Blogs Cross posted Urdu Articles

صحافیوں کی نگران حکومت: ندیم سعید کا کالم

journo

Related post: The future government of Pakistan – by Nazir Naji

پاکستان کی موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کر رہی ہیں، بے یقینی کی کیفیت میں نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا ہی چاہتا ہے اور ساتھ ہی عبوری حکومت کا قیام بھی۔حکومت اور اپوزیشن نگران حکومت کے لیے کسی اتفاق رائے پر پہنچنا چا رہے ہیں لیکن ابھی تک ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔نگران وزیراعظم کے لیے اب تک جتنے بھی نام سامنے آئے ہیں ان میں یار لوگوں نے کوئی نہ کوئی خامی نکال لی ہے۔

عاصمہ جہانگیر عمران خان کو قبول نہیں، رسول بخش پلیجو جماعت اسلامی کو پسند نہیں اور ریٹائرڈ جسٹس ناصر اسلم زاہد کے بہنوئی اور بھانجے کے دوہرے قتل کا الزام صدر آصف علی زرداری پر رہا ہے، جس سے ان کے مکمل غیر جانبدار ہونے پر پیپلزپارٹی کو اعتراض ہوسکتا ہے۔ قصہ کوتاہ! سیاسی، عسکری یا عدالتی میدان سے کوئی بھی نام سامنے آئے گا تو کسی نہ کسی نکڑ سے صدائے اعتراض بلند ہوگی۔ لیکن ابھی تک اگر کسی شعبے سے نگران حکومت کے لیے نام سامنے نہیں آئے تو وہ ہے ریاست کا چوتھا ستون یعنی صحافت۔

پچھلے دس سالوں میں پاکستانی میڈیا نے سر پیٹ ترقی کی ہے اور بہت سارے صحافیوں کے نام تو جہاں جہاں کیبل نیٹ ورک ہے وہاں کے ہر گھر کے بچوں کو اسی طرح یاد ہیں جیسے ہمارے زمانے میں آنگلو بانگلو، یاجوج ماجوج، عمرو عیاراور ٹارزن کے کرداروں سے پڑھنے والے اکثر بچے واقف تھے۔

صبح و شام سیاستدانوں کو مطعون کرتے ہماری صحافت کے شاہ رخ خان ہر فن مولا ہیں اور قومی مسائل پر جس طرح ان کو کڑھتے دیکھا ، سنا اور پڑھا جاتا ہے اس درد و سوز سے بڑے بڑے نامی گرامی ذاکر حضرات بھی بعض دفعہ حسد محسوس کرتے ہونگے۔قوم کی صلاحیتوں کے بحربے بیکراں، ملک کے چھپے خزانوں اور ناکامیوں کے اسباب کا جتنا ارباب صحافت کو ادارک ہے اس سے سیاسی و سماجی اور سائنسی علوم کے ماہرین کو بھی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہوگا۔

اس لیے کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ نگران حکومت صحافیوں کے حوالے کردی جائے؟ آپ اپنے اتفاق یا اعتراض سے تبصروں کے ذریعے آگاہ کر سکتے ہیں لیکن نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے اس لیے نگراں حکومت کے لیے کچھ نام تجویز کیے دیتے ہیں۔

الیکشن کمیشن اور فخرالدین جی ابراہیم مسلسل حملوں کی زد میں ہیں، اگر ان کی کو تبدیل کرنا پڑتا ہے تو جوابدہ کے افتخار احمد اس حوالے سے ایک انمول ہیرا ہیں۔حلقہ بندیاں، پولنگ سٹیشن، نتائج، اعدادوشمار سب ان کو زبانی یاد ہیں، عمر بھی کچھ زیادہ نہیں کہ لوگوں کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ صحت اتنے مشکل کام کی اجازت نہیں دیتی، حالانکہ اس میں مشکل والی کیا بات ہے آپ نے تیار کیے گئے نتائج ہی تو پڑھ کر سنانے ہیں۔ افتخار احمد چیف الیکشن کمشنر ہونگے تو بڑی سی بڑی بات پر بھی ان کے مستعفی ہونے کا خدشہ نہیں ہوگا کہ انہوں نے ساری زندگی ایک ہی سیٹھ کی نوکری میں گزار دی ہے۔

نگران وزیراعظم کے لیے حسن نثار کہ وہ اپنی ذات میں یکتا ہیں اوراس سے کم کسی عہدے کے لیے راضی بھی نہیں ہونگے، اور ایسے نابغہ روزگار شخص کو کابینہ سے باہر رکھا بھی نہیں جا سکتا۔ اس عہدے کے لیے ہارون الرشید کا نام بھی ذہن میں آیا تھا کیونکہ وہ بااثر حلقوں میں پذیرائی بھی رکھتے ہیں اور قوم کا درد بھی، لیکن انہوں نے کپتان کی شکل میں مسیحائی کا کام کسی اور کوسونپ دیا ہے اس لیے قائدانہ صلاحیتوں کے لیے ان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔

وزرات داخلہ کے لیے حامد میر سے زیادہ موزوں کوئی امیدوار نظر نہیں آتا، موصوف کو ملکی و بین الاقوامی خفیہ اداروں کے طریقہ کار سے مکمل آگاہی حاصل ہے اور ان کے لیے پریشانی کا سبب عناصر سے شناسائی بھی ہے۔ بلوچستان اگر سلگ رہا ہے تو انہوں نے وہاں کا ’جرات مندانہ‘ دورہ کر کے اگر بلوچوں کے دل جیت لیے ہیں تو سندھ کی بجائے بلوچستان میں ’باب الاسلام‘ دریافت کر کے ملک کے اسلام پسند حلقوں کو بھی گرویدہ کر لیا ہے۔

وزارت خارجہ کے لیے طلعت حسین مناسب رہیں گے۔خوش شکل ہیں، سوٹ بوٹ پہنے رہتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں اپنی اوائل جوانی کی باس محترمہ ملیحہ لودھی سے رہنمائی بھی حاصل رہے گی جو امریکہ اور برطانیہ میں پاکستان کی سفیر رہ چکی ہیں۔

ملک کا خزانہ خالی ہے یا ہوا ہی چاہتا ہے لیکن پھر بھی اس وزارت کو خالی نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کے لیے کامران خان سے کم پر اتفاق نہیں کرنا چاہیے۔ معیشت کے پہیے کو چلانے کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے اور دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جو سودے بازی میں پس پردہ لین دین کی لعنت سے محفوظ ہو، لیکن شکر ہے کہ پاکستان میں عدلیہ بہت آزاد ہے اور وہ اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے، اور حسن اتفاق سے قاضی القضا ء کامران خان سے بہت متاثر ہیں اور ان کا پروگرام باقاعدگی سے دیکھتے ہیں۔دونوں میں تال میل اچھا رہے گا اور نگراں دور میں راوی چین لکھے گا۔

انصاف اور مذہبی امور کی وزارتوں کو یکجا کردینا چاہیے اور اس وزارت کی ذمہ داری انصار عباسی کے علاوہ کسی اور کو دیئے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔آپ کم از کم باتوں باتوں میں خلافت راشدہ کی یاد ضرور تازہ کردینگے، اور پاکستان میں زیادہ تر کام زبانی جمع خرچ سے ہی ہوتا ہے کیونکہ عمل میں خواری ہے جو سیاستدانوں کا مقدر ہے۔

وزارت اطلاعات و نشریات کے لیے جاوید چوہدری اور معید پیرزادہ میں ٹائی ہے، لیکن جاوید چوہدری چونکہ پہلے سے ہی پبلک ریلیشنگ کی ایک فرم چلا رہے ہیں اس لیے ان کا پلہ ذرا بھاری ہے، یقین نہ آئے تو شہباز شریف سے پوچھ لیں۔اس کے علاوہ انہیں دنیا بھر کے کامیاب انسانوں اور کاروباروں کی کہانیاں بھی ازبر ہیں، چنانچہ ان سے انسانی و صنعتی ترقی کے مفت مشورے بھی لیے جا سکتے ہیں۔

ملک میں توانائی کا بحران ہے اور سیاسی حکومت اسے حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ صحافیوں کی نگراں کابینہ میں ابھی تک خواتین کی نمائندگی نہیں ہوئی، اس لیے پانی، بجلی و توانائی کی وزارت کے لیے توانا و بلند آہنگ(بلکہ سب سے بڑھ کر ریسورس فل) مہر بخاری بہتر رہیں گی۔

نگراں دور ایک ایسا موقع ہوسکتا ہے جس میں سول ملٹری تعلقات کا ازسر نو جائزہ لیا جاسکتا ہے اور اس ضمن میں جنوبی افریقہ کی طرز پر’ٹروتھ کمیشن‘ کی اصطلاح کافی عرصے سے گردش میں ہے، وزیراعظم حسن نثار کو چاہیے ہوگا کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی نجم سیٹھی کی سربراہی میں اس کمیشن کے قیام کا اعلان کردیں۔نجم سیٹھی کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ صدر، آرمی چیف، وزیراعظم، چیف جسٹس، امریکی صدر، غرضیکے کسی بھی ذمہ دارشخص کی جگہ پر بیٹھ کر اس کی تحلیل تفسی کر سکتے ہیں، اس لیے ان کی یہ صلاحیت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے میں بڑی کارآمد رہے گی۔

اب اس کابینہ میں اگر احتساب کا شعبہ نہ ہوا تو سطانہ ڈاکوؤں سے تنگ عوام کو سخت مایوسی ہوگی۔ نیشنل اکاؤنٹبیلیٹی بیورو کے چیئرمین کی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے رؤف کلاسرا سے زیادہ زیرک کوئی صحافی نہیں۔ پاکستانی صحافت کی تاریخ میں سب صحافیوں نے مل کر شاید اتنے سکینڈل رپورٹ نہیں کیے ہونگے جتنے اس اکیلے جوان نے کر دیے ہیں۔ ابھی بھی ان کے ہیٹ(Hat) اور آستینوں میں کئی سکینڈل ہم سب کو حیران کرنے کے لیے کلبلا رہے ہونگے ۔ویسے بھی اگر نگراں دور طویل کرنا مقصود ہوا تواحتساب سے زیادہ عوام کو کون مطمئن کر سکتا ہے

Source: Top Story Online