Featured Original Articles

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم

Afzal Guruافضل گرو کی پھانسی پر ہندوستان سے ارون دھتی رائے اور دیگر اہل درد کی مرثیہ نگاری سمجھ میں آتی ہے-اور یہاں پاکستان میں ان کا گریہ بھی سمجھ میں آتا ہے جنھوں نے بلوچ،پشتوں اور ہزارہ اور پھر شیعہ کی نسل کشی پر آہ و زاری اسی طرح سے کی جیسے اپنوں کی مرگ پر کی جاتی ہے-ارون اگر یہ کہے طنزیہ انداز میں کہ “پھانسی والے دن ہندوستان میں “سچی جمہوریت “کا دن تھا “تو اس کو یہ بات کہنا زیب دیتی ہے-وہ پولیس اور عدالت کے فیصلوں کی بھد اڑائے تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن جب یہاں کے وہ لوگ جو خود ایسے لوگوں کے اتحادی ہوں جن کے ہاتھوں سے خون ٹپکتا ہو اورخون بھی ان لوگوں کا جو بس اس لیے مارے گئے کہ ان کا نام “جرّار حسین “تھا یہ “عرفان علی “تھا-اور وہ پہاڑوں سے زندہ انسانوں کو بم بناکر بھیجنے والوں کے اقدام وحشت و حیوانیت کے لیے جواز تلاش کرتے ہوں اور 40 ہزار لوگوں کا قتل کرنے والے وحشیوں کے سالار ان کی ضمانت مانگتے ہوں اور وہ “انصاف کے خون”کی دھائی دیں تو ان کی بے شرمی اور ڈھٹائی دیکھ کر ان کے بے حیاء ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہتا-

یہ وہ لوگ ہیں جو اس ملک میں بلوچ قوم کی بیٹی زرینہ کے ساتھ ہونے والے ظلم پر تاحال خاموش ہیں-اور ان لاپتہ لوگوں کی بازیابی نہ ہونے پر وہ سوال اس ملک کے اندر ریاست اندر ریاست بارے نہیں اٹھاتے جو آج ارون دھتی رائے کے اٹھائے ہوئے سوالوں کا تعویز گھول کر پی گئے ہیں-اور بھارت کی جمہوریت کو للکارتے ہیں تو کبھی اس کی سپریم کورٹ کو-لیکن یہ ایسے ہی ملتے جلتے واقعات میں پاکستان کی خاکی وردی اور سادہ لباس میں ملبوس “اس ملک کی “نظریاتی سرحدوں”کے مامے اور چاچاؤں پر وہ تبراء نہیں کرتے جن کے دم قدم سے مقتل کو زوال نہیں ہے-

اس ملک میں بعض دانشور اور مولوی صحافی ایسے ہیں جن کو جھوٹ کی گھٹی ملی ہوئی ہے اور وہ اپنے قاری کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھتے ہیں اور یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ ان کو تاریخ کا کیا پتہ ہے-اور وہ جیسے چاہیئں تاریخ کو مسخ کرڈالیں-جیسے افضل گرو کے معاملے میں ان کا ضمیر جاگا- ایسے ہی آج کل ان کا ضمیر بنگلہ دیش میں “قوم کے غداروں ” کا ایک ٹرائل چل رہا ہے-اور یہ غدار ہی نہیں بلکہ وہ ہیں جن کے ماتھے پر کلنک کی سیاہی ہے اور لوگ ان کی پیشانی پر پڑے سیاہ نشانوں کو “ذھد و اتقاء”کا نتیجہ خیال کرتے ہیں-یہ لوگ آج کٹہرے میں کھڑے ہیں اور ان سے بنگلہ کے عوام یہ سوال کرتے ہیں کہ “کہ ان کی ماؤں اور بہنوں کا قصور کیا تھا جن کی عصمت دری ثواب سمجھ کر کی گئی-اور پھر بنگالی مردوں اور بچوں کا قتل عام ہوا-اور “البدر اور الشمس “کے مجاھدوں نے ہر اس نہتے بنگالی کو نشانہ بنایا جو ان کے ہاتھ آگیا-

لیکن آج جب ان کو بنگلہ دیش کی عدالتیں کیفرکردار تک لیکر جارہی ہیں تو یہاں کے اہل حرم “بنگلہ دیش سے کیا خبر آئی ہے “جیسے کالم لکھ کر اور آج ان جنسی بیماروں کی شکل مومنہ کا سہارا لیکر ان کرداروں کے کو “سادھو اور سنت “ثابت کرنے پر تلے ہیں-میں ان کو تو درس تاریخ نہیں دوں گا لیکن نئی نسل کو کہوں گا کہ وہ “جہاں آراء” کی کتاب “اکہتر کے وہ دن”ضرور پڑھ لے جس میں ان صاحبان جبہ ودستار کی ساری حقیقت درج ہے-یہ ایک بنگالی ماں کا نوحہ بھی ہے جس کا بیٹا “جبری گمشدگیوں”کے سلسلے کا شکار بن گیا تھا-جی ہاں !یہ فن تو خاکی والوں کے پاس بہت پہلے سے تھا-حسن ناصر سے لیکر نذیر عباسی تک اور اب زرینہ بلوچ تک کے عہد میں خاکی والے کسی شرمندگی کے بغیر “گم کرنے کا جادو آزماتے چلے آرہے ہیں-بنگلہ دیش میں مظلوموں کی داد رسی اس لیے بری لگ رہی ہے کہ اس کی زد میں “جماعت آتی ہے-اور صالحین کا پول کھلتا ہے-انسانیت کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو کہیں وکیل ملے ملے نہ ملے مگر ایسے مجرموں کو پاکستان کا اردو میڈیا کے ٹائیکون ان کو ضرور ضرور پناہ دیتے ہیں اور ان کے چہرے پر تحریر کا غازہ لیپٹ کر ان کو ستی ساوتری ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں-