی ایک ذاتی سرگذشت بیان کرنا تھا-میں نے اس بیان میں یہ ڈسکس نہیں کیا کہ فاطمہ بنت محمد کے مصائب اور تحریک انقلاب کے درمیان کیا تعلق اور رشتہ بنتا ہے؟کیونکہ وہ اھل بیت کے مسلک سے وابستہ ہر انقلابی پر بہت واضح ہیں-اور مسلک اھل بیت سے میری ہمیشہ مراد وہ شیعت رہی ہے جس کو علی شریعتی “سرخ شیعت “کہتے ہیں اور اس سے مراد سیاہ شیعت یا صفوی شیعت نہیں ہوا کرتی-ہمیں اگر پیروان فاطمہ و علی کہلوانا ہے تو سرخ شیعت کی پیروی لازم ہے اور عدل و انصاف کے علم کو تھامنا بھی-اس کے بغیر شیعت مذاق بنکر رہ جاتی ہے اور کسی “ابو جہل” کسی “ابو لہب”کسی “مروان” اور کسی یزید کو اس سے کوئی خطرہ نہيں ہوتا بلکہ وہ تو ایسی شیعت کو “ماتم” “زنجیر زنی اور “تولیت امام بارگاہوں”کے پروانے اور لائنسس جاری کرتی ہے اور ان کے جلوس ‏عزا داری کے رستوں کو سرکاری پرمٹ جاری کرتی ہے –ان راستوں کی تزئین و آرائیش پر فنڈ بھی خرچ کرتی ہے-عدل و انصاف کے علم بس زیارتوں میں بدل جاتے ہیں اور ان کے لہرانے سے ظالموں کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا-مشن فاطمہ ایک طرح سے قید کردیا جاتا ہے اور سب کچھ شیخ حرم کے ہاتھ آجاتا ہے اور وہ کیا کرتا ہے؟

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے

دلق اویس،چادر زھراء،غنیم بو زر

اللہم صلی علی محمد و آل محمد