Featured Original Articles

Aap kahin Takfiri khariji tau nahi hain – Maulana Sherani

Molana Sheraniمولانا محمد خان شیرانی جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے امیر، سینیٹر اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ہیں، دور حاظر میں جہاد کے نام سے فی سبیل اللہ فساد کی تحریکوں کے شدید ناقِد ہونے کے باعث ان پر دو قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں، ایک حملے میں افغان طالبان کے کمانڈر داداللہ خیرخواہ نامزد کیے گئے جو بعد میں ایک امریک آپریشن میں مارے گئے۔ایڈیٹر

کیا فتوٰی دینے کے لیئے جذبہ کافی  ہے کہ جذبہ اُٹھا، فتوٰی جڑدیا۔ اللہ اللہ خیرصلّا. نہ کِتاب کی ضرورت ہے نہ مُطالعے کی، نہ کِسی سے پُوچھنے کی اور تحقیق کی ضرورت ہے، یہاں تک کہ کُفر کے فتوے پکوڑے پکانے والے بھی لگاتے ہیں جو سب سے مُشکِل ترین فتوٰی ہے آپ تانگے والے سے پُوچھیں رِکشے والے سے پُوچھیں، استنجا کرنے کے آداب کیا ہیں وہ کہیں گے میں مولوی تو نہیں ہوں ٹپ ہمارے مولوی صاحب کے پاس تشریف لے جائیں لیکن جب بات فتوے کی آتی ہے تو اگر قاضیُ القضاۃ بھی اُس کے سامنے آئے گا اُس کو بھی کہے گا کہ تم کافر ہو، تو جو مُشکل ترین فتوٰی ہے وہ ہم نے آسان ترین بنادیا اور جو آسان ترین فتوٰی ہے مسائل ہیں اُن کو مُشکل ترین بنادیا یہ کردار ادا کرکے کیا ہم نے اُمّت کی خِدمت کی ہے؟ تو میں پُوچحتا ہوں کہ یہ فتوے کِس چیز کے لگتے ہیں یہ جو ہم فتوے لگاتے ہیں اور اُمّت کا بیڑا غرق کررہے ہیں

آپ غور کریں یعنی ایک عالم جو بہت برا آدمی بنے گا تو زیدہ سے زیادہ مُجتہد بنے گا نبی تو نہیں بن سکتا کہ اِس کے قول پر عمل کرنا تمام اِنسانیت کے لئے فرض ہو تو جب وہ مُجتہد ہوگا اور تمام فُقہاء لِکھتے ہیں کہ مُجتہد کے لئے اپنے اِجتہاد پرعمل واجب ہے تحمیل، یعنی دوسروں کو پابند بنانا اس کا حق نہیں

تو آج اگر یہ عُلماء اپنے عمل پر خود عمل کریں اور دوسروں پر مُسلّط نہ کریں توکیا ان فتووَں کی نوبت آئے گی؟ اور جو حضرات چھوٹی باتوں پر فتوے لگاتے ہیں یہ پہلے اپنی وضاحت بھی تو کرین کہ کہیں یہ خارجی تو نہیں ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ گُناہ کبیرہ کا مُرتکِب ایمان سے خارِج ہوجاتا ہے کہیں آپ مُعتزلی تو نہیں ہیں جہ کہ گُناہ کبیرہ سے انسان کو ایمان سے خارِج اور کُفر میں غیرداخل یعنی کفر اور اسلام کے درمیان سمجھتے ہیں، آپ اہلِ حدیث یعنی سلفی تو نہیں کہ اعمال کو جُزوِایمان سمجھتے ہیں

یہ جو آپ تاَثُر دیتے ہیں کے ہم مسئلے میں بھی حنفی اور عقیدے میں بھی حنفی ہیں لیکن آپ کا فتوٰی تو حنفی کا فتوٰی تونہیں یا تو پھرآپ اپنے عقیدے کی وضاحت کریں بعد میں کوئی اپ کی بات مانے یا نہ مانے

 کیوں کہ بعض عُلماء ایسے بھی ہیں کہ مسئلے میں ایک مسلک کے تابع ہیں عقیدے میں دوسرے مسلک کے۔ امام زمحشری کے بارے میں عُلماء لکھتے ہیں اورانہوں نے خودکتابیں بھی لکھی ہیں، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کے موازنے پر تو مسئلے میں وہ حنفی ہیں اور عقیدے میں مُعتزلی ہے قاضی عبالجبّار مسئلے میں توشافعی ہیں لیکن عقیدے میں معتزلہ کا امام ہے

آپ کو معلوم ہے کہ جب بھی اسلام کا زوال ہوا ہے تو وہ اس لئے کہ علماء نے فتوٰی بازی شروع کی آپ کو معلوم ہوگا کہ بغداد میں اہلِ حدیث کہلانے والے حنابلہ اور شوافع کے درمیان خون بہا، کتنی آبادیاں اُجڑ گئیں اور کتنی تباہیاں ہوئیں، لہٰذا ہم دوسروں سے کیا گلہ کریں ہمیں تو اپنے کردار و اعمال پر توجّہ دینی چاہئے۔

اقتباسات از خطاب مولانا محمد خان شیرانی، ماہنامہ الجمعیۃ راولپنڈی ستمبر، اکتوبر ۲۰۰۹