Blogs Cross posted Featured

فرقہ واریت کا عفریت اور طاہرہ کا لعل ! -تحریر: مجاہد مرزا

فرقہ واریت کا عفریت اور طاہرہ کا لعل !!!

تحریر: مجاہد مرزا

موت تو کسی کی بھی ہو اور کیسی بھی کیوں نہ ہو، دردمند انسان کے لیے باعث افسوس ہوتی ہے، چہ جائیکہ “ٹارگٹ کلنگ” جو کسی بھی بنیاد پر کیوں نہ کی جائے۔ چاہے وہ بنیاد لسانی ہو، نسلی ہو، سیاسی ہو یا فرقہ وارانہ۔ لاہور میں کوئی ڈاکٹر علی حیدر اور ان کا بیٹا نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں ان کے والد کا نام ظفر حیدر پڑھا، تب بھی کوئی بڑا کھٹکا نہیں لگا مگر شام کو جب فیس بک پہ میں نے ایک عمررسیدہ اور دکھی انسان کی تصویر دیکھی جس کے نیچے لکھا ہوا تھا” آج پروفیسر سید ظفر حیدر اور ڈاکٹر طاہر نقوی نے اپنے بیٹے اور پوتے کو سپرد خاک کر دیا” تو مجھے لگا جیسے میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ہو، جیسے میرا اپنا بھائی یا بیٹا بے گناہ مارا گیا ہو۔

پروفیسر صاحب کا شمار ایک دور میں ملک کے چند انتہائی مایہ ناز سرجنز میں ہوتا تھا۔ شاہ صاحب اپنے مسلسل اضطراب اور تنک مزاجی کے باعث اپنے طالبعلموں کے لیے موجب خوف ہوا کرتے تھے۔ وہ دراصل انتہائی بااصول پروفیسر تھے۔ اگر کسی طالبعلم نے پتلون کوٹ زیب تن کیاہو اور ٹائی نہ باندھی ہو، تو ان کے نزدیک ایسا طالبعلم لباس نا آشنا قرار پاتا تھا۔ ان کے وارڈ میں ٹائی نہ باندھ کر جانا خود کو ان کے عتاب کے لیے تیار کرنا ہوتا تھا۔ وہ شلوار قمیص پہننے کی اجازت صرف انہیں کو مرحمت فرمایا کرتے تھے جنہوں نے داڑھی رکھی ہوئی ہو اور ٹوپی سر پہ اوڑھی ہوئی ہو۔ یہ ان کے بارے میں ایک عمومی تاثر تھا مگر درحقیقت وہ گوناگوں مزاج کے حامل شخص تھے۔ اس عمر میں کیسے ہیں مجھے معلوم نہیں کیونکہ میں نے 1975 سے انہیں نہیں دیکھا۔

BDebZXjCcAAloyK

اس زمانے میں مجھ پر انقلابی ہونے کا دورہ طاری ہو گیا تھا، ڈی کلاس ہونے کے چکر میں میں نے کوئی دو سال بھورے رنگ کے کھدر کی شلوار قمیص کے کوئی علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں پہنا تھا۔ ظاہر ہے شاہ صاحب نے مجھ سے بھی کبیدہ خاطر ہو کر استفسار کیا تھا کہ شلوار قمیص پہن کر کیوں آئے ہو، چونکہ نہ تو میرے داڑھی تھی اور نہ میں ٹوپی اوڑھنے کا عادی تھا۔ بہرحال میری بحث یا کج بحثی نے ان کو رام کر لیا تھا۔ شاہ صاحب شعر و ادب، تصوف و معلومات عامہ سبھی مضامین سے علاقہ رکھتے تھے اور ان سب کے بارے میں بات چیت کی بنیاد پر میری ان سے بن گئی تھی بلکہ وہ میرے دو پسندیدہ پروفیسروں میں سے ایک تھے، دوسرے ماہر امراض نسواں پروفیسر راشد لطیف تھے۔

میڈم طاہرہ نے ہمیں ہسٹالوجی پڑھائی تھی۔ وہ بھی خاصی سخت مزاج تھیں۔ ایک بار معصوم سے قلندر خان نے بچپنے کی سی حرکت کرتے ہوئے ان کے اوورآل کی آستین کو پکڑ کر کہہ دیا تھا،” میڈم میری سلائیڈ دیکھ لیں”۔ میڈم سیخ پا ہو گئی تھیں اور قلندر خان کو سخت سست کہا تھا۔ ان کے ساتھ بھی میں نے ہی قلندر خان کے حق میں بحث کی تھی اور وہ خاموش ہو گئی تھیں۔

مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے نہ جانے کتنے لوگوں کو علم کی دولت سے مالا مال کیا تھا، جنہوں نے انسانوں کی زندگیاں بچانے کا نیک کام جاری رکھا۔ پروفیسر صاحب نے کبھی تعصب پر مبنی بات کی ہی نہیں تھی۔ ظاہر ہے وہ سرجری کی میز پر لیٹے ہوئے شخص کا مسلک نہیں پوچھا کرتے تھے۔ میڈم طاہرہ کے بارے میں تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے پیشے سے وابستہ گفتگو کے علاوہ کبھی اور گفتگو کم ہی کی ہوگی۔

murtaza-haiderکل جب طاہرہ کے لعل ان کے فرزند اور طاہرہ کی جان ان کے پوتے کی رحلت کے بارے میں صدمہ سہا تو خیال آیا تھا کہ ہاں دو ایک بار ایک آٹھ ایک سال کا اچھا اور پیارا سا بچہ کھیلتے کھیلتے ڈیپارٹمنٹ میں ان کے پاس آیا تھا، کیونکہ ان کا سرکاری مکان نشتر میڈیکل کالج کے اناٹو می ڈیپارٹمنٹ کے سامنے روز گارڈن کے عقب میں قریب ہی واقع تھا۔ میڈم نے غالبا” اس سے یہی کہا تھا،” علی یہاں کیا کر رہے ہو، گھر جاؤ”۔ آج یہ علی ہمارے درمیان نہیں ہے۔ اس نے بھی لوگوں کی بینائی بحال کرتے ہوئے اور دیگر امراض چشم کا علاج کرتے ہوئے کبھی کسی کے مسلک کے بارے میں نہیں سوچا ہوگا، کیونکہ ڈاکٹر کا کام علاج معالجہ کرنا اور لوگوں کو زندگی بخشنا ہوتا ہے۔

وہ کون وحشی ہیں جنہوں نے ان کی اور ان کے معصوم بیٹے کی بلاوجہ جان لی؟ صرف اس لیے کہ ان کا مسلک اور تھا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ قتل لاہور میں معروف شیعہ شخصیات کا کوئی پہلا قتل نہیں ہوگا۔ اپنا مقصد حاصل کرنے والے کسی نادار یا گمنام شیعہ کو اس لیے نشانہ نہیں بناتے کہ اس سے ان کی دہشت کو شہرت نہیں ملے گی۔ وہ چن چن کر ایسے لوگوں کا قتل کرتے ہیں جو معاشرے میں جانے پہچانے ہوتے ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اپنے مبینہ مذموم مقاصد کے حصول کے ضمن میں انہیں اس سے غرض نہیں کہ ایک ڈاکٹر کو مارنے سے اس کے اہل خانہ ہی متاثر نہیں ہونگے بلکہ وہ بے تحاشہ لوگ بھی متاثر ہونگے جو ان کے دست شفا کے متمنی ہوتے ہیں۔

پروفیسر سید ظفر حیدر شاہ کی عمر پچاسی برس ہے اور میڈم طاہرہ بھی کم از کم پچھتر برس کی ہونگی۔ ان عمروں میں اپنے وحشیانہ عمل سے انہیں دکھ پہنچانے والے کیا معافی کے لائق ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ہم ان کے سینکڑوں ہزاروں شاگرد اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ طاہرہ کا لعل چھیننے والوں کو جلدازجلد گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ہم سب کی دعا ہے کہ اللہ پروفیسر صاحب اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر طاہرہ بخاری کو یہ کڑا دکھ سہنے کی طاقت دے (آمین)

Source: Top Story Online