Featured Original Articles

ملالہ یوسفزئی کے نام – فہمیدہ ریاض

ہم اسے مل کر سلا دیں گے

ملالہ کے لیے ہم سرخ چادر لے کر آۓ ہیں
بہت پیاری یہ بچی ہے اسے انعام دیں گے ہم
گلے میں سرخ مالا اس کو پہنائیں گے خوش ہو کر

وه اس کم سن کے عزم وجزم کا دم روز بھرتا ہے
ہمارا شہر اس کی زندگی پر فخر کرتا ہے

ہمارے ہاتھ اس کو نرم بستر پر لٹا دیں گے
وه شاید تھک گئی ہے ہم اسے مل کر سلا دیں گے

(فہمیده ریاض)

گاڑی روک کر ملالہ کا پوچھا اور گولی چلادی

 شناخت کرکے مارنے کی رسم

جب ہم کہتے تھے کہ لوگوں کو شناخت کرکے مارنے کی رسم کے خلاف کھڑے ہوجاو

لوگ کہتے تھے کہ یہ تو صرف شیعوں کا مسئلہ ہے

ہم بول کر کیوں اپنے آپ خطرے میں ڈالیں

مگر آج آپ نے دیکھ لیا

ایک 15 سال کی بچی ملالہ کو اسکول بس سے شناخت کرکے سر پر گولی مار کر زخمی کردیا۔

ابھی بھی وقت ہے اس ظلم کے خلاف کھڑے ہوجاو

سعودی استعمار اور جنرل ضیاء، اسلم بیگ اور حمید گل  کے پالے ہوۓ

یہ تکفیری دیوبندی جہادی دہشت گرد

کسی ایک مسلک کے خلاف نہیں

یہ انسانیت ،پاکستان، اسلام کے خلاف ہیں

سوچو ابھی بھی وقت ہے

Courtesy: Ali Arqam, Raza Rizvi

About the author

Abdul Nishapuri

6 Comments

Click here to post a comment
  • کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے سوات سے تعلق رکھنے والی امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    بی بی سی اردو سروس میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی منگل کو سوات میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئی ہیں۔
    اسی بارے میں

    تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون پر بتایا کے ملالہ یوسف زئی پر حملہ اس لیے کیا گیا کیوں کہ ان کے خیالات طالبان کے خلاف تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ملالہ اپنی طالبان مخالف فکر کا برملا اظہار بھی کرتی رہی ہیں لہٰذا ان پر حملہ کیا گیا ہے۔
    کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملالہ کے خیالات سیکولر تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ملالہ کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔

    احسان اللہ احسان نے حملے کی وجہ بتاتے ہوئے مزید کہا کہ ملالہ بقول ان کے اپنے خیالات کے باعث اسلام مخالف خیالات رکھتی تھیں۔
    مزید یہ کہ ایک موقع پر ملالہ یوسفزئی نے امریکی صدر براک اوباما کی تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ ’براک اوباما میرے آئیڈیل ہیں‘۔

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر سوات میں ایک سکول وین پر فائرنگ کی گئی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں امن ایوارڈ یافتہ طالبہ ملالہ یوسفزئی سمیت دو طالبات زخمی ہوئی ہیں۔

    حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن یوارڈ بھی دیا تھا۔ انہیں دو ہزار گیارہ میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

    ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔

    ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے بی بی سی اردو سروس کےلیے ڈائری لکھی جس میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121009_swat_malala_ttp_attack_tk.shtml

    سوات میں طالبان کے حملےمیں شدید زخمی ہو جانے والی چودہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کو بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزیر نے کہا ہے کہ گولی ملالہ یوسفزئی کے سر میں لگی ہے اور ان کی حالت نازک ہے۔

    صدراتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے ملالہ یوسفزئی کو علاج کے بیرون ملک بھیجنے کا حکم دیا ہے اور انہیں بیرون ملک علاج کے بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ملالہ یوسفزئی اس وقت پشاور میں فوجی ہسپتال سی ایم ایچ میں زیر علاج ہیں۔

    خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر بشیر بلور نے چودہ سالہ طالبہ ملالہ یوسفزئی کو ہسپتال میں دیکھنے کے بعد کہا ہے کہ گولی ان کے سر میں لگی اور ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت نازک ہے

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/10/121009_malala_health_condition_ra.shtml

  • Yet another proof, if ever one was needed, that Pakistan and Taliban cannot co-exist. May Pakistan’s Malala live long, but Malala’s Pakistan remains in danger. That is as long as we have supporters and apologists of intolerance, extremism and orthodoxy in the ranks of clergy, establishment, judiciary, media, academia, civil society or political parties.

  • جب ہم کہتے تھے کہ لوگوں کو شناخت کرکے مارنے کی رسم کے خلاف کھڑے ہوجاو تو لوگ کہتے تھے کہ یہ تو صرف شیعوں کا مسئلہ ہے، ہم بول کر کیوں اپنے آپ خطرے میں ڈالیں!

    مگر آج آپ نے دیکھ لیا ایک 15 سال کی بچی ملالہ کو اسکول بس سے شناخت کرکے سر پر گولی مار کر زخمی کردیا۔ ابھی بھی وقت ہے! اس ظلم کے خلاف کھڑے ہوجاو یہ درندہ صفت دہشتگرد کسی ایک مسلک کے خلاف نہیں یہ انسانیت، تعلیم، اسلام کے خلاف ہیں۔!! سوچو ابھی بھی وقت !!

  • Ms Fahmeeda Riaz you make our eyes wet. It looks as God has also turned His eyes from this nation. Whole body of the nation seems to have been infested. None is left who can stop such atrocities. Where sincere Pakistanis should go and beg for cure of this disease.

  • Kishwar Naheed’s poem on those who are afraid of women’s education

    وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    وہ جو علم سے بھی گریز پا
    کریں ذکررب کریم کا
    وہ جو حکم دیتا ہے علم کا
    کریں اس کے حکم سے ماورا یہ منادیاں
    نہ کتاب ہو کسی ہاتھ میں
    نہ ہی انگلیوں میں قلم رہے
    کوئی نام لکھنے کی جانہ ہو
    نہ ہو رسم اسم زناں کوئی

    وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    کریں شہر شہر منادیاں
    کہ ہر ایک قدِ حیا نما کو نقاب دو
    کہ ہر ایک دل کے سوال کو یہ جواب دو
    نہیں چاہیے کہ یہ لڑکیاں اڑیں طائروں کی طرح بلند
    نہیں چاہیے کہ یہ لڑکیاں کہیں مدرسوں کہیں دفتروں
    کا بھی رخ کریں
    کوئی شعلہ رو، کوئی باصفا، ہے کوئی
    توصحنِ حرم ہی اس کا مقام ہے
    یہی حکم ہے یہ کلام ہے

    وہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    وہ یہیں کہیں ہیں قریب میں
    انہیں دیکھ لو، انہیں جان لو
    نہیں ان سے کچھ بھی بعید، شہرِ زوال میں
    رکھو حوصلہ، رکھو یہ یقین
    کہ جو بچیوں سے بھی ڈر گئے
    وہ ہیں کتنے چھوٹے وجود میں