Newspaper Articles Urdu Articles

بے گھر سیلاب متاثرین کے لیے ’سورج مہم‘- by Mina Rana

SOURCE: BBC URDU

لاہور کی انجنئرنگ یونیورسٹی میں ماسٹرز کی طالبہ ماریہ علی کہتی ہیں کہ انہیں مسائل کی کوئی پرواہ نہیں

پنجاب کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کی مدد سے سیلاب زدگان کے مسمار شدہ اور ٹوٹے ہوئے گھر بنانے کے لیے سورج مہم کے نام سے ایک منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت طالب علموں کی تکنیکی مدد اور خود سیلاب زدگان کی اپنی کوششوں سے بہت قلیل وقت میں ان کے گھر بنا دیئے جائیں گے اور اس کے لیے سب سے پہلے ملتان کے علاقے نواب پور کے دیہات چنےگئے ہیں اور پہلے مرحلے میں ستر سے زائد گھر بنائے جائیں گے۔

سیلاب زدگان کی مدد اور ان کے گھر بنانے کے لیے صوبے کی انجنئرنگ یونیورسٹیز کے طالب علموں کی خدمات حاصل کرنے کا خیال گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو آیا جو صوبے کی سترہ یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں۔

گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بقول طالب علموں نے اس کے لیے بے پناہ دلچسپی دکھائی اور چھ سو سے زائد طلبہ نے اپنی خدمات پیش کیں جبکہ پہلے مرحلے کے لیے ساٹھ طلبہ کی ضرورت تھی۔

محمد کامران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اینٹیں اٹھانے کا کام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے

گورنر پنجاب کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کے لیے فنڈز پنجاب کے تاجر طبقے کے مخیر افراد سے لیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت کم لاگت میں دو کمروں، باورچی خانے اور بیت الخلاء پر مشتمل گھر بنائے جائیں گے کیونکہ ان کو بنانے کے لیے کوئی ٹھیکیدار شامل نہیں۔

سورج مہم نامی اس منصوبے کے لیے نواب پور میں تین دن سے انجنئرنگ یونیورسٹی لاہور اور انجنئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا کے سول انجنئرنگ، ٹاؤن پلاننگ اور آرکیٹیکچر کے شعبوں کے طلبہ و طالبات نواب پور کے چھوٹے سے دیہات میں سیلاب سے منہدم ہونے والے گھروں کی دوبارہ تعمیر کے لیے ان تھک محنت کر رہے ہیں۔

انجنئرنگ یونیورسٹی ٹیکسلا میں آخری سال میں پڑھنے والے محمد کامران کہتے ہیں کہ ان تین دنوں میں ہم نے سروے مکمل کر کے گھروں کی تعمیر بھی شروع کر دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان میں ان کے باقی ساتھیوں میں سیلاب زدگان کی بحالی کے اس کام کے لیے بہت جذبہ ہے۔ وہ صبح آٹھ بجے کام پر آتے ہیں اور رات گئے تک کام کرتے ہیں اور اس دوران انہیں جو کچھ کھانے کو ملتا ہے گزارہ کر لیتے ہیں۔

منصوبے کے لیے چھ سو سے زائد طلبہ نے اپنی خدمات پیش کیں جبکہ پہلے مرحلے کے لیے ساٹھ طلبہ کی ضرورت تھی

محمد کامران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اینٹیں اٹھانے کا کام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

محمد کامران کے بقول وہ گھروں کی تعمیر کا کام تب تک کرتے رہیں گے جب تک اس منصوبے کے لیے فنڈنگ ہوتی رہے گی اور مقامی ابادی کا تعاون ان سے ساتھ رہے گا

لاہور کی انجنئرنگ یونیورسٹی میں ماسٹرز کی طالبہ ماریہ علی کہتی ہیں کہ انہیں ان مسائل کی کوئی پرواہ نہیں جو بحثیت خاتون انہیں اس کام کے دوران پیش آئے۔وہ اپنے ساتھی طلبہ کے ساتھ صبح سویرے سے رات گئے تک کام کرتیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی یونیورسٹی کے تعمیراتی شعبے کے تمام طلبہ اس منصوبے پر کام کرنے کو بے چین ہیں کیونکہ سب چاھتے ہیں کہ سیلاب زدگان کی مدد کی جائے۔