Featured Original Articles

تم خادم پنجاب نہیں، ہٹلرپنجاب ہو

osama_bin_hitler_2

تم خادم پنجاب نہیں۔۔۔۔۔۔ہٹلرپنجاب ہو

عامر کے قلم سے

یہ ینگ ڈاکٹرز کا بھوک ہڑتالی کیمپ تھا-کل رات سے پورے پنجاب سے ینگ ڈاکٹرز اس کیمپ میں جوک در جوک آرہے تھے-اکثر ان میں سے بھوک سے نڈھال تھے مگر ان کے جذبوں میں کوئی کمی نہیں تھی-وہ ایک بینر تلے جمع ہونے لگے تھے کہ “عوام کو مفت علاج دو”اور صبح وہ صوبہ پنجاب کے پردھان منتری کو ایک تفصیلی یادداشت پیش کرنا چاہتے تھے-اس یادداشت کا متن کچھ یوں تھا-

میرے پیارے خادم پنجاب

آپ کہتے ہیں کہ آپ نے پنجاب کی تقدیر بدل ڈالی ہے-اور جب آپ سے اس اجمال کی تفصیل پوچھی جاتی ہے تو آپ کہتے ہو کہ لاہور میں میٹرو بس سروس،سستی روٹی ،میکنیکل تنور،لیپ ٹاپ،اجالا پروگرام اور دانش سکول سسٹم کے ساتھ پیلی ٹیکسی سکیم اس کا ثبوت ہیں-لیکن ہم آپ سے سوال کرتے ہیں کہ

کیا ورلڈ بینک کی طرف سے پرائمری اسکولوں میں انفراسٹرکچر کو مکمل کرنے کے لیے ملنے والی امداد کو لیپ ٹاپ سکیم میں خرچ کرنا ٹھیک ہے-جبکہ اسکولوں میں کہیں چھت نہیں ہے تو کہیں چار دیواری غائب تو کہیں واش روم نہیں-اور کسی جگہ کمرے نہیں تو کہیں اسکولوں کی ساری عمارت گرنے والی-

کیا اربوں روپے نئے سرے سے چند اسکولوں پر خرچ کرنے کو دانش اسکول کہنا ٹھیک ہے جبکہ پہلے سے موجود انفرا سٹرکچر تباہ ہورہا ہو-

17 سے 18 ارب روپے موبائل ہسپتالوں پر خرچ کرڈالے گئے جبکہ وہ آج بے کار پڑے ہیں-اور بنیادی مراکز صحت کی حالت ابتر ہوگئی ہے-

اکثر ہسپتالوں میں دوائی نہیں ہے اور آپ خود کہتے ہیں کہ سرکاری ہسپتال کی لیب فری ٹسٹ نہیں کرسکتیں-اور کارڑیالوجی ملتان کے فنڈز رک گئے ہیں-فنڈذ کی عدم دستیابی کی وجہ سے وزیر آباد میں کارڈیالوجی ہسپتال کا منصوبہ ترک کردیا گیا ہے-

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صحت اور تعلیم اہم ہیں یا کہ لاہور کی ٹریفک کا سات فیصد دباؤ کم کرنے والی میٹرو بس سروس جس پر 30 ارب روپے خرچ ہوئے-لیکن اگر اس میں پبلسٹی مہم اور دیگر اللے تللوں پر اٹھنے والے اخراجات اور اس کو جاری رکھنے پر ہونے والے اخراجات کو دیکھا جائے تو یہ اسی ارب کی رقم بنتی ہے-یہ اسی ارب روپے اگرصحت پر خرچ کیے جاتے تو کیا وہ مسائل پیدا ہوتے جن کا اوپر زکر کیا گیا ہے-سستی روٹی کی مد میں جو پانچ ارب روپے خرچ کیے گئے ان کو بھی صحت اور تعلیم پر لگایا جاتا تو پرائمری ایجوکیشن اور وزیر آباد کے دل کے مریضوں کے مسائل حل ہوجاتے-

لیکن ایسا نہیں کیا گیا-

ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کی پالیسی میں صحت اور تعلیم سب سے اوپر ترجیحات میں شامل نہیں ہیں-اور ان کی بجائے آپ کو بس اپنی پبلسٹی سے غرض ہے-بھلا بنیادی ھیلتھ کے مراکز کو فنڈ دینے سے ،یا کارڈیالوجی کے فنڈ جاری کرنے سے کیا مشہوری ہوگی-مغل بادشاہوں کی طرح کوئی میگا پروجیکٹ جس کی افادیت یہ ہو کہ وہ عوام کی جان اور ان کی تہذیب سے زیادہ اہم ہو-لوگ مرتے ہیں تو مرجائیں-مگر ان کو نابغہ اعظم ضرور کہلوانا ہے-

بس یہی کچھ تو تھا جو یہ ینگ ڈاکٹرز شہباز شریف کے حضور پیش کرنا چاہتے تھے-اور “بڑے بنتے تھے جالب صاحب-پٹے سڑک کے بیچ”والا معاملہ ہوگیا-یہ اسی کی دہائی کا وسط ہوگا جب شریف برادران کے روحانی باپ نے مال روڈ پر عین بولنٹن مارکیٹ کے سامنے عورتوں کے ایک جلوس پر لاٹھی چارچ کیا تھا اور جالب صاحب جو ان عورتوں سے اظہار یک جہتی کرنے پہنچے ہوئے تھے کو بھی پولیس نے نہ بخشا-اور وہ بھی خوب پٹے-اور انہوں نے اس پر ایک نظم بھی لکھی-ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ پی پی پی کے شوکت بسراء بھی تھے ان کی تواضع بھی ٹھڈوں،تھپڑ اور ڈنڈوں سے ہوئی-اور شہباز شریف کے احکامات کی روشنی میں جذبہ خدمت سے سرشار پنجاب پولیس کے نام نہاد مردوں نے لیڈی ینگ ڈاکٹرز اور ان سے اظہار یک جہتی کے لیے آنے والی عورتوں پر بھی سخت تشدد کیا-پردھان منتری پنجاب اس کو ٹھیک خیال کرتے ہیں-ان کا خیال ہے کہ ان نوجوان بچوں اور بچیوں نے قومی وقار مجروح کیا ہے-جس کی سزا ان کو ملنی چاہئے-

قومی وقار ہے کیا؟جو کسی کی حماقتوں کا پردہ چاک کرنے پر مجروح ہوجاتا ہے؟جو شائد اس لیے بھی مجروح ہوجاتا ہے کہ وہ ایک ہٹلر کے “نقاب خادمیت “کو نوچ کر پھینک دیتا ہے-اور یہ بھی دکھاتا ہے کہ “ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور”

جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو خبر آئی ہے کہ پولیس تشدد سے کا نشانہ بننے والی خاتون ڈاکٹر جویریہ  اور دیگر پھر سے دھرنے میں شریک ہوگئے ہیں-اور اس دھرنے میں اب ینگ ڈاکٹرز کے گھروں کے افراد اور عام شہری بھی بڑی تعداد میں شامل ہورہے ہیں-اور سب شہباز ہٹلر کے نازی ازم کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ “مفت علاج “کا نعرہ لگا رہے ہیں-ایک صحافی کا کہنا ہے کہ “شہباز نازی کی میٹرو بس میں اشرافیہ سوار ہے اور افتادگان خاک وہاں سروسز ہسپتال کے سامنے جمع ہورہے ہیں”

یہ تو شاہ ایران کے جشن ترقی اور ایوب کے “جشن عشرہ ترقی “کے دنوں حیسا سماں پیدا ہوگیا ہے-میٹرو بس میں سوار اشرافیہ کو ہر طرف سے لعن طعن کا سامنا ہے-

شہباز (شاہ رضا)تمہاری ساواک پولیس کا جبر کس کام آیا ؟مظلوموں کے دلوں سے تمہارا خوف نکل گیا-اور آج لاہور اور اس کے باسی بھی تقسیم ہوگئے-ایک طرف میٹرو بس میں سوار امراء اور دوسری طرف مال روڈ پر جمع “افتادگان خاک”

نواز شریف کو دشمنوں کی کیا ضرورت ہے-تم جیسے دوست جس کے ہوں –اس کو بربادی کے لیے آسمان سے عدوات کی ضرورت کیا ہے؟

نوجوان ڈاکٹرز کی ہمت کو سرخ سلام-ان کے نعرے “مفت علاج “کے لیے حمایت بے شمار اور فسطائیت پر لعنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شمار