Featured Original Articles

Maulana Muhammad Ishaq’s lecture on fabrication of Islamic history by Nasibis

There are a few persons around who think that anyone who is praising Hazrat Ali, Hazrat Fatima, Imam Hasan, Imam Hussain etc is a Shia or a closet Shia. Quite a few of them become visibly uncomfortable when someone quotes a Hadith or incident in which members of the Prophet’s family or progeny are praised. Beware of such persons, they are Nasibis, the enemies of the Prophet Muhammad’s family (Ahlul Bayt and Aal).

According to Dr. Ali Shariati, besides the Quran and Prophet Muhammad (PBUH), Hazrat Ali is the third major factor of unity between Sunnis and Shias; Ali is equally revered and respected by Sunni and Shia Muslims.

It is, however, a fact that there is a tiny section of Nasibis who despise Hazrat Ali because they want to distort Islamic history and also because they want to create disunity between Sunnis and Shias.

While Kharijites are relatively well known due to their harsh decrees (fatwa) of infidelity (takfeer) against fellow Muslims (Shia, Sufi, Barelvi etc), the Nasibis are relatively camouflaged and less known.

A Nasibi is someone who hates the Ahlul Bayt (family members) and Aal (progeny) of the Prophet Muhammad, particularly those related to Hazrat Ali and Hazrat Fatima.

According to a tradition of the Prophet Muhammad (PBUH) reported in Sahih Muslim (The Book of Faith, Hadith No. 141)

Zirr reported that ‘Ali observed: By Him Who split up the seed and created something living, the Apostle (Mohammed) gave me a promise that no one but a believer would love me, and none but a hypocrite would nurse a grudge against me.’

In recent years, Sunni and Shia Muslims are surrounded by quite a few Nasibis who hold grudge against Ahlul Bayt and Aal of the Prophet but don’t make it public. A few of such Nasibis include Dr. Zakir Naik, Dr. Farhat Hashmi, Taqi Usmani, Javed Ahmed Ghamidi, Dr. Israr Ahmed etc.

Here is a detailed lecture by eminent Salafi (Ahl-e-Hadith) scholar Maulana Muhammad Ishaq in which he explains that the love of Hazrat Ali, Imam Hasan, Imam Hussain and other members of the Ahl-e-Bait is an integral party of faith. He also explains how enemies of Hazrat Ali and Ahl-e-Bait, during Umayyad Caliphate, hired official historians to record false traditions against Hazrat Ali and in praise of Muaviya.

Maulana Ishaq’s lectures (in Punjabi) are a must watch for those who want to understand the Nasibi propaganda against Ahl-e-Bait and also to understand how history is fabricated by dishonest authors.

Context: A professor (Professor Dr. Muhammad Aslam) of Islamic History from Lahore wrote a booklet “Kafeel-e-Muhammad” in which he tried to prove that Prophet Muhammad (SAW) did no€™t live with Hazrat Abu Talib after death of his grandfather but it was someone else and also Hazrat Ali (A.S.) did not conquer the Khyber he too was someone else!

Once again Nasibi cult (Takfiri Slafist-Deobandis) are trying to revise and distort history in order to create seeds of disunity and disinformation. Maualna Ishaq, an eminent Salafi (Ahl-e-Hadith) scholar has exposed such misrepresentations and lies. The distortion of the Hadith and history literature started in the reign of Umayyad Caliphs and was continued in subsequent centuries  by official historians and narrators who were hostile to the Alawite insurgents against the Umayyad and Abbasid caliphs. Such distortions are being fed to our youth through the media, text books and distorted historical accounts.

About the author

Abdul Nishapuri

2 Comments

Click here to post a comment
  • ناصبی اور اہلسنت میں فرق ہے

    تفصیلات
    COM_CONTENT_PARENT
    زمرہ: دیگر
    اشاعت بتاریخ ہفتہ, 05 نومبر 2011 04:05
    تحریر اشکِ کربلا
    آج کے ناصبیوں کی یہ سازش ہے کہ خود کو سنی ثابت کریں یا پھر اہلسنت کو ناصبی ثابت کریں۔ بہت بہت ضرورت ہے کہ انکی اس سازش کو سمجھا جائے اور اسکا تدارک کیا جائے۔
    اہلسنت ہمارے مسلمان کلمہ گو بھائی ہیں۔ ان سے نکاح جائز ہے، انکی جان و مال و عزت و آبرو کا وہی احترام ہے جو کہ ہماری اپنی جان و مال کا ہے۔ اہلسنت وہ ہیں جو کہ علی و آل محمد سے محبت رکھتے ہیں۔
    جبکہ ناصبی وہ ہیں جو کہ علی و آل محمد سے بغض رکھتے ہیں۔
    رسول اللہ (ص) نے گواہی دی ہے کہ علی ابن ابی طالب سے بغض رکھنے والا منافق ہے۔
    اہلسنت کے عالم دین امام شوکانی فرماتے ہیں:۔

    وإذا ثبت أن الناصبي من يبغض عليا عليه السلام فقد ثبت بالأحاديث الصحيحة الصريحة في كتب الحديث المعتمدة أن بغضه نفاق وكفر ۔ ۔ ۔ وثبت أن من أبغض عليا فقد أبغض الله ورسوله وبغض الله ورسوله كفر ۔ ۔ ۔ وفي الباب أحاديث كثيرة من طرق عن جماعة من الصحابة.وفي هذا المقدار كفاية فإن به يثبت أن الناصبي كافر، وأن من قال لرجل يا ناصبي! فكأنه قال: له يا كافر ۔

    اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ناصبی وہ ہوتا ھے جو علی علیہ السلام سے بغض رکھتا ہو تو پھر صحیح اور صریح احادیث جو مستند کتب میں منقول ہوئی ہیں ان احادیث کی روشنی میں یہ بھی ثابت ہوچکا ھے کہ علی [ع] سے بغض رکھنا نفاق اور کفر ھے اور یہ بھی ثابت ھے کہ جس نے علی سے بغض رکھا گویا اس نے اللہ اور رسول سے بغض رکھا اور اللہ اور رسول سے بغض رکھنا کفر ھے اور اس باب میں کافی احادیث ہیں جو کہ متعدد طرق سے صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہوئی ہیں جنمیں سے ھم نے بقدر کفایت چند احادیث نقل کردی ہیں ان احادیث سے یہ ثابت ہوتا ھیکہ ناصبی کافر ھے ۔ ۔ ۔ اور اگر کسی شخص نے دوسرے آدمی کو ناصبی کہا تو یہ ایسا ہی ھے کہ گویا اس نے اس شخص کو کافر کہا ھے ۔ ۔ ۔

    حوالہ:
    الفتح الربانی من فتاوی الامام الشوکانی//جلد2//صفحہ873 ۔ 876//طبعہ مکتبۃ الجیل یمن۔
    صحیح مسلم، حدیث 113
    قال ‏ ‏علي ‏ ‏والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏إلي ‏ ‏أن لا يحبني إلا مؤمن ولا يبغضني إلا منافق ‏
    ترجمہ:
    علی (ابن ابی طالب ) نے فرمایا: اُس ذات کی قسم جو ایک بیج سے زندگی پیدا کرتا ہے کہ رسول اللہ ص نے مجھے سے وعدہ فرمایا کہ اے علی نہیں کرے گا تجھ سے کوئی محبت سوائے مومن کے، اور نہیں رکھے گا کوئی تجھ سےکوئی بغض سوائے منافق کے۔

    امام احمد نے فضائل میں صحیح روایت نقل کی ہے کہ:
    حدثنا عبد الله قال حدثني أبي قثنا اسود بن عامر قثنا إسرائيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري قال : إنما كنا نعرف منافقي الأنصار ببغضهم عليا
    حوالہ : فضائل الصحابة جزء 2 ص 579
    ترجمہ:

    ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ہم انصار کے منافقین کو فقط انکے علی [علیہ السلام ] سے بغض رکھنے کی وجہ پہچان لیتے تھے۔

    اہلسنت علماء کی اپنی گواہی: ناصبی اور اہلسنت دو علیحدہ چیزیں ہیں
    خود اہلسنت علماء اپنی صفوں میں ان نواصب کی موجودگی کے گواہ ہیں، ان نواصب پر لعنت کرتے ہیں اور ان سے بیزار ہیں۔ چنانچہ آج کے ناصبیوں کی یہ چال کامیاب ہو ہی نہیں سکتی جب وہ خود کو اہلسنت بنا کر پیش کرتے ہیں۔
    امام ابن حجر العسقلانی نواصب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ نواصب وہ ہیں جنہوں نے صفین میں معاویہ ابن ابی سفیان کی پیروی کی۔

    اور شاہ عبد العزیز دہلوی اپنی کتاب “تحفہ اثناء عشریہ” میں لکھتے ہیں کہ ناصبی کتے اور خنزیر سے بدتر ہیں:

    اور اسی کتاب میں آگے شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ مروان بن الحکم (چھٹا خلیفہ۔۔۔ آج کے ناصبیوں کے لیے امیر المومنین) ناصبی ہے، بلکہ ناصبیوں کا پیشوا ہے۔

    حافظ ابن کثیر الدمشقی اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں لکھتے ہیں کہ شام کے ناصبی شہادت امام حسین علیہ السلام کے دن کو عید کی طرح مناتے تھے، غسل کر کے خوب پکوان اور مٹھائیاں بناتے اور ڈھول کی تھاپ پر خوشیاں مناتے۔

    علامہ ابن حجر العسقلانی (جن کے علم پر تمام اہلسنت اور اہلحدیث متفق ہیں) فرماتے ہیں: صحابی رسول ربیعۃ بن یزید پکا ناصبی تھا اور حضرت علی علیہ السلام کو گالیاں دیتا تھا۔

    ثبوت نمبر 1:
    صحیح مسلم، کتاب الفضائل الصحابہ، باب من فضائل علی بن ابی طالب
    – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، – وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ – قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، – وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ – عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَمَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَعْدًا فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسُبَّ أَبَا التُّرَابِ فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ ثَلاَثًا قَالَهُنَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَنْ أَسُبَّهُ لأَنْ تَكُونَ لِي ۔۔۔
    ترجمہ:
    معاویہ نے سعد کو حکم دیا [أَمَرَ مُعَاوِيَةُ] اور کہا کہ تمہیں کس چیز نے روکا ہے [مَا مَنَعَكَ] کہ تم ابو تراب [یعنی علی ابن ابی طالب] پر سب نہ کرو [سب: گالیاں دینا ، برا بھلا کہنا]۔ اس پر سعد نے کہا میں نے رسول ص سے علی کے متعلق تین ایسی باتیں سنی ہیں کہ جس کے بعد میں کبھی علی پر سب [گالیاں دینا، برا بھلا کہنا] نہیں کہہ سکتا ۔۔۔
    امام احمد نے فضائل میں بیان کیا ہے کہ:
    ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ہم انصار کے منافقین کو فقط انکے علی [علیہ السلام ] سے بغض رکھنے کی وجہ پہچان لیتے تھے
    متن
    حدثنا عبد الله قال حدثني أبي قثنا اسود بن عامر قثنا إسرائيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري قال : إنما كنا نعرف منافقي الأنصار ببغضهم عليا
    حوالہ : فضائل الصحابة جزء 2 ص 579

    ثبوت نمبر 2:
    حافظ ابن حجر العسقلانی علی کی فضیلت میں یہی روایت نقل کرنے کے بعد اسکے نیچے ایک اور روایت نقل کرتے ہیں:[آنلائن لنک]
    وعند أبي يعلى عن سعد من وجه آخر لا بأس به قال لو وضع المنشار على مفرقي على أن أسب عليا ما سببته أبدا
    ترجمہ:
    اور ابی یعلی نے سعد سے ایک اور ایسے حوالے [سند] سے نقل کیا ہے کہ جس میں کوئی نقص نہیں کہ سعد نے [معاویہ ابن ابی سفیان سے کہا]: اگر تم میری گردن پر آرہ [لکڑی یا لوہا کاٹنے والا آرہ] بھی رکھ دو کہ میں علی [ابن ابی طالب] پر سب کروں [گالیاں دینا، برا بھلا کہنا] تو تب بھی میں کبھی علی پر سب نہیں کروں گا۔
    اسی روایت کے ذیل میں لفظ سب کے متعلق شاہ عبدالعزیز کا ایک جواب فتاوی عزیزیہ، مترجم [شائع کردہ سعید کمپنی] صفحہ 413 پر موجود ہے، جس میں شاہ صاحب فرماتے ہیں:
    “بہتر یہی ہے کہ اس لفظ [سب] سے اسکا ظاہری معنی سمجھا جائے۔ مطلب اسکا یہی ہو گا کہ ارتکاب اس فعل قبیح کا یعنی سب یا حکم سب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صادر ہونا لازم آئے گا۔ تو یہ کوئی اول امر قبیح نہیں ہے جو اسلام میں ہوا ہے، اس واسطے کہ درجہ سب کا قتل و قتال سے بہت کم ہے۔ چنانچہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ “سباب المومن فسوق و قتالہ کفر” یعنی برا کہنا مومن کو فسق ہے اور اسکے ساتھ قتال کرنا کفر ہے۔” اور جب قتال اور حکم قتال کا صادر ہونا یقینی ہے اس سے کوئی چارہ نہیں تو بہتر یہی ہے کہ انکو مرتکب کبیرہ [گناہ] کا جاننا چاہیے۔ لیکن زبان طعن و لعن بند رکھنا چاہیے۔ اسی طور سے کہنا چاہیے جیسا صحابہ رضوان اللہ علیھم سے اُن کی شان میں کہا جاتا ہے جن سے زنا اور شرب خمر سرزد ہوا رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اور ہر جگہ خطاء اجتہادی کو دخل دینا بیباکی سے خالی نہیں۔ ”

    ثبوت نمبر 3:
    ابن کثیر الدمشقی، کتاب البدایہ و النہایہ، حلد 7، صفحہ 341، باب فضائل علی ابن ابی طالب
    وقال أبو زرعة الدمشقي‏:‏ ثنا أحمد بن خالد الذهبي أبو سعيد، ثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن أبيه قال‏:‏ لما حج معاوية أخذ بيد سعد بن أبي وقاص‏.‏فقال‏:‏ يا أبا إسحاق إنا قوم قد أجفانا هذا الغزو عن الحج حتى كدنا أن ننسى بعض سننه فطف نطف بطوافك‏.‏قال‏:‏ فلما فرغ أدخله دار الندوة فأجلسه معه على سريره، ثم ذكر علي بن أبي طالب فوقع فيه‏.‏فقال‏:‏ أدخلتني دارك وأجلستني على سريرك، ثم وقعت في علي تشتمه ‏؟‏والله لأن يكون في إحدى خلاله الثلاث أحب إلي من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال حين غزا تبوكاً ‏(‏‏(‏إلا ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي ‏؟‏‏)‏‏)‏أحب إلي مما طلعت عليه الشمس، ولأن يكون لي ما قال له يوم خيبر‏:‏ ‏(‏‏(‏لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله يفتح الله على يديه، ليس بفرار‏)‏‏)‏ ‏(‏ج/ص‏:‏ 7/377‏)‏أحب إليّ مما طلعت عليه الشمس، ولأن أكون صهره على ابنته ولي منها الولد ماله أحب إليّ من أن يكون لي ما طلعت عليه الشمس، لا أدخل عليك داراً بعد هذا اليوم، ثم نفض رداءه ثم خرج‏.‏
    ترجمہ:
    ابو زرعہ الدمشقی عبداللہ بن ابی نجیح کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب معاویہ نے حج کیا تو وہ سعد بن ابی وقاص کا ہاتھ پکڑ کر دارالندوہ میں لے گیا اور اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا۔ پھر علی ابن ابی طالب کا ذکر کرتے ہوئے انکی عیب جوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا: “آپ نے مجھے اپنے گھر میں داخل کیا، اپنے تخت پر بٹھایا،پھر آپ نے علی ابن ابی طالب کے حق میں بدگوئی اور سب و شتم شروع کر دیا۔ خدا کی قسم، اگر مجھے علی کے تین خصائص و فضائل میں سے ایک بھی ہو تو وہ مجھے اس کائنات سے زیادہ عزیز ہو جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ کاش کہ نبی اللہ ص نے میرے حق میں یہ فرمایا ہوتا جب کہ آنحضور ص غزوہ تبوک پر تشریف لے جا رہے تھے تو آپ نے علی کے حق میں فرمایا:”کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون کو موسی سے تھی سوائے ایک چیز کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ یہ ارشاد میرے نزدیک دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب تر ہے۔ پھر کاش کہ میرے حق میں وہ بات ہوتی جو آنحضور ص نے خیبر کے روز علی کے حق میں فرمائی تھی کہ “میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اسکے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اسکا رسول ص اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا اور یہ بھاگنے والا نہیں [غیر فرار]۔ یہ ارشاد بھی مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ عزیز تر ہے۔ اور کاش کہ مجھے رسول ص کی دامادی کا شرف نصیب ہوتا اور آنحضور ص کی صاحبزادی سے میرے ہاں اولاد ہوتی جو علی کو حاصل ہے، تو یہ چیز بھی میرے لیے دنیا و مافیہا سے عزیز تر ہوتی۔ آج کے بعد میں تمہارے گھر کبھی داخل نہ ہوں گا۔ پھر سعد بن ابی وقاص نے اپنی چادر جھٹکی اور وہاں سے نکل گئے۔”
    نوٹ:
    یہ صحیح روایت ہے۔ مخالفین نے پھر بھی اس میں شک ڈالنے کے لیے ایک راوی احمد بن خالد پر اعتراض کرنے کی کوشش کی ہے۔ مگر یہ راوی احمد بن خالد انتہائی ثقہ ہیں اور ان کی ضعیف ثابت کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انکے متعلق ائمہ رجال کے اقوال:
    الذھبی: امام، محدث، ثقہ [سر اعلام النبلاء جلد 9، صفحہ 539]
    امام یحیی ابن معین: ثقہ [تہذیب الکمال جلد 1، صفحہ 301]
    امام ابن حبان نے ان کا اپنی کتاب “الثقات” میں شامل کیا ہے [جلد 8، صفحہ 6]
    امام ابن ماجہ نے احمد بن خالد سے روایات نقل کی ہیں اور سعودیہ کے شیخ البانی نے ان احادیث کو صحیح قرار دیا ہے [سنن ابن ماجہ، جلد 2، حدیث 3188]

    ثبوت نمبر 4:
    سنن ابن ماجہ، جلد اول:
    حدثنا علي بن محمد حدثنا أبو معاوية حدثنا موسى بن مسلم عن ابن سابط وهو عبد الرحمن عن سعد بن أبي وقاص قال قدم معاوية في بعض حجاته فدخل عليه سعد فذكروا عليا فنال منه فغضب سعد وقال تقول هذا لرجل سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من كنت مولاه فعلي مولاه وسمعته يقول أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي وسمعته يقول لأعطين الراية اليوم رجلا يحب الله ورسوله
    ترجمہ:
    یعنی حج پر جاتے ہوئے سعد بن ابی وقاص کی ملاقات معاویہ سے ہوئی اور جب کچھ لوگوں نے علی کا ذکر کیا تو اس پر معاویہ نے علی کی بدگوئی کی۔ اس پر سعد بن ابی وقاص غضبناک ہو گئے اور کہا کہ تم علی کے متعلق ایسی بات کیوں کہتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ص کو کہتے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا، اُس اُس کا یہ علی مولا، اور یہ کہ اے علی آپکو مجھ سے وہی نسبت ہے جو کہ ہارون ع کو موسی ع سے تھی سوائے ایک چیز کہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا، اور میں نے [رسول اللہ ص] سے یہ بھی سنا ہے کہ کل میں علم ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اور اسکے رسول سے محبت کرتا ہے۔
    یہ بالکل صحیح الاسناد روایت ہے اور البانی صاحب نے اسے “سلسلة الأحاديث الصحيحة” میں ذکر کیا ہے۔ لنک:

    ثبوت نمبر 5:
    ابن عساکر نے تاریخ مدینہ الدمشق میں لکھتے ہیں:
    اخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الباقي أنا الحسن بن علي أنا محمد بن العباس أنا احمد بن معروف نا الحسين بن محمد بن سعد أنا أبو عبيد عن مجالد عن الشعبي وعن يونس بن أبي إسحاق عن أبيه وعن أبي السفر وغيرهم ۔۔۔۔۔۔۔ ولا يسب علي وهو يسمع وان يحمل إليه خراج فسا ( 3 ) ودار ابجرد ( 4 ) من ارض فارس كل عام
    ترجمہ:
    یعنی حسن بن علی نے جب معاویہ سے صلح کی تھی تو اس میں جو شرائط تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ “۔۔۔۔۔ اور علی ابن ابی طالب پر سب [گالیاں دینا ، برا بھلا کہنا] نہیں کیا جائے گا جب کہ وہ سن رہے ہوں۔۔۔۔۔
    ابن عساکر نے یہ اس شرط کا ذکر تین روایات میں کیا ہے، جس میں سے دوسری روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ صحیح روایت ہے۔
    1۔ أبو بكر محمد بن عبد الباقي: ابن جوزی [ثقہ]، الذھبی [عادل]
    2۔ محمد بن العباس: البغدادی [ثقہ]، الذھبی [صدوق]
    3۔ احمد بن معروف: بغدادی [ثقہ]، آلذھبی [ثقہ]
    4۔ الحسين بن محمد: البغدادی [ثقہ]، الذھبی [حافظ]
    5۔ محمد بن عبید: ابن حجر العسقلانی [ثقہ]، الذھبی [ثقہ]
    6۔ يونس بن أبي إسحاق: ابن حجر العسقلانی [ثقہ]، الذھبی [ثقہ]
    7۔ ابن اسحق الشعبہ: ابن حجر [ثقہ]، الذھبی [ثقہ، حجۃ]
    الذھبی نے یہی شرط دو روایات میں ذکر کی ہے۔ مثلا محمد ابن عبید، مجلد، الشعبی، یونس اور پھر اس نے اپے والد سے۔
    آنلائن لنک
    امام جمال الدین المزی نے بھی یہ روایت تین اوپر والی اسناد سے نقل کی ہے۔
    آنلائن لنک
    تحریف کیس:

    ان تینوں علماء ابن عساکر، الذھبی اور جمال الدین مزی اور انکی اسناد کا ذکر اس لیے ہے کہ ان تینوں نے یہ روایات اپنے سے پہلے آنے والے مشہور عالم علامہ ابن سعد کی مشہور کتاب “طبقات الکبری” سے نقل کی ہیں۔
    مگر آج چھپنے والی طبقات میں ہمیں یہ تینوں اسناد والی روایات نظر نہیں آتیں اور تعصب میں مبتلا لوگوں نے ان علماء کے کتب میں من مانی تحریف شروع کر رکھی ہے اور یہ سنت بنی اسرائیل میں مبتلا ہیں کہ جب انہوں نے اپنی کتابوں سے اُن تمام چیزوں کی تحریف کر دی جو ان کی خواہشات اور خود ساختہ عقائد کے خلاف تھیں۔

    ثبوت نمبر 6:
    ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں لکھتے ہیں:
    فاشترط أن يأخذ من بيت مال الكوفة خمسة آلاف ألف درهم، وأن يكون خراج دار أبجرد له، وأن لا يسب علي وهو يسمع
    ترجمہ:
    [الحسن] نے یہ شرائط رکھیں کہ کوفہ کے بیت المال سے پچاس لاکھ درھم کا خراج انہیں [اور انکی فوج] کے حوالے رکھا جائے اور دار ابجرد کا خراج بھی انہیں کو ملے اور یہ کہ علی ابن ابی طالب پر سب [گالیاں دینا، برا بھلا کہنا] نہ کیا جائے جبکہ وہ اسے سن سکتے ہوں۔
    تحریف کیس 2:

    یہ روایت بھی معتصب حضرات کو ہضم نہیں ہوئی اور بہت سی دیگر نیٹ ویب سائیٹ پر اس روایت کی تحریف کر دی گئِ ہے اور آپ کو اُن میں یہ روایت ملے گی ہی نہیں۔

    ثبوت نمبر 7:
    علامہ ابن اثیر اپنی کتاب تاریخ الکامل میں لکھتے ہیں:
    وكان الذي طلب الحسن من معاوية أن يعطيه ما في بيت مال الكوفة، ومبلغه خمسة آلاف ألف، وخراج دار ابجرد من فارسن وأن لا يشتم علياً، فلم يجبه إلى الكف عن شتم علي، فطلب أن لا يشتم وهو يسمع، فأجابه إلى ذلك ثم لم يف له به أيضاً، وأما خراج دار ابجرد فإن أهل البصرة منعوه منه وقالوا: هو فيئنا لا نعطيه أحداً، وكان منعهم بأمر معاوية أيضاً.
    ترجمہ:
    امام حسن نے امیر معاویہ سے جو امور طلب کئے تھے وہ یہ تھے کہ کوفے کے بیت المال کی تمام رقم جسکی مقدار پچاس لاکھ تھی اور فارس کے دار ابجرد کا خراج انہیں دیا جائے [تاکہ وہ اپنی فوج کا خرچ ادا کر سکیں] اور یہ کہ علی ابن ابی طالب پر سب و شتم نہ کیا جائے۔ معاویہ نے سب و شتم سے باز رہنے کو منظور نہیں کیا۔ اسپر امام حسن نے پھر طلب کیا کہ انکو ایسے وقت میں سب و شتم نہ کیا کریں کہ وہ ا سکو سن سکتے ہوں۔ اسکو معاویہ نے قبول کیا مگر بعد میں یہ شرط بھی پوری نہ کی۔ باقی رہا دار الابجرد کا خراج تو اسے اہل بصرہ نے یہ کہہ کر روک لیا کہ وہ ہمارے مال غنیمت میں سے ہے اور وہ ہم کسی کو نہ دینگے۔ انہوں نے اس میں بھی معاویہ کے حکم سے ہی رکاوٹ ڈالی۔
    امام الذھبی اپنی کتاب “العبر في خبر من غبر ” میں یہی روایت نقل کرتے ہیں کہ علی ابن ابی طالب پر سب و شتم نہ کیا جائے۔
    ثم كتب إلى معاوية على أن يسلم إليه بيت المال وأن لا يسب عليًا بحضرته وأن يحمل إليه خراج فسا ودارابجرد كل سنة‏.‏
    آنلائن لنک
    امام ابن جریر طبری بھی یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ امام حسن نے معاویہ سے اس شرط پر صلح کی کہ علی ابن ابی طالب پر سب و شتم نہ کیا جائے گا ایسے وقت میں جبکہ وہ اسے سن رہے ہوں۔
    آنلائن لنک
    امام طبری نے یہ روایت عوانہ ابن حکم [متوفی 147 ہجری] سے لی ہے۔ عوانہ نے معاویہ ابن ابی سفیان اور بنی امیہ پر دو تاریخی کتابیں لکھی تھیں۔ ان عوانہ کے متعلق ائمہ رجال کی آراء:
    الذھبی: عوانہ روایات بیان کرنے میں صدوق ہیں [سر العلام النبلاء جلد 7، صفحہ 201]
    امام عجلی: انہوں نے عوانہ کو اپنی کتاب “معارف الثقات” جلد 2، صفحہ 196 پر شامل کیا ہے۔
    یاقوت حموی: عوانہ تاریخ اور روایات کے عالم ہیں اور ثقہ ہیں
    حتی کہ ابن خلدون [جن میں کہ علی کے خلاف ناصبیت تک پائی جاتی ہے اور اس لیے مخالفین کے پسندیدہ مورخ ہیں] لکھتے ہیں [تاریخ ابن خلدون، جلد 2، صفحہ 648]:
    آنلائن لنک
    فكتب إلى معاوية يذكر له النزول عن الأمر على أن يعطيه ما في بيت المال بالكوفة و مبلغه خمسة آلاف ألف و يعطيه خراج دار ابجرد من فارس و ألا يشتم عليا و هو يسمع
    ترجمہ:
    یعنی امام حسن نے شرط رکھی کہ علی ابن ابی طالب کو گالیاں نہیں دی جائیں گی جبکہ وہ اسے سن سکتے ہوں۔
    علامہ اسمعیل بن ابو الفداء اپنی تاریخ ابوالفداء جلد اول، صفحہ 648 پر لکھتے ہیں:آنلائن لنک
    وكان الذي طلبه الحسن أن يعطيه ما في بيت مال الكوفة وخراج دارا بجرد من فارس وأن لا يسب علياً فلم يجبه إلى الكف عن سبّ علي فطلب الحسن أن لا يشتم علياً وهو يسمع فأجابه إِلى ذلكَ ثم لم يف له به
    ترجمہ:
    یعنی علی ابن ابی طالب کو گالیاں نہیں دی جائیں گی جبکہ وہ اسے سن سکتے ہوں۔

    ثبوت نمبر 8:
    حضرت ام سلمہ سلام اللہ علیہا نے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دینے پربھرپور احتجاج کیا۔ ام المومنین حضرت ام سلمہ سلام اللہ علیہا نے معاویہ کو ایک خط لکھا:
    آنلائن لنک العقد الفرید، جلد 3:
    فکتبت ام سلمۃ زوج النبی الی معاویۃ: انکم تلعنون اللہ و رسولہ علی منابرکم، و ذلک انکم تلعنون علی بن ابی طالب و من احبہ، و انا اشھد ان اللہ احبہ و رسولہ، فلم یلتفت الی کلامھا۔
    ترجمہ:
    “تم لوگ [معاویہ] منبر رسول سے اللہ اور اسکے رسول پر لعن کر رہے ہو، اور یہ اسطرح کہ تم علی ابن ابی طالب پر لعن کر رہے ہو اور ہر اُس پر جو علی سے محبت کرتا ہے۔ اور میں گواہ ہوں کہ اللہ اور اسکا رسول علی سے محبت رکھتے تھے۔” مگر ام سلمہ سلام اللہ علیہا نے جو کچھ کہا کسی نے اسکی پرواہ نہ کی۔
    ام المومنین حضرت ام سلمہ سلام اللہ علیہا کی یہ روایت کئی طریقوں سے امام احمد نے اپنی مسند میں بھی نقل کی ہے۔ مثلا:
    مسند احمد بن حنبل
    25523 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ اَبِي بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اِسْرَائِيلُ، عَنْ اَبِي اِسْحَاقَ، عَنْ اَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى اُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ لِي اَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ قُلْتُ مَعَاذَ اللَّهِ اَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ اَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي‏.‏
    اس روایت میں ام سلمہ سلام اللہ علیہا صحابہ کو علی ابن ابی طالب پر “سب” کرنے کو رسول اللہ ص پر “سب” کرنا قرار دے رہی ہیں۔
    اور ابن کثیر الدمشقی اپنی کتاب البدایہ و النہایہ میں نقل کرتا ہے :
    “امام احمد نے بیان کیا ہے کہ یحیی بن ابی بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ اسرائیل نے ابو اسحاق سے بحوالہ ابو عبداللہ البجلی ہم سے بیان کیا کہ میں حضرت ام سلمہ کے پاس گیا تو آپ نے مجھے فرمایا، کیا تم میں رسول اللہﷺ کو سب و شتم کیا جاتا ہے؟ میں نے کہا معاذاللہ یا سبحان اللہ یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا “آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے جس نے علی کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی۔
    نیزیہ روایت دیکھئیے
    ابو لیلی نے اسے عن عبیداللہ بن موسی عن عیسی بن عبدالرحمن البجلی عن بجیلہ و عن سلیم عن السدی عن ابی عبداللہ البجلی روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ نے مجھے فرمایا، کیا تم میں منبر رسول پر سے رسول ﷺ کو سب و شتم کیا جاتا ہے؟ راوی بیان کرتا ہے میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ] نے فرمایا کیا حضرت علی اور ان سے محبت کرنے والوں کو سب و شتم نہیں کیا جاتا؟ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺ ان سے محبت کرتے تھے [آگے ابن کثیر الدمشقی لکھتا ہے کہ اسے کئی طرق سے حضرت ام سلمہ سے روایت کیا گیا ہے]
    حوالہ: البدایہ و النہایہ، جلد ہفتم، صفحہ 463 [اردو ایڈیشن، نفیس اکیڈمی، ترجمہ اختر فتح پوری صاحب ] آنلائن لنک سکین شدہ صفحہ

    ثبوت نمبر 9: معاویہ ابن ابی سفیان کا الحسن ابن علی کی موت پر خوش ہونا
    سنن ابو داود، کتاب 32، حدیث 4119:
    آنلائن لنک:
    مقدام بن معدیکرب معاویہ ابن ابنی سفیان کے پاس آئے تو معاویہ بن ابی سفیان نے المقدام بن معدی کرب سے کہا: کیا تمہیں علم ہے کہ الحسن بن علی مر گئے ہیں؟ اس پر مقدام بن معدی کرب نے قرآنی آیت پڑھی انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک آدمی [لفظ فلاں استعمال ہوا ہے اور مراد معاویہ ابن ابی سفیان خود ہے] نے کہا: تو کیا تم اس [الحسن ابن علی] کے مرنے کو ایک مصیبت تصور کر رہے ہو ؟ اس پر مقدام نے جواب دیا: “میں اسے مصیبت کیسے نہ جانوں جبکہ رسول ص الحسن کو اپنی گود میں لیتے تھے اور کہتے تھے کہ الحسن مجھ سے ہے جبکہ الحسین علی سے ہیں۔
    اس ہر بنی اسد کے آدمی نے [معاویہ کی خوشنودی کے لیے] کہا: [الحسن] ایک جلتا ہوا انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا۔
    اس روایت میں یہ جہاں “فلاں” کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاںمراد بذات خود معاویہ ہے [جیسا کہ مسند احمد بن حنبل میں معاویہ کا لفظ مروی ہے، مگر امام ابو داؤد نے اسے فلاں کے لفظ سے تبدیل کر دیا ہے]۔ یعنی یہ معاویہ ابن ابنی سفیان ہے جو امام حسن علیہ السلام کے مرنےکو مصیبت قرار دے رہا ہے۔
    مولانا شمس الحق نے سنن ابو داؤد کی شرح لکھی ہے “عون المعبود” کے نام سے جو کہ تمام سلفی ویب سائٹس پر موجود ہے۔ مثلا http://hadith.al-islam.com جو کہ سلفی حضرات کی مستند ترین ویب سائٹس میں شمار ہوتی ہے۔
    اس روایت کے ذیل میں عون المعبود میں یہ شرح دی گئی ہے [آنلائن لنک]:
    فقال له فلان ) وفي بعض النسخ وقع رجل مكان فلان والمراد بفلان هو معاوية بن أبي سفيان رضي الله تعالى عنه والمؤلف لم يصرح باسمه وهذا دأبه في مثل ذلك وقد أخرج أحمد في مسنده من طريق حيوة بن شريح حدثنا بقية حدثنا بحير بن سعد عن خالد بن معدان قال وفد المقدام بن معد يكرب وفيه فقال له معاوية أيراها مصيبة الحديث( أتعدها ) وفي بعض النسخ أتراها أي أنعد يا أيها المقدام حادثة موت الحسن رضي الله تعالى عنه مصيبة والعجب كل العجب من معاوية فإنه ما عرف قدر أهل البيت حتى قال ما قال فإن موت الحسن بن علي رضي الله عنه من أعظم المصائب وجزى الله المقدام ورضي عنه فإنه ما سكت عن تكلم الحق حتى أظهره وهكذا شأن المؤمن الكامل المخلص
    ترجمہ:
    ۔۔۔ (فقال لہ فلان) اور کچھ جگہ لفظ فلاں کی جگہ لفظ “رجل” استعمال کیا گیا ہے، اور اس فلاں سے مراد معاویہ ابن ابی سفیان رضی اللہ تعالی ہیں۔ جیسا کہ مؤلف [امام ابو داؤد] یہ معلوم نہیں ہونے دیتے چونکہ یہ انکی عادت ہے۔ احمد [امام احمد بن حنبل] اپنی مسند میں حیوۃ بن شریح سے بیان کرتے ہیں جو بقیۃ سے اور جو بحیر بن سعد سے اور وہ خالد بن معدان سے بیان کرتے ہیں : “اور معاویہ نے ان سے کہا: تو کیا تم اس [الحسن ابن علی] کے مرنے کو ایک مصیبت تصور کر رہے ہو ؟ ۔۔۔۔
    ۔۔۔بعض جگہ پر ( أتعدها ) اور بعض جگہ پر (أتراها) یعنی کیا تم دیکھتے ہو ، تصور کرتے ہو الحسن ابن علی کی موت کو ایک مصیبت؟
    تعجب پر تعجب (انتہائی تعجب) ہے امیر معاویہ کے اس قول پر۔ انہوں نے اہلبیت کی قدر نہ پہنچانی حتی کہ ایسی بات کہہ دی۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی موت یقینا بہت بڑی مصیبت تھی اور اللہ حضرت مقدام رضی اللہ عنہ کو جزائے خیر دے اور ان سے راضی ہو کہ انہوں نے کلمہ حق ادا کرنے میں خاموشی اختیار نہ کی اور اسے اعلانیہ کہہ دیا۔ مومن کامل و مخلص کی یہی شان ہے۔ بنو اسد کے شخص نے جو کچھ کہا وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی رضا اور تقرب حاصل کرنے کے لیے تھا۔ اُس نے یہ سخت گھٹیا بات اس وجہ سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے کہی تھی کہ (امام حسن کی موجودگی میں) امیر معاویہ کو اپنی خلافت کے زوال کا خوف تھا۔
    یہی الفاظ مولانا خلیل احمد صاحب نے بذل المجہود، شرح سنن ابی داؤد میں اسی روایت کی تشریح کرتے ہوئے درج کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
    “اسدی نے یہ بات معاویہ کی رضا اور تقرب حاصل کرنے کے لیے کہی تھی۔ جب حضرت مقدام نے اس شخص کی بات سنی جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے امیر معاویہ کی خاطرداری کے لیے کہی تھی، تو حضرت مقدام امیر معاویہ سے کہنے لگے کہ میں یہان سے آج ہرگز نہ ہلوں گا جب تک آپ کو غصہ نہ دلاؤں اور آپ کو ایسی بات نہ سناؤں جو آپ کو ناپسند ہو جس طرح کہ آپ نے مجھے ایسی بات سنائی جو مجھے پسند نہیں۔
    اور برصغیر کے مشہور اہلحدیث عالم دین مولانا وحید الزمان خانصاحب اس روایت کے ذیل میں حاشیہ میں لکھتے ہیں:
    امام حسن علیہ السلام کے انتقال پر معاویہ کو یہ کہنا کہ یہ مصیبت نہیں ہے مبنی تھا اوپر تعصب کے علی اور اولاد علی سے۔ راضی ہو اللہ اپنے رسول کے اہل بیت سے اور ہمارا حشر ان کے ساتھ کرے۔ امین۔
    روایت میں آگے بیان ہے کہ حضرت مقدام نے امیر معاویہ کو قسم دلا کر پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مردوں کو سونے کا زیور اور ریشم پہننے سے منع نہیں فرمایا اور خدا کی قسم یہ چیزیں آپ کے گھر کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اس کی شرح میں صاحبِ عون المعبود فرماتے ہیں:
    فَإِنَّ أَبْنَاءَك وَمَنْ تَقْدِر عَلَيْهِ لَا يَحْتَرِزُونَ عَنْ اِسْتِعْمَالهَا وَأَنْتَ لَا تُنْكِر عَلَيْهِمْ وَتَطْعَن فِي الْحَسَن بْن عَلِيّ ‏
    ترجمہ:
    “آپ کے لڑکے اور گھر کے مرد (یزید وغیرہ) ان اشیاء کے استعمال سے پرہیز نہیں کرتے اور آپ ان پر نکیر نہیں کرتے۔ اور ادھر آپ حضرت حسن پر طعن کرتے ہیں۔”

    معاویہ کے گورنروں کا کھلے عام علی ابن ابی طالب پر سب و شتم کرنا
    ثبوت نمبر 10:
    تاریخ ابو الفداء، جلد 1، صفحہ 120:
    آنلائن لنک:
    وكان معاوية وعماله يدعون لعثمان في الخطبة يوم الجمعة ويسبون علياً ويقعون فيه
    ترجمہ:
    معاویہ اور اسکے گورنر جمعے کے خطبوں میں عثمان کی تعریف کرتے تھے اور علی کو گالیاں دیتے تھے۔
    ابن تیمیہ اپنی کتاب منہاج السنہ، جلد 6، صفحہ 201 پر لکھتا ہے:
    وقد كان من شيعة عثمان من يسب عليا ويجهر بذلك على المنابر
    ترجمہ:
    عثمان کے شیعہ [طرفدار] کھلے عام مسجدوں کے منبروں سے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دیتے تھے۔
    سنن ابو داؤد (لنک) پر یہ روایت موجود ہے:
    Sunnan Abu Dawud, Book 40, Number 4633:
    Narrated Sa’id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl:
    Rabah ibn al-Harith said: I was sitting with someone in the mosque of Kufah while the people of Kufah were with him. Then Sa’id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl came and he welcomed him, greeted him, and seated him near his foot on the throne. Then a man of the inhabitants of Kufah, called Qays ibn Alqamah, came. He received him and began to abuse him.
    Sa’id asked: Whom is this man abusing? He replied: He is abusing Ali. He said: Don’t I see that the companions of the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) are being abused, but you neither stop it nor do anything about it?

    ثبوت نمبر 11: مروان بن حکم کا علی ابن ابی طالب پر سب شتم کرنا
    مروان بن الحکم نے معاویہ کے حکم سے عید کی نماز میں بدعت جاری کر کے خطبے میں علی کو برا کہنا شروع کر دیا
    ثبوت نمبر 10:
    صحیح مسلم، کتاب الایمان
    186 – حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، كِلاَهُمَا عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، – وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ – قَالَ أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلاَةِ مَرْوَانُ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَقَالَ الصَّلاَةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ‏.‏ فَقَالَ قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏”‏ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ ‏”‏ ‏.‏
    ترجمہ:
    طارق بن شہاب کہتے ہیں: یہ مروان بن الحکم تھا جس نے سب سے پہلے خطبے کو عید کی نماز پر مقدم کرنے کی بدعت جاری کی۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: “نماز خطبے سے پہلے ہونی چاہیے۔” اس پر مروان نے کہا: “یہ چیز ترک ہو چکی ہے۔ اس پر ابو سعید نے فرمایا” “اس شخص [مروان] نے وہ کچھ کیا ہے جو [ڈیوٹی] اسکے ذمے لگائی گئی تھی۔۔۔۔
    [نوٹ: اس وقت معاویہ ابن ابی سفیان خلیفہ تھا اور اُس نے مروان بن الحکم کو مدینہ کا حاکم مقرر کیا تھا اور یہ مکروہ بدعت و ضلالت معاویہ ابن ابی سفیان کے حکم سے مروان نے شروع کی تھی]
    صحیح بخاری، کتاب 15، حدیث 76:
    ابو سعید خدری کہتے ہیں:
    ۔۔۔۔ جب عید کی نماز کا وقت ہوا تو مروان نے چاہا کہ وہ منبور پر چڑھ کر نماز سے قبل خطبے دے۔ اس پر میں نے اُسے کپڑوں سے پکڑ لیا، مگر اُس نے اپنے کپڑے جھٹکے سے چھڑا لیے اور منبر پر چڑھ کر اس نے خطبہ پڑھا۔ میں نے مروان سے کہا: “اللہ کی قسم تم نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت تبدیل کر دی ہے۔ ” اس پر مروان نے جواب دیا: “وہ دن گئے جن کا تم ذکر کر رہے ہو”۔ اس پر میں نے کہا کہ میں جو کچھ جانتا ہوں وہ اس سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا۔ اس پر مروان نے جواب دیا: “لوگ عید کی نماز کے بعد خطبہ سننے کے لیے نہیں بیٹھتے ہیں لہذا میں خطبہ عید کی نماز سے پہلے ادا کر لیتا ہوں۔”
    سوال: کیا وجہ تھی کہ صحابہ و تابعین عید کی نماز کے بعد خطبے کے لیے نہیں بیٹھتے تھے؟ کیا وہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت بھول گئے تھے؟
    تو اسکا جواب یہ ہے کہ صحابہ و تابعین اس لیے مروان کے خطبے میں نہیں بیٹھتے تھے کیونکہ خطبے میں علی ابن ابی طالب اور اہلبیت علیہم السلام پر سب و شتم کیا جاتا تھا۔
    علامہ کاشمیری فیض الباری شرح صحیح بخاری میں لکھتے ہیں:
    “سنت نبوی یہ ہے کہ نماز کو خطبے سے پہلے ادا کیا جائے، مگر مروان بن الحکم نے خطبے کو نماز پر پہلے جاری کر دیا کیونکہ وہ خطبے میں علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کہتا تھا۔
    آنلائن لنک، فیض الباری شرح صحیح بخاری، جلد 1، صفھہ 722، روایت: 954، کتاب العیدین

    ثبوت نمبر 12:
    ابن کثیر کتاب البدایہ و النہایہ میں لکھتے ہیں [آنلائن لنک]:
    ومروان كان أكبر الأسباب في حصار عثمان لأنه زور على لسانه كتاباً إلى مصر بقتل أولئك الوفد، ولما كان متولياً على المدينة لمعاوية كان يسب علياً كل جمعة على المنبر‏.‏وقال له الحسن بن علي‏:‏ لقد لعن الله أباك الحكم وأنت في صلبه على لسان نبيه فقال‏:‏ لعن الله الحكم وما ولد والله أعلم‏.‏ ‏(‏ج/ص‏:‏ 8/285‏)
    ترجمہ:
    جب مروان مدینے کا گورنر تھا تو وہ علی ابن ابی طالب پر ہر جمعے کی نماز کے بعد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر مبارک پر چڑھ کر سب [برا کہنا، گالیاں دینا] کیا کرتا تھا۔
    حافظ سیوطی نے تاریخ الخلفاء، صفحہ 199 پر اسی چیز کا ذکر عمیر ابن اسحق سے کیا ہے کہ:
    “عمیر ابن اسحق سے مروی ہے: مروان ہم پر امیر تھا اور وہ علی ابن ابی طالب پر ہر جمعہ کی نماز کے بعد منبر رسول ص سے سب کرتا تھا، جبکہ حسن اسے سن رہے ہوتے تھے مگر کوئی جواب نہ دیتے تھے۔”
    اور امام الذھبی تاریخ الاسلام، جلد دوم، صفحہ 288 پر یہی بات لکھ رہے ہیں:
    “مروان بن الحکم ہر جمعے کے خطبے کے بعد علی ابن ابنی طالب پر سب کیا کرتا تھا”
    اور مروان کی اس سنت کو اسکے خاندان والوں نے جاری رکھا:
    صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ
    6382 – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، – يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ – عَنْ أَبِي، حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ اسْتُعْمِلَ عَلَى الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ آلِ مَرْوَانَ – قَالَ – فَدَعَا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا – قَالَ – فَأَبَى سَهْلٌ فَقَالَ لَهُ أَمَّا إِذْ أَبَيْتَ فَقُلْ لَعَنَ اللَّهُ أَبَا التُّرَابِ ‏.‏ فَقَالَ سَهْلٌ مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي التُّرَابِ وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ إِذَا دُعِيَ بِهَا ‏.‏ فَقَالَ لَهُ أَخْبِرْنَا عَنْ قِصَّتِهِ لِمَ سُمِّيَ أَبَا تُرَابٍ قَالَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ فَقَالَ ‏”‏ أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ‏”‏ ‏.‏ فَقَالَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَىْءٌ فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ ‏”‏ انْظُرْ أَيْنَ هُوَ ‏”‏ ‏.‏ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ ‏.‏ فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَيَقُولُ ‏”‏ قُمْ أَبَا التُّرَابِ قُمْ أَبَا التُّرَابِ ‏”‏ ‏
    ترجمہ:
    سہل روایت کرتے ہیں کہ مدینہ میں مروان کے خاندان میں سے ایک شخص حاکم ہوا اور اس نے سہل کو بلایا اور حکم دیا [فَأَمَرَهُ أَنْ يَشْتِمَ عَلِيًّا] کہ وہ علی ابن ابی طالب کو گالی دے۔ سہل نے انکار کیا۔ اس پر آوہ حاکم بولا کہ اگر تو گالی دینے سے انکار کرتا ہے تو کہہ لعنت ہو اللہ کی ابو تراب پر۔ ۔۔۔۔۔
    امام ابن حجر مکی یہ صحیح روایت نقل کرتے ہیں:
    عربی عبارت کے لیے آنلائن لنک:
    ترجمہ:
    بزاز کی روایت میں ہے کہ اللہ نے حکم [والد مروان] اور اسکے بیٹے پر لعنت کی لسان نبوی کے ذریعے سے۔ اور ثقہ راویوں کی سند کے ساتھ مروی ہے کہ جب مروان کو مدینے کا گورنر بنایا گیا تو وہ منبر پر ہر جمعے میں علی ابن ابی طالب پر سب و شتم کرتا تھا۔ پھر اسکے بعد حضرت سعید بن عاص گورنر بنے تو وہ علی پر سب نہیں کرتے تھے۔ پھر مروان کو دوبارہ گورنر بنایا گیا تو اس نے پھر سب و شتم شروع کر دیا۔ امام حسن کو اس بات کا علم تھا مگر آپ خاموش رہتے تھے اور مسجد نبوی میں عین اقامت کے وقت داخل ہوتے تھے [تاکہ اپنے والد ماجد کی بدگوئی نہ سن سکیں] مگر مروان اس پر بھی راضی نہ ہوا یہاں تک کہ اس نے حضرت حسن کے گھر میں ایلچی کے ذریعے ان کو اور حضرت علی کو گالیاں دلوا بھیجیں۔ ان ہفوات میں سے ایک یہ بات بھی تھی کہ “تیری مثال میرے نزدیک خچر کی سی ہے کہ جب اس سے پوچھا جائے کہ تیر باپ کون ہے تو وہ کہے کہ میری ماں گھوڑی ہے۔” حضرت حسن نے یہ سن کر قاصد سے کہا کہ تو اسکے پاس جا اور اُس سے کہہ دے کہ خدا کی قسم میں تجھے گالی دے کر تیرا گناہ ہلکا نہیں کرنا چاہتا۔ میری اور تیری ملاقات اللہ کے ہاں ہو گی۔ اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔ اللہ نے میرے نانا جان [صل اللہ علیہ و آلہ وسلم] کو جو شرف بخشا ہے وہ اس سے بلند و برتر ہے کہ میری مثال خچر کی سی ہو۔” ایلچی نکلا تو امام حسین سے اسکی ملاقات ہو گئی اور انہیں بِ اس نے گالیوں کے متعلق بتایا۔ حضرت حسین نے اسے پہلے تو دھمکی دی کہ خبردار جو تم نے میری بات بھی مروان تک نہ پہنچائی اور پھر فرمایا کہ:”اے مروان تو ذرا اپنے باپ اور اسکی قوم کی حیثیت پر بھی غور کر۔ تیرا مجھ سے کیا شروکار تو اپنے کندھوں پر اپنے اس لڑکے کو اٹھاتا ہے جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعنت کی ہے۔۔۔۔۔۔ اور عمدہ سند کے ساتھ یہ بھی مروی ہے کہ مروان نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تو وہ ہے جس کے بارے میں قرآن میں یہ آیت اتری:”جس نے کہا اپنے والدین سے کہ تم پر اُف ہے۔”۔۔۔۔ عبدالرحمن کہنے لگے: “تو نے جھوٹ کہا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیرے والد پر لعنت کی تھی۔”
    نوٹ: مروان کی بدزبانی کا یہ پورا واقعہ علاوہ دیگر مورخین کے امام جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں بھی نقل کیا ہے اور متعدد دوسرے علماء نے اس کو بیان کا ہے۔

    ثبوت نمبر 13: مغیرہ بن شعبہ کا علی ابن ابنی طالب پر سب و شتم
    مغیرہ بن شعبہ، جو معاویہ ابن ابی سفیان کا ایک اور گورنر تھا، وہ بھی علی ابن ابی طالب کو معاویہ ابن ابی سفیان کے حکم سے گالیاں دیا کرتا تھا اور لعنت بھیجتا تھا۔
    تاریخ کامل، جلد 3، صفحہ 234:
    “معاویہ ابن ابی سفیان نے مغیرہ کو بطور گورنر نامزد کیا اور کہا: “میں نے تمہاری نامزدگی اپنی عقل کے مطابق کی ہے، تو اب تم مجھے ان شرائط پر بیعت دو کہ تم اس روایت کو جاری رکھو گے کہ تم علی کی بے عزتی کرنا اور لعن کرو گے مگر حضرت عثمان کی تعریف کرو گے۔ مغیرہ کچھ عرصے کوفہ کا گورنر رہا اور اس دوران وہ علی ابن ابی طالب کی بدگوئی کرتا تھا اور ان پر لعنت کرتا تھا۔
    اور ابن کثیر البدایہ و النہایہ جلد 8، صفحہ 50 پر لکھتے ہیں:
    قال‏:‏ قال سلمان لحجر‏:‏ يا ابن أم حجر لو تقطعت أعضاؤك ما بلغت الإيمان، وكان إذ كان المغيرة بن شعبة على الكوفة إذا ذكر علياً في خطبته يتنقصه بعد مدح عثمان وشيعته فيغضب حجر هذا ويظهر الإنكار عليه‏.‏
    ترجمہ:
    “جب مغیرہ بن شعبہ کوفہ کا والی تھا تو وہ خطبے میں عثمان اور انکے ساتھیوں کی مدح کے بعد علی ابن ابی طالب کی تنقیض کرتا تھا۔ اس پر حضرت حجر غضبناک ہو کر احتجاج کرتے تھے۔”
    مسند احمد بن حنبل، جلد 4، حدیث 18485، اول مسند الکوفین، حدیث زید بن ارقم:
    آنلائن لنک:
    حدثنا ‏ ‏محمد بن بشر ‏ ‏حدثنا ‏ ‏مسعر ‏ ‏عن ‏ ‏الحجاج ‏ ‏مولى ‏ ‏بني ثعلبة ‏ ‏عن ‏ ‏قطبة بن مالك ‏ ‏عم ‏ ‏زياد بن علاقة ‏ ‏قال ‏ ‏نال ‏ ‏المغيرة بن شعبة ‏ ‏من ‏ ‏علي ‏ ‏فقال ‏ ‏زيد بن أرقم ‏ ‏قد علمت أن رسول الله ‏ ‏صلى الله عليه وسلم ‏ ‏كان ‏ ‏ينهى عن سب الموتى فلم تسب ‏ ‏عليا ‏ ‏وقد مات ‏
    ترجمہ:
    زید بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں: مغیرہ بن الشعبہ نے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دی، تو اس پر زید بن ارقم کھڑے ہو گئے اور کہا: “تمہیں علم ہے کہ رسول ص نے مردہ لوگوں کو گالیاں دینے سے منع کیا ہے، تو پھر تم علی ابن ابی طالب پر کیوں سب کر رہے ہو جب کہ وہ وفات پا چکے ہیں؟
    یہ صحیح روایت ہے اور اسے حاکم، اور پھر الذھبی نے صحیح قرار دیا ہے۔
    اور شیخ الارنؤوط نے مسند احمد کے حاشیے میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
    اور حتی کہ شیخ البانی نے بھی اسے سلسلہ احادیث صحیحیہ میں اسے صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یہ امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح روایت ہے:
    2397 – ” نهى عن سب الأموات ” .
    قال الألباني في ” السلسلة الصحيحة ” 5 / 520 :
    أخرجه الحاكم ( 1 / 385 ) عن شعبة عن مسعر عن زياد بن علاقة عن عمه : ” أن المغيرة بن شعبة سب علي بن أبي طالب ، فقام إليه زيد بن أرقم فقال : يا مغيرة ! ألم تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن سب الأموات ؟ فلم تسب عليا و قد مات ؟ ! ” ، و قال : ” صحيح على شرط مسلم ”

    ثبوت نمبر 14: بسر بن ارطاۃ کا علی ابن ابی طالب پر سب و شتم
    امام ابن جریر طبری علی ابن محمد سے نقل کرتے ہیں:
    آنلائن لنک:
    بسر بن ارطاۃ نے بصرے کے ممبر پر کھڑے ہو کر علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کہا۔ پھر اُس نے کہا: میں خدا کے نام پر پوچھتا ہوں کہ جو جانتا ہے کہ میں سچا ہوں وہ اسکی گواہی دے اور اسی طرح اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں تو وہ بھی اسکی گواہی دے۔ اس پر ابو بکرہ نے کہا بخدا ہم سب جانتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔ اس پر بسر بن ارطاۃ نے حکم دیا کہ ابو بکرہ کو قتل کر دیا جائے۔
    اور یہی واقعہ امام ابن اثیر اپنی مشہور کتاب تاریخ ابن اثیر میں نقل کرتے ہیں:
    آنلائن لنک:
    وكان السبب في ذلك أن الحسن لما صالح معاوية أول سنة إحدى وأربعين وثب حمران بن أبان على البصرة فأخذها وغلب عليها، فبعث إليه معاوية بسر ابن أبي أرطأة وأمره بقتل بني زياد بن أبيه، وكان زياد على فارس قد أرسله إليها علي بن أبي طالب، فلما قدم بسر البصرة خطب على منبرها وشتم عليا ثم قال: نشدت الله رجلا يعلم أني صادق إلا صدقني أو كاذب إلا كذبني. فقال أبو بكرة: اللهم إنا لا نعلمك إلا كاذبا. قال: فأمر به فخنق.
    ترجمہ:
    جب امام حسن نے سن 41 میں معاویہ ابن ابی سفیان سے صلح کی تو حمران ابن ابان نے بصرہ پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا۔ اس پر معاویہ ابن ابی سفیان نے بسر بن ارطاۃ کو وہاں روانہ کیا اور حکم دیا کہ زید بن ابیہ اور اسکی اولاد کو قتل کر دے اور زیاد اس وقت فارس میں تھا کیونکہ علی ابن ابی طالب نے انکو وہاں روانہ کیا تھا۔ بسر بن ارطاۃ نے بصرے کے ممبر پر کھڑے ہو کر علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کہا۔ پھر اُس نے کہا: میں خدا کے نام پر پوچھتا ہوں کہ جو جانتا ہے کہ میں سچا ہوں وہ اسکی گواہی دے اور اسی طرح اگر کوئی سمجھتا ہے کہ میں جھوٹا ہوں تو وہ بھی اسکی گواہی دے۔ اس پر ابو بکرہ نے کہا بخدا ہم سب جانتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔ اس پر بسر بن ارطاۃ نے حکم دیا کہ ابو بکرہ کو قتل کر دیا جائے۔

    ثبوت نمبر 15: زیاد اور کثیر ابن شہاب کا علی ابن ابی طالب پر سب و شتم
    امام ابن جریر طبری اپنی تاریخ میں نقل کرتے ہیں:
    آنلائن لنک:
    “پھر معاویہ کا قاصد زیاد کے پاس یہ حکم لے کر پہنچا کہ ان میں سے چھ افراد کو چھوڑ دیا جائے اور آٹھ کو یہ بتاتے ہوئے قتل کر دیا جائے کہ: “ہمیں حکم ہے کہ تمہارے سامنے علی سے بیزاری اختیار کرنے اور اُن پر لعن کرنے کی شرط رکھی جائے۔ اگر تم اسے قبول کر لو تو ہم تمہیں رہا کر دیں گے۔ اور اگر تم انکار کرتے ہو تو پھر ہم تمہیں قتل کر دیں گے۔
    اور کثیر ابن شہاب بھی شہر الری میں منبر سے علی ابن ابی طالب کو گالیاں دیتا تھا
    علامہ ابن اثیر اپنی کتاب تاریخ کامل میں نقل کرتے ہیں:
    آنلائن لنک:
    ولما ولی المغیرۃ الکوفۃ استعمل کثیر بن شھاب علی الری، و کان بکثر سب علی علی منبر الری و بقی علیھا الی ان ولی زیاد الکوفہ فاقرہ علیہا۔۔۔۔۔
    ترجمہ:
    یعنی جب مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ کا گورنر بنایا گیا تو کثیر بن شہاب کو شہر الری کا ولی مقرر کیا گیا۔ اور یہ کثیر ابن شہاب علی ابن ابی طالب کو شہر الری کے مسجد کے مببر سے گالیاں دیتا تھا ۔۔۔ اور زیاد جب بصرہ آیا تو وہ منبر پر کھڑا ہوا اور اس نے خطبہ دیا جس میں علی ابن ابی طالب کو برا بھلا کہا۔

    http://wilayat.net/index.php/ur/%D9%85%D8%A8%D8%A7%D8%AD%D8%AB/119-urdu-others/1426-2012-05-29-19-26-51