Original Articles

General Kayani’s role in #ShiaGenocide in Pakistan

Related posts: Silence of Pakistan army generals on Shia genocide – by Feisal Naqvi

General Kayani’s Afghan game and the collateral damage in Pakistan

Pakistan army outsources the Defence of Pakistan to killers of Shias, Ahmadis and Christians

Who are Takfiri Deobandis? – by Fahd Khan

LUBP Poll: Nishan-e-Jhangvi 2012

Summary: Pakistan’s Army Chief General Ashfaq Pervez Kayani is the main person responsible for the current wave of Takfiri Deobandi terrorism in Pakistan. General Kayani belongs to Deobandi sub-sect of Islam and is influenced by Maulana Sami-ul-Haq Deobandi, Maulana Tahir Ashrafi Deobandi and Mufti Taqi Usmani Deobandi. General Kayani has continued to support and protect Takfiri Deobandi militants of Sipah Sahaba Taliban to use the for cross-border Jihadist terrorism in Afghanistan and Kashmir. Because of his pro-Sipah Sahaba inclinations, Kayani is also known as #KayaniJhangvi, an indication of the fact that many Lashkasr-e-Jhangvi terrorists were released and allowed to freely spread hate and kill Shias during Kayani’s tenure as Army Chief. During Kayani’s tenure as ISI Chief (Oct 2004 – Oct 2007) and then as Army Chief (November 2007 to date), at least 7,000 Shia Muslims, thousands of Sunni Barelvis, hundreds of moderate Deobandis, Salafis, Ahmadis and Christians have been killed by Takfiri Deobandi terrorists of Sipah Sahaba Taliban (SST).

جنرل اشفاق پرویز کیانی کے تکفیری دیوبندیوں کے ساتھ تعلقات

پاکستان میں اگر کوئی ایک شخص بیس ہزار شیعہ مسلمانوں، ہزاروں سنی بریلویوں ، سینکڑوں اعتدال پسند دیوبندیوں اور سلفیوں، سینکڑوں احمدیوں اور مسیحیوں کے قتل کا ذمہ دار ہے تو اس کا نام جنرل کیانی ہے

جنرل اشفاق پرویز کیانی اکتوبر 2004 سے لے کر اکتوبر 2007 تک پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئ ایس آئ کے سربراہ رہے اور نومبر 2007 سے لے کر آج تک پاکستانی فوج کے سربراہ ہیں

آئ ایس آئ اور اس کے بعد آرمی چیف کے طور پر جنرل کیانی نے جنرل ضیاء الحق کی جہادی پالیسیوں کو از سر نو زندہ کیا اور ان کو مزید قوت بخشی

امریکی مگزین فوربز کے مطابق جنرل کیانی پاکستان کی سب سے طاقتور اور دنیا بھر میں 28 ویں نمبر پر سب سے زیادہ طاقتورشخصیت ہیں

جنرل کیانی 1952 میں گجر خان میں ایک دیوبندی گھرانے میں پیدا ہوۓ ان کے خیالات شروع میں اعتدال پسند تھے لیکن بعد میں فوجی سروس کے دوران ان کے پاکستان کے اہم دیوبندی علماء سے روابط قائم ہوۓ خاص طور پر وہ علماء جن کا افغانستان میں طالبان اور پاکستان میں سپاہ صحابہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے – کراچی کے مولانا تقی عثمانی دیوبندی، لاہور کے مولانا طاہر اشرفی دیوبندی اور اکوڑہ خٹک کے مولانا سمیع الحق دیوبندیکے ساتھ جنرل کیانی کے گہرے تعلقات ہیں

یہی وجہ ہے کہ سعودی حمایت یافتہ جنرل ضیاء الحق دیوبندی کے دور میں زیادہ سے زیادہ تین سو شیعہ مسلمان شہید ہوۓ لیکن جنرل کیانی دیوبندی کے دور میں تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے شیعہ مسلمانوں کی تعداد سات ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں سنی بریلوی اور سینکڑوں کی تعداد میں معتدل دیوبندی، اہلحدیث، احمدی، مسیحی بھی شہید کیے جا چکے ہیں

جنرل کیانی کے دور میں سپاہ صحابہ کے سینکڑوں تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کو فوج نے براہ راست یا عدالت یا پولیس پر دباؤ ڈال کر رہا کروایا جن میں سب سے نمایاں مثال ملک اسحاق دیوبندی، اورنگزیب فاروقی دیوبندی، قاری سیف الله اختر دیوبندی، اور سینکڑوں دوسرے دہشت گرد ہیں

جنرل کیانی کے دور میں لال مسجد کے درجنوں دہشت گردوں کو رہا کیا گیا اور ان کو شیعہ ، سنی بریلوی اور احمدیوں کے خلاف نفرت اگلنے کی پوری آزادی دی گئی

جنرل کیانی کے دور میں سوات اور بلوچستان میں بے گناہ پشتوں اور بلوچ جوانوں کو م ورائے عدالت قتل کیا گیا لیکن ملک اسحاق، اورنگزیب فاروقی، فضل الله، حکیم الله وغیرہ کے ساتھ اس طرح کا کوئی سلوک نہیں کیا گیا

جنرل کیانی کے دور میں کراچی، کویٹہ ، بنوں اور دیگر جیلوں سے سپاہ صحابہ طالبان کے سینکڑوں دیوبندی دہشت گردوں کو مختلف حربوں سے رہا کروایا گیا

جنرل کیانی کے دور میں ہزاروں شیعہ و سنی مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا اور تکفیری دیوبندی دہشت گردوں نے نہایت فخر کے ساتھ ان ویڈیوز کو نشر کیا – اسی دور میں سپاہ صحابہ اور طالبان نے انٹرنیٹ پر اپنی دہشت گردی اور نفرت انگیزی جاری رکھی ان ویب سائٹس کو جاری رکھا گیا لیکن شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی نشرت کرنے والی ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا

جنرل کیانی کے دور میں اعتدال پسند سیاسی رہنماؤں کو شہید کیا گیا جن میں سب سے نمایاں نام بے نظیر بھٹو، سلمان تاثیر ، شہباز بھٹی اور رضاحیدر کا ہے

جنرل کیانی کے دور میں مولانا حسن جان دیوبندی، مولانا نظام الدین شامزئی ، مولانا سرفراز نیمی، ڈاکٹر فاروق اور دیگر سنی علما سپاہ صحابہ کے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے

جنرل کیانی کے دور میں لشکر طیبہ اور سپاہ صحابہ پر مشتمل شیعہ، سنی بریلوی دشمنوں پر مشتمل اتحاد دفاع پاکستان کونسل کی بنیاد رکھی گئی جس کے ذریعہ سے سپاہ صحابہ اور جماعت الدعوه میں ہزاروں نئے دہشت گرد بھرتی کیے گئے
جنرل کیانی کے دور میں درجنوں پاکستانی اور افغان طالبان دہشت گردوں کو رہا کیا گیا تاکہ شیعہ نسل کشی اور سنی مزاروں و درباروں پر حملوں کو جاری رکھا جا سکے احمدی مسلمانوں کا قتل جاری رہے اور ان کی مساجد اور قبروں کی بے حرمتی ہوتی رہے بے گناہ مسیحیوں پر توہین رسالت کے نام پر ظلم ہوتا رہے اور ان کے گھر جلا دیے جایں اور عورتوں کو قید کر دیا جائے

تاریخ جنرل کیانی دیوبندی کا نام پاکستان ، اسلام اور انسانیت کے دشمن کے طور پر یاد رکھے گی

سپاہ صحابہ اور طالبان کے تکفیری دیوبندی دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ہزاروں شیعہ، سنی، احمدی اور مسیحی پاکستانی جنرلوں سے سوال کرتے ہیں

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں / آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟” — جون ایلیا”

پاک فوج کے ناپاک جرنیلوں کے نام احمد فراز کی ایک نظم

پیشہ ور قاتلو، تم سپاہی نہیں
(احمد فراز)

میں نے اب تک تمھارے قصیدے لکھے
اورآج اپنے نغموں سے شرمندہ ہوں
اپنے شعروں کی حرمت سے ہوں منفعل
اپنے فن کے تقاضوں سے شرمندہ ہوں
اپنےدل گیر پیاروں سےشرمندہ ہوں

جب کبھی میرے دل ذرہ خاک پر
سایہ غیر یا دست دشمن پڑا
جب بھی قاتل مقابل صف آرا ہوئے
سرحدوں پر میری جب کبھی رن پڑا
میراخون جگر تھا کہ حرف ہنر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا

آنسوؤں سے تمھیں الوداعیں کہیں
رزم گاہوں نے جب بھی پکارا تمھیں
تم ظفر مند تو خیر کیا لوٹتے
ہار نے بھی نہ جی سے اتارا تمھیں
تم نے جاں کے عوض آبرو بیچ دی
ہم نے پھر بھی کیا ہےگوارا تمھیں

سینہ چاکان مشرق بھی اپنے ہی تھے
جن کا خوں منہ پہ ملنے کو تم آئے تھے
مامتاؤں کی تقدیس کو لوٹنے
یا بغاوت کچلنے کو تم آئے تھے
ان کی تقدیر تم کیا بدلتے مگر
ان کی نسلیں بدلنے کو تم آئے تھے

اس کا انجام جو کچھ ہوا سو ہوا
شب گئی خواب تم سے پریشاں گئے
کس جلال و رعونت سے وارد ہوئے
کس خجالت سے تم سوئے زنداں گئے
تیغ در دست و کف در وہاں آئے تھے
طوق در گردن و پابجولاں گئے

جیسے برطانوی راج میں گورکھے
وحشتوں کے چلن عام ان کے بھی تھے
جیسے سفاک گورے تھے ویت نام میں
حق پرستوں پہ الزام ان کے بھی تھے
تم بھی آج ان سے کچھ مختلف تو نہیں
رائفلیں وردیاں نام ان کے بھی تھے

پھر بھی میں نے تمھیں بے خطا ہی کہا
خلقت شہر کی دل دہی کےلیئے
گو میرے شعر زخموں کے مرہم نہ تھے
پھر بھی ایک سعی چارہ گری کیلئے
اپنے بے آس لوگوں کے جی کیلئے

یاد ہوں گے تمھیں پھر وہ ایام بھی
تم اسیری سے جب لوٹ کر آئے تھے
ہم دریدہ جگر راستوں میں کھڑے
اپنے دل اپنی آنکھوں میں بھر لائے تھے
اپنی تحقیر کی تلخیاں بھول کر
تم پہ توقیر کے پھول برسائے تھے

جنکے جبڑوں کو اپنوں کا خوں لگ گیا
ظلم کی سب حدیں پاٹنے آگئے
مرگ بنگال کے بعد بولان میں
شہریوں کے گلے کاٹنے آگئے
ہر گلی میں بہا کر حسینی لہو
مثل عفریت تم چاٹنے آ گئے

گرم بازار تکفیر تم نے کیا
جگ میں سامان تحقیر تم نے کیا
لا بسایا جہادی درندوں کو یاں
ملک کو غم کی تصویر تم نے کیا

آج سرحد سے پنجاب و مہران تک
تم نے مقتل سجائے ہیں کیوں غازیو
اتنی غارتگری کس کی ایما پہ ہے
کس کے آگے ہو تم سر نگوں غازیو
کس شہنشاہ عالی کا فرمان ہے
کس کی خاطر ہے یہ کشت و خوں غازیو

کیا خبر تھی کہ اے شپرک زادگاں
تم ملامت بنو گے شب تار کی
کل بھی غا صب کے تم تخت پردار تھے
آج بھی پاسداری ہے دربار کی
ایک آمر کی دستار کے واسطے
سب کی شہ رگ پہ ہے نوک تلوار کی

تم نے دیکھے ہیں جمہور کے قافلے
ان کے ہاتھوں میں پرچم بغاوت کے ہیں
پپڑیوں پر جمی پپڑیاں خون کی
کہ رہی ہیں یہ منظر قیامت کے ہیں
کل تمھارے لیئے پیار سینوں میں تھا
اب جو شعلے اٹھے ہیں وہ نفرت کے ہیں

آج شاعر پہ بھی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
خوف اترا تمھاراتو ثابت ہوا
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
اب سبھی بے ضمیروں کے سر چاہیئے
اب فقط مسئلہ تاج شاہی نہیں

(احمد فراز)