Original Articles

آزاد عدلیہ زندہ باد

تحریر: امام بخش

آج سے ٹھیک پندرہ سال قبل 10 اکتوبر 1997ء کو نوازشریف کے دُوسرے دورِحکومت میں احتساب بیورو کے چیئرمین سیف الرحمٰن نے پاکستانی قوم کو نوید سنائی کہ پاکستان سے لُوٹے ہوئے ساٹھ ملین ڈالرز کا سراغ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے سوئس بنک اکاؤنٹس میں مل گیا ہے جن کوواپس لانے کے لئے سوئس حکام کو خط لکھ دیا گیا ہے۔ اورایک ملزم یعنی “کرپٹ” زرداری پہلے ہی سلاخوں کے پیچھے ہے۔

ہمیں اس وقت شدید دھچکا لگا جب سوئس کیسز کےمتعلق ہمیشہ اُصولوں اور قاعدوں کے مطابق چلنے والے نیک خُو اور آزاد عدلیہ کے ہم زانُو شریف برادران کی نہایت جائز فرمائش پر پاکستانی احتساب عدالت کی طرف سے بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو شواہد نہ ہونے کے باوجود سزا دینے کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پُھوٹ گیا۔ بدقسمتی سے ججز اور شریف برادران کی ریکارڈڈ ٹیلفونِک گفتگو منظرِ عام پر آگئی تو سپریم کورٹ نے فیصلے کو طوعاً و کرہاً کالعدم قرار دے دیا۔ اِسی بنا پر راشد عزیز چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور قیوم ملک جسٹس لاہور ہائی کورٹ دونوں کو اپنی اپنی نشستوں سےاستعفے دینے پڑے۔ مگر ایک بات کی یاد دہانی رہے کہ سپریم کورٹ نے فرمائشی سزاؤں میں ملوث باقی صالحین کا فیصلے میں ذِکر تک نہ فرما کر انصاف کا عَلم ایک بار پھر بلند کیا۔

صاف باطن لوگ دامے، دَرمے، قدمے، سُخنے یہ کیسز چلاتے رہے مگر جب درشنی شیر نوازشریف اور اُن کے نگینہِ خاص سیف الرحمٰن ایسے عظیم لوگ “کرپٹ ” زرداری کی طرح سلاخوں کے پیچھے جاپہنچے تو جیل میں ان کی بہادری کا بہت شہرہ ہوا۔ مثانے کے پریشر کو کثرت سے خارج کر کےانھوں نے جواں مردی کی اعلٰی مثالیں قائم کیں۔ یہاں کچھ چند مُعتَرِضَہ قسم کے واقعات رونما ہو گئے۔ یعنی ایک بار راولپنڈی میں عدالت کے احاطے میں سیف الرحمٰن نے “کرپٹ” زرداری کا دل رکھنے کے لئے گڑگڑاتے ہوئے اس کے قدموں میں گِر کرمعافی مانگی۔ یہ واقعہ تب ہوا جب دونوں کو جیل سے پیشیوں پر اس عدالت میں لایا گیا تھا۔ چشم دید گواہوں میں وارث میر مرحوم کا مشہورومعروف صحافی بیٹا بھی موجود تھا جو ہمیشہ ایمپائر اور باؤلر سے ملی بھگت کر کے کھیلنے والے (دو بار وزیرِ اعظم رہنے والے) شوقین کرکٹرکو آج کل پَولی پَولی باؤلنگ کرنے میں ایکسپرٹ ہے (اگرمجاہد صحافی وارث میر مرحوم کو اللہ تعالٰی اِس دنیا میں واپس بھیجیں تو ان کے سیانے نورِچشم کا طریقہ صحافت اُنھیں یقیناً ورطہِ حیرت میں ڈال دے گا)۔ دوسرے واقعے میں نوازشریف نے جیل سے نوید چوہدری کو کراچی جیل میں پابند و

سلاسل آصف علی زرداری سے معافی کی درخواست کا پیغام بھیجا تھا۔ اور تیسرے واقعے میں تو نواز شریف نے، جب وہ جدہ میں رہائش پذیر تھے، اپنی کتاب میں انکشاف فرما کر حد ہی کردی کہ فوج اور آئی ایس آئی کے دباؤ میں آکر ہم نے جان بوجھ کر بے نظیربھٹو اورآصف علی زرداری کے خلاف جھوٹے مقدمے بنوائے تھے۔

عوام کی “خاموش اکثریت” جلیلُ القدرآزاد عدلیہ پہ سوجان سے عاشق ہے۔ کیونکہ مندرجہ بالا واقعات کے باوجود عدلیہ نے آج سے تقریباً تین سال پہلے پاکستانی قوم کو پھر سے امید دلائی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہم لائیں گے قوم کے لوٹے ہُوئے ساٹھ ملین ڈالرز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاہے ان جھوٹےکیسز کے خالق “قابلِ نفرین” زرداری سے معافی ہی کیوں نہ مانگ بیٹھے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے ان کیسز پراصل رقم سے زیادہ رقم کیوں نہ خر چ ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاہے عدالت سمیت پاکستان کی کسی بھی تحقیقاتی ایجنسی کے پاس ان ساٹھ ملین ڈالرزکا کوئی ثبوت، بنک کا نام، اکاؤنٹ نمبر، ٹائٹل اور بیلنس تک کا اتا پتا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہےسوئس حکام نے انکوائری کا عمل پاکستان میں احتساب عدالتوں میں زیر التوا ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیسزکے فیصلے سے مشروط ہی کیوں نہ کیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاہے پھر پاکستان میں عدالتوں نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر اصل مقدمے خارج کیوں نہ کر دیئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاہے پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کیوں نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری فرشتہ صفت ججز کی ٹیم نے “واحد کرپٹ” آدمی کے خلاف اپنے مُصمم ارادے جواں رکھے۔ اور اپنے نشانے پر سےذرا سی بھی نظر نہیں ہٹنے دی۔ آزادعدلیہ کے فدائین بھی شاباش کے مستحق ہیں جنھوں نے اُونچے سُروں کے ساتھ طبلوں اور نقّاروں سے ساٹھ ملین ڈالرزکی چھنکارمیں کمی نہیں آنے دی۔ اور ہمہ وقت ایک ہی خوش کن راگ الاپتے رہے کہ عوام کے لُوٹے ہوئے ساٹھ ملین ڈالرز بس آنے کو ہی ہیں۔

درمیان میں سخن پرور فیصل رضا عابدی واضح اور ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ” پخ ” لگانے کی بہت کوشش کرتا رہا ہے۔ مگر آزاد عدلیہ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکا۔ فیصل رضا عابدی کو کیا معلوم کہ ہماری آزاد عدلیہ اپنے “واحد” نشانے کے بارے میں ایک نہایت ہی انصاف پر مبنی ذہنی کیفیت میں مبتلا ہے جسےwillingness to believe کہا جا تا ہے۔ اِسی لیے تو یہ اپنے واحد نشانے کے خلاف ہر بات مان لینے پر بلا توقّف “انصاف” کرنے پرآمادہ نظر آتی ہے۔ بالکل ابھی کی مُحَیِّرُ العُقول مثال سامنے ہے جب آزاد عدلیہ نے اصغر خان کیس میں غلام اسحاق کا حساب بالکل صحیح شست باندھ کر سیدھا تَیر “کرپٹ” زرداری کو مارکر مانگا ہے۔

اد دھانی بڑا مزہ دیتی ہے کہ آئین سے کوئی بالاتر نہیں۔ ہمارا مزہ اس وقت دوبالا ہو جاتا ہے جب ہم عملی طور پربھی دیکھتے ہیں کہ واقعی آزاد عدلیہ کسی کو بھی آئین سے بالاتر نہیں سمجھتی سوائے آرمی اور اپنے آپ کے۔

آزاد عدلیہ نے 10 اکتوبر 1997ء سے لے کر 10 کتوبر 2012ء تک پورے پندرہ سال تک ساٹھ ملین ڈالرزکی شہنائی سے عوام کو خُوب محظوظ کیا ہے۔ یہ ایسا کمال ہے جو عدلیہ کی تاریخ میں خام خام ہی ملے گا۔ سقراط کا مقدمہ سننے والے 501 ججز اگر زندہ ہوں تواپنے آپ کو ہماری آزاد عدلیہ سے بڑے “ثالث بالخیر” قرارنہیں دے سکیں گے۔

اگرسوئس کیسز پر مرکیاں لگائی اور تانیں نہ اٹھائی جاتیں تو ہماری زندگی کتنی بے کیف ہوتی۔کیونکہ “کرپٹ” زرداری کے خلاف 35 ریفرنسز میں آزاد عدلیہ کے سامنے پچیس سالوں کی انویسٹیگیشن سے اور زرداری کو عمر قید سزا جتنا عرصہ جیل میں رکھ کر کچھ بھی ثابت نہ ہو سکا۔ تو پھرانصاف پسند آزاد عدلیہ کے پاس کیا تدبیر تھی کہ عوام کی خاموش اکثریت کی پُر زور خواہش پر زرداری کے” کرپٹ” کریکٹر کو زندہ رکھنے کے لئے یہ چارہ جوئی نہ کرتی۔ اِن پندرہ سالوں میں سوئس کیسز کی وجہ سے پاکستان کاغیر

مُتناہی فائدہ ہوا ہے۔ تفصیل میں کیا جائیں، صرف یہ دیکھیں میڈیا پر بیٹھے ہوئے طِلاکاروں (جوعوام کے اصل نمائدے ہیں) کی آمدنی کہاں تک جا پہنچی ہے۔

آج 10 کتوبر 2012ء کو پاکستان کی آزاد عدلیہ نے وفاقی حکومت کی جانب سے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے تدوین شدہ مسودے کی منظوری دے دی ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت صدرِ پاکستان کو استثنٰی حاصل ہے۔

سوئس حکام پہلے ہی اپنی انکوائری کا دارومدار پاکستان میں احتساب عدالتوں میں زیر التوا ایس جی ایس اور کوٹیکنا کیسزکے فیصلے سے مشروط کر رکھا تھا اور پاکستانی عدالتیں ان کیسز کو جھوٹے شواہد کی بنیاد پر پہلے ہی خارج کر چکی ہیں۔ اوپر سےآزاد عدلیہ نے ہی پہلی بار “انصاف” سے ہٹ کر آئینی بات یعنی صدرِ پاکستان کے استثنٰی کو تسلیم کرلیا ہے۔ اِس فیصلے سے تو ایسے لگتا ہے کہ شائد عوام کی خاموش اکثریت کے سارے “چسکے” کا بیڑا غرق ہوگیا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بَین شروع ہو گئے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہائے اب پاکستان سے لوٹی ہوئی رقم کا کیا بنے گا۔۔۔۔۔۔ہائے ساٹھ ملین ڈالرز۔۔۔۔۔۔۔

اب فیصل رضا عابدی پھر شور مچائے گا کہ یہ کیا تماشا تھا؟ جب کیسز جھوٹے اور بد نیتی پر بنائے گئے تھے تو پندرہ سال تک اس چاند ماری کو کیا نام دیں؟ وہ یہ بھی کہنے سے بازنہیں آئے گاکہ کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑے بارہ آنے۔ یا وہ یہ بھی کہ سکتا ہے کہ اس فیصلےسے تو ایسے لگتا ہے کہ اُس کے لیڈر نے آزادعدلیہ کا کُھنڈے اُسترے سے سرمُونڈلیا ہے۔ مگر سینہ اَفگار فیصل رضا عابدی کو کون سمجھائے کہ آزادعدلیہ نے پندرہ سال تک جو تفریح طبع پاکستانی عوام کو “اِنصافی چسکا” دیا ہے۔ یہ جوئے شِیر لانے سے کیا کم تھا۔ اس پرجتنی بھی تعریف کی جائے ، وہ کم ہے۔

آج عدلیہ نے اعلٰی ججز کے خلاف الیکٹرک اور پرنٹ میڈیا میں کسی قسم کا مواد شائع یا نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے۔ یہ بڑا خوش آئند حکم ہے۔ اب ہم دیکھیں گے کہ فیصل رضا عابدی کیسے “انصاف” پر مبنی ذہنی کیفیت کا نشہ کِرکِرا کرسکتا ہے؟

پاکستانی قوم کی خاموش اکثریت کو پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ صداقت و امانت کے درجے پر فائز آزاد عدلیہ”انصاف” پر مبنی اپنے نظریات اور اصولوں کے چمنستان کو کبھی بھی اُجڑنے نہیں دے گی۔اگرآزاد عدلیہ نے سوئس کیسز پر گرفت چھوڑی ہے تو کیا میمو گیٹ سکینڈل پر لارجر بینچ تشکیل دے کر ایک نئے اِنصافی چسکے کا انتظام نہیں کر دیا؟ اِسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ عدلیہ ہی عوام کی آخری امید ہے۔

آزاد عدلیہ زندہ باد