Original Articles

ہزارہ نسل پرست پارٹی اور عزاداری امام حسین

کوئٹہ میں رہنے والے شیعہ اور سنی، بلوچ، پشتون ، ہزارہ اور پنجابی حضرات جانتے ہیں کہ ہزارہ نسل پرست پارٹی (ہزارہ ڈیموکرٹیک پارٹی) کے پاکستان کی فوج، فرنٹیئر کور اور آئی ایس آئی سے گہرے روابط ہیں دوسرے الفاظ میں جس طرح پنجاب میں عمران خان کی تحریک انصاف آئی ایس آئی کا لگایا ہوا پودا ہے یہی حال کوئٹہ میں ایچ ڈی پی یعنی ہزارہ ڈفر پارٹی کا ہے

ہزارہ ڈفر پارٹی کے لوگوں کو طالبان اور سپاہ صحابہ کی پشت پناہی کرنے والے خفیہ اداروں نے تین کام سونپے ہیں

اول – شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کو قبائلی، نسلی رنگ دے کر کوئٹہ کے مظلوم ہزارہ قبائل کا رشتہ پاکستان کے دیگر علاقوں کے مظلوم شیعہ مسلمانوں سے توڑ دیا جائے

دوئم – شیعہ مسلمانوں کے دل سے اسلام، اہلبیت اور امام حسین کی محبت ختم کر دی جائے اور ان کو لا دین اور ملحد بنا دیا جائے

سوئم – کوئٹہ اور ملک کے دیگر علاقوں میں شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے والے تکفیری دیوبندیوں اور ان کے سرپرستوں (آئی ایس آئی، فوجی جرنیلوں) سے توجہ ہٹا دی جائے

یہی وہ بے حس پارٹی ہے جو کوئٹہ میں شہید ہونے والے دوسری قومیتوں کے شیعہ شہدا کو ہزارہ بنا کر پیش کرتی ہے یا پھر ان کی شہادت پر مکمل خاموشی اختیار کر لیتی ہے

یہی وہ بے ضمیر پارٹی ہے جو شیعہ مسلمانوں کی گرتی ہوئی لاشوں کے درمیان موسیقی اور رقص کے پروگرام منعقد کرتی ہے

پاکستان کی فوج کے تنخواہ دار کچھ صحافی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایچ ڈی پی کو شیعہ ہزارہ کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں ان میں حامد میر ، سلیم علی اور جناح انسٹیٹوٹ سے تعلق رکھنے والے کچھ شیعہ دشمن پیش پیش ہیں

ایسے شیعہ اور سنی دشمنوں سے ہوشیار رہیں – ایچ ڈی پی کے ایجنٹس بلوچ، پشتوں اور شیعہ میں فساد کروانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے اور ان کے آقاؤں کے ایجنڈے کی تکمیل ہو سکے

ابھی حال ہی میں شیعہ ہزارہ گنجان آباد علاقے میجر محمد علی شہید روڈ پر ایچ ڈی پی کے کارکنوں نے عزاداروں کو علمِ عبّاس(ع) نصب کرنے سے روک دیا۔

جب عزادار ایچ ڈی پی کے دفتر گئے اور وہاں درخواست کی کہ ماہ محرم کی مناسبت سے روڈ پر علم عبّاس(ع) نصب ہونے چاہیے تو نسل پرست پارٹی کے رہنماؤں نے جواب دیا کہ ایچ ڈی پی کے جھنڈے اور عبّاس(ع) کے علم میں کوئی فرق نہیں، دونوں جھنڈے ہیں چاہے یہ لگا لو یا وہ۔ ہم پارٹی جھنڈے کی جگہ پر تمہیں علم عبّاس(ع) نصب کرنے نہیں دیں گے۔”

اس سے پہلے یوم شہادت مولا علی پر بھی ایچ ڈی پی کے ایجنٹوں نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی اور شیعہ مسلمانوں نے مار مار کر ان کا بھرکس نکال دیا اور ان کے شرمناک رہنما خالق ہزارہ کے امامبارگاہ میں آنے پر پابندی لگا دی تھی

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شیعہ ہزارہ قوم کے بھرپور احتجاج کے بعد نسل پرست پارٹی ایچ ڈی پی نے میجر محمد علی شہید روڈ پر سے اپنے جھنڈے اتار دیے ہیں۔ اب عزادار وہاں پر علم عباس(ع) اور شہداء کی تصاویر لگا رہے ہیں۔

عزاداری کے دشمنوں کی یہ خام خیالی تھی کہ وہ عزاداری پر ضرب لگائیں گے اور پوری شیعہ ہزارہ قوم میں صدائے احتجاج بلند کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور پھر وہ اپنی ہمتیں بڑھا کر عزاداری کے خلاف مزید کام کریں گے لیکن خدا را شکر کہ شیعہ ہزارہ ابھی زندہ ہیں، حسین(ع) کے عزادار ابھی زندہ ہیں

اسلام زندہ باد
شیعہ سنی اتحاد زندہ باد
ہزارہ، بلوچ، پشتون، پنجابی اتحاد زندہ باد

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
حسین اور عزاداری کے دشمنوں پر لعنت

Here’s a video clip of a Shia Hazara school boy, his father was martyred in Takfiri Deobandi Sipah-e-Sahaba’s attack on the Al Quds Day rally in Quetta two years ago. Listen to this young boy’s commitment to Shia Islamic ideology and Imam Hussain (a.s.). Enemies of Shia Hazara are using an edited version of this clip by deleting this boy’s reference to Imam Hussain, Hussaini and Labbaik Ya Hussain. This shows that both Takfiri Deobandis of Sipah-e-Sahaba and ISI-agents in Hazara Dushman Party are enemies of Shia Hazara and enemies of Imam Hussain.

This Shia Hazara boy is reciting poetry during his father’s funeral. Our salute to this boy, his father and the entire Shia Hazara community.

Adapted from facebook

ہمارے معاشرے میں ایک چھوٹا سا گروہ ایسا ہے جو قومیت کی بنیاد پر افغانستان کی اتنی باتیں کرتا ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کو بالکل بھلا دیتا ہے۔ دوسرا چھوٹا سا گروہ مذہب کی بنیاد پر ایران کی اتنی باتیں کرتا ہے کہ بلوچستان اور پاکستان کو بالکل بھول جاتا ہے۔ پاکستان میں رہتے ہوئے پاکستان سے بیزاری اور افغانستان یا ایران سے ہمدردی جتانا کیسی عقل مندی ہے؟؟؟

ہم نہ افغانستانی ہیں اور نہ ایرانی، ہم صرف اور صرف پاکستانی ہیں۔ ہماری وفاداریاں صرف پاکستان کے لئے ہونی چاہیے۔ قوم دوست بنو لیکن پاکستان کی بجائے افغانستان کو ترجیح مت دو، مذہب پرست بنو لیکن پاکستان کی بجائے ایران کو ترجیح مت دو۔۔۔۔

Source: Karbala-e-Quetta

Hazara Democratic Party (HDP) and Sipah Sahaba are two sides of the same coin.

دُشمنوں کی زبان میں بات کرنے والا خائن ٹولہ : ایچ ڈی پی

Source: KeQ

About the author

SK

11 Comments

Click here to post a comment
  • ہم اتحاد اور اتفاق کے حامی ہیں لیکن اپنے اصولوں پر سودا کبھی نہیںہ کریں گے۔ عزاداری کے خلاف کام کرنے والے لوگ ہمارے دشمن ہیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی قوم و قبیلے سے ہو اور ہمارا کام اپنی شیعہ ہزارہ قوم کو ان دشمنوں کے بارے میں خبردار کرنا ہے تاکہ لوگوں کو آستین کے سانپ کی شناخت ہو جائے۔ جو دشمن اپنی اصل شکل و صورت کے ساتھ حملہ آور ہوتا ہے اس سے مقابلہ کرنا آسان ہے لیکن جو دشمن منافقانہ طور پر اپنا اصلی چہرہ چھپاتے ہوئے لوگوں کو قومیت کے نام پر دین اور عزاداری سے دور کر دے اس سے مقابلہ کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہ دوست کے طور پر سامنے آتا ہے۔

    یہ تصویر میجر محمد علی شہید روڈ کی ہے جس میں پچھلے سال اور اس سال کا موازنہ کیا گیا ہے۔ پچھلے سال محرم میں عزاداروں نے پورے روڈ پر علم عباس(ع) اور شہداء کی تصاویر لگائیں اور اقوال معصومین کے حامل پوسٹرز آویزاں کئے۔ اس عمل نے شیعہ ہزارہ قوم میں بہت مقبولیت پائی اور عزاداروں کے جذبے کو سراہا گیا۔ لیکن افسوس کہ جب اس سال وہی عزادار علم اور پوسٹرز لگانے وہانے پہنچے تو نسل پرست سیاسی پارٹیHazara Democratic Party کے کارکنوں نے انہیں یہ کہہ کر علم اور پوسٹرز لگانے سے روک دیا کہ علم عباس(ع) اور ہمارے جھنڈے میں کوئی فرق نہیں چاہے یہ لگا لو یا وہ۔ اس کے نتیجے میں عزادار روڈ کے بہت کم جگہوں پر علم عباس(ع) بلند کرسکے جبکہ اکثر جگہوں پر نسل پرست HDP کے جھنڈے لگے رہے۔

    ہم پھر بھی HDP کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ عزاداری حسین(ع) سے دشمنی چھوڑ کر میجر محمد علی شہید روڈ سے اپنے جھنڈے اتار دے اور عزاداروں کو علم عباس(ع) لگانے دے اور قومیت کے نام پر لوگوں کو حق پرستی اور دین پرستی سے دور کرنے کی کوششیں چھوڑ دے ورنہ پھر اس کی قسمت میں بدنامی، رسوائی اور بربادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔

    http://www.facebook.com/photo.php?fbid=471391119579659&set=a.237179356334171.75866.236915603027213&type=1

  • This article is totally biased. It is a false article. I am not even a supporter of HDP. But the facts in the article are absolutely false and fabricated. The writer of the article ignores the fact that the person who is acting as an agent of ISI is Sardar Sadat Hazara who had invited Cor Commander of Quetta in his house for a dinner, in which many people like him attended the dinner to take dictation from ISI. Sardar Sadat is the person who openly in his corner meetings advocates to kill especially the Baloch and pashtoons to take revenge of Hazara killings. And again Sardat is the person who says that Baloch and Pashtoon are the enemies of Hazaras. While on the other hand there is not a single statement of HDP against any nationality or religious groups. ANd this writer seems to be the supporter of Sadat. I request the admin to remove this article from the website because it will lessen the credibility of the website.

  • This article just changed the angle of my thought for LUBP. It looks like the author has been hired for making propaganda by creating differences between Hazara nation. She has given wrong color to the minute social issues b/w Hazara people tending to deaden the harmony b/w Hazaras. Deleting the word ‘Democratic’ and fixing the word ‘Dushman’ and ‘Differ’ just shows her ill and nonsense behavior. If one say that let her these two bullshit claims be true so is it enough to call HDP as ‘Dushman Party’?
    Dear usual readers of LUBP, you may have seen that most of the articles posted here on this page is just for highlighting sectarian issues and mostly of Shiites. The head of LUBP Mr. Abdul Nishapuri clearly says that TakfiriDewbandis are the terrorists by reading his articles those Dewbandi Believers who are not against we Shiites just get stimulated to further hate us. As their name LUBP ( Let Us Build Pakistan ) mentions the objective of Abdul Nishapuri and his companions on this page that they want to BUILD Pakistan,so do you think that these articles are building Pakistan?

  • Is Artical ko par kay LUBP kay admin ko kahna chahta ho kay baraye mahrabani asay pakistan nahi banta, jis nay bhi yah artical lika hay intihaye kam zarf insan hay jo aik dosray ko larana chahta hay Hazara qoum ai ba shour or talim yafta qoum hay Wo shiya zaror hay magar pahlay Hazara hay or apnay hazara honay par fakhar kartay hay ,rahi sawal H,D,P kay …H,D,P nay khabi bhi GHami Hussain ka mukalifat nahi kiya hay or na hi karay gaa Is chez ka H,D,P kay manshour ijazat nahi dayta ,May khod Hazara Ho magar mar koye siyasi parti say taloq nahi hay lakin may samajta ho kay H.D.P apnay qoum ki khedmat kar raha hay or hamasha karta rahay ga P,P,P ki tarah H,D,P kay qaid Shaheed Hussain Ali Yousufi ko shaheed diya hay jo HAZARA qoum kay liye aik bohot bada nouqsan or qurbani hay ,artical liknay waly ko yah pata hona chahiye kay HDP nay hamasha azadari IMam ka sat diya hay or us ki muhafizat may apna pura tqat lagaya howa hay yah app Hazara town may rahnay walo say pata kar saktay hay .or rahi bat alam abbas as ki to ap NOOR Wel say pucheye Mujay khod pata hay ki un kay pass 10 alam ta or unho nay ijazat manga kay ham shayad kuch hdp kay janday utar day magar us ki zarorat hi nahi howi qnkay 10 alam 10 kambo may lag gaye or un ka kam tamam ho gaya ,as tarah kay firqa warana bayanat ,comment or artical sya qoum ko tabah mat karay ,,khoda ra sharam karay ,,Imam aali muqam is chez ki dars nahi dayta ,,,LONG LIVE HAZARA ,,And Pakistan Zindabad

  • My name ‘Qadir’ has been changed to ‘Qadir HDP’ in the 7th comment… I am not the member of HDP neither I had written HDP with my name and actually earlier it was coming written as ‘Qadir’ only. God save me all others from this evil LUBP…

  • Dear Qadir saab ena hamaysha he amikar ra kada haqiqat talkh asta.
    1 he jumla kafi asta.
    We Listen Half, Understand Quarter, Think
    Zero and React DOUBLE!
    Hassan Nisar.

  • دیکھے جھنڈے اور علم میں فرق کریں۔ اگر آپ کو میجر محمد علی روڈ کوئٹہ کا محل وقوع معلوم نہیں ہے تو فالتو بکواس نہ کریں۔ ایک بات میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایچ۔ڈی۔پی کا جھنڈا تو کوئٹہ کے مختلف شاہراہوں یعنی بینظیر پل اور مین کوئٹہ بازار مین بھی لگا ہوا ہے۔ اگر اتنی ہمت ہے اور عزاداری کا شوق ہے تو جاکر بینظیر پل اور مین بازار مین ایچ۔ڈی۔پی کا جھنڈا اتار کر اپنا علم لگادیں تو میں مان جاونگا۔ دوسری بات اگر علم اتنا ہی اہم ہے تو اپنے باپ ایران سے کہ دو کہ اپنا جھندا ہر جگہ سے اتار کر علم لگادیں تاکہ ہم بھی جان جائیں کہ جھنڈا نہیں علم ضروری ہے ۔مرگ پر ولایت فقی۔ مرگ پر ایران خائین۔