Original Articles Urdu Articles

Army Party: To Coup Or Not To Coup – By Qais Anwar

سیلا ب  کے بعد…………. کيا پاکستان آرمی پارٹی اقتدار پر مکمل قبضہ کرے گی؟

قدرتي آفات سڑکوں , مکانوں , کارخانوں , فصلوں او دوسری نظر آنے والی چیزوں کے ساتھ بہت سی نادیدہ چیزوں کو بھی تباہ کر دیتی ہیں خاندان، معاشرتی اقدار ،قا بل حملہ افرا د اور معیشت قدرتی آفت  کا سب سے بڑا شکا ر ہوتے ہیں.برما جیسے ممالک کے استثنا ء کے ساتھ جہاں ایک حالیہ قدرتی آفت کے بعد حکومت نے بین الاقوامی اداروں کو  کڑی شرائط کے ساتھ ملک مین  داخل ہونے کی اجازت دی  قدرتی آفت کے فوري بعد عمومی طور پر حکومت ،خاندان ، معاشرتی اقدار  اور عقائد کے محافظ اس قدر کمزور ہو جاتے ہیں کہ وہ  ریلیف کی سرگرمیوں کی نہ صرف مخالفت نہیں کرتے بلکہ ان سے اپنا حصّہ بھی وصول کرتے ہیں.

اس دور جو کہ عمومی طور پر تین سے چھ ما ہ کا ہوتا ہےکے بعد بحالی کا دور شروع ہوتا ہے یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سے مختلف قوتوں کے درمیان ٹکراؤ کا آغاز ہوتا ہے.ریاستی ادارے اپنی طاقت کے تحفظ یا پھیلاؤ ، قدامت پرست پرانی اقدار کے تحفظ اور طاقت ور ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں اور ان حکومتوں کی امداد پر انحصار کرنے والے غیر سرکاری ادارے معیشت اور سماج کی کثیر القومی کمپنیوں کے مفادات کے مطابق تشکیل نو کی کوششوں کا آغاز کرتے ہیں .

اس سا رے عمل میں ایک کمزور سی آواز ایکشن ایڈ، آکسفیم ، ایم ایس ایف ہالینڈ جیسی تنظیموں کی بھی ہوتی ہے جو کہ یورپین یونین کے وسیع تر انسانی حقوق کے ایجنڈا یا  یورپی عوام کی خواہشات  کے علم بردار ہیں اور  تعمیر نو کے غریب دوست ہونے پر اصرار کرتے ہیں اورکبھی کبھی  مثبت مقامی روایت کو قائم رکھنے کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس سا رے عمل میں فیصلہ کن کردار بااثر ملکی طبقات  اور وہ ملک اور ادارے ادا کرتے ہیں جو زیادہ بڑی رقم ادا کرتے ہیں پچلے پانچ چھ سالوں میں آنے والی بڑی قدرتی آفا ت کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک تو  قدرتی آفت کے شکار ملک کو اکیلا نہیں چھوڑا جاتا دوسرے بڑی آفت کو اس علاقے میں سماجی اور معاشی ڈھانچے میں طویل اللمدت تبدیلی کے لیے ایک موقع سمجھ کر علاقے میں بڑی سرمایہ  کاری کی جاتی ہے.

جس انقلاب فرانس کا ذکر پاکستان کے رجعت پسند دانشور چند دن پہلے تک کرتے رہے ہیں اس سے بچنے کے لیے دنیا میں ایک بہت بڑی ہیو مینیٹیرین ایڈ انڈسٹری موجود ہے یہی وجھ ہے کہ سونامی اور ہیٹی کا زلزلہ کسی انقلاب فرانس پر منتج نہیں ہوا.بلکہ سونامی انڈونیشیا کے صوبہ آچے سے مسلح کشمکش ، مذہبی انتہاپسندی اور عورتوں اور بچوں کو محکوم رکھنے کی اقدار کو بہا کر لے گیا جن کے احیا کے لیے سونامی کے چھٹے سال میں مذہبی انتہا پسندوں کو ایک نئی محاز آرائی شروع کرنا پڑی ہے قدرتی آفات بین الاقوامی سرمایہ دارانہ نظا م کو کیا مواقع فراہم کرتی ہیں اس کا تفصیلی  تجزیہ ڈساسٹر کیپیٹل ا زم  کے نظریے میںموجود ہے .

سیلاب کے بعد پاکستان کی صورتحال نے اہم سیاسی پارٹیوں پاکستان آرمی پارٹی مشرف کیانی ، پاکستان آرمی پارٹی ضیاء الحق ، پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ نواز  اور پاکستان عدالت پارٹی کی استحکام ، مواقع اور خطرات کی صورتحال کو تبدیل کیا ہے جس نےان پارٹیوں کو  نئی صف بندیوں کی طرف مائل کیا ہے . اس وقت بڑی طاقتوں کے دفا تر خارجہ اور انٹرنیشنل ڈویلوپمنٹ انڈسٹری سیلاب کے بعد کی صورتحال کو اپنے حق مین کرنے کی منصوبہ بندی مین مصروف ہیں جب کہ  واشنگٹن کاؤ بواییز وہ ادارےجوکانگرس اور سینٹ میں اپنے تعلقات کی بنا پر  یو ایس ایڈ کے ٹھیکے حاصل کرتے ہیں اور ہیو مینیٹیرین ایڈ انڈسٹری اپنے لیے مفید مقامی پارٹنرز کی تلاش میں ہیں اس صورتحال میں  ملکی کھلاڑیوں نے اپنے لیے زیادہ بہتر کردار کے حصول یا  اپنے لیے خطرات کم کرنے کے لیے وکالت شروع کردی ہے . الطاف حسیں کا حالیہ بیا ن، چوہدری نثار کی قومی اسمبلی میں تقریر اور قومی اسمبلی کی جمہوریت کے حق میں قرارداد اسی مہم کا حصّہ ہیں.

یہ حقیقت ہےکہ  سیلاب نے پیپلز پارٹی اور فوج کے اس سمجھوتے کو متاثر کیا ہے جس پر یہ دونوں  فوج کے ایک سال سے زیادہ عرصے تک عدالت ، دائیں بازو کے سیاست دا نوں اور میڈیا کے ذریعے پیپلز پارٹی پر دباؤ کے بعد پہنچیں تھیں  اور جس کے بعد فوج نے خارجہ پالیسی اور دفاع کو براہ راست چلانا شروع کر دیا تھا .

پاکستان آرمی پارٹی جمہوریت اور  برداشت  کو کمزور کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں ہونے دیتی .بھارت اور پاکستان کی افواج کی جنگی حکمت عملی کی ایک خصوصیت یہ ہے کھ دونوں سیاسی حکومتوں کو اس وقت تک امن کی باتوں کی اجازت دیتے ہیںجب تک دوسرا ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو، جیسے ہی سرحد کے ایک طرف  صورتحال تبدیل ہو دوسری طرف سے انتہائی جارحانہ اقدامات شروع ہو جاتے ہیں .تا ہم بھا رتی فوجی ایسٹبلشمنٹ اپنے  بنیادی جنگی نظرئیے یعنی چین دشمنی کے ساتھ ساتھ ایک بڑی واضح چیز بھا رتی قومی سرمایہ داری کے مفادات کی حفاظت کرتی ہے اور دونوں کو ملا کر دیکھتی ہے .

پاکستان آرمی پارٹی کا المیہ یہ ہے کہ جو ترکیبیں یہ بھارت کے خلاف استعمال کرتی ہے انہی کا استعمال اپنے عوام کے خلاف بھی کرتی ہے پاکستان آرمی پارٹی کی ہر حکمت عملی اس کے بھارت دشمن جنگی نظریے کے گرد ہی گھومتی ہے اس عمل میں اس نے ملکی سیاسی اور معاشی اداروں کی بنیادوں کو تباہ کر دیا ہے. اتفاق سے کثیر القوامی کمنیوں کے مفادات بھی سیاسی اور معاشی جواب دہی  سے پاک ایک کمزور ریاست میں بہتر طور پر پورے ہوتے ہیں.اس مشترکہ ہدف نے پاکستان آرمی پارٹی اور کثیر القوامی کمنیوں میں ایک طویل المدت پارٹنرشپ کو جنم دیا ہے . ابتداء مین یہ پارٹنرشپ مارشل لاء کے دوران درآمد کردہ معاشی ماہرین کے ذریعے ورلڈ بینک کی پالیسیوں کے نفاذ اور پھیلاؤتک محدود تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ پارٹنرشپ پاکستان آرمی پارٹی کے زیلی معاشی اداروں جیسے فوجی فاونڈیشن اور کثیرالاقوامی کمنیوں کے درمیان مشترکہ سرمایہ کاری تک چلی  گئی ہے. پاکستان کی سیاسی قوتوں کے خلا ف میڈیا کا رویہ  پاکستان آرمی پارٹی اور کثیرلا قوامی کمنیوں کے درمیا ن اسی تعاون کی عکاسی کرتا ہے .

قیام پاکستان سے انیس سو ستر تک میڈیا کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ  حکومتی اشتہار اور اخبار خریدنے والے شہری دکاندار تھے . انیس سو ستتر میں خفیہ ایجنسیوں نے اس آمدنی مین اپنا حصہ ڈالنا شروع کیا اب الیکٹرانک میڈیا اپنی آمدنی کا بڑا حصّہ کثیرالقوامی کمنیوں سے حاصل کرتا ہے . کثیرالاقوامی کمپنیاں  تیسری دنیا کے پاقی ملکوں کی طرح پا کستان مین بھی ریاست کو اس حد تک کمزور کر دینا چاہتی ہیں جہاں ان کی غیر انسانی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے والی کوئی موثر قوت موجود نہ ہو . جب تک یہ عمل فوج کے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے وہ اس کو کی حوصلہ افزائی کرتی رہے گی

پاکستان آرمی پارٹی کا جنگی نظریہ اسے اپنے ہی ملک کے عوام کے ساتھ حالت جنگ میں رکھتا ہے جس میں وہ ترقی پسندانہ تو کیا جمہوری اقدار کے فروغ کی بھی مزاحمت کرتی ہے. پاکستان میں سیلاب نے وہ عوامل مہیا کیے ہیں جو کھ پاکستان آرمی پارٹی کے لیے فوری طور پر اقتدار میں آنے کے لیے کشش پیدا کرتے ہیں ملک کا سیاسی انتظامی ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور تعمیر نو کے عمل میں فرنٹیر کور اور نیشنل لاجسٹک سیل وغیرہ کے لیے ٹھیکوں کی وسیع گنجائش موجود ہے.یہ  ا مر انتھائی دلچسپ ہے کھ بھارت میں پچھلے پندرہ سالوں میں ہیو مینیٹیرین ایڈ انڈسٹری نیشنلائز ہو چکی ہے . کسی بھی قدرتی آفت کے بعد امداد کی اپیل کے لیے بھا رتی حکومت کی پیشگی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے، تمام بڑے بین القوامی غیر سرکاری ادارے مقامی بورڈ کے ساتھ بھارت میں مقامی این جی او کے طور پر رجسٹریشن کرا  چکے ہیں اسی طرح بھا رتی این جی اوز قدرتی آفا ت کے بعد دوسرے ملکوں مین ریلیف کا کام بھی کرتی ہیں تاہم پاکستان کا انڈونیشیا سے تقابلی جائزہ قارئین کے لیے زیادہ دلچسپی کا حامل ہو گا

آچے انڈونیشیا کے دو خصوصی حیثیت کے صوبوں میں سے ایک ہے . دو ہزار چار کے سونا می سے پہلے آچے اور پاپوا  میں غیر ملکیوں کے داخلے اور کسی بھی غیرملکی کاروباری یا دیگر سرگرمی کے لیے مرکزی حکومت کی خصوصی اجازت درکار ہوتی تھی . حکومت عام طور پر ان دونوں صوبوں میں غیر سرکاری تنظیموں کے کام کو شک کی نظر سے دیکھتی تھی آچے میں خود مختاری کی ایک تحریک موجود تھی .انڈونیشیا کی فوج جس کے پاکستانی فوج ہی کی طرح کے وسیع معاشی مفادات ہیں اور تیل اور گیس سے متعلق ایک کثیر الا قوا می کمپنی اس تحریک کو مختلف طریقوں سے کچلنے اور سبوتاژکرنے میں ملوث تھیں.جب کہ تحریک میں مذہب کے سیاسی استعمال کا رحجان واضح  تھا  فوج اور پولیس کے دباؤ کے تحت دو ہزار دو میں مرکزی حکومت نے صوبے کو تیل اور گیس کی آمدنی میں سے طے شدہ ستر فیصد دینے کی بجائے شرعی قوانین کا تحفہ دیا جو کہ فری آچے موومنٹ  کے مطابق ان کی ترجیح نہیں تھی

دسبمر دو ہزار چار میں جب سونا می آیا تو حکومت اورفری آچے موومنٹ میں مذاکرت جاری تھے. سونامی کے فوری بعد فری آچے موومنٹ نے یکطرفہ طور مسلح جدوجہد ختم کرنے کا اعلان کر دیا اس موقع پر اس طویل کشمکش کی ذمہ دار اور اس سے استفادہ کرنے والی انڈونیشین فوج نے بھی اپنی کاروائیاں ختم کردیں .ابتدائی امدادی کاروائیوں کے بعد فوجی کہیں بھی بیرکوں سے باہر نہیں آئے . اسی طرح خفیہ ایجنسیوں نے واضح انداز میں کہیں بھی امدادی کارکنوں کی نگرانی نہیں کی .حکومت نے امدادی کامون کے لیے ایک ادارہ  بی آر آر تشکیل دیا جو کہ رابطہ کاری سے لے کر ویزا تک کے معاملات سرعت کے ساتھ سر انجام دیتا تھا آچے میں فوج کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کے باوجود اس ادارے کے تقریبا تمام افراد غیر فوجی تھے .

اگست دو ہزار پانچ میں فریقین کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس پر عمل آج تک جاری ہے . سونامی کے تقریبا چھ ما ہ کے بعد بانڈہ آچے کے میئرنے شرعی سزاؤں کا آغاز کیا لیکن اس کو بین القوامی اور مقامی سطح پر سخت ناپسند کیا گیا . آچے میں تمام حصہ داروں نے تقریبا ساڑھے چار سال تک کوئی نئی کشمکش شروع نہیں کی .حزب التحریر کو آچے میں خفیہ انداز میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے میں تقریبا چار سال لگے

اس دوران بین القوامی اداروں نے صوبائی دارلخلافہ بانڈہ آچے مشرقی ساحلی شہروں، مغربی ساحلی شہروں اور جزیرہ نیاس میں لاکھوں کی تعداد میں گھر تعمیر کیے، لا کھوں ایکڑ زمین آباد کی گئی  ہزاروں کی تعداد میں عورتوں اور مردوں کو ملازمت اور تربیت کے مواقع میسر آئے مغربی ساحل کی معیشت کو قدیم سے جدید زرعی معیشت میں بدل دیا گیا. مغربی ساحل پر مینگروز کی وسیع پیمانے پر کاشت کر کے ایک حفاظتی دیوا ر کھڑی کی گئی  ان سالوں میں آچے اور نیاس میں کآ روں ،موٹر سائیکلوں ،الیکٹرانکس ، موبائل فونز  کھا د ، زرعی مشینری وغیرہ  کی طلب میں ریکارڈ اضافہ ہوا عورتوں کے لیے ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہونے سے کمیونٹی میں ان کی حیثیت تیزی سے تبدیل ہوئی. لوگوں کی ترقی کے عمل مین شرا کت سے مقامی حکومتوں کے نظام کو مزید تقویت ملی

دو ہزار نو کے آخر میں  حزب التحریر اور چند دوسرے اسلامی گروہوں کی معاونت سے اس ساری ترقی کو معکوس کرنے کی کوشش میں ایک نئے شرعی قانون کا مسودہ منظور کرکے گورنر کو بھیجا گیا جسے گورنر نے جو کہ فری آچے موومنٹ کے سیاسی ونگ سے تعلق رکھتے ہیں  مسترد کر دیا . اس کے بعد مشرقی ساحلی شہروں میں عورتوں کو نشانہ بنانے والی شرعی سزاؤں کا آغاز کیا گیالیکن اب اس تحریک کو آچے کے نئے متوسط طبقے اور پچھلے پانچ سال میں شعور کی آنکھ کھولنے والے نوجوانوں کی سخت مزاحمت کا سا منا ہے جو اب جا وا کے انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ اتحاد بنا رہے ہیں .وہ نوجوان جنہوں نے بین الاقوامی اداروں کی ملازمت کے دوران کئی طرح کی نئی مہارتیں حاصل کیں اب سرکاری ملازمتوں ، کاروبار اور دوسرے شعبوں میں جا چکے ہیں  تیل سے تعلق رکھنے والی کمپنی اپنے مرکز لوک سما وے میں محفوظ ہے . اشیائے صرف تیار کرنے والی ملکی اور کثیر القوامی کمپنیوں کو ایک خاصی بڑی مارکیٹ مل چکی ہے. علیحدگی کی تحریک اب ایک بھولی بسری یاد بن چکی ہے نئی صف بندی ترقی اور رجعت کے درمیا ن ہے.

سونامی نے ایک نئے آچے کو جنم دیا ہے لیکن یہ تعمیر کبھی ممکن نہ ہوتی اگر انڈونیشین فوج ، جکارتہ کی مرکزی حکومت ، فری آچے موومنٹ اور آچے کے مقامی علما چار سال تک اپنی کشمکش کو پس پشت ڈال کر غیر ملکی امداد کی راہ ہموار نہ کرتے . آچے کے تجربے نے انڈونیشیا کی سیاسی اور  شہری قیادت کو مستقبل کی آفا ت سے نپٹنے کے لیے بڑی حد تک تیار کر دیا . یہی وجہ ہے کھ ستمبر دو ھزار نو کے پاڈانگ کے زلزلے کے بعد تقریبا ہر محکمے کو اندازہ تھا کھ انھیں کیا کرنا ہے

پاکستان کی فوج زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح آفات کے انتظام کو بھی اپنے قومی تحفظ کے نظریے اور اپنے معاشی مفادات کی روشنی میں دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کھ ماضی میں قحط سالی اور سیلاب کے دوران امدادی اداروں کو بلوچستان میں انتہائی محدود پیمانے پر کاروائی کی اجا زت دی گئی . اسی طرح پاکستانی مذہبی طبقات غیرسرکاری تنظیموں کی کاروائیوں کو خلاف شرع قرار دیتے ہیں اور غیرسرکاری اداروں کی خواتین کارکنان کو اغوا کرکے ان سے زبردستی شادی کرنے کو خدمت اسلا م قرار دینے کے فتوے تک دے ڈالتے ہیں پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کھ یہ دو طاقت ور ادارے انتہائی برے حالات میں بھی ” نظریاتی سرحدوں کی حفاظت ” کے نام پر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں . جب آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ میں پاکستان میں زلزلہ آیا تو زلزلے کے دوسرے دن شام تک حکومت زلزلے سے ہونے والی تباہی کو اپوزیشن کا پراپیگنڈہ قرار دے رہی تھی .پاکستانی فوج کو زلزلہ زدہ علاقوں میں پہنچنے میں اڑھائی دن لگے. ان دنوں بین القوامی کمیونٹی میں یہ بات عام تھی کہ فوج کو عوام کو بچا نے سے زیادہ کنٹرول لائن پر اگلے بنکروں میں دفن ہو جانے والے فوجیوں کی زیادہ فکر ہے .بعد میں یہ بات بھی زبان زد عام ہوئی کہ سروے آف پاکستان اور پاکستانی فوج کے پاس زلزلہ زدہ علاقوں  کے نقشے ہی موجود نہیں تھے  ریلیف کے ابتدائی دنوں میں پاکستان کے میڈیا نے خود کو اور کشمیر میں موجود “پر اسرار مجاہدوں ” کو نمایاں کرنا شروع کر دیا جو دور دراز علاقوں میں امدادی تنظیموں کی رہنمائی کر رہے تھے .اسی پس منظر میں لشکر طیبہ اور الرشید ٹرسٹ کو انتہائی نمایاں مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کرنے کی اجازت دی گئی . فوج نے اپنے ریلیف کیمپ قائم کیے جن میں “فوجی نمونے ” پر ٹینٹوں اور کھانے کا انتظام کیا جاتا تھا .جہادی اور فوجی دونوں طرح کے احکام “کلسٹر رپورٹنگ ” اور بین الاقوامی معیاروں کی پابندی سے مستثنیٰ تھے.مرکزی حکومت کی مقرر کردہ ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا سربراہ ایک جنرل کو مقرر کیا گیا .خفیہ اداروں کی تجا ویز پر بین الاقوامی اداروں کو لمبے عرصے کے نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے کی پالیسی جاری رکھی گئی خفیہ ادارے بین الاقوامی ما ہرین اور ناپنسدیدہ تنظیموں کی نگرانی پر مامور رہے اور چند افراد کو باقاعدہ ناپسندیدہ افرد قرا ر دیا گیا.حتی کھ اپنے ہی ملک کے صوبہ سندھ سے جن تجربہ کار کارکنوں نے کشمیر میں ملازمت حاصل کی ان کی سکیورٹی کلیرنس خفیہ اداروں نے ان کے آبائی علاقوں سے لی .

دو ہزار چھ کی ابتداء میں ہی شانگلہ جیسی جگہوں پر بین الاقوامی این جی اوز کی تنصیبات کوآگ لگا نے کا آغاز کر دیا گیا . دو ہزار سات میں مانسہرہ میں مقامی ملا وں نے بین الاقوامی غیر سرکاری اداروں کو ” غازی کوٹ ٹاؤن شپ ” میں اپنے دفا تر بند کرنے کا حکم دے دیا دو ہزار آٹھ میں پلان انٹر نیشنل اور دو ہزار دس میں ورلڈ وژن کے دفتر پر دہشت گرد حملہ  کیا گیا ان تمام رکا وٹوں کے باوجود ‘تعمیر نو” نے زلزلہ زدہ علاقوں میں دور رس نتائج مرتب کیے. اک بڑی تعداد میں مقامی افراد خصوصاّ خواتین کو تربیت اور ملازمت کے مواقع میسر ہوے . الائی جیسے علاقے کی عورتوں اور بچوں نے پہاڑوں سے نیچے آکر پہلی بار دیکھا کھ دنیا میں ایسے علاقے بھی ہوتے ہیں جہا ن  “خوانین” کی غلامی  کے بغیر بھی رہا جا سکتا ہے امریکی اداروں نے الا ی اور کوہستان جیسے پسماندہ علاقوں میں کمیونٹی ڈویلوپمنٹ میں انتہائی بھا ری سرمایہ کاری کی . دور دراز کے علاقوں میں پینے کے پانی جیسی سہولتیں پہنچیں.

تا ہم یہ ایک حقیقت ہے کھ فوجی انتظام جس نے  اس آفت سے خصوصا بڑے انفراسٹرکچرکی تعمیر سے  بہت زیادہ ما لی فائدہ اٹھایامستقبل کی آفا ت کا مقابلہ کرنے کے لیے   ڈسٹرکٹ ڈساسٹر مینجمنٹ پلان کی وکالت اور اس پر عمل درآمد مین ناکام ہو گیا اگرچہ سیاست دانوں کی طرف مقامی حکومتوں کے نظام کے خاتمے نے بھی اس مسئلے مین ایک کردار ادا کیا لیکن اگر ضلعی سطح پر ایک مظبوط نظام ہوتا تو اس پر صرف نا ظموں کے نہ ہونے سے بہت فرق نہ پڑتا. آرمی اور مذہبی انتہاپسندوں کے زیر سایہ ہونے والی تعمیر نو آچے اور نیاس میں ہونے والی ترقی کا عشر عشیر بھی نہیں ہے

زلزلے کے وقت پاکستان میں پاکستان آرمی ایک واحد کھلاڑی تھا اس لیے تمام بیرونی کھلاڑیوں کو پاکستان آرمی کی شرائط پر ہی اپنا پروگرام ترتیب دینا تھا حالیہ سیلاب مین ایک  فرق تو  یہ ہے کھ اس میں تباہی زیادہ بڑے علاقے مین ہوئی ہے. دوسرے پہلے سے زیادہ قیادت کے دعوے دار موجود ہیں ایک تیسرا اہم فرق یہ ہے کھ بڑے سرمایہ دار ملکوں کی حکومتیں اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ انڈسٹری تعمیر نو میں “صارف” کے روئیے میں تبدیلی کو ایک بڑی ذہنی تبدیلی کے ساتھ جوڑنا چاہیں گی جو اشیائے صرف، کھاد ، قرضوں ، الیکٹرانکس وغیرہ  کی زیادہ طلب تک محدود نہ ہو یہ تبدیلی تب ہی آسکتی ہے جب یہ ” طالبان فریم ورک ” سے باہر ہو .اس مقصد کے حصول کے لیے یہ حکومتیں اور ادارے عوام تک برہ راست رسائی چاہیں گی جس کا ایک موثر طریقہ مقامی انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مقامی لوگوں کی شمولیت ہے تاہم “طالبان فریم ورک” سے باہر نکلنے سے ” پاکستان آرمی پارٹی ” کے “قومی تحفظ کے نظریے ” پر شدید زد پڑتی ہے جس کی وجہ  سے آرمی پارٹی ایسے انتظام کی مزاحمت کرے گی .

دوسری طرف سیاسی حکومت کے ذریعے تعمیر نو کا مطلب اس عمل میں ایم پی اے ایم این ایز کی مدا خلت ہے جو کھ بین الاقوامی اداروں کے لیے قا بل قبول نہیں ہے . بدقسمتی سے سیاست دان مقامی حکومتوں کا خاتمہ کرکے اس صورتحال میں اپنے ایک قدرتی اتحادی سے محروم ہو چکے ہیں.مزے کی بات ہے کھ پاکستان آرمی پارٹی ضیالحق گروپ کے لیے  بین الاقوامی ادارے پاکستان آرمی پارٹی مشرف کیانی  اور سیاست دان دونوں قا بل قبول نہیں ہیں جس کی وجہ سے وہ موجودہ سیٹ آپ کے تسلسل یا مارشل لاء کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے ” انارکی ” کی لائن دے رہے ہیں

ابھی تک پاکستان آرمی پارٹی نے میڈیا کے ذریعے سیاسی قیادت کے خلاف جو محاذ کھڑا کیا ہے اس کا مقصد بین الاقوامی امداد کو اپنی شرائط کے تابع کرنا ہے .تا ہم کثیر الاقوامی کمپنیوں اور ان کی نمائندہ ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتوں کے لیے ان شرائط کو ماننے کا مطلب آخری موقع ضائع کرنا ہے .

پاکستان آرمی پارٹی آخری حربے کے طور پر سارا کھیل خراب کرنے یا اپنی مرضی کا اور نام نہاد ایماندار سیٹ آپ بنانے کا ہتھیار استعمال کرسکتی ہے جس کے لیے پاکستان آرمی پارٹی ضیاء الحق اور پاکستان عدالت پارٹی ہر وقت مدد کے لیے موجود ہے . الطاف حسین کا بیان اسی سلسلے کا آغاز تھا. تاہم پاکستان مسلم لیگ نواز اور نیشنل عوامی پارٹی کی بروقت مداخلت آرمی کی سودا کاری کی قوت کو کمزور کر گئی ہے اپنی ماضی کی روایات کے کے مطابق پاکستان آرمی پارٹی آخری وقت تک زیادہ سے زیادہ رعایتیں حاصل کرنے گی تاہم اگر موجودہ فضاء ایک لمبے عرصے تک قائم رہی تو مزید امدادی رقم کے پاکستان آنے میں شدید مشکلات پیش آئیں گی .

اس وقت یوں محسوس ہو رہا ہے کھ بین الاقوامی را بطہ کا روں سے ملاقاتوں کے بعد  آرمی کم حصّے پر تیار ہو گئی ہے اور  بڑے کھلاڑی وسائل کی بندر بانٹ کے کسی فارمولے تک پہنچ رہے ہیں مستقبل کا خاکہ کچھ اس طرح کا ہو سکتا ہے

موجودہ سیاسی انتظام جاری رہے گا

میڈیا اپنی توپوں کو کچھ عرصے کے لیے خاموش کر دے گا

پاکستان آرمی پارٹی خود کو بڑی سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے ٹھیکوں اور اس منافع تک محدود رکھے گی جو اسے سیمنٹ اور اس طرح کی دوسری اشیاء کی مانگ بڑھنے سے ہو گا۔

تعمیر نو کے انتظام میں آرمی کو ایک واضح کردار دیا جائے گا

بین الا قوامی غیرسرکا ری اداروں کو ” نام نہاد ” حساس علاقوں تک ایک محدود مدت تک رسائی دے د ی جائے گی آرمی کو ایک واضح کردار دیا جائے گا

سیاسی حکومتیں بین الاقوامی اداروں کو سیاست دانوں کے اثر سے باہر ره کر مقامی سطح پر لوگوں کی شراکت سے تعمیر نو کا موقع فراہم کریں گی

بلدیاتی الیکشن کرائے جائیںگے  اور

ڈساسٹر رسک ریڈکشن کے مقامی نظام پر کام کو آگے بڑھایا جائے گا

اس سا رے عمل پر  پاکستان عدالت پارٹی اور پاکستان آرمی پارٹی ضیالحق بشمول طالبان اثر ڈال سکتے ہیں لیکن یہ اثر اسی وقت  صورتحال کو تبدیل کرے گا جب پاکستان آرمی پارٹی مشرف کیانی  نئے بندوبست سے غیر مطمئن  ہو جائے گی . آچے انڈونیشیا میں “ترقی معکوس” کی جدوجہد ساڑھے  چار سال کے بعد شروع ہوئی لیکن پاکستان آرمی پارٹی اور  اس کے اتحادیوں کو اتنے لمبے انتظار کی عادت نہیں ہے یہ بات طے ہے کھ موجودہ صورتحال میں مارشل لاء یا حمید گل کے ” انقلاب ” کے لیے گنجائش نہیں ہے لیکن دو سال کے بعد کیا ہو گا اس کا انحصار اس بات پر ہو گا  کھ باقی کھلاڑی ” ملک کی نظریاتی سرحدوں اور اپنی معاشی سلطنت ” کی حفاظت کرنے والی پاکستان آرمی پارٹی کو کس حد تک کنٹرول کر سکیں گے

About the author

Qais Anwar

2 Comments

Click here to post a comment
  • I believe all those people who are calling for a possible takeover by army are doing it without any solid ground. Democracy is not only good but it is a basic right of the people of Pakistan. Their right to choose with freedom should rest with them.

  • The liberals and right-wingers have been arguing for decades and while there is no such thing as the ultimate truth, the liberals do present more rational arguments. Pakistan is entangled in a battle for its survival and we need to end the denial phase the world does not conspire against us! We need to identify the problems behind this religious insurgency and then work on it