Original Articles

شیعہ مسلک کے جواز کے متعلق جامعہ الازہر مصر کے مفتی اعظم شیخ محمود شلتوت کا فتویٰ – از عبدل نیشاپوری

Summary: Sheikh Mahmoud Shaltut, Grand Imam of Al Zhar University (Cairo, Egypt) was a great champion of unity between Sunni Muslims and Shia Muslims. He issues a fatwa in which he declared that in addition to four Sunni Mazahib (Hanafi, Maliki, Shafi’i, Hanbali), Shia Jafari Isna Ashari (Twelver) Mazhab is an equally valid and respectable school within Islamic faith. For details of his fatwa in English, see this post: https://lubpak.net/archives/233379

 

جامعہ الازہر مصر کے بزرگ عالم دین شیخ محمود شلتوت – شیعہ سنی اتحاد کے علمبردار

دو نمایاں اور ممتاز شخصیتیں جن میں ایک اپنے زمانے کے عظیم فقیہ، شیعوں کے عظیم الشان مرجع تقلید اور ماضی قریب کے ادوار میں عدیم المثال مذہبی پیشوا حضرت آیت اللہ العظمی بروجردی تھے اور دوسری شخصیت اہل سنت کے با عظمت فقیہ اور مفتی اعظم، الازہر یونیورسٹی کے شجاع اور جدید افکار کے حامل علامہ شیخ محمود شلتوت کی ہے۔ آيت اللہ بروجردی مرحوم مصر کے “دار التقریب” ادارے کے بانیوں میں تھے۔ شیخ شلتوت مرحوم بھی اسی طرح “دار التقریب بین المذاہب” ادارے کے بانیوں میں تھے۔ یہ تقریب (اسلامی مکاتب فکر کو ایک دوسرے کے قریب لانا) شیعہ اور سنی علما دونوں کا فریضہ ہے۔

جامعہ الازہر مصر کے بزرگ عالم دین شیخ محمود شلتوت نے فقہ حنفی، فقہ شافعی، فقہ مالکی اور فقہ حنبلی کے ساتھ فقہ جعفریہ پر عمل کو درست قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعت اپنے کردار، اقدار اور عالمی سیاسی دینی قائدین کے عنوان سے اعلٰی حیثیت کا حامل مکتب ہے، جبکہ استعماری ایجنٹوں کی کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان شیعہ، سنی اختلافات کو ہوا دی جائے۔ لہٰذا بعض لوگ جنکی مذہب شیعہ اور اہل سنت میں کوئی حیثیت ہی نہیں مناظرہ کیلئے ایک دوسرے کو للکارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

شیخ محمد شلتوت ١٨٩٣ء میں علم وتمدن کی سرزمین ”مصر” کے ایک مذہبی، علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ باپ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا اور ماں کی آغوش تربیت میں پروان چڑھتے رہے۔ ابتدائی تعلیم گھر ہی پر حاصل کی اور اعلی تعلیم کیلئے ”اسکندریہ یونیورسٹی” میں داخل ہوئے۔ ١٢ سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے اور ١٩١٨ء میں ممتاز حیثیت کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئے اور ١٩١٩ء میں ممتاز حیثیت کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئے اور ١٩١٩ء سے ١٩٣٨ء تک تک یہیں تدریس کے فرائض بھی انجام دیتے رہے۔

١٩٣٩ء میں مصر کی معروف درسگاہ اور عالم اسلام کے عظیم اسلامی مرکز یعنی ”جامعة الازھر” کے سرپرست علامہ شیخ مصطفی مراغی نے آپ کو ”جامعة الازھر” میں پڑھانے کی پیشکش کی جسے آپ نے خوشی سے قبول کر لیا اور پھر ١٩٥٨ء میں علامہ مراغی کی وفات کے بعد آپ کو اس مایہ ناز درسگاہ کے سرپرست کے طور پر منتخب کیا گیا۔

آپ کے اساتذہ ہیں علّامہ شیخ عبد المجید سلیم، علامہ محمد مصطفٰی مراغی اور استاد شیخ الجیزاوی جیسے نابغہ روزگار اور برجستہ افراد تھے۔ اور شاگردوں میں مصر کے معروف ادیب اور قلمکار عباس محمود عقاد اور شیخ علی عبد الرزاق کا نام لیا جاسکتا ہے۔ (
٣)

اگر چہ آپ ایک نابغۂ عصر عالم اور ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے اور آپ نے علمی، تحقیقی، ادبی، ثقافتی، سیاسی اور… تمام میدانوں میں نمایاں کام انجام دئیے لیکن یہاں صرف ایک منادی وحدت کے عنوان سے آپ کی شخصیت، مجاہدانہ زندگی اور اتحاد بین المسلمین کیلئے آپ کی کاوشوں اور کوششوں پر مختصر روشنی ڈالنا مقصود ہے۔

اسلامی اتحاد

آپ فرماتے ہیں کہ ”دینی اخوت وبرادری مسلمانوں کے دلوں میں ایک ایسا مضبوط رشتہ بر قرار کرتی ہے کہ سب مسلمان اپنے کو ایک گھر کے افراد کی طرح دیکھتے ہیں۔ ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی خوشی میں خوش اور اس کے رنج والم کی وجہ سے غمگین واندوہ ناک ہوتا ہے۔ اگر راستہ بھٹک جائے تو اسے راہ راست پر لاتا ہے اور اگر غفلت کا شکار ہو جائے تو اسے خواب غفلت سے بیدار کرتا ہے” (٤) ”مَثَلُ المُؤمِنِینِ فِی نَوَاددھم وتراحھم وَطعاطفھم مثل الجسد اذا شتکی منہ عضو نداعی لہ سائر الجسد بالسّھر والحمٰی” (٥) تمام مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کہ جب جسم کا کوئی بھی حصّہ درد میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسرے اعضاء بیقرار ہو جاتے ہیں۔

محور اتحاد
اگر تعصب کی عینک اتار کر اسلامی مذاہب کے عقائد ونظریات کو دیکھا جائے تو تمام مسلمان اکثر مسائل میں اتفاق نظر رکھتے ہیں صرف بعض مسائل ہیں جن میں جزئی اختلاف پایا جاتا ہے۔ توحید، نبوت، معاد، قرآن، قبلہ اور دوسری تمام بنیادی چیزیں ایسی ہیں جن میں تمام مسلمان مشترک ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان اختلاف کا شکار ہو گئے ہیں۔

علامہ محمود شلتوت فرماتے ہیں: قرآن تمام مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا محور ہے تمام مسلمان اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور سورہ آل عمران میں خداوند متعال فرماتا ہے:”واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا” قرآن مسلمانوں کو اتحاد کرنے اور اختلاف وافتراق سے دوری کی دعوت دیتا ہے” (٦)

عوامل اتحاد

شیخ محمود شلتوت دو چیزوں کو اتحاد بین المسلمین کیلئے بہت اہم سمجھتے ہیں۔ ١۔تعصب سے دوری: اسلامی مذاہب کے علما ء اگر بے جا تعصب کو ترک کریں اور انصاف و عدالت کی نگاہ سے ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کریں تو اتحاد اور یکجہتی میں کافی موثر ہے اس لئے کہ مسلمانوں میں اختلاف کی ایک وجہ ایک دوسرے کے نظریات و اعتقادات سے عدم آگاہی ہے۔ ٢۔علمائے دین :اتحاد کا دوسرا اہم عامل مسلمان علماء ہیں جو اختلاف کے نقصانات اور اتحاد کے فوائد کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کی وحدت میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں …اسلئے کہ علماہی ہیں جو لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب اور اکٹھا کر سکتے ہیں اور اسلام ومسلمین کے عالمی دشمنوں کے مقابلے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے زمانے میں بہت سے سنی اور شیعہ علماء کو خطوط لکھے، ملاقاتیں کیں اور ان کو اتحاد واتفاق کی دعوت دی ۔

انجمن تقریب مذاھب اور شیخ محمود شلتوت

١٩٤٨ء میں مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں اسلامی مذاہب کے اتحاد کے لئے ”انجمن تقریب مذاہب اسلامی” تشکیل پائی جسمیں علامہ شیخ محمود شلتوت پیش پیش تھے۔ اس انجمن کے سلسلے میں آپ فرماتے ہیں کہ ” یہ ایک ایسی مقدس جگہ ہے جہاں ایک مصری، ایرانی، لبنانی، عراقی اور پاکستانی ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور شافعی، حنبلی، حنفی، زیدی اور جعفری (شیعہ) ایک میز کے اردگرد بیٹھ کر ایک زبان اور ایک آواز ہوکر اخلاق، تصوف، عرفان اور تمام دینی ومذہبی مسائل پر گفتگو کرتے ہیں اور اسلام ومسلمانوں کی سربلندی کی خاطر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کام کرتے ہیں (٧)

علامہ محمد تقی قمی شیخ محمود شلتوت کے اس انجمن کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں فرماتے ہیں: شیخ محمود شلتوت ١٧سال تک اس انجمن کے ممبر تھے اور شیعہ سنی اتحاد کیلئے ہر وقت کوشاں رہتے تھے۔

علامہ شلتوت کا شیعہ علماء سے رابطہ:

اتحاد بین المسلمین کے سلسلے میں علامہ شیخ محمود کی کاوشوں میں ایک شیعہ علماء سے آپ کی گہری دوستی اور رابطہ تھا جن میں آیة اﷲ محمد حسین بروجردی، آیة اﷲ محمد حسین کاشف الغطا، علامہ محمد تقی قمی اور دوسرے بہت سے علماکا نام لیا جاسکتا ہے ۔
آیة اﷲ بروجردی سے آپ کو بہت گہرا لگاؤ تھا۔ آپ کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے اور مسلسل خط وکتابت کے ذریعہ مختلف اسلامی مسائل پر آپ سے بحث ومباحثہ بھی فرماتے تھے۔ مثلاً آیة اﷲ بروجردی کی طرف ایک خط میں تحریر فرماتے ہیں:

” آپ پر خدا کا درود وسلام ہو، خدا سے ہمیشہ آپ کی صحت وسلامتی کا طالب ہوں اور خدا سے خواہاں ہوں کہ یہ جلیل القدر شخصیت ہمیشہ مسلمانوں کیلئے خیر وبرکت اور اتحاد ویکجہتی کا سبب بنے۔ خدا آپ کو طول عمر عطا فرمائے اور اپنی نصرت ومدد کے ذریعہ آپ کو عزت بخشے۔” (٨)

اسی طرح بیت المقدس میں سنی شیعہ علماء کی ایک کانفرنس کے موقع پر تمام علما نے شیعہ عالم دین آیة اﷲ محمد حسین کاشف الغطا کی امامت میں با جماعت نماز پڑھی جسمیں آپ بھی شامل تھے۔

شیعہ، سنی علما کے اس حسین اتحاد کی منظر کشی آپ ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ: کیا حسین وجمیل لمحہ ہے کہ مسلمان فرقوں کے علماء بیت المقدس (مسجد اقصیٰ) میں جمع ہوئے اور ایک نے شیعہ مجتہد اور صاحب شرف وعزت استاد شیخ محمد حسین آل کاشف الغطا کی امامت میں نماز جماعت پڑھی۔ شیعہ سنی اختلاف سے قطع نظر اور ایک صف میں کھڑے ہوکر جو سب کے سب ایک خدا کو ماننے والے اور ایک قبلہ کی طرف رخ کرنے والے ہیں۔” (٩)

تاریخی فتوا

اتحاد بین المسلمین کی خاطر آپ نے جو سب سے بڑا جہاد کیا وہ آپ کا وہ تاریخی فتوا تھا جسمیں آپ نے تمام مسلمانوں کو دوسرے چار مذاہب (حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی) کی طرح مذہب جعفری کی پیروی کی بھی دعوت دی اور فقہ جعفری کے مطابق عمل کو جائز قرار دیا جسے تمام سنجیدہ علمانے کھلے دل سے قبول کیا اور پورے عالم اسلام میں اس کا استقبال کیا گیا۔

آپ سے شیعہ اور زیدی مذہب کی پیروی کے سلسلے سوال کیا گیا جسکے جواب میں آپ نے فرمایا:

” اسلام نے اپنے ماننے والوں کو کسی خاص فرقے کی پیروی پر مجبور نہیں کیا ہے بلکہ ہر مسلمان اس فرقے کی پیروی کر سکتا ہے جو صحیح طریقے سے نقل ہوا ہے اور اس کے احکام خاص کتابوں میں مدون ہوئے ہیں ۔جو شخص ان چار مذاہب میں کسی ایک کا پیرو ہو وہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے مذہب کی پیروی کر سکتا ہے۔ اور مکتب جعفری جو شیعہ اثنا عشری کے نام سے مشہور ہے اس کی پیروی بھی اہل سنت کے مذاہب کی طرح جائز ہے۔ اس لئے مسلمانوںکو چاہئیے کہ اس حقیقت کو درک کریں اور کسی خاص مذہب کی پیروی میں تعصب سے پرہیز کریں اس لئے کہ خدا کا دین اور اس کی شریعت کسی خاص مکتب میں منحصر نہیں ہے۔ ” (١٠)

ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺷﻠﺘﻮﺕ ﮐﺎ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻓﺘﻮﯼ
ﺷﯿﺦ ﺷﻠﺘﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﻓﺘﻮﮮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ:
“ﺍﻥّ ﻣﺬﮨﺐ ﺍﻟﺠﻌﻔﺮﯾﮧ ﺍﻟﻤﻌﺮﻭﻑ ﺑﻤﺬﮨﺐ ﺍﻟﺸﯿﻌﺔ ﺍﻻﻣﺎﻣﯿﺔ ﺍﻻﺛﻨﺎ ﻋﺸﺮﯾﮧ، ﻣﺬﮨﺐ ﯾﺠﻮﺯ ﺍﻟﺘﻌﺒﺪ ﺑﮧ ﺷﺮﻋﺎً، ﮐﺴﺎﺋﺮ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﺍﮨﻞ ﺍﻟﺴﻨﺔ، ﻓﯿﻨﺒﻐﯽ ﻟﻠﻤﺴﻠﻤﯿﻦ ﺍﻥ ﯾﻌﺮﻓﻮﺍ ﺫﻟﮏ، ﻭ ﺍَﻥ ﯾﺘﺨﻠّﺼﻮﺍ ﻣﻦ ﺍﻟﻌﺼﺒﯿﺔ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﻟﺤﻖ ﻟﻤﺬﺍﮨﺐ ﻣﻌﯿﻨﺔ، ﻓﻤﺎ ﮐﺎﻥ ﺩﯾﻦ ﺍﻟﻠﻪ ﻭ ﻣﺎ ﮐﺎﻧﺖ ﺷﺮﯾﻌﺘﮧ ﺑﺘﺎﺑﻌﺔ ﻟﻤﺬﮨﺐ، ﺍﻭ ﻣﻘﺼﻮﺭﺓ ﻋﻠﯽ ﻣﺬﮨﺐ، ﻓﺎﻟﮑﻞّ ﻣﺠﺘﮩﺪﻭﻥ ﻣﻘﺒﻮﻟﻮﻥ ﻋﻨﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﯾﺠﻮﺯ ﻟﻤﻦ ﻟﯿﺲ ﺍﮨﻼً ﻟﻠﻨّﻈﺮ ﻭ ﺍﻻﺟﺘﮩﺎﺩ ﺗﻘﻠﯿﺪﮨﻢ ﻭ ﺍﻟﻌﻤﻞ
ﺑﻤﺎ ﯾﻘﺮّﺭﻭﻧﮧ ﻓﯽ ﻓﻘﮩﮩﻢ، ﻭ ﻻ ﻓﺮﻕ ﻓﯽ ﺫﻟﮏ ﺑﯿﻦ ﺍﻟﻌﺒﺎﺩﺍﺕ ﻭ ﺍﻟﻤﻌﺎﻣﻼﺕ[55]” – “ﻣﺬﮨﺐ ﺟﻌﻔﺮﯼ ﺟﻮ ﺷﯿﻌﮧ ﺍﺛﻨﺎ ﻋﺸﺮﯼ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻋﺘﻘﺎﺩ ﺭﮐﮭﻨﺎﺳﻨﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﻠﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻻﺯﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺁﮔﺎﮨﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺟﺎ ﺗﻌﺼﺐ ﺍﻭﺭ ﻋﻨﺎﺩﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻓﺘﺎﻭﮮ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺟﻮ ﺧﻮﺩ ﻣﺠﺘﮩﺪ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﺮﻧﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﻘﮧ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺩﺭﺝ ﮐﺌﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ”۔

ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﺍﺳﺎﺗﺬﮦ ﺍﻭﺭ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻔﮑﺮﯾﻦ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻓﺨﺎﻡ ﺟﺎﻣﻌﺔ ﺍﻻﺯﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺑﻖ ﺍﺳﺘﺎﺩ ،ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺒﺨﺎﺭﯼ، ﻗﺎﮨﺮﮦ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﮯ ﻣﺘﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻔﺘﺎﺡ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻘﺼﻮﺩ ﻣﺼﺮ ﮐﮯ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﻣﻮٴﻟﻒ ﻭ ﻏﯿﺮﮦ ﻧﮯ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻓﺘﻮﮮ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮐﯽ ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺷﯿﺦ ﻓﺨﺎﻡ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ “ﺧﺪﺍ ﻭﻧﺪ ﻣﺘﻌﺎﻝ ﺷﯿﺦ ﺷﻠﺘﻮﺕ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﺮﮮ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﺍﮨﻢ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺬﮨﺐ ﺷﯿﻌﮧ ﺍﺛﻨﺎ ﻋﺸﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﻓﻘﮩﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﻭ ﺳﻨﺖ ﮐﮯ ﺩﻻﺋﻞ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ”۔

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ: “ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﺘﻮﯼ ﻣﺬﮨﺐ ﺍﺭﺑﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺷﻠﺘﻮﺕ ﮐﮯ ﻓﺘﻮﮮ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺷﯿﺦ ﺷﻠﺘﻮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻭﻣﺠﮩﺘﺪ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﻋﯿﻦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ”۔

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻔﺘﺎﺡ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻘﺼﻮﺩ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ: “ﻣﺬﮨﺐ ﺷﯿﻌﮧ ﺍﺛﻨﺎ ﻋﺸﺮﯼ ﺍﺱ ﻻﺋﻖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻨﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﺎﻟﮏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ، ﺳﻨﯽ ﻣﺬﮨﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻤﻞ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺐ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺴﻠﮏ ﮐﯽ ﭘﯿﺮﻭﯼ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﻭﺑﺮﺗﺮ ﮨﻮ ،ﺟﺐ ﮨﻤﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﯿﻌﮧ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﺍﺻﻞ ﻣﻨﺒﻊ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺩﯾﻦ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﮭﮯ

(COMPARATIVE FIQH CHAIR)
فقہ مقارن کرسی کی بنیاد

اسلامی اتحاد کے سلسلے میں آپ کی کوششوں میں ایک لائق صد تحسین کوشش ”جامعة الازھر” میں فقہ کے تقابلی مطالعہ اور مباحثہ کی بنیاد ہے جسے فقہ کی اصطلاح میں ”فقہ مقارن” کہا جاتا ہے۔ جسمیں استاد تمام فقہی مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرتا ہے اور طلباکو اسی روش کے مطابق درس دیتا ہے۔ اس میں تمام مذاہب کے مشترکات اور اختلافات کو مدنظر رکھا جاتا ہے مشترکات کو الگ کرکے اختلافات میں تمام مذاہب کے دلائل کی تحلیل اور تجزیہ کیا جاتا ہے ۔پھرجس مذہب کی دلیل قوی اور محکم ہوتی ہے اسے اخذ کیا جاتا ہے۔

علامہ شیخ محمود شلتوت نے تمام مذاہب کے فقہی نظریات کے مطالعہ کیا اور اپنی تحلیل کی روشنی میں بہت سے فقہی نظریات کو فقہ جعفری سے لیا ہے اور انہیں دوسرے تمام مذاہب فقہی پر برتری دی ہے جن میں تین طلاق کا حکم، طلاق معلق کا حکم، رضاعت (دودھ پلانے) کا مسئلہ اور دوسرے مسائل قابل ذکر ہیں۔ (١١) اس کے علاوہ آپ کے بہت سے مجاہدانہ کارنامے ہیں جن کے ذریعہ آپ نے تا دم حیات مسلمانوں کے درمیان اخوت وبرادری پیدا کرنے اور اختلاف کو دور کرنے کی کوشش کی اور زندگی کا ایک ایک لمحہ خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ٢٧، رجب ١٣٨٣ء کو اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔

١۔ سورہ حجرات آیہ ١٠ ، ٢۔کلمات قصار از رسول اکرمۖ ،٣۔ شیخ شلتوت آیت شجاعت ص١٥ تا ٢٣ ، ٤۔ الاسلام عقیدة والشیعة ص٤٤٥ ، ٥۔ نہج الفصاحة ح ١١٣٩، ٦۔ شیخ شلتوت آیت شجاعت ص٥٢، ٧۔ مردم ودین ص١٦، ٨۔ شیخ شلتوت آیت شجاعت ص٧٥، ٩۔ شیخ شلتوت طلایہ دار تقریب ص٤١، ١٠۔ شیخ شلتوت آیت شجاعت ص ٨٠، ١١۔ شیخ شلتوت آیت شجاعت ص٨٥

Sources:

http://alhaider.net/index.php?option=com_content&view=article&id=116&Itemid=35

http://www.azannet.com/index.php?option=com_content&view=article&id=120:2010-01-15-21-52-21&catid=112:2010-01-15-21-08-50&Itemid=50

http://www.shiastudies.com/library/Subpage/Book_Matn.php?syslang=4&id=569&id_matn=24692

About the author

Abdul Nishapuri

9 Comments

Click here to post a comment
  • Shia Sunni Unity is the need of time.

    Those Shia, Sunni, Deobandi, Wahhabi who want others to follow their beliefs or declare other sects as Kafir or Biddati are enemies of Islam.

  • شیعہ شناسی کے مختلف مطالعاتی طریقے

    اس مقام پر اپنی گفتگو کو ختم کرنے سے پہلے دوبارہ اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ ہماری اس روش تحقیق کے جو تین مراحل ہیں ان میں ترتیب کا لحاظ ضروری ہے تاکہ شیعیت کے بارے میں وہابی تحقیق کی اصلاح ہوسکے اور اہل سنت و وہابیت کی تحقیق کا اختلاف آشکار ہو جائے۔
    اگر شیعیت کے بارے میں وہابی اور سنی تحقیق کوایک دوسرے سے مقایسہ کریں تو سنی تحقیق کی کامیابی کا راز ، ان کا شیعہ اور غالی کے درمیان فرق جاننا ہے۔
    یہ مرحلہ بے انتہا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس مرحلہ میں ان غلط افکار کی اصلاح ہوگی، جنھیں وہابیوںنے مذہب تشیع سے منسوب کیاہے اور پھر خود وہابیوں کی اصلاح ہوگی، تاکہ وہ صحیح روش کے تحت مذہب تشیع کو پیش کریں، جس کے نتیجہ میں ان کے مطالعہ کا طور طریقہ ،علمی بنیاد پر استوار ہوگا اور چونکہ معاصر سنی علماء نے گذشتہ علماء کی پیروی کی اورانھیں خلط مباحث کے عواقب سے بطور کامل شناخت تھی اس لئے ان کے یہاںامامیہ کے حقائق کی تفسیر وہابی تفسیر سے جدا نظر آتی ہے. اور واضح طور پر انھوں نے شیعیت کے بارے میں وہابی تفسیر کو مستردکیا جانا ہے انھوں نے کچھ علمی معیار و قواعد قرار دیئے ہیں جن کا کسی بھی تفسیر اور تحقیق سے پہلے جانناایک وہابی شخص کے لئے لازم ہے۔
    لہٰذا اس مرحلہ کا مطالعہ ضروری ہے تاک عام سنی وہابی نہ ہوجائیں اورخود وہابی اس مرحلہ میں جو شیعی حقائق میں بغیر دقت کے شیعہ مذہب کے خصوصیات سے واقف نہیں ہوسکتے۔
    ہم قارئین او روہابیوں سے امید رکھتے ہیں کہ وہ اس حصہ کا دقیق او رتفصیلی مطالعہ کریں تاکہ انھیں مطلوب نتیجہ حاصل ہو، کیونکہ مذہب امامیہ کے حقائق کی تفسیر میں تمام غلطیوں کا سرچشمہ، اس مرحلہ کا صحیح طور پر نہ سمجھنا ہے۔
    اس حصہ کے پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شیعہ شناسی سے مربوط مطالعات میں تبدیلی پیدا کریں اور اس روش کا انتخاب کریں جسے معاصر اور گذشتہ سنی علماء نے اختیار کیا ہے۔
    میںنے زمانہ وہابیت میں شیعیت کی تکفیر میں ایک کتاب بنام ”الصلة بین الاثنی عشریة و فرق الغلاة” لکھی (جس میں تشیع و غالیوں کو یکساں قرار دیا) جو شیعیت اور غالیوں کے درمیان فرق نہ جاننے، اور شیعہ شناسی میں فقط وہابی کتب سے مدد لینے کا نتیجہ ہے اسی لئے تشیع کی شناخت کے لئے میںنے اس اہم مرحلہ کو سب سے پہلے قرار دیا ہے. میں نے وہابیت کے زمانہ میں تمام جاہل افسانوں، صوفی، مجوسی اور بت پرستوں کے خود ساختہ خرافات اور غالی افکار کو شیعیت سے نسبت دی اور انھیں مذکورہ کتاب میں تفصیلی طور سے درج کیا ہے۔١
    (١)میں وہابیت کے زمانہ میںاس وہم کا شکار تھا کہ غالیوں میں جس قسم کا بھی غلواور شرک پایا جاتا ہے وہی شرک وغلو شیعیت میں بھی موجودہے لیکن بحمد اللہ شیعہ کتب (جس میں غلو شرک سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں) کا مطالعہ کرنے کے بعد ان دو فرقوں میں فرق واضح ہوا اور اس وہم کو میں نے کتاب (دیدگاہ شیعہ دربارۂ غلو و غالیان) میں ذکر کیا ہے۔
    میں ہمیشہ یہ سمجھتا تھا کہ شیعوں کی طرف ان امور کا نسبت دینا صحیح ہے، لیکن جس وقت میں نے اس مرحلہ پر توجہ کی تو اپنی غلطی کا احساس ہوا اورا س خطا کی اصلاح کے نتیجہ میں میرے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوئی کہ ان باتوں میں جو شیعوں میں نہیں پائی جاتیں، لیکن ان کی طرف منسوب ہیں اور ان باتوں میں جوان میں پائی جاتی ہیں جبکہ ان کی طرف ان کی نسبت نہیں دی جاتی ، فرق پیدا کرسکو، لہٰذا میں نے مذکورہ کتاب کو طبع ہونے سے کچھ دن پہلے ہی جلا ڈالا۔
    اس دوران میں معتقد تھا کہ شیعہ کو مجوسی ، یہودی یاصوفی کہا جاسکتا ہے١ لیکن اب میرا نظریہ بدل چکا ہے اوران عناوین کے مصداق شیعہ نہیں، بلکہ غالی فرقے ہی ہیں، اس مرحلہ کو سمجھنے کے بعد، میںنے تحقیقات میں وہابی روش کوترک کر کے، معاصر اور گذشتہ سنی علماء کی روش کواختیار کیا، جس کے نتیجہ میں میرا یہ قدم شیعیت کے متعلق میرے نظریہ کو بدلنے میں مفید ثابت ہوا اور مجھے شیعیت اور غالیوں میں خلط مباحث سے چھٹکارا ملا۔
    بلاشک و شبہہ مجھے اس بات کا یقین ہے کہ میں جن فکری مشکلات میں گرفتار تھا اس کی وجہ اس زمانے کے فکری حالات و اسباب تھے. میںنے اپنی پڑھائی یمن کے دارالحکومت شہر صنعاء کے ایک وہابی مدرسہ میں کامل کی، جن کا کام ہی اہل تشیع
    (١) مصنف نے اس مقام پر کلمۂ عنوصیہ سے استفادہ کیاہے. گنوسیسم ایک صوفی فلسفی مکتب ہے جس میں خدا کی شناخت ، باطنی اور روحانی معرفت پر استوار ہے. اور یہ مکتب پہلی و دوسری عیسوی میں مشہور ہوا گویااس کلمہ سے مصنف کی مراد صوفی فرقے ہیں۔
    کے بارے میں کتابیں چھاپنااور انھیں نشر کرنا تھا اور ان تمام کتابوں کے مصنفین وہ افراد تھے کہ جو شیعہ اور غالی کوایک جانتے تھے ، جس کے نتیجہ میں شیعہ اور غالی افکار کو ایک دوسرے میں مخلوط کرتے اور شرک آمیز افکار کو شیعیت سے منسوب کرتے تھے۔
    ان کتابوں کا مجھ پر کافی اثر ہوا اور اس مدرسہ میں صرف انھیں کتابوں کو چھاپنے کی اجازت تھی کہ جنھیں وہابی روش پر لکھا جاتا اور وہ کتابیں جو شیعیت کی شناخت میں سنی روش پر لکھی جائیں ان کے نشر کرنے کی اجازت نہ تھی۔
    کچھ مدت بعد مجھے فرصت ملی اور میںنے شیعیت کے متعلق سنی کتب کا مطالعہ کیاجس پر بے حدتعجب ہوا، کیونکہ میںنے ان کی روش تحقیق میں وہابیوں کی بہ نسبت بنیادی فرق پایا۔
    اہل تسنن آگاہ ہیں کہ شیعہ کو غالی کے مساوی قرار دینا ایک بہت بڑی غلطی ہے اسی لئے انھوں نے شیعیت کے بارے میں وہابی تحقیق کو تنقیدکا نشانہ بنایاہے اوروہ معتقد ہیں کہ وہابی کتب کے ذریعہ ذرہ برابر شیعیت کے حقائق کونہیں سمجھا جاسکتا۔
    دور حاضر کے سنی مصنف استاد حامد حنفی١ اس بارے میں فرماتے ہیں:
    ایک طولانی مدت سے أئمہ (ع) کے عقائدکا بطور خاص اور شیعہ عقائد کا بطور عام ،ان کتب کے ذریعہ مطالعہ کر رہا تھا ،کہ جنھیں اس مذہب پر تنقید کرنے والوں نے تحریر کیا ہے، لیکن ان تمام کتابوں کا مطالعہ کرنے کے باوجود کسی بھی قسم کا ثمرہ
    (١)آپ دانشگاہ ”عین شمس” میں عربی ادبیات گروپ کے رئیس ہیں.
    حاصل نہ ہوا اوران کتب میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو مجھے اس مذہب سے آشنا کرائے١
    اہل سنت معتقد ہیں کہ وہابی اپنی غلطی سے آگاہ نہیںہیں، جس کے نتیجہ میں وہ شیعہ اور غالی کے درمیان فرق نہیں جانتے، اس کے متعلق مصری سنی عالم دین انور جندی لکھتے ہیں:
    کیا ہی اچھی اور مناسب ہے یہ بات کہ ایک محقق عاقلانہ طور پر شیعہ اور غالی میں (وہ کہ جن کے مقابل اہل تشیع نے سخت موقف اختیار کیا اور ان کی مکاریوں سے آگاہ کرتے رہے) فرق کا قائل ہو اور اس کی وضاحت کرے ٢
    علی عبد الواحد وافی جو مصری دانشور ہیںنے بھی اس مشکل کی طرف یوں اشارہ کیا:
    مصنفین کی ایک بڑی تعداد نے جعفری شیعہ کو دوسرے شیعہ فرقوں میں مخلوط کیاہے۔٣
    اہل سنت کے معاصر امام محمد غزالی نے بھی وہابیوں کی مطالعاتی روش کی اصلاح میں کافی کوششیں کی ہے اور پوری توانائی کے ساتھ ان سنیوں کا مقابلہ کیا ،جنھوں نے وہابیت کی پیروی کی. اور وہ لوگ جو شیعہ اور غالی میں اختلاط کے شکار ہیں،ان کی اس مشکل کو حل کرنے میں کافی زحمتیں اٹھائیں۔
    (١) فی سبیل الوحدة الاسلامیة، مرتضی الرضوی، ص ٤٥
    (٢) الاسلام و حرکة التاریخ، ص٤٢١
    (٣)بین الشیعہ واہل السنة، ص ١١
    آپ اس موضوع کے متعلق یوں فرماتے ہیں:
    بعض جھوٹے افراد جو شیعہ اور غالی کو ایک جانتے ہیں، نے یہ شایع کیا کہ شیعہ حضرت علی ـ اور سنی حضرت محمد ۖ کے پیرو ہیں اور اہل تشیع علی کو پیغمبر اسلام ۖکی بہ نسبت نبوت کے لئے لائق اور شائستہ جانتے ہیں. اور پیغمبرۖ کا نبوت پر فائز ہونا ایک خطا ہے، جبکہ یہ مرتبہ علی کا تھا١ یہ سب باتیں شیعیت پر ناروا تہمتیں ہیں، جو صرف غالیوں پر ہی منطبق ہوتی ہیں۔
    محمد غزالی نے ان سنی حضرات کی روش پر بھی تنقید کی ہے ،جنھوں نے وہابی روش کا اتباع کیا اور شیعہ اور غالی کے درمیان فرق کودرک نہیں کرسکے، اس کے متعلق فرماتے ہیں:
    بعض سنی علماء نے جھوٹ اور حقیقت کو برعکس نمایاں کرنے کے لئے شیعوںکی طرف اس بات کی نسبت دی ہے کہ یہ قرآن کی آیات میں کمی واقع ہونے پر اعتقاد رکھتے ہیں٢
    اور بعض اہل سنت متفکرین معتقد ہیں کہ وہابیوں نے شیعیت کے بارے میں تحقیق میں کافی تند اور سخت روش اختیار کی ہے، شیعہ اور غالی کو یکساں جانتے ہیں لہٰذا انھوں نے شیعہ شناسی میں خطا کی ہے۔
    (١) رسالة التقریب ، شمارۂ ٣، سال اول شعبان ١٤١٤، ص ٢٥٠
    (٢) لیس من الاسلام، ص ٤٨
    مصری دانشور محمد فرماتے ہیں:
    قدیم الایام سے سنی و شیعہ کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں لیکن وہابیوں نے اپنے افکار کے ذریعہ ان میں ایسا شگاف پیدا کیا جو اٹھارہویں صدی عیسوی کے بعد سنی و شیعی اختلافات میں بے حد موثر رہا. اور روز بروز ان کے اختلافات میں اضافہ ہوا. یہ سب وہابیت کے منفی فکر کے اثرات ہیں۔١
    دوسرے سنی دانشور عبدالحلیم جندی فرماتے ہیں:
    شیعوں کی طرف غالی افعال کی نسبت دی گئی اور اس طرز عمل نے دوسروں پر شیعیت کے متعلق منفی اثر چھوڑا اور ان باتوں کو شیعیت سے منسوب کیا گیا جن سے وہ خود بیزار ہیں مثلاً ان کا یہ کہنا کہ شیعیت کے یہاں امام ہی خدا ہیں جوکہ سراسر غلو اور کفر ہے اور شیعہ ان افکار سے بری ہیں۔٢
    (ڈاکٹر طہ حسین فرماتے ہیں:)
    شیعوں کے دشمنوں نے ، شیعوں سے ہر چیز کو منسوب کیاہے وہ صرف ان چیزوں پر اکتفا نہیں کرتے جو شیعوں کے بارے میں سنتے یا دیکھتے ہیں بلکہ اپنی طرف سے ان میں من مانا اضافہ کراضافہ کر لیتے ہیں جنھیں شیعہ سے سنا، یا ان میں پایا ہے، یہاں تک کہ ان تمام افعال کی نسبت اصحاب اہلبیت (ع) کی طرف دی جاتی
    (١) الفکر الاسلامی فی تطورہ، ص ١٤٠.
    (٢) الامام جعفر الصادق، ص٢٣٥.
    ہے. ان افراد کی مثال ان چوروں جیسی ہے جو پہاڑ پر کمین کئے ہوتے ہیں یہ لوگ شیعی گفتار و کردار پر دقیق نظر رکھتے ہیں اورنامربوط مسائل، کہ جو شیعیت میں نہیں پائے جاتے ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔١
    ہم نے گذشتہ صفحات میںاشارہ کیا ہے کہ ڈاکٹر علی عبد الواحد وافی جو سنی دانشور ہیںنے اپنی کتاب ”بین الشیعہ و اہل السنہ” میں وہابیوں کی خود ساختہ مشکلات پر گفتگو کی ہے اس کتاب میں وہابیوں نے جو شیعہ و سنی کے درمیان بے بنیاد پروپیگنڈے کئے ،اس کی رد میں فرماتے ہیں:
    گرچہ ہمارے اور شیعوں کے درمیان بے حد اختلاف ہے لیکن اس کے باوجود یہ اختلاف سند و اجتہاد کے دائرہ سے خارج نہیں۔٢
    ”سنی محقق فہمی ہویدی” بھی انھیں لوگوں میں سے ہیں کہ جنھوں نے درک کیا کہ وہابیوں کا شیعہ کی تکفیر میں اصرار، ان کا شیعہ اور غالی میں اختلاط کا نتیجہ ہے. آپ فرماتے ہیں:
    شیعہ کو کافر کہنا وہابیت کے اصل ترین منصوبوں میں سے ایک منصوبہ ہے۔٣
    (١) علی و بنوہ، ص ٣٥ .
    (٢) بین الشیعہ و اہل السنہ، البتہ ہم اس مطلب کی تائید نہیں کرتے اور اس نظریہ پر مفصل طور پر ہماری کتاب بازخوانی اندیشۂ تقریب میں نقد و رد کی گئی ہے. (مترجم فارسی)
    (٣) ایران من الداخل، ص ٣٢٢.
    تمام علماء معتقد ہیں کہ وہابیوں کی شیعہ شناسی مطالعاتی روش نے انھیں تشیع اور غالی کی مخلوط وادی تک لاکھڑا کیااورانھیں ایک عظیم گمراہی میں مبتلا کیا ہے. حتی بعض متفکرین معتقد ہیں کہ جس طرح وہابی شیعیت کو پیش کرتے ہیں اس میںاور اس کے حقائق کے درمیان بالکل تناقض پایا جاتا ہے اور شیعیت کی یہ تصویر کشی صرف اور صرف وہابیت پر صدق کرتی ہے، یہی مطلب ہم سالم بہنساوی کے نوشتوں میں پاتے ہیں . آپ نے کتاب ” السنة المفتریٰ علیہا” میں پوری طرح شیعہ شناسی میں وہابیوں کی جو مطالعاتی روش ہے اس پر بحث کی اور اس روش کی اصلاح کو لازم جانا ہے اور وہابیوں کے اہل سنت کی مطالعاتی روش سے جدا ہونے کو واضح طور پر بیان کیا ہے. اور وہابیوں میں رائج تمام بیہودہ و بے معنی باتوں کو تنقیدکا نشانہ بنایا ہے. وہ شیعیت پر اس تہمت کو ، کہ شیعہ دوسرے قرآن رکھتے ہیں، سختی سے رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
    جو قرآن اہل سنت کے درمیان ہے وہی قرآن تمام شیعہ مساجد اور گھروں میں پایا جاتا ہے،١ اور بے شمار سنی مذہب سے وابستہ متفکرین یہ جانتے ہیں کہ شیعوں کے بارے میں وہابی تصورات تمام یہودی ، مسیحی اور مغربی اسلام شناسوں کی کتب سے ماخوذ ہیں. اور طبیعی ہے کہ ان منابع پر اعتماد کے نتیجہ میں کوئی بھی شیعہ اور غالی میں اختلاط، جیسے مرض میں مبتلا ہوسکتا ہے۔
    (١) السنة المفتریٰ علیہا، ص ٦
    جندی مصری دانشور کی بھی یہی فکر ہے جیسا کہ گذشتہ صفحات میں ہم نے ان کے قول پر روشنی ڈالی۔
    حسن البناء (جو کہ مصر میں تحریک اسلامی کے رہبر ہیں) نے بھی بڑے ہی زور و شور کے ساتھ شیعہ شناسی میں وہابی روش کو بدلنے کی کوشش کی اور ان لوگوں سے مبارزہ کیا ،کہ جو شیعہ اور غالیوں میں مساوات کے قائل ہیں اوران کی خطا نے انھیں بے حد متحیر کیا، کیونکہ دنیا کے کتب خانے شیعہ دانشوروں کے علمی خزانوں سے لبریز ہیں۔١
    سنی مذہب سے وابستہ عباس محمود عقاد بھی وہابیوں کے اس انحراف کی طرف متوجہ ہوئے یہاں تک کہ مصری معروف رائیٹر انیس منصور نے ان سے نقل کیا:
    اگر اجل نے مجھے فرصت دی تو مذہب شیعہ کے لئے ایک منطقی تحقیق مرتب کروں گا، کیونکہ بے شمار بیہودہ باتوں کو شیعیت سے منسوب کرنے کی وجہ سے اکثر لوگ شیعیت کے واقعی چہرہ سے آگاہ نہیںہیں، لیکن اجل نے انھیں مہلت نہ دی۔٢
    سنی مورخ، محمد کرد علی نے بھی ان فرقوں کا منہ توڑ جواب دیا ،جو شیعہ اور غالی کے درمیان فرق نہیں جانتے، فرماتے ہیں:
    (١) ا س عبارت کو حسن البناء کے شاگرد استاد عمر تلمسانی اپنی کتاب ”ذکریات لا مذکورات” میں صفحہ ٢٥٠ پر نقل کیا ہے.
    (٢) لعلک تضحک، ص٢٠١.
    بعض مصنفین کا یہ عقیدہ رکھنا بالکل غلط ہے کہ مذہب تشیع عبد اللہ بن سبا کی بدعتوں میں سے ایک بدعت اور یہ ان کی کم علمی کا نتیجہ ہے. اگر کوئی شیعیت میں عبداللہ بن سبا کی موقعیت کو جانے اوران کا عبداللہ بن سبا اور اس کے گفتار و کردار سے بیزاری اورتمام شیعی دانشوروں نے جس طرح اس کی بدگوئی کی ہے اسے دیکھے تو پھر انھیں معلوم ہوگا کہ ان کا یہ عقیدہ کس قدر بے بنیاد ہے۔١
    تحریک اخوان المسلمین کے رہبر عمر تلماسی، شیعہ اور غالی کو ایک جاننے والوں پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    شیعہ فقہ نے اپنے بلند اور قدرت مند تفکر سے دنیائے اسلام کو مالا مال کیا ہے۔٢
    دوسری طرف اہل سنت کے امام اور زمانہ کے فقیہ محمد ابو زھرہ وہابیوں کی اس روش سے سخت خوفزدہ ہیں اور وہابیوں نے جن شیعہ کلامی تعبیروں کی غلط تفسیر کی ہے انھیں آپ نے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور تقیہ کے متعلق (کہ جس کے شیعی معنی کو وہابیوں نے درک نہیں کیا) ثابت کیا ہے کہ تقیہ کے شیعی معنی قرآن سے ماخوذ ہیں، فرماتے ہیں:
    تقیہ یعنی انسان جان کے خوف سے یا ایسے بلند و بالا اہداف تک پہنچنے کے لئے جن سے دین خدا کی خدمت مقصود ہو اپنے بعض عقائد کو پوشیدہ رکھے اور یہ معنی
    (١) خطط الشام، ج٦، ص٢٥١.
    (٢) مجلہ العالم الاسلامی، شمارہ ٩١.
    خود قرآن میں پائے جاتے ہیں۔١
    خبردار صاحبان ایمان مومنین کو چھوڑ کر کفار کواپنا ولی اور سرپرست نہ بنائیں، کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیںہے اور خدا تمہیںاپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اس کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔٢
    اور وہابیوں کے جواب میں، کہ جوامام کے متعلق شیعہ اور غالی عقائد کو ایک سمجھتے ہیں، آپ اس طرح لکھتے ہیں:
    مذہب امامیہ، امام کے مقام کو پیغمبر اسلامۖ کے برابر نہیں جانتے۔٣
    ازہر یونیورسٹی کے رئیس اور اہل سنت کے بزرگ پیشوا شیخ محمود شلتوت نے شیعہ شناسی میں قدمائے اہل سنت کی روش سے حمایت کا اظہار کیا ہے اور وہابی مطالعاتی روش سے وسیع پیمانہ پر مبارزہ کیا ہے کیونکہ وہابی مذہب امامیہ کی شناخت اور انھیں غالی کے برابر قرار دینے میں سخت خطا میں گرفتار ہیں۔
    آپ نے کافی کوششیں کیں تاکہ وہابی، سنی روش کی طرف پلٹ آئیں اور جواختلافات کے بیج وہابیوں نے شیعہ و سنی کے درمیان بوئے تھے انھیں نابود کیا
    (١) الامام الصادق، ص٢٢.
    (٢) سورۂ آل عمران، آیت ٢٨.
    (٣) الامام الصادق، ص ١٥١.
    جاسکے، لہٰذا وہابیوں نے آپ کی سخت مخالفت کی اور آپ پر سنیوں کو غالیوں سے نزدیک کرنے کی تہمت لگائی، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ شیخ محمد شلتوت وہابیوں کو یہ سمجھاناچاہتے تھے کہ جن باتوں کو وہ شیعیت سے منسوب کرتے ہیں وہ سبائیان و خطا بیان و بیانیان کے افکار و عقائد ہیں، کہ جنہیں شیعہ کافر جانتے ہیں اور آپ کا عقیدہ ہے کہ وہابی چونکہ شیعہ کو غالیوں کا ایک فرقہ تصور کرتے ہیں،اسی لئے شیعیت سے انحرافی عقائد کو منسوب کرتے ہیں۔
    محمد شلتوت مجبور تھے کہ اپنے ہم عصر بعض سنیوں سے مبارزہ کریں (کہ جن پر وہابی رنگ چڑھ چکا تھا اور وہ قدمائے اہل سنت کی روش پر تنقید کرتے تھے) کیونکہ آپ کے نزدیک یہی لوگ سد راہ تھے کہ جن کی وجہ سے اہل تشیع و تسنن کو قریب کرنا امکان پذیر نہ تھا، وہ فرماتے ہیں کہ:
    تقریب کے نام پر تنگ نظر افراد اور وہ لوگ جو نحس اہداف رکھتے ہیں (معمولاً ہرمعاشرہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں) جدال کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے یہ وہی لوگ ہیں جن کی بقا دوسرے لوگوں میں تفرقہ پیدا کرنے پر ہے او ریہ ایسے بیمار دل افراد ہیں، جن میں کسی بھی طرف رجحان نہیں پایا جاتا، بلکہ اپنے ھوا و ھوس کی پیروی کرتے ہیں۔
    یہ کچھ ایسے خود فروش مصنفین ہیں جو تفرقہ پسند لوگوں کی خدمت کرتے ہیں او رجب بھی مسلمانوں میں تفرقہ کے خاتمہ اور اتحاد کے لئے تحریک چلائی گئی، تو یہ لوگ مستقیم و غیر مستقیم طور پر سد راہ بن جاتے ہیں۔١
    وہابی امامیہ اور غالیوں میں تفکیک نہ کرنے کی وجہ سے شیعوں کو رافضی کہتے ہیں در آنحالیکہ رافضی ایک عام عنوان ہے جو بے شمار فرقہ شناسی کتابوں میں غالی فرقوںپر منطبق ہوتا ہے اور سنیوں سے پہلے شیعہ انھیں کافر جانتے ہیں، لہٰذا انور جندی اس بارے میں کہتے ہیں:
    ”رافضی نہ سنی ہیں اور نہ ہی شیعہ”۔٢
    تشیع اور غالی کو ایک جاننے میں جو مشکلات وجود میں آتی ہیں ان کی طرف علمائے اہل سنت نے اپنی سینکڑوں کتابوں میں اشارہ کیا ہے اس کتاب میں اتنی گنجائش نہیں کہ ہم ان تمام اقوال کو جمع کرسکیں۔
    ہم یہاں تک، یہ جان چکے ہیں کہ تشیع اور غالی کوایک تصور کرنا ایک ایسی سخت مشکل ہے، کہ جسے دشمنان اسلام نے مسلمانوں میں اتحاد ختم کرنے کے لئے پیش کیاہے اور محقق کے لئے اس مشکل کا سمجھنا بہت مشکل ہے، کیونکہ یہ ایک ایسی چھپی ہوئی مشکل ہے جس پر دشمنان اسلام نے مکاری کے ساتھ پردہ ڈال کر اسے مسلمانوں کے سامنے پیش کیاہے، اس زمانہ میں بعض سادہ لوح سنیوں نے وہابیوں کی مکاریوں کودرک نہیں کیا اور ان کی فریب کاریوں کا شکار ہو کر اس مشکل (خلط
    (١) مجلہ رسالة الاسلام .
    (٢) الاسلام و حرکة التاریخ، ص ٢٨.
    مباحث) میں گرفتار ہوگئے . لیکن اہل سنت کے متفکرین کی کوششوں سے آج یہ خطرہ ایک خاص گروہ میں منحصر ہوکر زائل ہو چکا ہے۔
    قارئین یہ جان لیں کہ وہابی شیعوں کوغلو آمیز افکار کا حامل تصور کرتے ہیں، لیکن انھیں نہیں معلوم کہ شیعہ غلو جیسی مشکل میں گرفتار نہیں، بلکہ یہ وہابی ہیں جو شیعیت کو نہ پہچاننے کی بیماری میں مبتلا ہیں وہ امامیہ میں غلو کے اسباب ڈھونڈتے ہیں لیکن انھیں چاہئے کہ وہ خلط جیسی بیماری میں مبتلاہونے کے اسباب پر توجہ دیں۔
    سنی معاصر محققین اس نتیجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ وہابیوں کی یہ مشکلات گذشتہ سنی کتب پر صحیح تحقیق نہ کرنے کا نتیجہ ہیں. لہٰذا انھوں نے ان انحرافات کے عوامل پر تحقیق کی اور واضح کیا ہے کہ یہ شیعہ نہیں کہ جو غلو جیسی مشکل میں گرفتار ہیں، بلکہ یہ ایک باطل خیال ہے جس میں وہابی تشیع اور غلو میں فرق نہ کرپانے کے سبب مبتلا ہوئے ہیں۔
    ایک وسیع تحقیق انجام دینے کے بعد میںاس بات کی طرف متوجہ ہوا کہ شیعہ شناسی کی مطالعاتی نہج تین روشوں ہی میں منحصر ہے: ١۔ وہابی گروہ کی روش. ٢۔ اہل سنت کے قدیم و جدید متفکرین کی روش. ٣۔ شیعہ دانشور وںکی روش۔
    سب سے پہلے میں ہابی روش پر پابندتھا پھر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اہل سنت متفکرین کی روش سے آگاہ ہوا جس کے بعد شیعہ علماء کی روش کی طرف ہدایت حاصل ہوئی تب میںنے وہابی اور سنی روش میں غیر قابل انکار تضاد پایا. ان روشی اختلاف کے ہوتے ہوئے وہابی تمام نتائج کو صحیح نہیں کہا جاسکتا ہے. لیکن اگر وہابی روش میں تعارض اور تباین کو قبول کرلیں تو پھر منطق کے لحاظ سے دونوں روشیں باطل ہوں گی۔
    جس کے نتیجہ میں شیعوں کے بارے میں نہ وہابی تحقیق قابل استفادہ ہوگی اور نہ ہی سنی تحقیق، جبکہ آئندہ مباحث میں یہ بات واضح ہوگی کہ وہابی تفسیر (کہ جس میں کوئی واقعیت ہے اور نہ حقیقت) سے زیادہ سنی تفسیر، امامیہ عقائد کی حقیقتوں کوواضح کرتی ہے ۔
    جب ہم وہابی مطالعات کے نتائج دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیعہ عقائد کی صحیح تفسیر بیان کرنے سے کس قدر عاجز ہیں جس تشیع کے بار ے میں وہابی گفتگو کرتے ہیں اسے اہل سنت متفکرین تشیع ہی نہیں جانتے، اور شیعیت کی جو عجیب و غریبتصویر وہابی پیش کرتے ہیں وہ بالکل اس تصویر سے جدا ہے کہ جسے شیعہ اور سنی علماء نے پیش کیا ہے. شیعیت کی نظر میں مباحث الوہیت و نبوت اورمذہب امامیہ کے دیگر حقائق کا ادراک وہابیوں کے لے میسر نہیں، کیونکہ وہ سخت انحراف فکری میں مبتلا ہیںاور وہ مذہب امامیہ اور غالیہ کو ایک جانتے ہیں، جبکہ اہل تشیع کا غالیوں سے دور دور تک کوئی ربط نہیں، لہٰذا واضح ہے کہ ایسے حالات میں ایک وہابی کے لئے حیران و سرگردان رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
    تعجب کی بات تو یہ ہے کہ بعض سادہ لوح سنی حضرات کے لئے وہابی نظریات قابل قبول ہیں اور وہ سنی متفکرین کو تمسخرآمیز نگاہ سے دیکھتے ہیں (جبکہ سنی اور وہابی دونوں شیعیت کے متعلق خاص نظر رکھتے ہیں) کیونکہ یہ لوگ اہل سنت اور وہابیوں کے درمیان شدید اختلاف سے بے خبر ہیں، لہٰذا وہابیوں کی فریب کاریوں میں مبتلاہوتے ہیں جبکہ یہ تمام مشکلات شیعیت سے آشنا نہ ہونے کا نتیجہ ہیں. جس طرح ١٨ ویںصدی عیسوی میں وہابیت کے وجود میں آنے سے اس مشکل نے شیعوں اور سنیوں میں اختلاف پیدا کیا، اسی طرح دور حاضر میں سنی اور وہابی اختلافات میں یہ مشکل تاثیر گذار ہوئی. اور جب تک یہ مشکل حل نہ ہو اہل سنت اور وہابیت کے درمیان اختلاف سمجھنا ممکن نہیں۔
    دور ماضی میں جن مسائل پر شیعوں اور وہابیوں میںاختلاف تھا دور حاضر میں وہی اختلاف سنی اور وہابی اختلاف میں تبدیل ہوچکا ہے اوراہل سنت نے اس بات کو پوری طرح واضح کردیا ہے کہ جن مسائل کی نسبت وہابی، شیعیت کی طرف دیتے ہیں وہ مذہب غلو اور غالیوں سے مربوط ہیں، جن کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں،ا گرچہ وہابیوں کے اس کردار سے شیعہ اور سنی اختلاف میں شدت پیدا ہوئی، لیکن خود سنی اور وہابی میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔
    یہی وجہ ہے کہ شیعہ اور سنی مفکرین نے کئی مرتبہ اس مشکل کی طرف توجہ دلائی اور جب تک اس مشکل خلط کو حل نہ کیا جائے ان تین فرقوں میںآپسی تفاہم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
    ڈاکٹر ناصر قفاری جوایک انتہا پسند مصنف ہے اور شیعوں کو کافر کہتا ہے، نے امامیہ کے متعلق وہابیوں اور سنیوں کے د رمیان ایک مناظرہ پیش کیاہے کہ جو قابل توجہ ہے:
    مذہب امامیہ کے متعلق معاصر مصنفین کے نزاع نے مجھے اپنی طرف جذب کیا، مصنفین کا ایک گروہ (جن میں محب الدین خطیب، احسان الٰہی ظہیر ، ابراہیم جبہان شامل ہیں) شیعوں کو کافر کہتا ہے وہ معتقد ہے کہ غلو نے انھیں اسلامی حدود سے خارج کردیا ہے اور دوسرا گروہ (نشار، سلیمان دنیا، مصطفی شکعہ)، انھیں ایک میانہ رو اور ایک ایسا فرقہ تصور کرتا ہے، جن کا غالیوں سے کوئی تعلق نہیں، اور بھنساوی جیسے کچھ لوگ ہیں جو شک و تردید میں مبتلا ہیں اور انھوں نے سنیوں سے ان مطالب کے بارے میں سوالات کئے ہیں، جنھیں محب الدین خطیب و احسان الٰہی ظہیر نے لکھا ہے. البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی اس قسم کے گرداب میں پھنس جائے تو حقیقت اس کے لئے مشتبہ یا ختم ہوجائے گی۔١
    اور اس نزاع کی جڑ تک پہنچنے کے لئے میری کوششوں نے مجھے مجبور کیا، کہ ڈاکٹریٹ میں میری تھیسس (Thesis) کا موضوع ”وہابیوں کی مشکل کے بارے میں شیعوں اور غالیوں کے خلط کرنے سے متعلق” ہو، اس تھیسس (Thesis) میں، میں نے عرض کیا ہے کہ اس قسم کی مشکلات مطالعاتی روش میںاختلاف کی وجہ سے وجود میں آتی ہے۔
    (١) اصول مذہب الشیعہ الامامیہ الاثنی عشریہ، ج١، ص١١۔ ١٠. کہ جسے میں نے ناصر قفاری کی رد میں لکھا ہے وہ جلد طبع سے آراستہ ہوگی۔
    میرے نزدیک ایک طویل تحقیق کے بعد یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہابیوں کے مطالعہ و تحقیق کی روش کے ذریعہ شیعیت کی شناخت ممکن نہیں، اور خود وہابیوں اور اہل تسنن کے درمیان مذہب امامیہ کی شناخت میں گہرا اختلاف پایاجاتا ہے۔

    http://www.shiastudies.com/library/Subpage/Book_Matn.php?syslang=4&id=569&id_matn=24692

  • جزاک الله شیخ شلتوت و شیخ بروجردی

    سنی و شیعہ اخوہ اخوه

  • شیخ شلتوت کا تاریخی فتویٰ
    Written by azannet
    Friday, 15 January 2010 21:11

    مکتب جعفري جو مذہب اماميہ اثنا عشريہ سے پہچانا جاتاہے ايک ايسا مکتب ہے جس کي پيروي ديگر مکاتب اہل سنت کي طرح شرعاً جائز ہے لہذامسلمانوں کو چاہئے کہ اس حقيقت کوسمجھنے کي کوشش کريں اور کسي مشخص مکتب کے متعلق ناحق تعصبات سے دست بردار ہوجائيںاسلئے کہ خدا کا دين اور اس کي شريعت کسي خاص مکتب ميں منحصر نہيں ہے بلکہ تمام مذاہب کے ائمہ مجتہد اور ان کا اجتہاد بارگاہ خداوندي ميں مقبول ہے پس وہ لوگ کہ جو صاحب نظر اور صاحب اجتہاد نہيں ہيں وہ اپنے مورد نظر جس مکتب کي چاہيں تقليد کرسکتے ہيں اور اس کے احکام پر عمل کرسکتے ہيںاوراس ميں عبادات و معاملات ميں کوئي تفاوت نہيں ہے،،۔ فتویٰ کی تفصیل اور حالات زند گی سے آشنایی کے لءے مقالے کا مطالعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوانح حیات اور کار نامے :

    شيخ محمود شلتوت ٥شوال ١٣١٠ ھ ق مصر کے ايک صوبہ ’بجيرہ‘[١] ضلع ’ ايقاي البارود‘‘ کے ايک گاوں ’’ منشاۃ بني منصور‘‘ کے ايک عظيم الشان علمی اور ادبی گھرانے ميں پيداہوئے ، آپ کے والد’’ شيخ محمد ‘‘نے اس نومولود کا نام محمود رکھا اور اسکي تعليم و تربيت ميں کوئي کسر نہيں چھوڑي ۔

    تحصيل کي شروعات

    ابھي محمود کي عمر کے سات سال گذرنے نہ پائے تھے کہ باپ کا سايہ سر سے اٹھ گيا۔ چچا ’ شيخ عبد القوي شلتوت‘ نے اپنے بھتيجے کي سرپرستي اپنے ذمہ لے لي، محمود ميں ذہانت ، نبوغ اور درخشاں استعداد کے آثار شروع ہي سے نمایاں تھے ، جب ان آثار کو چچانے ديکھا تو گاوں ہي کے ايک مکتب ميں علوم اسلامي اور معارف کي تحصيل کے لئے بٹھاديا۔
    چونکہ مصر کے مکتب خانوں کے قوانين ميں سے ايک قانون يہ بھي تھا کہ عربی ادب کے شروع کرنے سے پہلے پورے قرآن کو حفظ کرنا ضروري تھا لہذا محمود نے کچھ ہي عرصہ ميں پورا قرآن حفظ کرڈالا۔

    اعلی تعلیم

    شيخ محمودنےعلم کے اعليٰ درجات حاصل کرنے کے لئے ١٣٢٨ ھ ق مطابق ١٩٠٦ ئ ميں شہر اسکندريہ کي طرف ہجرت کي اور اسکندريہ يونيورسٹي [٢]ميں داخلہ لے ليا۔
    محمود کي ذہانت اور بے مثال استعداد کود يکھ کر اسکندريہ يونيورسٹي کے تمام اساتذہ اور طلاب حيرت زدہ تھے ، پڑھائي کے لئے دل و جان سے محنت کي اور ١٣٤٠ ق مطابق ١٩١٨ ميں اسکندريہ يونيورسٹي کي عالي سند حاصل کرلي اور انہيں بہترين طالب علم ہونے کا ايوارڈ ملا حالانکہ ابھي عمر کے کل ٢٥ سال ہی گذرے تھے۔
    انہوں نے ١٣٤١ ھ مطابق فروري١٩١٩ ميں اپني تعليم کو پايہ تکميل تک پہنچایااور اسي يونيور سٹي ميں استاد کي حيثيت سے مشغول تدريس ہوگئے۔
    شيخ محمود شلتوت کي طالب علمی اور تدريس کا زمانہ ’’ سعد زغلول‘‘ کي رہبري ميں مصر کي عوامي تحريک کا زمانہ تھا ، مصر کے سارے شہروں اور ديہاتوں میں سعد زغلول[٣] کي حمايت اور مصر پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے ،ان حالات کو ديکھ کر شيخ محمود شلتوت نے بھی اپنا انقلابي وظيفہ نبھاتے ہوئے زبان اور قلم سے مصر کي عوامي تحريک ميں حصہ ليا۔

    الازہر يونيورسٹي ميں داخلہ

    شيخ محمد مصطفي مراغي عقيدہ کے اعتبارسے شيخ محمود شلتوت کے ذہن پر چھائے ہوئے تھے ١٣٦٠ ھ مطابق ١٩٣٨ ميں الازہر يونيورسٹي کي رياست کے دوران جناب شلتوت کے مقالہ کا مطالعہ کيا اور اس کے ذريعہ ان کے قلم کے اعجاز اور عربی ادب پر مہارت کو ديکھ کر الازہر يونيورسٹي ميں تدريس کے لئے دعوت دے دي ، اس دوران شلتوت اسکندريہ يونيورسٹي ميں مشغول تدريس تھے، شيخ مصطفي مراغي کے دعوتنامہ پر لبيک کہتے ہوئے قاہرہ کا سفر کيا اور الازہر يونيورسٹي ميں استاد کي حيثيت سے مشغول تدريس ہوگئے۔
    جنا ب شلتوت نے متعدد اساتيد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کيا ليکن ان تمام اساتيد ميں صرف تين اساتذہ ان کي تعليم و تربيت ميں سب سے زیادہ حصہ دار رہے ہيں:١۔ استاد شيخ الجيزاوي : اسکندريہ يونيورسٹي ميں شيخ محمود شلتوت کے اساتيدميں سے تھے۔

    ٢۔ شيخ عبد المجيد سليم: استاد عبد المجيد سليم ١٣٠٤ ھ مطابق اکتوبر ١٩٨٢ ئ مصر کي سرزمين پر پيدا ہوئے ابتدائي تعليم حاصل کرنے کے بعد الازہر يونيورسٹي ميں داخلہ ليا اور ١٣٣٠ ميں وہاں سے فارغ التحصيل ہوگئے، انہوں نے اپني تعليم کوپايہ تکميل تک پہنچانے کے بعد قضاوت، تدريس اور فتواکميٹي کے رکن کی حیثیت سے اپني علمی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ان کا شمارمحمد عبدہ کے شاگردوں ميں ہوتا ہے۔
    عبد المجيد سليم کا شمار’’ جماعت تقريب مذاہب اسلامي‘‘ کے بانیوں ميں ہوتا ہے بلکہ اس کے ايک اہم رکن بھي تھے ، ان کي سب سے بڑي خصوصيت صراحت اور شجاعت تھي ، انہيں اوصاف کے پيش نظر جب آپ نے ١٣٦٨ ھ ميں ديکھا کہ حکومت الازہر يونيورسٹي کے داخلي امور ميں دخالت کرنا چاہتي ہے تو فوراً اس کي صدارت سے استعفيٰ دے ديا،جب دربار حکومت کے ديوان کے رئيس نے اس طرح عبد المجيد سليم کا رد عمل ديکھا تو دھمکي دي : تم اپنے اس رويہ کي بنا پر تنبيہ کئے جاوگے ،يہ سن کر شيخ عبد المجيد نے نڈر ہوکر کہا: سن لو! جب تک ميں اپنے گھر اور مسجد کے درميان حرکت کرتا رہوں گا ،مجھے کوئي خطرہ لاحق نہيں ہوسکتا۔( بي آزار شيرازي ، ١٣٧٩ ش،ص٢٤)
    تقريب اور اتحاد اسلامي کے ميدان ميں عرصہ دراز تک خدمت کرنے کے بعد روز پنجشنبہ ١٠ صفر ١٣٧٤ ق ميں دار فاني کو وداع کيا۔( خفاجي، ج١، ص ٣٠٦)
    ٣۔ شيخ امام محمد مصطفي مراغي: مملکت مصر کے صوبہ ’’سوہاج‘‘ کے ايک شہر ’’ مراغہ‘‘ ميں ١٣٠٣ ھ مطابق مارچ١٨٨١ م کوپيدا ہوئے ، بچپنا گذرتے ہي حفظ قرآن ميں مشغول ہوگئے اور بہت جلد پورا قرآن حفظ کرليا، آپ کا شمار محمد عبدہ کے شاگردوں اور ان کے پيروکاروں ميں ہوتا ہے اور آپ کي شخصيت ان کے عقائد اور نظريات سے بے حد متآثر تھی
    آپ کے بارے ميں جناب رشيد رضا کہتے ہيں: ’’ ان کا شمار محمد عبدہ کے خالص ترين شاگردوں ميں ہوتا ہے ۔( بي آزار شيرازي ، ١٣٧٩ ش،ص ٢٤)
    جب محمد عبدہ کو سوڈان کا سفر درپيش ہوا تو انہوں نے شيخ مصطفي مراغي کو اپنے ہمراہ لیا اور وہاں آپ نے قضاوت کي ذمہ داري سنبھال لي، جناب شيخ محمود شلتوت اپنے استاد کي تعريف و تمجيد کرتے ہوئے فرماتے ہيں: جناب شيخ مصطفي مراغي کے پاس جو کچھ علم و عقل اور افکار و نظريات تھے وہ سب شيخ محمد عبدہ کي دين تھے‘‘( احمدي، ١٣٨٣ ش ،ص٥٤)
    ’’ مجمع التقريب ‘‘ کميٹي کے سیکرٹری جنرل محمد تقي قمي ان کے بارے ميں اس طرح اظہارخیال کرتےہيں:’’ [امام مراغي] ايک باوقار ، بانظم اور ايک بابصيرت انسان تھے ‘‘…وہ ایمانی جوش و جذبے سے سرشارتھے اور لوگوں کو ايک نقطہ اور ايک مرکز پر لانے اور ان کے درميان رابطہ ايجاد کرنے ميں بنيادي کردار ادا کرتے تھے ، انہوں نے بعض علماء جيسے شيخ مصطفي عبد الرزاق اور شيخ عبد المجيد سليم کو میدان عمل اور اتحاد کی کوششیں کرنے کی ترغیب دلائي ۔ ( بي آزار شيرازي ، ١٣٧٩ش، ٦٥)
    انہوں نے اپنے بعد بطور يادگار قرآن اور معارف اسلامي کے ميدان ميں آثار چھوڑ ے جيسے ’’ الاوليائ والمحجورين‘‘ ’’ قرآن کے ترجمہ کے متعلق ايک بحث‘‘، ’’ لغوي اور دروسي مباحث کے ہمراہ سورہ لقمان ، حجرات، الحديد، اور والعصر… کي تفسير ‘‘( احمدي، ١٣٨٣ش، ص٥٤)
    شاگرد
    ١۔ عباس محمود عقاد
    عباس محمود عقاد ايک زبردست شاعر، نقاد اور مصر کے صحافیوں ميں سرفہرست تھے ، ان کي ولادت ١٣١١ ق مطابق ١٨٨٩ شہر ’’ اسوان‘‘ ميں ہوئي ، آپ کا مشغلہ صحافت تھا ليکن شعر کہنے ميں يد طولاني رکھتے تھے۔ آپ کے بيشتر آثار اشعار سے متعلق ہيں جيسے ’’ ديوان شعر، وحي الاربعين، ہديۃ الکروان و عابر السبيل‘‘ ان تاليفات کے علاوہ دو کتابيں اور ’’ عبقريۃ محمد‘‘ اور ’’ عبقريۃ عمر‘‘ اسلامي شخصيتوں کے متعلق تحرير کي ہيں۔( المنجد في الاعلام، ص ٤٧١)
    ٢۔ شيخ علي عبد الرزاق

    الازہر يونيورسٹي سے کنارہ کشي

    شيخ مصطفي مراغي الازہر يونيورسٹي ميں بطور اصلاح کچھ تبديلياں لانا چاہتے تھے جس کے پيش نظر انہوں نے حکومت مصر کي حمايت حاصل کرنے کے لئے اپنا پروگرام حکومت وقت کے سپرد کيا، ان کي حمايت ميں جناب شلتوت نے متعدد مضامین لکھے اور ان کے پروگرام کو الازہر يونيورسٹي کی ثقافتي اور علمي حالت کو بہتر بنانے کي راہ ميں ايک بہترين اقدام کے طور پر سراہا۔
    ليکن مصر کے فاسد اور غيروں پر بھروسہ کئے ہوئے دربارنے اس کي مخالفت کي ، يہ ديکھ کر جناب مصطفي مراغي نے الازہر يونيورسٹي کي رياست سے استعفيٰ دے ديا، دربار نے آپ کا استعفيٰ قبول کرتے ہوئے ’’ شيخ محمد ظواہري‘‘ کو الازہر کي رياست سونپ دي ، شيخ محمد ظواہري ، الازہر کي رياست پانے کے بعد دربار کے مقاصد کو پورا کرنے کا ارادہ بنايا ليکن انہيں دورانديش علمائ کي مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جب ظواہري نے اپنے آپ کو مخالفتوں کے گھيرے ميں ديکھا تو انہوں نے بچاو کے لئے مخالفوں کے سربراہوں کو برخاست کرديا جن ميں شيخ محمود شلتوت بھي تھے ، جنہيں ١٣٥٣ ق مطابق ١٧ ستمبر ١٩٣١ ئ ميں برطرف کيا گيا۔
    جناب شلتوت الازہر سے نکلنے کے بعد ايک لحظہ کے لئے بھي بيکار نہيں بيٹھے بلکہ اپنے شاگرد شيخ علي عبد الرزاق کو ہمراہ لے کر عدالت ميں وکالت اور اخبارات ميں مقالہ نويسي ميں مشغول ہوگئے ليکن الازہر کے متعلق اپنے نظريات سے دستبردار نہيں ہوئے اور اپنے تمام مقالوں ميں الازہر ميں اصلاحات کے لئے تاکيدکيا کرتے ۔
    يونہي کچھ مدت گذري ليکن الازہر کے ذمہ دار روں کو اس بات کا احساس ہوگيا کہ بزرگ اساتذہ جيسے شلتوت وغيرہ کے نہ ہونے کي وجہ سے الازہر کي اہميت کم ہوتی جارہی ہے لہذا ١٣٥٣ ق مطابق ١٩٣٥ئ ميں دوبارہ مجبور ہو کر تدريس کے لئے دعوت دے دي لہذا اسي سال شريعت کالج ميں مشغول تدريس ہوگئے۔

    علمي افتخارات

    شيخ محمود شلتوت کو ان کے علمی کارناموں کی وجہ سے دوران حيات ہی متعدد بار سراہاگيآ ۔ ١٣٨٠ ق مطابق ١٩٥٨ ميں چلي کی يونيورسٹي کي جانب سے اور ١٣٨٢ ق مطابق ١٩٦٠ ميں جکارتا يونيورسٹي کي جانب سے اعزازی ڈاکٹريٹ کي سند حاصل کي ۔( خفاجي، ج٣، ص ٤٤٤)

    الازہر کي صدرات

    مصر کي حکومت نے دوبارہ ١٣٥٩ ق مطابق ١٩٣٧ ميں شيخ مراغي کو الازہر کي رياست سونپ دي ، شيخ محمود شلتوت کي لياقت، تدبير اور شيخ مراغي کا لگاو اس بات کا سبب بناکہ آپ کو شريعت کالج کا قائم مقام سربراہ بناديں۔
    شيخ مراغي نے ١٣٧٩ ق مطابق ١٣٥٧ ئ ميں شيخ شلتوت کو الازہر کا قائم مقام صدر بناديا۔
    شيخ محمود شلتوت ١٣٨٣ق، مطاق ١٩٦١ ميں مصر کے صدر کي جانب سے الازہر کے وائس چآنسلرکے عھدے کے لئے منتخب ہوئے ، انہوں نے اپني صدارت کے دوران الازہر اور اسلام کے لئے بيش بہا خدمات انجام دیں
    جناب شلتوت نے الازہر يونيورسٹي کے لئے جو اصلاحي پروگرام تيار کئے تھے ، ان ميں سب سے زيادہ اہم مذہبي تعصبات کا قلع قمع کرنا تھا ، جب کسي رپورٹر نے آپ سے سوال کيا: آپ کے دور ميں الازہر يونيورسٹي کا ہدف کيا ہوگا؟
    جناب شلتوت نے جواب ديا: ميرے پروگرام کا بنيادي ہدف، تعصبات سے جنگ ، علوم ديني کے متعلق ہمدلي اور مل جل کر تحقيق کرنا اورايسي راہيں تلاش کرنا جن کے ذريعہ دين و ايمان کي خدمت ہوسکے اور ہر اس دليل کا اتباع کرنا جو کسي بھي افق سے طلوع کرے۔
    اگر مسلمان ان معاني کو جامہ عمل پہنا ديں تو ايک ايسي طاقت کے مالک بن جائيں گے کہ جس کے سايہ ميں چين و سکون کے ساتھ اپني عظمت رفتہ اور شوکت کو زندہ کرليں گے اور ان مشکلات سے چھٹکارا حاصل کرليں گےجو تعصبات کي وجہ سے وجود ميں آئي ہيں اورمتحدہوکرزندگي گذارسکیں گے(بي آزار شيرازي ١٣٧٧ش،ص٣٥٥جمہوري اسلامي ، ١٩١٠١٣٧٩ ،ويژہ نامہ ص١٠)
    الازہر يونيورسٹي کي صدارت کے دوران تين اہم کاموں ميں سے ايک کام بقيہ مذاہب اہل سنت کي فقہوں کي تدريس کے ساتھ فقہ شيعہ کي تدريس کا سلسلہ شروع کيا، اس ضمن ميں انہوںنے فرمايا:’’ تقريب بين المذاہب اسلامي کے مدنظر الازہر يونيورسٹي کے قوانين اور مقررات ميں سے ہے کہ اس يونيورسٹي ميں کسي بھي تعصب کے بغير سني اور شيعہ فقہيں دليل و برہان کے ساتھ پڑھائي جائيں‘‘( جمہوري اسلامي ، ١٩١٠١٣٧٩ ،ويژہ نامہ ص١٠)

    علمي کارنامے

    ١۔ ’’ تحقيقات اسلامي اکيڈمي ‘‘ کي تآسيس
    اس موسسہ کي بنياد شيخ شلتوت نے رکھي جس ميں تمام مذاہب کے نمائندے اکٹھا ہوتے ہيں اوراسلام کے مختلف موضوعات پر بحث کرتے ہيں۔( مردم ودين ، ص١٦)
    ٢۔ ہالينڈ کي کانفرنس ميں شرکت
    شيخ محمود شلتوت ١٣٥٩ق مطابق ١٩٣٧ئ ميں الازہر يونيورسٹي کي نمائندگي ميں ہالينڈ ميں برپا ہونے والي عالمي کانفرنس ’’لاہہ‘‘ ميں شرکت کي اوراس ميں ايک مقالہ پيش کيا جس کا عنوان تھا ’’ المسوليۃ المدنيۃ والجنائيۃ في الشريعۃ الاسلاميۃ ‘‘ چونکہ يہ مقالہ علمي اور ادبي لحاظ سے زبردست تھا، لہذا کانفرنس کي جانب سے اسے بہت سراہا گيا اور پھر اسے بعنوان نمونہ شائع بھي کيا گيا۔
    ٣۔ ريڈيوپر کي جانے والي تفسير کے کميشن کے رکن
    اس کميشن کا فریضہ تھا کہ مصر ميں ريڈيو پر جو قرآن کي تفسير بيان کي جاتي ہے ، اس پر نگرانی کرے ، شيخ شلتوت اس کميٹي کے ايک فعال رکن تھے اور آپ ہي کے مشورے پر صبح ميں قرآن کي تلاوت پيش کرنے سے پہلے اوراس کے بعد ’’ حديث الصباح‘‘ کے نام سے قرآن کي تفسير بيان کي جاتي تھي۔

    ٤۔ الازہرکي فتوا کميٹي ميں رکنیت

    اس کميٹي کا سب سے بڑا فریضہ يہ تھا کہ سماج کي ضروريات کے پيش نظر فقہ کے مختلف ابواب ميں فتوے صاد ر کرے۔
    ٥۔ مصر کے صف اول کے علماء کي انجمن ميں رکنیت
    شيخ شلتوت جس وقت اس کميٹي کے رکن بنے اس وقت اس کميٹي کے سب سے جوان رکن تھے ليکن عمر کي کمي کے باجود دوسروں کے مقابلہ ميں جب اس کے پہلے جلسہ ميں شرکت کي تو ايسے ايسے اہم مشورے دئيے کہ جسے سننے کے بعد اس کميٹي ميں شيخ عبد المجيد کي رياست کے تحت ايک دوسري کميٹي بنائي گئي تاکہ شيخ شلتوت کے مشوروں پر تحقيق کر کے اس کو عملي جامہ پہنايا جائے۔
    ٦۔ مغربي جرمني کي حکومت ميں متعہ کے متعلق شيخ کے نظريات
    مغربي جرمنی کي حکومت نے الازہر يونيورسٹي کے رئيس شيخ شلتوت کے نام ايک خط لکھا اور درخواست کي کہ اسلامي نقطہ نظر سے تعدد زوجات کے مسئلہ کو بطور مفصل لکھ بھيجيں تاکہ وہ لوگ اس کي مدد سے مغربي جرمني کے مردوں کے لئے تعدد زوجات کے مسئلہ کو حل کرسکيں ، شيخ شلتوت نے ان کي درخواست کا مثبت جواب ديتے ہوئے ايک مسودہ تيار کيا ، يہ مسودہ انگلش، جرمن، اور فرينچ ميں ترجمہ ہوا اورا سکے متعلق کہا جانے لگا کہ اس مسودہ ميں شيخ شلتوت نے جو بحث کي ہے وہ بے مثال ہے جو مغربي جرمني ميں ازدواج اور عورتوں کي بڑھتي ہوئي تعداد کو حل کرسکتي ہے ۔( مکارم شيرازي ، اسفند ١٣٣٨ ش،ص٤٤)
    ٧۔ مصرمیں عربی زبان کے ثقافتی مرکز ميں رکنیت

    شيخ شلتوت کے اقدامات

    شيخ شلتو ت نے ١٥خرداد ١٣٤٢ ش کے واقعہ کے ٦ روز بعد ايک خط لکھا اور تمام مسلمانوں سے درخواست کي :ايراني علمائ کي حمايت کرو جو حق سے دفاع کي وجہ سے قيد خانوں ميں بند ہيں ، انہوں نے اس خط ميں علمائ کي گرفتاري اورا ن کي ہتک حرمت کو بشريت کے لئے ايک دھبہ قرار ديا اور باضابطہ طورپر شاہ ايران کے نام ٹيلي گراف بھيجا کہ علمائے اسلام کي حرمت کا خيال رکھے اور اسے پائمال نہ کرے اور جلد از جلد گرفتار کئے گئے علما اوران کے ہمراہ افراد کو آزاد کرے۔

    اعلاميہ کا متن

    بسم اللہ الرحمن الرحيم
    ہذا بيان للناس
    ’’ اس دور ميں کھلم کھلا پروپگنڈے اور بے حرمتياں ہورہي ہيں جن کي قرباني ايران کے علمائ ہيں، يہ وہ غيرت مند لوگ ہيں جو لوگوں کو خدا کي طرف دعوت ديتے ہيں اور اپنے دين کي حفاظت کرتے ہيں ، ان کا جرم صرف يہ ہے کہ تعليمات الٰہي کو عام کرتے ہيں، علمائے اسلام اور ايراني علمائ نے متعدد بار شاہ ايران کے ظلم سہے ہيں اور قید کئ گئے ہيں، امر بالمعروف جو ہر غير عاجز کا وظيفہ ہے اور نہي عن المنکر جو ہر غير عاجز پر واجب ہے ، سے روکے گئے ہيں حالانکہ ان دو واجبوں پر عمل کرنے کے خيرات و برکات امت اسلام کونصيب ہوں گے اور اس کے نتائج ملت ايران کو حاصل ہوں گے ، اس لئے کہ کسي بھي قوم کي حيات اس کے اخلاق سے وابستہ ہے اور اخلاق کا محتوا دين خدا يعني احکام، آداب ،تعليمات وغيرہ سے مل کر بنتا ہے اخلاقيات کو کمال بخشنا اور اس راہ ميں معنوي راہنما اور تاثير گذار عناصر ملت کے علمائے اخلاق ہوتے ہيں جو اپني تبليغ ، رہبري اور مواعظ کے ذريعہ اس کے تکامل کي راہوں کو ہموار کرتے ہيں ۔
    اے مسلمانو! ميں تمہيں آگاہ کرتا ہوں : دنيا کے تمام مسلمانوں اور ايران کي مسلمان قوم کے اوپر ہونے والے مظالم کو معمولي نہ سمجھو بلکہ پوري طاقت سے علمائے ايران کو ايران کے ڈکٹيٹر کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے مقابلہ کرو( ولاترکنوا الي الذين ظلموا فتمسکم النار و ما لکم من دون اللہ من اوليا ثم لاتنصرون) اور ظالموں پر بھروسہ نہ کرو کہ ايک دن ضرور آگ تمہارا دامن پکڑے گي ،اس وقت خدا کے سامنے بے يار و مددگار ہوجاوگے اور کوئي تمہاري مدد نہيں کرے گا۔١٨ محرم،١٣٨٣
    محمود شلتوت، شيخ الازہر ، ( روحاني[زيارتي]ج١، ص ٥٣٢)

    اسرائيل کو رسميت دينا

    امريکہ اور انگلينڈ کي مسلسل کوششوں کے نتيجہ ميں ٨٩١٣٢٦ ش مطابق ٢٩ نومبر ١٩٤٧ئ ميں اقوام متحدہ نے فلسطين کو دوحصوں ميں تقسيم کرنے کي پاليسي پاس کردي جس کي وجہ سے فلسطين کا ايک حصہ يہوديوں کے نام اور دوسرا حصہ فلسطينيوں کے نام کردياگيا، اسي کے پانچ مہينہ کے بعد اسرائيلي حکومت کا قيام عمل ميں آيا اورا سکے وجود ميں آتے ہي بعض ملکوں نے اسے رسميت دے دي۔
    محمد رضاشاہ جو امريکہ اور انگلينڈ کا سراپا غلام تھا اور اپني بقا کوانہيں کي نوکري ميں سمجھتا تھا ، اسرائيل کو تسلیم کرتے ہوئے بيت المقدس ميں سفارت خانہ کھول ديا، اس خبر کے نشر ہوتے ہي ايران کے تمام علما اور بيرون ملک رہنے والے تمام علما نے اس اقدام پر بڑا سخت اعتراض کيا ، اس وقت کے مذہبي رہبر آيۃ اللہ کاشاني نے اس اقدام کي رد ميں ايک سخت تقرير کي، عربي ممالک نے بھي شاہ ايران کو بڑا برا بھلا کہا اور علمائے اسلام سخت احتجاج کیا۔
    شيخ محمود شلتوت نے بھي اسرائيل سے اسلامي ممالک کے روابط کو ٹھکراتے ہوئے شاہ ايران کي مذمت کي اور اس سلسلہ ميں آيۃ اللہ بروجردي کے نام ٹيلي گراف روانہ کيا۔

    ٹيلي گراف کا متن يہ ہے :

    بسم اللہ الرحمن الرحيم
    خدا کا درودو سلام ہو ہمارے تمام بھائيوں اور آپ کے بھائيوں اور ايران کے شفيق علما پرنيز ان لوگوں پر بھي ہو جو مدافع اسلام اور مسلمانوں کي يکجہتي کے نگہبان ہيں، امابعد: يہ مسلم ہے کہ جناب عالي اور تمام لوگوں نے وہ اندوہناک خبرسني ہوگي جو آج کل منتشر ہوئي ہے اور يہ بھي سنا ہوگا کہ شاہ ايران نے اس اسرائيل کو تسلیم کرلیاہے جس نے سرزمين فلسطين پر غاصبانہ قبضہ کياہے، وہاں کے لوگوں کو بے گھر اوران کے حقوق کو غصب کیا ہے۔
    يہ دنيا کے مسلمانوں کے لئے بڑے افسوس کا مقام ہے کہ وہ بادشاہ جو خود بھي مسلمان اورا سکي قوم بھي مسلمان ہے وہ مسلمانوں کے دشمن کي حمايت کررہا ہے اور ان کي طرف دست دوستي بڑھا رہا ہے ، ميں نے دو مرتبہ شاہ کے لئے ٹيلي گراف روانہ کيا ہے اور يہ بات گوش گذار کردي ہے کہ يہ اقدام ان لوگوں کے لئے ايک بہانہ بن جائے گا جو ان روابط کو ختم کرنا چاہتے ہيں جسے ہم محکم بنا نا چاہتے ہيں۔
    يقينا آپ بھي اس اقدام سے متاثر ہوں گے اور اس کي مذمت کرنے کے لئے شدت سے کوشش کريں گے اور يقينا آپ کا کوشش کرنا اچھے نتائج کا حامل ہوگا ، آپ کے جواب کا منتظر ، والسلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    آپ کا بھائي محمود شلتوت ، شيخ الازہر

    ( بي آزار شيرازي ، ١٣٧٩ش ص٢٦٢)

    ليکن افسوس يہ ہے کہ يہ ٹيلي گراف اس وقت قم پہنچا کہ جب آيۃ اللہ بروجردي بستر بيماري پر تھے اور اسي بيماري ميں رحلت فرماگئے ، اس واقعہ سے شيخ شلتوت اپنے و ظيفہ سے دست بردار نہيں ہوئے بلکہ ايک دوسرا خط آيۃ اللہ العظميٰ محسن حکيم اعلي اللہ مقامہ( متوفي ١٣٩٠ق ) کو لکھا اور ان سے درخواست کي کہ اس کے متعلق کوئي اقدام کريں۔
    شيخ محمود شلتوت کي طرف سے لکھے گئے يہ دونوں خط چند اہم نکات کے حامل ہيں:
    ١۔ سر زمين قدس کو آزاد کرانے کے لئے سعي و کوشش کرنا۔
    ٢۔ ان لوگوں سے مقابلہ کرنا جو کسي بھي طرح سے اسرائيل کي حمايت کرنا چاہتے ہيں۔
    ٣۔ علمائے تشيع کے ساتھ گہرا رابطہ جسے آپ کے خطوط ميں بخوبي ملاحظہ کيا جاسکتا ہے۔
    ٤۔ شيعہ علمائ سے مسلسل ان تمام مسائل ميں مشورہ لينا کہ جو دنيا کے مسلمانوں سے متعلق ہيں۔
    جب يہ ٹيلي گراف آيۃ اللہ العظميٰ سيد محسن الحکيم اعلي اللہ مقامہ کو ملا تو فوراً آپ نے تہران ميں مقيم آيت اللہ سيد علي بہبہاني کے نام ايک ٹيلي گراف روانہ کيا اور انہيں اس ماجرا سے باخبر کيا اور آيت اللہ بہبہاني کے نام ايک ٹيلي گراف روانہ کيا اور انہيں اس ماجرے سے باخبر کيا اور آيت اللہ بہبہاني نے بھي علمائے اسلام کي ناراضگي کو شاہ کے سامنے بيان کرديا۔

    اتحاد کی کوشش ۔

    اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ ، شيخ محمود شلتوت کا شمار کم نظير علما سے ہوتا ہے جنہوں نے اسلامي اتحاد کے لئے ايک خاص اہتمام کيا ، ان کي نظر ميں وحدت کے تحقق کے لئے ايک ايسے مشترکہ نقطہ نظرکو حاصل کرنا ضروري ہے جس پر تمام مذاہب اسلامي متفق ہوں اور تمام مذاہب اسلامي کے درميان مشترکہ نقطہ قرآن کريم ہے ، اس سلسلہ ميں شيخ شلتوت فرماتے ہيں: ’’ اسلام نے لوگوں کو اتحاد کي دعوت دي اور وہ چيز کہ جس سے مسلمان تمسک کرسکيں اور اسکے گرد اکٹھا ہوسکيں اسے حبل اللہ کي صورت ميں پيش کيا ، يہ نکتہ قرآن کي بے شمار آيتوں ميں ملاحظہ کيا جاسکتا ہے اور ہر ايک سے زيادہ سورہ آل عمران کي اس آيت ميں واضح و وروشن ہے جس ميں خدا فرماتا ہے : ’’ واعتصموا بحبل اللہ جمعيا ولا تفرقوا‘‘ ؛خدا نے ہر قسم کے تفرقہ اور اختلاف سے منع کيا ہے جو تعصب کي بنا پر وجود ميں آنے والے تفرقہ کو بھي شامل ہے ، حديث صحيح ميں وارد ہوا ہے : ’’ لاعصبيۃ في الاسلام‘‘ دين اسلام ميں کوئي تعصب نہيں ہے ۔( روزنامہ جمہوري اسلامي ،١٩١٠٧٩ ويژہ نامہ ص٩)
    ايک دوسرے مقام پر کتاب خدا ور سنت رسول کو تمام مذاہب اسلامي کے لئے نقطہ مشترک قرار ديتے ہوئے فرماتے ہيں:’’ اختلاف سے منع کرنا، مذہبي اختلاف کو بھي شامل ہے ، اگرچہ فقہ کے اعتبار سے مذاہب اسلامي متعددہیں اوران کے مباني متفاوت ہيں اس کے باوجود يہ سب کے سب کتاب خدا اور سنت رسول۰ سے وجود ميں آئے ہيں، مذاہب اسلامي کي کثرت اور بہت سے احکام ميں نظريات کے باہمي اختلاف کے ہوتے ہوئے بھي يہ سارے مذاہب نقطہ مشترک اور کلام مشترک کي طرف پلٹتے ہيں کہ جو مصادر اصلي پر ايمان اور کتاب خدا اورسنت رسول کو مقدس ماننا ہے‘‘ ( جمہوري اسلامي ،١٩١٠٧٩ ويژہ نامہ ص٩)

    وحدت کے اسباب

    ١۔ ترک تعصب
    جب ايک صحافي نے شيخ محمود شلتوت سے سوال کيا: اتحاد کو قائم کرنے والے اسباب کيا ہیں؟
    انہوں نے جواب ديا: پہلا سبب تعصب سے دوري اور عدل و انصاف کي رعايت کرنا ہے ، يہ ايک ايسي شرط ہے جو ديگر شرائط کے وجود ميں آنے کے لئے ايک مقدمہ ہے جيسے کہ کسي اسلامي ثقافت کا وجود ميں آنا اور نظريات و افکار سے فائدہ اٹھانا، اس مقصد کوپانے کے لئے کتابيں شائع ہوں، مجلات اور ميگزينيں منتشر ہوں، نظريات اور خيالات سے استفادہ کيا جائے ، علمي مراکز اور يونيورسٹياں ايک دوسرے سے آشنا اور اساتيد اور طلاب کا ایک دوسرے کی یونیورسٹیوں کا دورہ کریں ، برادرانہ ماحول ميں نشستيں منعقد ہوں اور ايک دوسرے کے مشوروں سے بہرہ مند ہوا جائے اور اس طرح تمام مشکلات حل کي جائيں اور مسلمانوں کے باہمي روابط کواسي طرح مستحکم کيا جائے جيسا کہ رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم فرماتے ہيں:’’ اگر امت اسلام کا کوئي يک عضودرد کرنے لگے تو ديگر اعضائ کو آرام نہ ملے ‘‘ ( جمہوري اسلامي ،١٩١٠٧٩ ويژہ نامہ ص١٠)
    شيخ شلتوت علمي محفلوں ميں جو اختلافات پائے جاتے ہيں اور عوام الناس ميں جو خشک تعصبات پائے جاتے ہيں ، ان دونوں کے درميان فرق بتاتے ہوئے فرماتے ہيں:’’ نظريات کا اختلاف فطری اور ايک اجتماعي ضرورت ہے کہ جس سے چھٹکارا ممکن نہيں ہے اور وہ اختلاف جو مذہبي تعصبات اور افکار کے انجماد کا باعث ہوتا ہے ، ان دونوں ميں بڑا فرق ہے اس لئے کہ تعصب مسلمانوں کے ربط باہمی کوتباہ کر ديتا ہے اور ان کے دلوں ميں دشمني اور نفرت کا بيج بوديتا ہے ليکن جو اختلافات حقيقت کے بعد اور مخالفوں کے نظريات کا احترام رکھتے ہوئے وجود ميں آتے ہيں وہ قابل تمجيد اور مورد قبول ہيں ‘‘( ( جمہوري اسلامي ،١٩١٠٧٩ ويژہ نامہ ص١٠)
    ايک دوسرے مقام پر بيان کرتے ہيں:’’ ہر گز کسي کے ذہن ميں يہ خيال نہ آنے پائے کہ وہ حقيقت مطلق تک پہنچ گيا ہے لہذا دوسروں پر لازم ہے کہ اس کي پيروي کريں بلکہ وہ يہ کہے کہ ميں جس نتيجہ تک پہنچا ہوں وہ صرف ايک عقيدہ اور ميري کوششوں اور ميري تحقيق کا نتيجہ ہے لہذا کسي کو يہ حق حاصل نہيں ہے کہ وہ بے بنياد ميرا پيروکار ہوجائے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ ميري باتوں کي حقيقت کو تلاش کرنے کے لئے دلائل ڈھونڈے، پس اگر اس کو دليل مل گئي تو ميں اس کے بعد اس کي تائيد کروںگا‘‘ ( مردم و دين ، ص١٤)

    دين کے علما کا کردار

    کسي بھي دين کے علما اس دين کے مقاصد کو حاصل کرنے ميں سب سے بڑا کردار ادا کرتے ہيں پس اگر اسلام کے دانشور اور علما لوگوں کو اتحاد کے فوائد اور اختلاف کے نقصانات نيز دشمنوں کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کريں تو اسلامي اتحاد وجود ميں آجائے گا اور پھر پورا اسلام عالمي کفر کے مقابلہ ميں صف آرا ہوجائے گا۔
    شيخ محمود شلتوت اتحاد اسلامي کے لئے علما کے ممتاز کردار کے پيش نظر ان سب کو اتحاد کي طرف دعوت ديتے ہوئے کہتے ہيں: ’’ ميں ايک بار پھر شيعہ اور سني علما کو نام خدا، کتاب خدا اور حبل اللہ سے تمسک کا واسطہ دے کر اتحاد کي دعوت ديتا ہوں ، اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ خدا کے نزديک وہي لوگ باکرامت ہيں جو ہر ايک سے پہلے اس مقدس ہدف کو حاصل کرليں اور اس سے پہلے انہيں اختلافات کي وجہ سے مسلمانوں کے درميان جو شگاف پڑا ہے ، اسے اور اس کے نقصانات کو ملاحظہ کرتے ہوئے ہمارے نعرہ ’’ اتحاد اسلامي ‘‘ پر لبيک کہے ۔( بي آزار شيرازي،١٣٧٩ش، ص١٨٣)

    دشمن کاناجائز فائدہ اٹھانا

    عالمي استکبار کي سازشوں ميں سے ايک سازش مسلمانوں کے درميان تفرقے کا بيج بونا ہے تاکہ اس کے ذريعہ وہ اپنے شرمناک مقاصد تک پہنچ سکے اور مسلمانوں کے مفادات تاراج کرسکے۔
    اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ استکبار سے زيادہ کسي کو بھي مسلمانوں کے تفرقہ کو ديکھ کر مزہ نہيں آتا ، شيخ شلتوت مسلمانوں کو اس حقيقت کي طرف توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہيں:’’ خدا نے مسلمانوں کو حکم ديا ہے کہ کلمہ وحدت کواپنا ئيں ،پارٹي بازي اور تفرقے سے پرہيز کريں جو قدرت و طاقت کو نابود کرديتے ہيں اسلئے کہ استکبار نے اسي تفرقہ کے ذريعہ بہترين نتائج حاصل کئے ہيں‘‘۔( اخبار تقريب ،ص٤٩و٥٠ ص٤١)
    استعمار کو يہ پسند نہيں ہے کہ امت اسلامي متحد ہوجائے اس لئے کہ اسے اچھي طرح معلوم ہے کہ اگر يہ لوگ متحد ہوگئے تو ان کے مقاصد کے سامنے ديوار بن جائيں گے اور ہر گز اس بات کي اجازت نہيں ديں گے کہ ان کے مفادات اور ذخآئرناجائز طريقہ سے لوٹ لے جائيں ، اسي لئے وہ ہر اس اقدام کا مقابلہ کرتے ہيں جو اتحاد اسلامي کا موجب بنے، اسي سلسلہ ميں ميرزا خليل کمرہ اي مرحوم شلتوت کا ايک واقعہ نقل کرتے ہيں کہ جس سے استعمارکي سازش سمجھ ميں آتي ہے ،لکھتے ہيں:’’ ميں نے اپنے وفد کے ساتھ مصر کے سفر کے دوران دو مرتبہ شيخ شلتوت سےملاقات کي ايک مرتبہ الازہر يونيورسٹي ميں اور دوسري مرتبہ ان کے مکان پر ، ان دو ملاقاتوں ميں شيخ شلتوت نے ہمارے سامنے ايسے حقائق اور اسرار سے پردہ اٹھايا کہ جس سے بيگانوں کي مداخلت اور مشرقي ممالک بلکہ بين المذاہب روابط ميں انکے نامرئي ہاتھ اور سازشیں دکھائي دیتی ہیں انہوں نے بيان کيا کہ ’’ ميں بہت پہلے تقريباً تيس سال پہلے سے فقہ اماميہ کے متعلق جانکاري حاصل کرنا چاہتا تھا اور عراق و ايران سے کچھ کتابوں کو منگوايا ليکن ابھي تک مجھے کوئي کتاب موصول نہ ہوسکي اگرچہ استعمار کا قبضہ ختم ہوچکا ہے ليکن نہر سوئز کي فتح کے بعد آپ لوگوں کي کتابيں آنا شروع ہوگئيں اور جب ميں نے ان کا مطالعہ کياا ور حقيقت سے آگاہي کے بعدمجھ پر حجت تمام ہوگئي تو کسي بھي بات يا مقام و مرتبہ سے متاثر ہوئے بغير وہ فتوا دے ديا‘‘( بي آزار شيرازي ١٣٧٩ش،ص٩٥، ناصر الدين کمرہ اي سے منقول،ص١٧)

    دار التقريب ميں شلتوت کا کردار

    مصر ،شہر قاہرہ ميں تقريب مذاہب اسلامي کي کميٹي ١٣٦٠ ق مطابق ١٩٤٨ ميں مذاہب اسلامي کو متحد کرنے کے لئے وجود ميں آئي ، اس کميٹي کے اراکين علامہ محمد تقي قمي ، شيخ محمود شلتوت ، شيخ محمد مصطفي مراغي، مصطفي عبد الرزاق اور عبد المجيد سليم تھے۔
    علامہ شلتوت اس کميٹي کوسراہتے ہوئے کہتے ہيں:’’ يہ تحريک’’ دار التقريب‘‘ جو مختلف اسلامي مذاہب کو متحد کرنے کے لئے چلي تھي کچھ ہي مدتوں ميں دنيا کي ايک استوار اور علمي حقيقت اور تفکرات اسلامي کي ايک تاريخ بن گئي، اس پر مسلمانوں کے درميان برادري اور محبت نيز اصلاح طلبي کي روح سايہ فگن ہوگئي تاکہ خداوند عالم کا يہ کلام محقق ہوسکے:’’ صرف باايمان لوگ ہيں جو آپس ميں دوستي کرتے ہيں ، پس اپنے بھائيوں کے درميان صلح برقرار کرو اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رحمت خدا کے مستحق بن سکو‘‘( مردم و دين ،ص٩)
    شيخ شلتوت ’’ دار التقريب‘‘ کي فضا کو محبت اور برادري کا نام ديتے ہوئے فرماتے ہيں:’’ وہاں[دار التقريب] پر ايک مصري ، ايراني کے پاس، ايک لبناني اور عراقي، پاکستاني کے پاس بيٹھتا ہے ،وہاں پر ايک ميز کے گرد شافعي اور حنبلي ، ايک شيعہ يا زيدي کے پاس بيٹھتا ہے ، ان کي صدائيں فضا ميں گونجتي ہيں ، وہاں پر علم ، اخلاق، تصوف، فقہ اور ديگر تمام مباحث پيش کئے جاتے ہيں اور ان پر برادري ، دوستي ومحبت اور حق طلبي…کي روح حکم فرماہوتي ہے‘‘( مردم و دين ، ص١٦)
    شيخ محمد تقي قمي جو ’’ دار التقريب ‘‘ کے موسس ہيں ، شيخ شلتوت کي بے نظير خدمات کے متعلق فرماتے ہيں:’’ جس زمانہ ميں استاد بزر گ شيخ شلتوت نے ہمارے ساتھ دارالتقريب کي بنياد ڈالنے کے لئے تعاون کيا ، اس زمانہ ميں وہ الازہر يونيورسٹي کے ايک عظيم استاد شمار کئے جاتے تھے ، انہوں نے مذاہب اسلامي کو متحد کرنے کے لئے اپنے دوستوں اور ہم فکر لوگوں کے ساتھ ہميشہ کوشش کی ، ايک جلسہ ميں انہوں نے يہ مشورہ ديا کہ شيعہ اور سني حضرات کو ايک تعبير ميں شامل کيا جائے، انہيں کسي فرقہ ، يا طائفہ کا نام دينے کے بدلے مذاہب اسلامي کي تعبير استعمال کي جائے اور جب الازہر يونيورسٹي کے معاون بنے تب بھي دارا لتقريب ميں مشغول رہے…‘‘ ( بي آزار شيرازي ، ١٣٧٧ ش، ص٦٩)
    محمد تقي قمي ايک دوسري جگہ دار التقريب اور شيخ شلتوت کي جانفشانيوں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہيں:’’ شيخ محمود شلتوت ١٧ سال تک دار التقريب کےرکن رہے اور اپني عمر کے آخري پانچ سالوں ميں الازہر يونيورسٹي کي صدارت سنبھالي ليکن ان سب کے باوجود الازہر کي صدارت سے پہلے اور اس کے بعد شيعوں اور سنيوں کو ايک دوسرے سے قريب کرنے ميں کوشاں رہے ‘‘ ( ( جمہوري اسلامي ،١٩١٠٧٩ ويژہ نامہ ص٩)
    شيخ محمود شلتوت خود اپني زباني دارا لتقريب کا تاريخچہ بطور مفصل بيان کرتے ہيں کہ جس کا خلاصہ يہ ہے :’’ مسلمانوں کو اس بات پر افتخار کرنا چاہئيے کہ وہ اپنے مذاہب کو ايک دوسرے سے نزديک کرنے ميں سبقت لے رہے ہيں…ميري آرزو تھي کہ ميرے دانشمند بھائي، اصلاح پسندوں کے رہبر، محمد تقي قمي دار التقريب کا تاريخچہ تحرير فرماتے تاکہ ايسے مجاہد اوردانشور اپني زباني اس راہ ميں جن زحمتوں کے متحمل ہوئے ہيں اور جو جو فداکارياں انجام دي ہيں اور کبھي بھي ان کا تذکرہ نہيں کيا، ان سب کو بيان کرتے۔
    محمد تقي قمي وہ پہلےشخص ہیں کہ جنہوں نے اس ہدف کي طرف لوگوں کو دعوت دي اور اسي کي وجہ سے اس ملک کا سفر کيا تاکہ دار التقريب کي بنياد ڈاليں ، شروع سے اس کے ساتھ ساتھ رہے ، اپني ذہانت ، علم ،اخلاص، عزم راسخ اور حوادث ايام کے سامنے صبر و تحمل کرتے ہوئے اس کي نشو و نما ميں لگے رہے ، يہاں تک کہ خدا کے لطف سے انہوں نے خود اپني آنکھوں سے اسے ايک سایہ دار درخت کي صورت ميں ديکھ ليا جو ثمر دہي ميں لگا ہوا ہے اوراس کے سايہ ميں اس ملک کے اور ديگر ممالک کے علما بہرہ مند ہورہے ہيں يا يو ں کہا جائے : کوئي ہے جو دارالتقريب کے اہداف و مقاصد اور رمز و اسرار نيز اس کي بنياد ڈالنے والے سے بخوبي واقف ہو ۔
    ميں شروع سے انديشہ تقريب پر منظم پروگرام کي طرح ايمان رکھے ہوئے تھا اور اس کي پيدائش کے بعد سے آج تک اس کے تمام امور اور تقريب مذاہب کي تمام سرگرمیوں ميں حاضررہا ہوں۔
    الازہر يونيورسٹي کي رياست کے دوران مجھے اتني فرصت ملي جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ريشہ دار اور اسلامي مذاہب کي فقہوں کي پيروي کے لئے جن ميں شيعہ بھي شامل ہيں ، جواز کا فتوا صادر کروں اور يہ وہ فتوا ہے جو دار التقريب ميں ہماري موافقت کے ذريعہ وجود ميں آيااور منتشر کيا گيا جس نے تمام اسلامي ممالک ميں انقلاب برپاکرديا اور ان لوگوں کي آنکھوں کو حقيقت کي طرف کھول ديا جو حق اور تقريب مذاہب کي کوشش ميں مصروف تھے ليکن دوسري طرف اس مسئلہ کو لے کربحث و مجادلہ کا بازار بھي گرم ہوگيا، مجھے اس فتوے پر پورا ايمان تھا لہذا جب بھي کوئي اس کے بارے ميں وضاحت مانگتا تو اسے تفصيلي خط لکھتا اور اس کي تائيد کرتا اور معترض حضرات کے اشکالات کا جواب ديتااوراس کي تائيد ميں جو مقالات لکھے جاتے اور تقريريں ہوتيں ان کي حمايت کرتا يہاں تک کہ مسلمانوں کے درميان يہ فتوا اصل مسلم اور ايک پابرجا حقيقت بن گيا ليکن وہ لوگ جو تعصب کا شکار تھے اور ان کي فکريں محدود تھيں وہ اپني فکر کي پستي ، فرقہ وارانہ اختلافات اور سياسي جھگڑوں ميں پڑے رہے اور اس فتوا کے متعلق شبہات اور بيہودہ باتيں کرتے رہے۔
    ميري آرزو تھي کہ ان لوگوں کے سلسلہ ميں زيادہ زيادہ سے بولتا جنہوں نے اس دعوت کے لئے ايثار کيا ، وہ لوگ جنکے ساتھ ميں نے علمي مباحثہ کئے ،افکار ردو بدل کئے اور خط وکتابت کي جن ميں سر فہرست مرجع عاليقدر آقا حسين بروجردي’’ احسن اللہ في الجنۃ مثواہ‘‘ اور دوشخصيتيں شيخ محمد حسين آل کاشف الغطا اور سيد شرف الدين موسوي رحم ھم اللہ ہيں ، اگرچہ ابتدائي فضا سرزنش ، تہمت ، سوئ ظن اور بہتان وغيرہ کا شکار ہوئي ليکن تقريب بين المذاہب اسلامي ( يعني سنيوں کے چار معروف مذاہب، شيعہ اور زيدي) کميٹي کا وجود ميں آنا ايک کاميابي کي شکل ميں ظاہر ہوا اور کينہ پرور لوگوں کے غم وغصہ کا باعث ہوا ، متعصب اور متحجر لوگوں نے ہر طرف سے تقريب کي دعوت کے خلاف پروپيگنڈے شروع کردیا ، سني حضرات يہ سوچتے تھے کہ دار التقريب انہيں شيعہ بنا نا چاہتا ہے اور شيعہ حضرات يہ خيال کرتے تھے کہ ہم انہيں سني بنا ناچاہتے ہيں ، ايسے وہ تمام لوگ جو تقريب کے اہداف سے آگاہ نہ تھے يا جاننا نہيں چاہتے تھے،وہ کہا کرتے تھے :تقريب تمام مذاہب کو نابود کرنا چاہتاہے يا انہيں ايک بنانا چاہتا ہے ، ميں خدا کا شکر گزار ہوں کہ تقريب مذاہب اسلامی کي کوششیوں سے فکری اصلاح کا بھی آغاز ہوا اورمسلمانوں کے درميان گہرے اور وسيع تاثرات چھوڑے، مسلمانوں کو اس بات پر فخر کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنے عمل اور فکر کے ذريعہ کلمہ وحدت اور مذاہب اسلامي کي تقريب کے لئے ايک دوسرے سے سبقت لي ، اخلاص اور دار التقريب کے سربراہوں اور ديگر معاصر مسلمانوں کے صائب تفکرات کے ذريعہ اس راہ ميں کامياب ہوئے۔
    ميں خدا کي راہ ميں اس دعوت کي کاميابي کے لئے دعا گو ہوں تاکہ اسلام اور مسلمانوں کي کھوئي ہوئي عزت اور آبرو واپس لوٹ آئے اوران کے حق ميں خدا کا يہ فرمان صادق ہو ’’ کنتم خير امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر و تومنون باللہ ‘‘ تم بہترين امت ہو جو لوگوں کے لئے قيام کرتے ہو ،نيکيوں کي طرف دعوت دیتے ہو اور برائيوں سے روکتے ہو اور خدا پر ايمان رکھتے ہو۔
    ’’ قل ہذہ سبيلي ادعوا الي اللہ علي بصيرۃ انا و من اتبعني ‘‘ کہہ ديں: يہ ميرا راستہ ہے ، ميں اور ميرے پيروکاربصيرت کے ساتھ لوگوں کو خدا کي طرف دعوت ديتے ہيں۔
    ’ يا ايھا الذين آمنوا استجيبواللہ وللرسول اذا دعاکم لما يحييکم‘‘ اے ايمان لانے ولو! خدا اور اس کے رسول کي دعوت پر لبيک کہو جب وہ تمہيں اس چيز کي طرف دعوت ديں جو تمہيں زندگي عطا کرتي ہے ۔
    والسلام عليکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ( بي آزار شيرازي ، ١٣٧٧ ش، ص٥٧)
    شيعہ علمائ سے رابطہ
    ١۔ آيۃ اللہ برجردي سے رابطہ
    مسلمانوں کو متحد کرنے کي راہ ميں شيخ شلتوت کے ديگر کارناموں کے علاوہ ايک کارنامہ يہ بھي تھا کہ آپ نے تمام مذاہب کے علما مخصوصاً شيعہ علمائ سے برابر رابطہ رکھا، انہيں شيعہ علما مخصوصاً آيۃ اللہ بروجردي۲ سے بڑي محبت تھي اور متعدد بار آپ کي تعظيم و تکريم کي۔
    بطور مثال : جب آپ کو معلوم ہو اکہ محمد تقي قمي ايران جانا چاہتے ہيں تو آيۃ اللہ بروجردی کے نام ايک خط لکھا اور محمد تقي قمي کے ساتھ روانہ کيا، انہوں نے اپنے خط ميں آيۃ اللہ بروجردي سےارادت کا اظہار کرتے ہوئے مبارک باد دي کہ مذاہب اسلامي کو نزديک کرنے ميں آپ کے اقدامات راہگشا اور موثر رہے ہيں‘‘(بي آزار شيرازي ، ١٣٧٧ش، ص٣١٦، مکتب اسلام ، خرداد ، ١٣٤، ص٦٠)
    ٢۔ آيۃ اللہ کاشف الغطا کي امامت ميں نماز جماعت۔
    شيخ محمود شلتوت فلسطين ميں برپا ہونے والي اسلامي کانفرنس ميں شرکت کرنے کے لئے جب بيت المقدس کا سفر کيا تو ديگر علما کے ساتھ آيت اللہ کاشف الغطائ کي امامت ميں نماز جماعت ادا کي اور پھر ايک مقالہ ميں شيعوں اور سنيوں کا ايک صف ميں کھڑے ہوکر نماز جماعت پڑھنے کي کيفيت کو اس طرح بيان کيا: ’’ يہ مسلمانوں کے لئے کتنے خوشگوار لمحات ہيں کہ فلسطين کي اسلامي کانفرنس ميں شرکت کرنے والے مسلمانوں کے نمائندے مسجد الاقصي ميں شيعہ امامي کے مجتہد ، محترم استاد شيخ محمد حسين آل کاشف الغطائ کي امامت ميں نماز جماعت ادا کريں ، بغير اس کے کہ اس شخص ميں جو اپنے آپ کو سني کہتا ہے اور اس شخص ميں جو اپنے آپ کو شيعہ کہتا ہے ،کوئي فرق ہو، سب نے اکٹھا ہو کر شانہ بہ شانہ ايک صف بنائي جو خدا ئے واحد کے ماننے والے اورايک قبلہ پر ايمان رکھنے والے ہيں۔( بي آزار شيرازي ،١٣٧٩ ش ص ٤١)
    تاريخي فتوا
    شيخ محمود شلتوت کي زندگي کا سب سے بڑا کارنامہ و ہ فتوا ہے جسے انہوں نے معتبر مذہب تشيع کي فقہ کي پيروي کرنے کے جوازکے متعلق صادر کيا تھا، شيخ شلتوت نے يہ فتوا دے کر تقريب مذاہب کے لئے ايک بہت اہم قدم اٹھايا تھا۔
    فتوا کا تاريخی پس منظر
    جس زمانہ ميں الازہر يونيورسٹي کي رياست شيخ عبد المجيد سليم کے ہاتھوں ميں تھي ، اس وقت انہوں نے مذاہب اہلبيتٴ کي پيروي کرنے کے متعلق فتوا صادر کرنا چاہا اور اس امر مہم کو انجام دينے کے لئے پورا ارادہ رکھتے تھے ليکن استکبار کي جانب سے اہلسنت کے مقدسات کے متعلق کچھ کتابيں شائع ہوئيں جو دار التقريب کے ارکان کے ہاتھوں ميں پہنچا دي گئيں۔
    اس کتاب کو ايک شيعہ عالم دين کي طرف منسوب کيا گیا، جس ميں نہ کوئي تاريخ تھي نہ کوئي محل نشر اور نہ ہي کسي مطبع کا ايڈريس تھا، اس کتاب نے مذہب تشيع کے خلاف ايک غم و غصہ کي لہر دوڑا دي۔
    اس ميں کوئي شک نہيں ہے کہ اس فتنہ کے پيچھے استعمار کا ہاتھ تھا، جب عبد المجيد سليم کواس سوچي سمجھي ساز ش کا سامنا کرنا پڑا تو بگڑتے حالات کو ديکھ کر وہ تاريخي فتوا نہ دے سکے اور فتوا دينے سے منصرف ہوگئے اور پھردوسري فرصت کي تلاش ميں لگ گئے ، اس کے بعد اجل نے فرصت نہيں دي ليکن مدتوں بعدان کے شاگرد شيخ محمود شلتوت نے وہ تاريخي فتوا صادر کرديا۔
    شايد تقدير يہي تھي کہ يہ فتوا شيخ شلتوت کے ذريعہ صادر ہوا ور ان کا نام پوري دنيا ميں مشہور ہو۔
    شيخ محمود شلتوت کا فتوا تين عناصر پر مشتمل ہے :
    ١۔ کسي بھي مسلمان پر واجب نہيں ہے کہ وہ ہر صورت ميں اہل سنت کے چار مذاہب ميں سے کسي ايک کي پيروي کرے بلکہ ہر ايک کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ مذاہب فقہي ميں سے کسي بھي مذہب کو اختيار کرسکتا ہے ۔
    ٢۔ ايک مذہب سے دوسرے مذہب کي طرف منتقل ہونا جائز ہے ۔
    ٣۔ ہرفرد مسلمان کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ شيعہ اماميہ کي فقہ پر عمل کرے اگرچہ وہ عمل کرنے والا سني ہي کيوںنہ ہو۔( نجف آباد ١٣٦٤ش ، ص١٧٥)
    فتوا کا متن
    آخر کار ١٧ ربيع الاول ١٣٧٨ ھ ميں فقہ جعفري کے رئيس امام جعفر صادق عليہ السلام اور پيغمبر اعظم حضر رسول اکرم صلي اللہ عليہ آلہ وسلم کي ولادت با سعادت کے مبارک دن شيعہ امامي ، زيدي ، شافعي، حنبلي، مالکي اور حنفي مذاہب کے نمائندوں کے سامنے شيخ محمود شلتوت نے مکتب تشيع کي پيروي کرنے کے متعلق فتوا صادر کرديا۔

    فتوا کا متن اس طرح ہے :

    ’’ مکتب جعفري جو مذہب اماميہ اثنا عشريہ سے پہچانا جاتاہے ايک ايسا مکتب ہے جس کي پيروي ديگر مکاتب اہل سنت کي طرح شرعاً جائز ہے لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اس حقيقت کو سمجھنے کي کوشش کريں اور کسي مشخص مکتب کے متعلق ناحق تعصبات سے دست بردار ہوجائيں اسلئے کہ خدا کا دين اور اس کي شريعت کسي خاص مکتب ميں منحصر نہيں ہے بلکہ تمام مذاہب کے ائمہ مجتہد اور ان کا اجتہاد بارگاہ خداوندي ميں مقبول ہے پس وہ لوگ کہ جو صاحب نظر اور صاحب اجتہاد نہيں ہيں وہ اپنے مورد نظر جس مکتب کي چاہيں تقليد کرسکتے ہيں اور اس کے احکام پر عمل کرسکتے ہيںاوراس ميں عبادات و معاملات ميں کوئي تفاوت نہيں ہے۔( بي آزار شيرازي ، ١٣٧٧ ش ، ص٣٤٥)

    اس فتوا کے صادر ہوتے ہي عالم اسلام کي نگاہيں متوجہ ہوگئيں اور بيشتر مفکرين نے اسے شيعہ سني روابط کے لئے ايک انقلاب سمجھا اوراس کي حمايت کي ليکن کوتاہ نظر اور تفرقہ ڈالنے والوں نے اس اقدام کي مذمت کي اور مذہب تشيع کو رسميت دينے پر اعتراض کيا۔
    شيخ شلتوت کے نزديک اس فتوا کے صادر ہونے کے علل و اسباب ميں سب سے بڑا سبب علمائے شيعہ کي فقہي کتابوں کا مطالعہ اور ان کے دلائل ميں غور وفکر اور تحقيق کرنا تھا، شيخ شلتوت کي رائے يہ تھي کہ فقہ شيعہ کے بعض احکام دلائل کي رو سے اہلسنت کي فقہ پر فوقيت رکھتے ہيں اسي وجہ سے انہوں نے بعض احکام مخصوصا گھريلو امور، شادي بياہ ، طلاق ، ارث اور انہيں جيسے ديگر موارد ميں فقہ شيعہ کے مطابق فتوا ديا ہے اور مکتب تشيع کے متعلق ان کے ہاتھوں سے تحرير کيا گيا تاريخي فتوا امام رضا عليہ السلام کے ميوزيم ميں محفوظ ہے۔
    شيخ شلتوت نے اس راہ ميں شيعوں اور سنيوں کو اعتقادي اعتبار سے متحد کرنے کے لئے ديگر موثر اقدامات بھي انجام دئيے ہيں کہ جن ميں سے ايک اقدام الازہر يونيورسٹي ميں فقہ مقارن کي تآسيس اوراسکے قوانين کو تيار کرنا تھا، فقہ مقارن کے درس ميں مختلف موضوعات جيسے تين طلاقوں کا مسئلہ ، رضايت کے ساتھ طلاق معلق، ارث ، طہارت وغيرہ کے احکام کي تدريس ہوتي تھي۔
    آثار
    شيخ شلتوت نے اپني زندگي ميں مختلف موضوعات پر بيس سے زيادہ کتابیں اور معتبر مقالات بطور ميراث چھوڑ ے ہيں تاکہ تشنگان معارف ان کے مطالعہ سے مستفيض ہوسکيں۔
    کتابيں
    ١۔ تفسير القرآن الکريم ، مجمع التقريب بين المذاہب الاسلامي ، تہران ١٣٧٩ ش
    يہ کتاب مجلہ ’’ رسالۃ الاسلام ‘‘ ميں چودہ سال کي مدت ميں شائع ہونے والے مقالات کا مجموعہ ہے جسے مرتب کر کے شائع کيا گياہے۔
    ٢۔ مقارنۃ المذاہب في الفقہ
    جيسا کہ اس کتاب کے موضوع سے واضح وروشن ہے،مذاہب اسلامي کو اکٹھا کرنے کے موضوع پر تحرير کي گئي ہے۔
    شيخ شلتوت نے اس کتاب ميں فقہ مقارن کے متعلق بحث کي ہے اور تمام مذاہب اسلامي کے فقہي نظريات کو بيان کيا ہے اور پھر اسي نظريہ کو مانا جو زمان و مکان اور حالات سے سازگار اور قوي دلائل پراستوار تھے۔( اخبار تقريب ، ش ٤٦، ٤٥، ص٣٠)
    ٣۔من توجيہات الاسلام، مطبوعات الادارۃ العامۃ للثقافۃ الاسلاميۃ ،١٩٥٩ئ
    مولف نے اس کتاب ميں بعض ديني مفاہيم اور موضوعات کے متعلق وضاحت دي ہے اور سماج کي بعض اخلاقي مشکلات کے متعلق اسلام کے نظريہ کا ذکر کيا ہے ۔
    اس کتاب کے بعض حصے سيد خليل خليليان کے ذريعہ بزبان فارسي ’’ عوام اور دين ‘‘ ، ’’ اخلاق‘‘ ،’’ معاشرے کي کھيتي ميں‘‘ ،’’ اسلام اور يادگاريں‘‘ کے عنوانات کے تحت ترجمہ ہو کر تہران ميں شرکت سہامي انتشارات کے ذريعہ ١٣٤٤ ش ميں شائع ہوچکے ہيں ۔
    ٤۔ الفتاويٰ، دار الشروق ، قاہرہ ١٤٢١ھ
    يہ کتاب ان سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے جو شيخ شلتوت سے ان کي زندگي ميں کئے گئے تھے اور انہوں نے ان کے جوابات دئيے تھے ، شيخ شلتوت کي يہ کتاب عالم اسلام کي ايک بہترين کتاب سمجھي جاتي ہے اور مختلف اسلامي ممالک ميں مسلمانوں کي توجہ کا مرکز ہے ۔
    ٥۔ من ہدي الکتاب ، دار الکتاب العربي للطباعۃ والنشر، قاہرہ ، ص٣٦٠
    يہ کتاب پانچ فصلوں ’’ الي القرآن الکريم ، منہج القرآن في بنا المجتمع ، القرآن والمرآۃ الاسلام والعلاقات الدوليۃ في السلم والحرب ‘‘ پر مشتمل ہے ۔
    ٦۔ الاسلام عقيدۃ و شريعۃ ، دار القلم ، قاہرہ
    اس کتاب کا شمار شيخ شلتوت کي اہم کتابوں ميں ہوتا ہے جو تين فصلوں پر مشتمل ہے ، ’’ عقيدہ ، شريعت، مصادر شريعت ‘‘
    شيخ شلتوت نے پہلي فصل ميں بعض موضوعات جيسے اسلام کے بنيادي مسائل ( توحيد ، نبوت ، قيامت ، قضا و قدر…) اور دوسري فصل ميں عبادات کي شرح ، گھراور سماج کے احکام اور ميراث جيسے مسائل پي

  • Interview with Ali Gomaa

    Master of Moderation

    Source: Al-Ahram

    Question: With the rise of political conflict between Iran and Hizbullah on one hand, and the United States and Israel on the other, the Shia-Sunni relationship has come to the fore. Is it our duty to support the Shias, or do sectarian differences demand we deal with them cautiously?

    Answer: The Shias have always been part of the Islamic Umma (nation). However, they are a minority that do not exceed 10 per cent of the total number of Muslims. Shias are by default a progressive sect. They acknowledge being progressive. They consider reality an inseparable part of their jurisprudence.

    I fully support developments in the Shia sect in 2008. [But] there are those who dig in old Shia books and emerge with conflicts… that is a grave mistake for it ruins the relationship and fails to recognise that the Shia sect is by definition progressive and is now a sect with which we can cooperate.

    http://www.ali-gomaa.com/?page=news&news_details=69

  • 1388/00/00 source: ABNA print

    Egypt Grand Mufti: It is permissible to use Shia Jurisprudence

    Egypt’s Grand Mufti, Ali Gomaa expressed that it is permissible to use Shia Jurisprudence which is useful for Islamic Ummah and there should be no-blame for using it.

    Egypt’s Grand Mufti, Ali Gomaa expressed that it is permissible to use Shia Jurisprudence which is useful for Islamic Ummah and there should be no-blame for using it.

    According to Egyptian News Agencies, Dr. Ali Gomaa issued a Fatwa (religious verdict) based on permissible use of Shia Jurisprudence and stressed: we should confess the progress of Shias and we can collaborate with each other. There is no objection to follow Shia school of thought because there is not any difference between Sunni and Shia.

    The prominent grand Mufti referred to pro-Shia Fatwa of Sheikh Mahmoud Shaltout, the former Sheikh of Al-Azhar, and said: Islamic Ummah is unique until they pray in the same direction (Qiblah) and there is not any difference between Shia and Sunni Muslims.

    “Enemies of Islam and Muslims try to cut union and coalition of Muslims. They look for Shia books to find some differences to encounter Shia and Sunni” Ali Gomaa affirmed, “This is a big mistake and everyone should be aware of enemies’ conspiracies”.

    Sheikh Ali Gomaa (Arabic:علي جمعة ‘Alī Jum‘ah) is the Grand Mufti of Egypt through Dar al-Ifta al-Misriyyah succeeding Ahmad El-Tayeb. He has been called “one of the most widely respected jurists in the Sunni Muslim world,”

    http://abna.ir/data.asp?lang=3&id=163141

    مصر کے مفتی اعظم «ڈاکٹر علی جمعہ» نے ایک فتوے کے ضمن میں اعلان کیا ہے کہ اسلامی امت کے مفاد میں شیعہ فقہ کی پیروی جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے.

    انہون نے زور دے کر کہا کہ ہمیں اس پیشرفت کا اقرار کرنا چاہئے جو اہل تشیع نے حاصل کی ہے اور اس وقت اہل تشیع کے ساتھ مکمل تعاون ممکن ہے اور شیعہ مذہب کی پیروی میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے.

    مصر کے مفتی اعظم نے تشیع کے بارے میں الازہر کے سابق سربراہ مرحوم «شیخ محمود شلتوت» کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امت اسلامي، جب تک سب قبلہ رو ہوکرنماز ادا کرتے ہیں، ایک ہی جسم کے اعضاء ہیں اور شیعہ اور سنی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے.

    ڈاكٹر علي جمعہ نے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف ڈالنے کے سلسلے میں مختلف سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض قوتیں مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ کرنے اور انہیں کمزور کرکے ان میں نفوذ کرنے اور اپنے منصوبوں پر عملدرآمد کرنے کی سارشیں کررہی ہیں اور قدیم شیعہ کتابوں میں سے اختلافی مواد جمع کرکے مسلمانوں کے در میان عام کررہے ہیں اور ان قوتون کی پیروی کرکے اختلاف کو ہوادینے کا رجحان نہایت بڑی غلطی ہے.

    مصر کے مفتی اعظم نے 14 صدیون کے دوران شیعہ فقہ کی ترقی اور کمال کی مکمل تأئید و تصدیق کرتے ہوئے کہا: شیعہ مذہب کی فطرت ارتقائی ہے اور ہم سب اس امر کے معترف ہیں اور حقیقت پسندی شیعہ فقہ کا جدائی ناپذیر جزء ہے اور شیعیان اہل بیت (ع) ہمیشہ کے لئے امت اسلامی کا ناقابل جدائی جزء ہیں.

    http://www.wilayatfoundation.com/index.php/2011-11-24-14-45-48/467-2012-08-29-20-41-11

  • Qaradawi and Shia-Sunni dialogue

    Yoginder Sikand,
    24 December 2010
    The Qatar-based Shaikh Yusuf al-Qaradawi (left) is considered to be one of the world’s leading Islamic scholars. Author of numerous books, he is known for his open-minded attitude and for his willingness to address of vital contemporary concern in a spirit of genuine dialogue.
    One issue on which the Shaikh has written extensively relates to relations between different Islamic groups, sects and movements. He decries extremist interpretations of the faith that readily brand all other Muslims as infidels and outside the pale of Islam. Instead, he pleads for moderation and dialogue among Muslims, seeing this as mandated by the Quran and the Prophetic example.
    Relations between Shias and Sunnis have been strained for much of Muslim history. Many Shias and Sunnis see each other as apostates or even as ‘enemies’ of Islam.
    In some countries, such as in parts of Pakistan today, Shia-Sunni conflict has taken seriously violent forms. Although in many cases there are crucial political and economic factors that fuel this conflict, the sectarian dimension acts as a powerful factor in further exacerbating Shia-Sunni differences.
    Halting efforts have been made in the past, and continue to be made today, to promote Shia-Sunni dialogue. However, on the whole, it can be safely said, most conservative and ‘traditional’ ulama have been reluctant, if not openly hostile, to any suggestion of genuine Shia-Sunni dialogue.
    Literature branding the sectarian ‘other’ as inveterate foes of Islam continues to be produced and distributed, mostly, although not entirely, penned by conservative ulama.
    Although such literature has been in existence for centuries, in recent years it appears to have been given a major boost through active sponsoring by certain states in order to promote their own interests.
    This, for instance, is the case with the vast amount of anti-Shia literature produced in or funded by Saudi Arabia in order to counter anti-monarchical and anti-imperialist interpretations of Islam emerging from out of Iran following the Islamic Revolution in that country.
    Opinion on Shi’i-Sunni marriage
    Given the vehement opposition to the Shias among many, if not most, Sunni ‘ulama, Shaikh Yusuf al-Qaradawi’s attitude towards Shias is particularly remarkable.
    Two fatwas recently issued by him relating to the Shias suggest his serious willingness to engage in genuine dialogue with Shias and to tolerate differences, within broad limits, among Muslims. The first of these fatwas deals with the issue of intermarriage between Shias and Sunnis.
    IGNORANCE… The recent raid on a Shia Muslim centre by Selangor’s Islamic Department points to deep ignorance about Shia-Sunni differences among officials
    The Shaikh responds to the question by explaining the conditions for an ideal marriage. ‘Matrimonial life’, he says, ‘should be based on mutual understanding between the spouses’. ‘[H]eated arguments and continuous debates’, he says, would threaten to ruin the marriage, leading to ‘battle between the spouses’.
    One possible cause of serious conflict between spouses could be, the Shaikh says, if one of the partners, being a Sunni (here the Shaikh does not identify the person as such) ‘supports Abu Bakr’ and the other (presumably a Shia) ‘defends Ali’.
    The Shaikh clearly says that he does not regard such a marriage as forbidden (haram) but, yet, he states, ‘I don’t prefer it’. This is because it would inevitably lead to conflict and eventual martial breakdown.
    He says that just as a Muslim man is allowed to marry a Christian woman, he could also marry a Shia woman. Yet, although he considers it legally permissible for a Sunni man to marry a Shia woman, he argues that such a marriage is ‘not the ideal one’. However, he further qualifies his statement by stressing that if the Shia woman is a ‘moderate Shi’ite’, prays in the mosque along with Sunnis and ‘does not support conflict with the Sunnis’, a Sunni man can marry her if he ‘really wants to’.
    FOR UNITY … Like his predecessor, the Iranian leader Ayatullah Khamenei is an advocate for Shi’a-Sunni unity and has recently urged fellow Shi’as to be more sensitive to Sunnis’ respect to some companions of the Prophet whom the Shi’as have political differences with
    Interestingly, he adds in conclusion, ‘It goes without saying that the above fatwa is also applicable in case the man is a Shi’ite and the woman is a Sunni’.
    Shia-Sunni dialoge
    The Shaikh’s second fatwa deals in greater detail with Shia-Sunni relations, particularly addressing the question of dialogue between the two groups.
    The fatwa, issued in March 2004 in reply to a question put to the Shaikh by a certain Husain from Iraq, bears the revealing title, ‘Overlooking Differences Between Sunni and Shi’ite Muslims’. In reply to the question, the Shaikh begins by highlighting the importance that Islam places on Muslim brotherhood. This, he suggests, points to the urgent need for Shia-Sunni dialogue. He then lays down certain broad rules for Sunnis to follow in dialoguing with Shias.
    The most important rule, he says, is to ‘concentrate on the points of agreement’, not on areas of difference. Of the former, the most salient are those that deal with ‘the fundamental issues of religion’.
    On the other hand, he suggests, most of the points of difference between Shias and Sunni have to do with ‘minor’ issues, and hence must not be allowed to become an obstacle in the process of dialogue.
    Similarities, not differences
    The Shaikh then discusses in detail the areas of broad agreement between Shias and Sunnis, which he suggests must form the basis of meaningful dialogue and efforts to build unity between the two. He argues that both Shias as well as Sunnis share many fundamental beliefs, such as faith in one God, in Muhammad as the ‘Seal of the Prophets’, in all the heavenly scriptures and prophets, and in the Quran as God’s word.
    Shias as well as Sunnis agree in the matter of the ‘five pillars’ of Islam-the testimony to the oneness of God’s and to the Prophet Muhammad as being God’s messenger, the specified prayers, zakat, haj and fasting in the month of Ramadan.
    The Shaikh admits that Shias and Sunnis differ with regard to some rulings related to these ‘pillars’, but then adds that such difference of opinion is ‘something that is quite normal’.
    In contrast to several other Sunni scholars, he refrains from magnifying real or imaginary differences between the Shias and Sunnis. Instead, he goes so far as to argue that the differences between Shias and Sunnis in the ways in which the ‘five pillars’ are understood are ‘like the scholarly difference in opinion among the Sunni schools themselves, such as the Hanbali, Hanafi and Maliki schools’.
    In his effort to bring Shias and Sunnis closer the Shaikh approvingly refers to the well-known Sunni scholar Imam Ash-Shawakani, who, he writes, ‘referred to eminent scholars of jurisprudence among the Sunnis and Shi’ites on equal footing’. The Shaikh maintains that in matters of jurisprudence, on issues concerning both ‘worship’ and ‘transactions’, there is probably no ‘crucial difference’ between Shias and Sunnis.
    He admits that Shias do not recognize the Sunni books of Hadith or traditions attributed to the Prophet. Yet, he also claims that most of the ‘authentic’ traditions contained in these books are, in fact, considered as authentic by Shias, either as reports narrated by sources they consider trustworthy or else as points of view of their Imams, whom they regard as infallible.
    On the whole, then, he concludes, ‘there is a great deal of agreement’ between Shia and Sunni jurisprudence, and this he considers as ‘the most important point’ to be kept in mind when approaching the question of Shia-Sunni dialogue and unity. Both forms of jurisprudence, he says, depend on the same sources, the Quran and the practice (sunnah) of the Prophet, and both are said to share the common aim of ‘establishing Allah’s justice and mercy among people’.
    The Shaikh is not unmindful of the differences, on certain issues, between the Sunnis and most Shias, although he considers them relatively insignificant, at least compared to what they share in common. In highlighting the commonalities between the two he also argues against a widely held view in some Sunni circles of all Shias as believing in certain doctrines that are not accepted by the Sunnis.
    MOURNING FOR HUSSEIN … A well-known practice among Shi’ite Muslims is the mourning ceremony on 10 Muharram, in remembrance of the martyrdom of Imam Hussein who is held in high esteem by both Sunnis and Shi’as.
    Thus, he writes, ‘some Shi’ite views that seem eccentric to use have been also adopted by some Sunni scholars’. For instance, he says, while most Shias approve of ‘temporary marriage’ (mu’tah), Sunni scholars in general forbid it. Nevertheless, he notes, a companion of the Prophet, Hazrat ibn Abbas regarded this form of marriage as ‘lawful’ and that ‘although he changed his mind later’ on the issue, some of his followers in Makkah and Yemen, such as Said ibn Jubair and Tawus, continued ‘holding such marriage lawful’.
    Shi’as are Muslims
    Overall, then, the Shaikh’s relatively open-minded approach to the vexed issue of Shia-Sunni relations is in sharp contrast to that of many conservative Sunni ‘ulama, particularly the so-called ‘Wahhabi’ scholars, who insist that the Shias are heretics and are outside the fold of Islam.
    The Shaikh appears to vehemently disagree with this position, and, instead, explicitly recognizes most Shias as fellow Muslims. In one of his statements he clearly announces, ‘Let it be known to all that the Shi’a are Muslims who believe in the Oneness of Allah and the Prophethood of Muhammad (peace be upon him)’.
    The term ‘Shia’, he explains, refers to ‘a group of people who are the followers of Imam Ali’. They also ‘show full fidelity’ to the Ahl-i Bayt, the family of the Prophet. This is not a wrongful or un-Islamic innovation, and nor are those who are commonly referred to as Shias the only one who do so. In fact, the Shaikh argues, ‘such fidelity is required of all Muslims’, and proceeds to provide Quranic evidence for this.
    He admits that the Shias ‘have their own dogmas’, which Sunnis ‘condemn as heresy’, but argues that ‘this doesn’t make them into non-Muslims’. However, he makes a careful distinction between those Shia groups who he considers may legitimately be regarded as Muslims, and those whose beliefs and practices are for him clearly aberrant, even to the majority of the Shias themselves. The latter include groups who deify Ali or claim that he was meant to have been the last prophet, in place of the Prophet Muhammad.
    As the Shaikh sees it, intra-Muslim rivalry, particularly between Shias and Sunnis, only plays into the hands of forces that are inimical to Muslims. All Muslims should be alert’, he warns, ‘against the schemes and plots planned by the enemies of Islam’.
    ‘They want us to disagree and fight each other in the name of belief’, he says, and appeals to Shias and Sunnis ‘not to give them this chance’.
    Given the nature of the institution of the fatwa, the Shaikh does not deal at length with the theological (as opposed to simply jurisprudential) differences between Shias and Sunnis, but instead, simply provides an opinion in response to specific questions put to him.
    Naturally, for a meaningful dialogue between Shias and Sunnis, issues of theology as well as history cannot be ignored. Yet, the Shaikh’s fatwas make clear, dialogue can only take off when both partners are willing to recognize what they share in common.
    As the Shaikh points out, there is much that Sunnis and most Shia share, and this must form the basis for developing a genuine Islamic ecumenism.
    [Yoginder Sikand is a Muslim writer and researcher based in India]

    http://en.harakahdaily.net/index.php/articles/depth/1979-qaradawi-and-shia-sunni-dialogue.html

  • Al-Qaradawi’s Statement on Shiites:
    Fatwa, posted 4.22.2010, from Qatar, in: Intra-Muslim Relations – GENERAL Minority Muslim Groups
    Religious Authority: Yusuf al-Qaradawi
    Website URL: http://www.islamonline.net
    Fatwa Question or Essay Title: Al-Qaradawi’s Statement on Shiites:
    Websites and Institutions: Islam Online
    Translated By Dr. Ahmad Al-Gharbawi Al-Qaradawi

    A Furious Attack

    On Ramadan 13th,1429 A.H., September 13th, 2008, the semi-official Iranian news agency Muhr launched a furious attack against me, exceeding all limits and descending to very low levels, over a dialogue published by Al-Masri al-Youm newspaper about me . This dialogue touched upon the subject of the Shiites and their doctrine. In this regard, I said: “I do not consider them as non-Muslims as do some of those who go to extremes. Rather, I regard them as Muslims, yet religiously innovative Muslims. Furthermore, I warned of two serious issues as far as many Shiites are concerned: Cursing the Prophet’s Companions and invading the Sunni community with the Shiite doctrine given the great wealth at their disposal from which they assign millions, even hundreds of millions, for the achievement of this purpose. Also, they have trained individuals capable of disseminating their doctrine. Ordinary Sunnis, on the other hand, have no cultural immunity against this invasion, as we, the Sunni scholars, have not armed them with a protective culture. This is because we usually avoid talking about these issues, even though we are well aware of them, for fear of causing fitnah (sedition) and out of keenness to maintain the unity of the Ummah (greater Muslim religious community).”

    My words provoked the Iranian news agency. As a result, it acted irrationally and began directing its attacks toward me from every side. Commenting on my position, the erudite scholar, Ayatollah Muhammad Hussein Fadlallah, made a statement which astounded me, especially as it came from a person like him. Also, commenting on my speech was Ayatollah Muhammad Ali Al-Taskhiri, my deputy at the International Union for Muslim Scholars, who uttered even stranger words.

    My Position on the Shiites and their Doctrine:
    Before responding to them all, I would like to clarify my position regarding the Imamiyyah (Imamate) Shiites, their doctrine and their attitudes. I want to tell the truth and seek the good pleasure of Almighty Allah in the belief that He took the covenant of the scholars that they should present the truth to people in a plain manner. Indeed, I have already clarified this truth in my book “Principles of Dialogue and Rapprochement between the Muslim Doctrines and Sects” based on a research I presented at the conference of rapprochement held in Bahrain. What I am going to say today is only a confirmation of what was said earlier.

    First: I believe in the unity of the Muslim Nation with all its groups, sects and doctrines, since the entire Ummah believes in one Book and one Messenger, and faces one qiblah (the direction that Muslims take when praying to face Ka`bah). Furthermore, the existing difference between the Ummah’s various groups does not separate any of them from the Muslim body. The hadith that refers to the division of the Ummah into groups indicates that they all belong to the Ummah. “My Ummah will split…” except those who went outside for the sake of Islam in a complete and categorical manner.

    Second: Among the seventy-three sects mentioned in the hadith, there is only one that will be saved from Hellfire, unlike the rest that are astray and will end in ruin. Each sect views itself as the saved one while the others are seen to be in error. We, the Sunnis, have certain belief that only we are the saved group and that all other sects and groups have fallen into error and religious innovations. Based on this, I said that the Shiites are producers of religious innovations, not unbelievers, and this is a view that is unanimously held by the Sunnis. If I hadn’t said that, I would have been contradicting myself, as the truth has only one face. Praise be to Allah, almost nine-tenths of the Muslim Ummah are Sunnis. This being the case, the Shiites also have the right to voice their beliefs about us.

    Third: My position on the Twelver Shiites is the same as that of every moderate Sunni scholar. However, immoderate scholars declare them to be disbelievers on account of their attitude toward the Qur’an, the Sunnah, and the Companions. Because of their sanctification of their imams: they are regarded as infallible and believing that the imams know of the Unseen what Prophets did not know. In my book “Principles over Dialogue and Rapprochement” I wrote a response to those who consider them to be disbelievers.

    Still, I differ with them over the foundation upon which their doctrine is based and I see it as erroneous. They mistakenly believe that Prophet Muhammad (peace and blessing be upon him) commanded that `Ali ibn Abi Talib (may Allah be pleased with him) should be his successor in leading the Muslim Ummah, and that the Companions betrayed the Messenger (peace and blessings be upon him) and plotted together to deny Ali his right. Surprisingly,Ali (may Allah be pleased with him) did not declare this openly and did not fight for his right. On the contrary, he pledged allegiance to Abu Bakr As-Siddiq, Umar ibn Al-Khattab and then Uthman ibn Affan (may Allah be pleased with them all) and was a helper and advisor to all of them. How is it that he did not declare the truth in front of them? And how is it that he did not make his right known to all people? Moreover, how is it that his son, Al-Hasan ibn Ali, conceded his dictated Caliphate to Mu`awiya ibn Abi Sufyan? Greater still, how come the Prophet (peace and blessings be upon him) commended his act, saying that through him Almighty Allah will bring about peace between two great Muslim groups?

    The Shiites are known for some applied innovations, such as: reliving the tragedy of Al-Husayn ibn `Ali every year by slapping their faces and beating their chests to the point of shedding blood, while this great affliction took place more than thirteen centuries ago. Why do they not do the same in memory of the murder of his father, who was better than him?

    Also, among these are the acts of shirk (associating other beings with Allah) that are committed at the shrines and graves where the members of the Prophet’s household were buried. They ask them for help and render their supplications to them instead of Almighty Allah. Some Sunnis may also commit such acts, and their scholars express their strong disapproval. For this, we characterize the Shiites as people of religious innovations, but do not ascribe to them outright or major disbelief that would render them outside the fold of the Muslim faith.

    I am one of those who have been resisting – for a long time- the trend of regarding certain Muslims as disbelievers. In my published treatise Dhaherat al-Gholow fi al-Takfir – The Phenomenon of Going to Extremes in Ascribing Disbelief to Muslims, I firmly disapprove and reject such extremism and I assert that whoever has uttered the dual testimony of faith [There is no god but Allah – Muhammad is His Messenger] and has abided by its requirements has certainly entered the fold of Islam and does not go out of it unless by categorical and doubtless shirk.

    Fourth: Differences regarding the branches of religion and the rules on acts of worship and dealings can be tolerable, like the fundamentals of religion, as these issues encompass all. Moreover, the difference between us and the Shiites is no larger than that existing between the Sunni doctrines themselves. Therefore, they quoted the fatwa issued by the departed Sunni Sheikh, Shaltout, Grand Sheikh of Al-Azhar, in which he said that it is allowed for a Sunni to perform his acts of worship in accordance with the Jafaari doctrine, because acts of worship belong to the branches and practical rules, and the difference between them and us with regard to Prayer and fasting and other acts of worship can be accepted and tolerated.

    Fifth: What I said to Al-Masri al-Youm newspaper is that which I said and asserted firmly and with outright frankness at all conferences of rapprochement that I attended in Rabat, Bahrain, Damascus and Doha. Thus, the Shiite scholars heard my words and commented on them. Moreover, I openly expressed my position to Ayaat Allah (plural of Ayatollah) when I visited Iran almost ten years ago: that there are red lines that must be observed and not crossed, such as cursing the Companions and spreading the Shiite doctrine in countries that are predominantly Sunni. All Shiite scholars were in agreement with me over this.

    Sixth: Despite my reservation about the Shiite position with regard to spreading their doctrine in Sunni communities, I stood strongly beside Iran over its right to possess peaceful nuclear power and vehemently denounced American threats against it. In this regard, I said: We would stand up to the United Stated if it attacked Iran, as Iran is part of the Muslim land; therefore, it should not be renounced or forsaken. Rather, we are obligated by the Shari`ah to defend it, if it is invaded or threatened by a foreign power. All media outlets in Iran highlighted my stance, and some Iranian officials called me to offer their thanks and appreciation. It is to be noted here that I did not take this stance as a compliment, but as a duty to say what should be said by a Muslim in support of his fellow Muslims.

    Response to the Iranian News Agency Muhr

    1. The Iranian news agency claimed that I reiterate what is said by Jewish rabbis and that I speak on their behalf. It further claimed that my speech plays into the hands of Zionists and rabbis! This uninformed agency, however, did not know that the Jews themselves stated that religious scholars pose the most dangerous threat to the Palestinian cause, and that the most dangerous among them is Al-Qaradawi! As a consequence, they have often incited my assassination, and the Zionist lobby stands against me everywhere and provokes the governments of various countries against me so that they ban my entry into their lands. No wonder then that I have been banned from entering the United States, Britain and some European countries, because I am an enemy of Israel and the Mufti of martyrdom operations.

    My struggle against Jews and Zionists began when I was fifteen years old, that is seventy years ago, when all those who attack me now had not yet been born! Since the early years of my youth, I have been affiliated with a group considered by Zionists as their first enemy; it is the Muslim Brotherhood that has provided and still provides martyrs for the cause of Palestine.

    My position concerning Freemasonry is crystal clear; it has been stated in my fatwa on Freemasonry and my book Contemporary Fatwas.

    2. The agency also alleged that the Shiite doctrine finds acceptance among Arab youth who were amazed at the victory of Hizbullah over the Jews in Lebanon, as well as among Muslims that suffer oppression and persecution. This, in the sight of the Iranian agency, is one of the miracles of the Prophet’s household, as the Muslims have found their long-pursued object in this doctrine given the excellent example presented by the Shiites of Islamic governance that was never established after the rule of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) and the rule of Imam Ali (may Allah be pleased with him).

    The response to this speech is quite easy, as the Iranian national, like others in Muslim countries, is needy and insecure, especially the Sunnis who continue to suffer from the restrictions that are being imposed on them. In addition, the statements of the agency slanders and casts doubt over the rules of Abu Bakr As-Siddiq and Umar ibn Al-Khattab; they established an excellent example of governance based on justice and mutual consultation. In contrast, the rule of `Ali ibn Abi Talib abounded with internal conflict, so he could not establish his aspired-for system of justice and development in the proper way.

    3. Importantly, the agency acknowledged the growing spread of the Shiite doctrine which it considered “a miracle” of the Prophet’s household! This runs counter to the view held by Sheikh Fadlallah and Sheikh Al-Taskhiri and others who deny this view.

    4. Another claim made by the agency is that I did not speak about the heroism displayed by the Shiites in Southern Lebanon (2006). This claim too is false and baseless, because I did actually support and defend Hizbullah and I also replied to the fatwa issued by the great Saudi scholar, Sheikh Ibn Jibreen, in a complete episode of my program Shari`ah and Life on Al-Jazeera. The episode was transmitted from Cairo as I was on holiday.

    5. The agency spoke with malicious joy about the defeats suffered by the Arabs, especially that of 1967, and it also mentioned the Arab rulers and generals as if I was responsible for them! In fact, I have resisted the oppression and tyranny of Arab rulers, for which reason I faced imprisonment and detention and was court-martialed. Moreover, because of this I was denied my right to a government job, even though I was ranked the first when I graduated.

    However, the agency forgot that Egypt engaged in four wars for Palestine, and that it achieved a well-known victory in one of those wars over the Zionist state despite the support Israel received from the United States. I am talking about the Ramadan 10th War (1393 A.H. – 1973 A.D.). The agency also forgot the heroic deeds exhibited by our brothers in Palestine: from Hamas, Jihad, Al-Aqsa Brigades and others.

    6. Still, the lowest level the agency descended to is its claim that I am double-faced and deceitful, which is a reflection of the decadence that is more befitting of those who originally issued the statement. An Arab poet said:

    Enough is the great difference in level between us

    And each vessel sprinkles of what it contains

    Those who knew me through personal association and companionship or by reading my biography are aware that since my youth I have unsheathed the sword of truth against every falsehood, and that I have never dealt hypocritically with a king, a president or a prince; and that I speak the truth without thought of the blame of the blamers. Should I be such a person who trades in the market of hypocrisy, I would have done so with Iran that can and do give millions to buy the loyalty of many people. However, I cannot be bought with the world’s treasures. Indeed, Almighty Allah has bought me and I have sold myself to Him. Years ago, they proposed that they award me a prize given to some Sunni scholars, which I refused apologetically.

    This deceptive news agency continued to say: It was more proper for Sheikh Al-Qaradawi to warn of the danger of the spread of Zionism that has almost reached the household of Al-Qaradawi himself, as those of his children who live in London have totally integrated into Western culture and kept away from the Islamic culture.

    I wonder how they dared to tell such a flagrant lie. Actually, none of my children lives in London. Their work, however, is in the field of teaching at Qatar University and at the Qatari Embassy in Cairo. Among my daughters are three who obtained a PhD from England, and they have all been in Qatar for years and are holding onto their Muslim culture and identity. It may be that this agency considers anyone having scientific specializations as moving away from Islam and Islamic culture.

    I am in no need of learning about the danger of the spread of Zionism, from Mr. Hasan Zadah – an expert on international affairs at the agency- as I have been resisting this danger since I was 15 through my poetry and prose, my speeches and books; I authored two books about this: The Lesson from the Second Nakba and Jerusalem is the Cause of Every Muslim in addition to several other fatwas, lectures and speeches.

    If he turned on the radio every Friday when I give the sermon or if he listened to it on Qatari satellite TV, he would be acquainted with my true position on the spread of Zionism. No doubt can be cast on me in this regard.

    The Attitude of Sheikh Fadlallah:

    1. Ayatollah Sheikh Muhammad Hussein Fadlallah commented on my speech in Al-Masri Al-Youm newspaper in a strange manner that is unbefitting for a person like him whom I consider one of the moderate Shiite scholars and with whom I maintain nothing but good relations. The first thing he said was: “I have not heard that Sheikh Al-Qaradawi ever took a stance against Christian missionary work that aims at making Muslims leave their religion.” Indeed, this is astonishing. My stance against Christianization, which they call missionary work, is very plain for all to see. I expressed it many times in my books, sermons and lectures. I have also been to many Muslim countries after the Colorado conference in 1978 that was held to discuss how to Christianize the Muslim world; they appropriated one billion dollars for this purpose. Finally, I endeavored to establish the International Islamic Charitable Organization, in Kuwait, whose first and foremost goal was practical resistance to the frenzied wave of Christianization within the Muslim world.

    It is well known that I stand up to anyone who encroaches upon the sanctities of Islam: the Messenger, the glorious Qur’an and the noble Sunnah. My stance concerning the offensive caricatures crisis is known the world over, as was my response to the Vatican Pope, which took on many forms including writing a book entitled The Pope and Islam.

    2. Sheikh Fadlallah further said: “We have heard nothing about any speech by Al-Qaradawi concerning the secular or atheistic infiltration into the Muslim world.”

    To this I reply: “How astonishing! I opposed and resisted secularists and atheists through my books, lectures and speeches, which are published and widely known, such as:

    Al-Islam wa al-Ilmaniyyah wajhan li wajh – Islam and Secularism Face to Face

    At-Tatarruf al-Ilmani fi muwajahat al-Islam – Secular Extremism in the Face of Islam

    Baiyynaat al-Hall al-Islaami wa shubuhaat al-`Almaanyyeen wal mutgharrebeen – Proof of the Islamic Solution and Suspicions of Secularists and Westernized Figures

    Al–Din wa al-Siyasah – Religion and Politics

    Men fiqh al-Dawlah Fi Al-Islam – From the State Fiqh in Islam

    There are other books that are widely circulated and have been translated into several languages.

    Moreover, I have engaged in debates with secularists and Almighty Allah granted success and victory to the arguments presented from the Islamic side and caused the open collapse of the opponents. These debates were taped and have been listened to by many people worldwide.

    3. Sheikh Fadlallah criticized me for regarding the Shiites as “people of religious innovations”, forgetting that I said so as a reply to those who regard them as non-Muslims. We, the Sunnis, regard all other Muslim sects as people of religious innovations but do not send them outside the fold of Islam. This is because there is only one saved group and all the others have fallen into religious innovations and errors to varying degrees.

    The Shiites have made theoretical and practical religious innovations. Among the theoretical religious innovations is their mistaken belief that `Ali ibn Abi Talib was the rightful successor of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) as was allegedly ordered by the Prophet himself. Such innovations also include sanctifying their imams, going to extremes in dignifying them and considering them to be infallible. Additionally, in their belief, the Sunnah is not only that of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him), but of Prophet Muhammad and the infallible imams who are said to succeed him.

    Their practical religious innovations include their sad commemoration of the tragedy of Al-Husayn ibn `Ali every year, and the acts of shirk committed at the shrines of the members of the Prophet’s household. Another innovation is that they include `Ali ibn Abi Talib in the testimony of faith during the Adhan.

    Regarding what Sheikh Fadlallah said about the Shiites’ distortion of the Quran, I say that I am one of those who believe that the overwhelming majority of the Shiites do not know any other Quran than that held by the Sunnis; that the copy of the Quran that is printed in Iran is the same as that which is printed in Al-Madinah Al-Munawwarah and Cairo, and that this copy of the Quran is the one that their scholars explain, their jurists refer to as an argument and source of definitive information, and their children learn by heart.

    This is what I mentioned in some of my books. I merely said that some Shiites hold the view that the Quran is incomplete and that the Mahdi will come with the complete Quran; and that books were authored on this issue, such as Fasl Al-Khitab – The Definitive Speech and I said that the majority of Shiites deny this, yet do not consider it as a belief of shirk as the Sunnis do, which is the difference between them and us.

    4. Within his speech, Sheikh Fadlallah posed a question to me about my opinion regarding the books published by some Sunnis wherein they declare the Shiites as disbelievers and apostates.

    My reply is: I reject this, and I would not regard anyone who prays in the direction of the qiblah a disbeliever except if he committed an act or held a belief that categorically renders him outside the fold of Islam. Otherwise, the fundamental rule is that a Muslim should be regarded as a Muslim, be given the benefit of the doubt and that any suspicion about him ought to be interpreted in his favor.

    5. The Sheikh also disapproved of what I mentioned about the Shiite invasion of our Sunni communities, and he asked me through some friends to provide him with statistics of what happens exactly in the countries that face Shiite infiltration such as Egypt, Algeria, and Syria. My reply is: No one has ever told me about this request, which is not a new one. However, such acts of infiltration take place secretly, especially in strictly Sunni communities, such as Egypt, Sudan, Tunisia, Algeria and others. Furthermore, there is no need for statistics when we have clear instances that suffice as proof.

    I think that what the Iranian Muhr news agency has mentioned about the spread of the Shiite doctrine within Muslim and Arab countries and that it regarded this as a miracle of the Prophet’s household has spared me the reply to the Sheikh in this respect.

    The Attitude of Sheikh Al-Taskhiri:

    The comment of my friend, Sheikh Al-Taskhiri, was even stranger. He knew me very well, nearly a quarter of a century ago. I have chosen him as my deputy at the IUMS, and we often get together at the board of trustees and the executive office, as well as our meetings at conferences and the Fiqh Academy.

    1. The Sheikh saw that my statements could provoke fitnah, and that they were made under pressure from extremists and those regarding others as disbelievers that present fabricated information about the Shiites, and that I was influenced by them! The Sheikh, however, forgot that I have never ever provoked fitnah. On the contrary, I have always been a caller to unity and friendly relations. Moreover, I have opposed those extremist groups and warned of their danger. For this purpose, I have authored books, given sermons and lectures and written articles calling to moderation in religion. Moreover, I have even become a symbol of moderation among Muslim da`is, intellectuals and jurists.

    My books on the rectification and direction of the Islamic Reawakening are widely known; and they have been published and translated into many languages.

    2. Al-Taskhiri further added: “Al-Qaradawi compares Shiite preaching to missionary work, when this term is only employed to refer to Christian missionary work.”

    To this I reply: I have used the same term employed by Imam Muhammad Mahdi Shams Ad-Din (may Allah have mercy on him). Earlier I used to employ the term “the dissemination of the doctrine”.

    I call Christian missionary work by its true name: Christianization. There can be no dispute about the correctness of this term.

    This gives the impression that the Sheikh accepts Shiite preaching, yet he refuses to call it missionary work. However, I reject it regardless of what it is called. It is the content and substance that matters, not names and titles.

    3. Al-Taskhiri asserted that by these practices, Al-Qaradawi does not work for the unity of the Muslim Ummah and its interests, and that this contradicts the goals of the International Union for Muslim Scholars for whose establishment he made serious efforts with the aim of eliminating fanaticism and discord, while calling for moderation, as stated in the Islamic charter of the Union.

    On the other hand, Sheikh Al-Taskhiri is aware that throughout my life I have been calling for the unification of the Muslim Ummah; and if its unity is an elusive goal, then at least we ought to maintain mutual solidarity among its peoples and countries. He must also know that I supported the call to rapprochement and attended conferences held for this purpose at which I presented significant researches. However, this does not mean that when I observe a clear danger before me that I should turn a blind eye to it in order to compliment this and please that. By Allah! I would never sell my religion even if the price were the treasures of the world.

    I warned clearly and strongly against all the rapprochement conferences that I attended against any attempt to export a doctrine to a country that purely belongs to the other doctrine.

    Surely, Al-Taskhiri can recall that when I visited Iran, I told them: What could you possibly gain from your attempts to disseminate your doctrine in Sunni countries? Perhaps, one or two hundred, one or two thousand, or more or less? However, when the matter is exposed, they will all hold you as enemies and oppose you. We never want anything like this to happen. Upon this, Sheikh Al-Taskhiri replied: “Are you correct?” My view was further confirmed by what happened to their office in Khartoum. He said: “Earlier, we used to have good relations with the Sudanese leadership after the salvation revolution, and they allowed us to open offices there. Afterward, the manager of the office set out to distribute a book entitled Then I Have Come to Guidance that attacks the Sunni doctrine and calls to the Shiite doctrine, for which reason the Sudanese government closed these offices and sent the officers back to Tehran.

    4. Al-Taskhiri commented on my statement to the Egyptian newspaper that the Shiites are Muslims, yet religiously innovative Muslims, saying: “Again, Al-Qaradawi accuses the Shiites of distorting the Quran, which is a great error; he knows that the Shiite scholars throughout the ages have maintained that no distortion has touched the Quran.”

    I admit that Al-Masri al-Youm newspaper did not transmit my words literally; rather, it adapted them. As a result, the published statement was not accurate and understandable as my original words to the newspaper were. Nevertheless, the newspaper did not quote me as saying that all Shiites believe that the Quran has been distorted; rather, it reported me as saying: Many of the Shiites claim that the widely available Quran is truly the word of Allah, but it is lacking some parts, such as Surat al-Wilayah.

    Among these is the famous Shiite scholar, one of the senior scholars of Najaf, Al-Hajj Mirza Hussein Muhammad Taqyy An-Nuri At-Tubrusi. While in Najaf, he authored his famous book Fasl al-Khitab fi ithbat tahreef kitab rab al-Arbab – The Definitive Speech on Proving the Distortion of the Book of the Lord of all Lords. This book is characterized by comprising a wealth of texts from Shiite sources and their authentic books. The book also contains statements by several Shiite scholars in different eras, which all establish that the Quran was subject to additions and omissions.

    This book caused a great fuss when it emerged in Iran. Many people wrote responses to it, to which he replied with another book in an attempt to refute the suspicions that were raised about his book.

    In the research I presented at the rapprochement conference held in Bahrain, I wrote down my opinion about the Shiite attitude towards the Qur’an. Moreover, I had this research published in a treatise entitled “Principles of Dialogue and Rapprochement between the Muslim Doctrines and Sects” which I included in the treatises intended for rectifying and guiding the Reawakening. They are published by Wahbah Bookstore, Egypt, and Resalah Foundation, Lebanon. In this treatise, I replied to those who accuse the Shiites of holding the belief that the Qur’an has been distorted, and as a result regard them as disbelievers. Responding to them, I said:

    “I have already clarified that all Shiites believe that what lies between the two covers of the mushaf is truly the miraculous and preserved word of Almighty Allah that the whole Ummah must abide by. That is why they memorize the Qur’an, recite it as an act of worship, and refer to it for proof on creedal issues and secondary rulings. This is unanimously agreed upon among them. We have never come across any mushaf that is different from the one in our hands; the mushaf that is printed in Iran is the same as that which is printed in Egypt and Saudi Arabia. As for the false allegations that the Qur’an lacks some parts, they have differences of opinion on this matter, and their scholars of authentication deny it. Furthermore, no practical ruling is based on these alleged additions.”

    I quoted the statements of some moderate Shiites – transmitted by some Sunni scholars –affirming that the Quran is free from any addition or omission. An example of this is what was quoted by Sheikh Rahmatullah Al-Kiranawi Al-Hindi is his famous book Idhhar Al-Haqq – Clarification of the Truth:

    A- Sheikh Al-Sadouk Abu Jafar Muhammad ibn Ali ibn Babwih, one of the greatest Twelver Shiites scholars, said in his creedal treatise: “Our belief about the Quran is that the Quran that was revealed by Almighty Allah to His Prophet is what is contained between the two covers of the mushaf which is available in the hands of people, not more than that. Its surahs, as with people, amount to one hundred and fourteen surahs, whereas we have the surahs of Ad-Doha and Alam nashrah combined in one, and Li ilaf Quraish and Alam tara kaifa also are combined in one surah. Hence, whoever attributes to us the statement that the Quran is more than that is a liar.” End quote.

    B- In the tafseer of Magma al-Bayan, which is highly regarded among the Shiites, it is mentioned that: Al-Sayyid al-Agall al-Murtada alam al-Huda dhu al-Magd, Abu al-Qasim Ali ibn al-Hussein al-Musawi, said: “The Qur’an during the lifetime of Allah’s Messenger (peace and blessing be upon him) was collected and combined as it is now. He mentioned as evidence for this the fact that the complete Quran was studied and memorized at that time and that some of the Companions, such as `Abdullah ibn Mas`ud and Ubay ibn Ka`b, recited all of the Quran in front of the Prophet (peace and blessings be upon him) several times. Hence, it does not require much contemplation to derive from this that the Quran was collected and well-ordered; not scattered and dispersed. Furthermore, he said that whoever holds an opposing view from the Imamiyyah and Al-Hashawiyah, his view is inconsiderable, as it is attributed to some people of Hadith who transmitted weak narrations thinking them to be authentic. Such narrations cannot outweigh that which is authentic and well-established.” End quote.

    C- Al-Sayyid al-Murtada further said: “Knowledge of the authenticity of the Qur’an is like knowledge of the countries, the famous and great events and widely circulating Arabic poetry. Meticulous care was paid and the appropriate tools were employed in transmitting the noble Qur’an, which is the miracle of prophethood, and the spring from which shar`i sciences and religious rules are derived. Indeed, the Muslim scholars attained the highest degree in memorizing and taking care of the Qur’an to the extent that they obtained knowledge about everything related to it: the analysis of its words and sentences, the ways it can be read, its letters, and its verses. How then can it be altered or incomplete given such earnest care and keen accuracy?” End quote.

    D- Al-Qadi Nourallah al-Shustri, a famous Shiite scholar, said in his book Masa’ib An-Nawasib: “What was attributed to the Imamate Shiites regarding the alteration of the Qur’an is actually not what the majority of Imamate said; it is only the view of an inconsiderable handful of individuals among them.” End quote.

    5. In Sharh al-Qalini, al-Mulla Sadeq said: “Upon the advent of the twelfth Imam, the Qur’an will emerge in the same order that exists now and will spread and be well-known.” End quote.

    Thus, it is concluded that the authentic and undoubted view held by the scholars of the Twelver Shiites sect is that the Qur’an which Almighty Allah revealed to His Prophet (peace and blessings be upon him) is that which is between the two covers of the mushaf, and which is available in the hands of people, and no more than that. It was collected and combined during the lifetime of Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) and was memorized and transmitted by thousands of the Companions; and that a group of the Companions, such as `Abdullah ibn Mas`oud and Ubay ibn Ka`b, recited the complete Qur’an in front of the Prophet (peace and blessings be upon him) several times. They also view that the Qur’an will emerge and spread upon the advent of the twelfth Imam in the same order that it is currently in. Moreover, they regard the view held by a handful of people that the Qur’an was altered, as rejected and insignificant; they see that the weak reports that were transmitted in their doctrine cannot outweigh that which is authentic and well-established. This is true, since if an Ahaad or solitary report (also known as Khabar Al-Wahid) requires the performance of some act of worship, and there is no conclusive evidence to support it, then it should be rejected. This is also mentioned by Ibn Al-Mutahhir Al-Hulli in his book Mabadi’ al-Wosoul Ila Ilm Al-Usoul. In the Qur’an, Almighty Allah says, (Surely We, Ever We, have been sending down the Remembrance, and surely We are indeed Preservers of it.) (Al-Hijr 15:9) In the tafseer of As-Sirat Al-Mustaqim, which is highly revered among Shiite scholars, this explanation has been given: “Certainly, We will protect it against any distortion, alteration, addition or omission.” End quote.

    This is what I mentioned in my book Principles of Dialogue and Rapprochement; it demonstrates the reality of my position concerning the Shiites’ opinions about the Qur’an. This is known to their scholars. Therefore, it is not appropriate to seek any word that has been uttered here or there and use it as a pretext to launch an attack on me.

    However, I still maintain my stance concerning Shiite endeavors to infiltrate Sunni communities, and I say that we should resist such endeavors; otherwise, we will be betraying our trust and neglecting our responsibility toward the Ummah. As I warn of this invasion, I intend to raise the awareness of the Ummah of the dangers that may well befall it because of this irresponsible attitude. This is to protect it from any fitnah that, it is feared, may break out, thus destroying everything. The wise person is the one who avoids evil and prevents it from happening.

    http://www.islamopediaonline.org/fatwa/al-qaradawis-statement-shiites

    ۔
    2006ء میں اسرائیل حزب اللہ جنگ شروع ہوئی تو ایک مسلمان سکالر عبداللہ بن جبیرین نے فتوی جاری کیا کہ مسلمانوں کے لیے حزب اللہ جیسے دہشت گرد گروہ کی حمایت جائز نہیں کیونکہ یہ شیعہ ہیں۔ تاہم شیخ یوسف القرضاوی نے کہا کہ مسلمانوں پر اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مدد لازم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اسلام کے بنیادی اصولوں پر متفق ہیں ۔ اختلاف صرف فروعی مسائل پر ہیں۔ اسی طرح انہوں نے عراق کے سنیوں اور شیعوں سے بھی درخواست کی تھی کہ وہ خانہ جنگی ختم کریں۔

    http://ur.wikipedia.org/wiki/%D9%8A%D9%88%D8%B3%D9%81_%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B1%D8%B6%D8%A7%D9%88%D9%8A