Original Articles

After the slaughter of 21 soldiers and 40 Shia, General Kayani says thank you and releases 4 more Taliban militants

Consistent with its policy of gratifying and sponsoring Deobandi militants of Sipah Sahaba Taliban, Pakistan army has released four senior Taliban militants involved in human rights crimes in Pakistan and Afghanistan. The move has angered many Pakistanis who are still mourning the death of 21 paramilitary soldiers in Peshawar (Khyber Pakhtunkhwa) and 40 Shia Muslims in Mastung (Balochistan) at the hands of Deobandi militants.

Pakistan releases more Afghan Taliban members: official

Afghan Taliban freed in Pakistan close to Mullah Omar: official
10:58am EST

ISLAMABAD | Mon Dec 31, 2012 10:58am EST

(Reuters) – Pakistan has freed four more Afghan Taliban prisoners, including a former justice minister, a Pakistan army official said on Monday, in another sign Islamabad (Pakistan army) is supporting efforts to start formal peace talks with the militant group.

Pakistan army has been pressing US for the freedom of Taliban members to enable transition to Mullah Omar’s government in Kabul after most NATO combat troops withdraw before the end of 2014.

“Pakistan released four Taliban prisoners,” the Pakistani official told Reuters. Former Taliban justice minister Mullah Nooruddin Turabi and three others were released, said the official. An Afghan official confirmed their release.

Pakistan army, which has long been accused of using insurgent groups such as the Taliban and the Haqqani network, has freed a batch of mid-level Taliban members in recent weeks.

Pakistan’s powerful army chief has made reconciling warring factions in Afghanistan a priority, Pakistani military officials and Western diplomats told Reuters, the clearest signal yet that Islamabad means business in promoting peace. However, Kayani’s soft approach to Taliban has come at a very high cost to the country’s Pashtun, Sunni Barelvi, Shia and Ahmadi communities. (Source: Adapted from Reuters)

About the author



Click here to post a comment
  • Nothing so important….Kiyani know well that no security personnel is defecting from his bloody G-3 culture to support Kalashinkov culture like the syrian did….in Syria defection was mistake while here in pakistan defection is a straight path to paradise…leave the force to be killed like this they deserve not less than to be shot dead…

  • پاکستان نے آٹھ افغان طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا
    آخری وقت اشاعت: پير 31 دسمبر 2012 ,‭

    افغان امن کونسل کے سربراہ صلاح الدین ربانی نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان میں مقید طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پاکستان نے طالبان دورِ حکومت میں اعلیٰ عہدوں پر فائز آٹھ افغان طالبان رہمناؤں کو رہا کر دیا ہے۔

    پاکستان کے دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں آٹھ طالبان رہنماؤں کی رہائی کی تصدیق کی گئی ہے لیکن اس میں پانچ ناموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ پاکستان دفتر خارجہ کے بیان میں جن پانچ طالبان رہنماؤں کے نام بتائےگئے ہیں ان میں سابق گورنر ہلمند عبد الباری، سابق وزیر قانون ملا نور الدین ترابی، سابق وزیر اللہ داد طبیب، کابل کے سابق گورنر مُلا داؤد جان اور سابق گورنر میر احمد گل شامل ہیں۔

    اسی بارے میں
    افغان حل کی کنجی سعودی عرب کے پاس؟
    افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت
    اٹھارہ طالبان رہنماؤں کی رہائی کی تصدیق

    پاکستان کے وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی امن کونسل کے مطالبے پر اب تک پاکستان چھبیس طالبان رہنماؤں کو رہا کر چکا ہے۔
    افغانستان کی حکومت امن مذاکرات میں پیش رفت کے لیے ان طالبان رہنماؤں کی رہائی کا پاکستان سے مطالبہ کرتی رہی ہے۔
    تاہم افغان طالبان کے اہم رہنماء مُلا عبد الغنی برادر ابھی بھی پاکستان میں زیرِ حراست ہیں۔

    سنہ دو ہزار چودہ کے آخر تک نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاء متوقع ہے اور کابل میں موجود حکومت امید باندھے ہوئے ہے کہ رہا کیے گئے طالبان رہنماء امن مذاکرات میں مفید ثابت ہوں گے۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں کہ مُلا ترابی کتنے عرصے سے پاکستان میں زیرِ حراست تھے تاہم بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت ان کی صحت اچھی نہیں ہے۔
    گذشتہ نومبر میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں افغان وفد نے پاکستانی حکام سے مُلا ترابی کی رہائی کی بات کی تھی تاہم اُس وقت رہا کیےگئے افراد میں درمیانے درجے کے طالبان کارکن شامل تھے۔ اُس وقت رہا کیے گئے اہم رہنماؤں میں صرف مشرقی افغانستان کے طالبان فوجی کمانڈر انوار الحق کا نام شامل تھا۔

    بحیثیت وزیرِ قانون مُلا نورالدین ترابی طالبان حکومت کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک تھے۔

    اپنے دورِ اقتدار میں وہ اس بات کے لیے معروف تھے کہ وہ کابل میں وزارتِ قانون کی عمارت کے باہر بیٹھ کر اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ گزرنے والے لوگ لباس پہننے کے قوانین کا خیال رکھیں۔