Featured Original Articles

انوکھا ساجد،انوکھا عابد

Imam_al_Sajjad__As__2_by_70hassan07

وہ دو سال کا تھا جب اس کے دادا کو اس زمانے کے ایک طالب نے زھر سے بجھے خنجر سے حملہ کرکے عین نماز کے وقت قتل کرڈالا تھا-وہ گیارہ سال کا تھا کہ اس کے محبوب تایا کو زھر دے کر مار دیا گیا-اس نے اپنے  تایا کے جنازے پر تیروں کی بارش ہوتے دیکھی تھی-اور پھر اس نے عین عالم شباب میں اپنے بھائیوں،اپنے چچا اور اپنی پھوپی کے بیٹوں اور اپنے باپ کے بے سر لاشے دیکھے تھے-اور اپنی مستورات کے خیمے جلتے دیکھے تھے

اس نے اپنے شیر خوار بھائي کے گلے کو تیر سے چھلنی ہوتے دیکھا تھا-اس نے تو اپنی ماں کو بھی نہیں دیکھا تھا جو اس کی پیدائش کے وقت اس کو داغ مفارقت دے گئی تھی-اس نے یہ سارے دکھ جھیلے تھے اور یہ صدمات کسی بھی آدمی کو ہلادینے کے لیے کافی تھے-اور اس نے یہ سارے دکھ جھیلنے کے بعد بھی صبر اور صلواۃ سے مدد لینا نہیں چھوڑی تھی-یہ وہ وقت تھا جب عابدین،ساجدین،محدثین اور مفسرین کا ایک درباری گروہ پیدا ہوگیا تھا جس کا کام یہ تھا کہ وہ سجدوں،رکوع اور قیام کی تاثیر اور تعریف بدل ڈالے اور تفسیر اور حدیث کو اس سماجی عمل سے کاٹ دے جن کے لیے یہ سب وجود میں آیا تھا

وہ شام کے دربار سے واپس لوٹا تو اس نے اس ساری تحریف کو پھانپ لیا اور وہ اپنے غم کو طاقت بنانے میں مصروف ہوگیا-اس نے تلوار کی جنگ کو وقت کا تقاضا خیال نہ کیا-کیونکہ دربار نے ایک “زھد”اور ایک “علم فقہ والحدیث”کا ڈھونگ رچایا تھا اور سب کے سامنے ان دونوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ اور ملوکیت کو جاری رکھنے کا حیلہ کیا تھا-ان کا خیال تھا کہ اس طرح سے وہ “سماجی رد انقلاب ” کو کامیاب کرلیں گے-اور لوگ درباری صاحبان جبہ و دستار کے نام نہاد “زھد و علم ” سے دھوکہ کھا جائیں گے-لیکن ان کو اس شخص کی خلاق طبعیت کا معلوم نہ تھا-وہ اس وقت بہت شاداں اور فرحاں تھے جب اس نے بھی مسجد نبوی کے صحن میں ایک حلقہ لگا لیا-اور اس نے بھی اسی مسجد میں طویل قیام ،رکوع اور سجود کا سلسہ شروع کیا-ان کو یہ لگا تھا کہ یہ بھی بس کھوکھلے رکوع و سجود ہوں گے-اور قال اللہ و قال رسول اللہ کی ایسی صدا ہوگی جس سے مغز ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا-اس کو زین العابدین کا خطاب مل گیا-اور احسن الساجدین کا لقب بھی-اور اس کے گرد جمع ہونے والوں میں سعید بن جبیر جیسے لوگ تھے-اور اس نے دعاؤں کا ایک سلسلہ شروع کیا جو اپنے اندر وہ سارے پیغام چھپائے ہوئے رکھتا تھا جن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے تو آگ اور خون کے دریاؤں کو بہایا گیا تھا-اور اس عابد بیمار نے ان کو “زھد و اتقاء اور “حدیث و فقہ “کے زریعہ پھیلادیا تھا-کربلا میں جو ہوا اس کا سب کو پتہ چل گیا-اور مکروفریب کا جال تار تار ہوگیا

اپنے غم کو طاقت بنانے والا یہ “زین العابدین”اور “احسن الساجدین”ایسا تھا کہ اس کو کبھی کسی نے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا-اس کا بیٹا باقر اس پر حیرت سے پوچھتا تو کہتا “بیٹا جو میں نے کربلا میں دیکھا تم دکھ لیتے تو کبھی نہ ہنستے”اہل دربار کو بہت بعد میں ہوش آئی مگر اس وقت تک “رد انقلاب “پوری طرح بے نقاب ہوچکا تھا-حکمت عملی یا سٹرٹیجی ہی تو کسی بھی انقلابی کا امتحان ہواکرتی ہے-اور “زین العابدین “کا لقب پانے والا اپنے وقت کا عظیم انقلابی حکمت شعار تھا-وہ اس لیے “خیر کثیر “کا اہل تھا-“جس کو حکمت ملی گویا خیر کثیر مل گئی”کیا بتاؤں کون تھا وہ جس کا جگر اس کے تایا کے جگر کی طرح زھر سے ٹکڑے کردیا گیا-اور وہ بھی ان سے جاملا جو اس سے کربلا میں بچھڑ گئے تھے-اس کو تاریخ “علی بن حسین بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب”کے نام سے جانتی ہے

About the author

Aamir Hussaini

3 Comments

Click here to post a comment
  • Hazrat Zein-Al-Abideen (Alei-hissalam Wa Rahma), as Barelvis call him, was a glorious example of patience and steadfastness. After Kerbala massacre and genocide in Madina (called Harra), uttering the very name Hussein (AS, RA) had become a crime in the Yazidi empire. Syed was defiant; he used to say ‘Ya Hussein’ ‘Ya Hussein’ loudly all the time. He set that tradition which continues to date and will remain alive until the day of judgement.

    Peace Be Upon You, the glorious son of Hussein (AS, RA).