Newspaper Articles Urdu Articles

ایک سنی دیوبندی گھرانے میں پیدا ہونے والا وسعت اللہ خان خود کو اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لئے کہاں تک جائے

میں سچا مسلمان کیسے بنوں؟
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ایک سنی دیوبندی گھرانے میں پیدا ہونے والا وسعت اللہ خان خود کو ایک اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لئے کہاں تک جائے، کیا کرے ؟؟؟

شاید شیعوں کو مارنے سے میرا کام نہیں چلے گا۔ شائد اور بہت کچھ کرنا پڑے گا۔

تو کیا بو علی سینا کی قبر پر جا کے تھوک دوں؟

بابائے الجبرا الخوارزمی کے فارمولے جلا دوں؟

بابائے کیمیا جابر بن حیان کی ہڈیاں زمین سے نکال لوں؟

بابائے فلکیات البیرونی کے مزار کو آگ لگادوں؟

مورخ المسعودی کی تاریخِ اسلام حرام سمجھ لوں؟

حضرت معروف ِ کرخی کے تصوف، ملا صدرا کے نظریہِ وجودیت اور سیّد علی ہمدانی کی تبلیغ کو شرک کے خانےمیں رکھ دوں؟

عمرِ خیام کی رباعیات چھلنی کر دوں؟

شاہ نامہ والے فردوسی کا تہران یونیورسٹی میں لگا مجسمہ گرا دوں؟

ڈاکٹر علی شریعتی کو مرتد مان لوں؟

“ایوب خان نے ایک سنی اکثریتی نظریاتی ملک کی حسّاس فوجی قیادت اور پینسٹھ کی جنگ لڑنے کی ذمہ داری بھی ایک ہزارہ شیعہ جنرل موسی کے حوالے کردی۔”

جو بھی قلی قطب شاہ، میر، غالب، انیس، دبیر، اکبر الہ آبادی، جوش، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور جون ایلیا کے شعر پڑھے، پڑھائے یا حوالہ دے، کیا اس کا منہ نوچ لوں؟

اردو کا سب سے بڑا ناول آگ کا دریا، دریا برد کردوں؟ خاک اچھا ہوگا ایسا ناول جسے قرت العین جیسی شیعہ نے لکھا ہو۔

اور صادقین نامی شیعہ کی قرانی کیلی گرافی کسی تہہ خانے میں چھپا دوں؟

کیا جہانگیر کی ایرانی محبوبہ نور جہاں کو بھی ذہن سے مٹا دوں؟

تاج محل کو ڈائنامائیٹ لگا دوں جس میں سنی شاہ جہاں کی شیعہ اہلیہ ممتاز محل سو رہی ہے؟

نادر شاہ کا تذکرہ صفحات سے کیسے کھرچوں؟

بتائیے حیدر علی شیعہ اور شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے والے فتح علی ٹیپو سلطان کے ساتھ کیا کروں؟

جنگِ آزادی کی ہیروئن بیگم حضرت محل کا تذکرہ کہاں لے جاؤں؟

جس شخص کو بانیِ پاکستان کہا جاتا ہے اس پر سے شیعت کا دھبہ کیسے مٹاؤں؟ اسے تو غالباً سنی علامہ اقبال نے ضد کرکے انگلستان سے بلوایا تھا نا۔

اور یہ راجہ صاحب محمود آباد اپنی شیعت بھول بھال کر پاکستان کی نوزائیدہ مملکت پر دامے درمے کیوں قربان ہوگئے۔ شاید وہ پاکستان کو شیعہ ریاست بنانا چاہتے تھے ۔تبھی تو !!!!

اور ایوب خان کو کسی راسخ العقیدہ نے بروقت کیوں مشورہ نہیں دیا کہ ایک سنی اکثریتی نظریاتی ملک کی حسّاس فوجی قیادت ایک ہزارہ شیعہ جنرل موسی کے حوالے نا کرے۔ اور دیکھو ایوب خان نے مزید کیا غضب کیا کہ پینسٹھ کی جنگ لڑنے کی ذمہ داری بھی جنرل موسی کو تھما دی۔

اور سادہ لوح سنیوں نے یہ کیا کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو کندھے پر اٹھا لیا۔ کیا انہیں کسی نے نہیں بتایا کہ وہ شیعہ ہے اور سینہ زوری دیکھو کہ خبردار کرنے کے باوجود بھی اس کی بیٹی کو دو دفعہ وزیرِ اعظم بنا لیا ؟؟؟

“آخر کس نے کیپٹن حسن، صوبیدار میجر بابر اور ان کے ساتھیوں کو کہا تھا کہ خود ہی بندوق اٹھا لیں، خود ہی کشمیر کی ڈوگرہ حکومت کی غلامی کندھوں سے اتار پھینکیں اور آزادی کمانے کے لگ بھگ بیس روز بعد ہی پاکستان سے آئے ہوئے پہلے پولٹیکل ایجنٹ کو سیلوٹ مار کےگلگت بلتستان کی چابیاں اس کے حوالے کردیں۔”

شاید گلگت اور بلتستان کے شیعوں کو بالکل ٹھیک سزا مل رہی ہے۔ آخر کس نے کیپٹن حسن، صوبیدار میجر بابر اور ان کے ساتھیوں کو کہا تھا کہ خود ہی بندوق اٹھا لیں، خود ہی کشمیر کی ڈوگرہ حکومت کی غلامی کندھوں سے اتار پھینکیں اور آزادی کمانے کے لگ بھگ بیس روز بعد ہی پاکستان سے آئے ہوئے پہلے پولٹیکل ایجنٹ کو سیلوٹ مار کےگلگت بلتستان کی چابیاں اس کے حوالے کردیں۔ آج بھی ان کی نسلیں اس پر اتراتی ہیں کہ باقی پاکستان تو میز پر بنا۔ ہم نے اپنا حصہ بندوق سے آزاد کروایا۔ مگر ان نسلوں کو اتنی عقل نہیں ہے کہ قومی شناختی کارڈ پر اپنا نام ہی تبدیل کروالیں۔

اور یہ نگر اور ہنزہ کی اسماعیلی شیعہ ریاستیں کس برتے پر پاکستان میں مدغم ہو گئیں؟

جانے کیا سوچ کر حوالدار لالک جان انیس سو ننانوے میں کارگل کی چوٹیوں پر جان دے کر نشانِ حیدر والوں کی صف میں شامل ہوگیا۔ تو کیا میں یہ مطالبہ کردوں کہ اس شیعہ سے نشانِ حیدر واپس لیا جائے اور اسے شہید نا کہا جائے اور یہ نشانِ حیدر کس نے نام رکھا؟ کیا پاکستان کے اعلی ترین فوجی اعزاز کا نام نشانِ صحابہ، نشانِ جھنگوی، نشانِ جیش، نشانِ طالب یا نشانِ قاعدہ رکھتے ہوئے ہتک محسوس ہوتی ہے ؟؟؟

مجھے پانچ سال کی عمر میں انگلی پکڑ کے اے بی سی ڈی سے متعارف کرانے والے استاد کے سنگِ مزار پر سے حمید حسن نقوی کا نام کھرچوا کے دلاور خان یا خورشید صدیقی یا اسلم فاروقی یا بابر بلوچ یا پھر بھگوان داس لکھوانے سے کیا کام چل جائے گا ؟؟؟؟

بتائیے نا! آخر کیا کروں خود کو ایک اچھا سچا مسلمان ثابت کرنے کے لئے ؟؟؟؟

[youtube id=”JJiezBxXIVI” width=”600″ height=”340″ position=”left”]

About the author

Abdul Nishapuri

10 Comments

Click here to post a comment
  • me khud eik debandi hon ure eik eise ilke se hone jaha ade se zida shea bhai rahte hai 1982 se pehley na tu hame kabi kise soni alim ne sheo ke khilaf uksaya na hum kabi lade balki hum tu shadi bi eik dosre ke sat karte rahe hai ye tu jab inkilab e iran aye aur saudi ure dosre arab shekho ko un ke dectetor ship ko khtra lahak hoa tab ye zia mardood ke zamne me saudi fund se sepah e suhaba jese tanzeemi chal phadi jes ne hamre mulk ko tabhe ke kenare pahon cha deya mere isteda ye hai ka jab bi eis topic per bat karo plz eis bat ka khyal rako ke koi bi ferqa majmue tor pa eis me mulawes nahi hai eis me sare taraf se serf islam doshman log he mulawes hai ure ham ne serf un he ko target kar na hai

  • wah g wah . . itne saraon ko ap ne shia bna dia . . itni zabardasti wo b un logo k sath jo is dunya me mojud nahi . . . .

    well Fateh Bait ul Maqdas Hazrat Omar R.A se start krun ga main .

    Zun-Nuarain Hazrat Usman e Ghani R.A k baray me kya kheyal hai 12 saal ki khilafat ?

    long jump

    Musa Bin Naseer

    Tariq bin Zeyyad

    Muhammad Bin Qasim

    Uqba Bin Nafay

    Omar Bin Abdul aziz

    Qutaiba Bin Muslim

    Sultan Salahud din Ayubi (FAteh Bait ul Maqdas)

    Ahmed Bin Hnmbal

    Ibn e Tayymiyah

    jumped

    Alamgeer

    Tipu Sultan (read sunni books even brelvis)

    Sultan mehmood ghaznavi

    shah ismaeel shaheed

    syed ahmed shaheed

    Allama Iqbal

    Quaid e Azam (first ismaili then twelver then muslim)

    deobandis se nafrat krna chor den plz balme , bash, abuse krna chor den . . . hum sb ka bhala isi main hai . . .

  • دو شہروں کا قصہ
    حسن مجتبیٰ
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
    آخری وقت اشاعت: بدھ 29 اگست 2012 ,‭ 18:53 GMT 23:53 PST
    Facebook
    Twitter
    دوست کو بھیجیں
    پرنٹ کریں

    رواں ماہ بابو سر میں نامعلوم حملہ آوروں نے گلگت جانے والے کم سے کم اُنیس مسافروں کوگولیاں مار کر ہلاک کر دیا
    یہ سب کچھ شاید تب سے شروع ہوا جب جھنگ شہر میں داخل ہونے والا دروازہ ’ کھیوہ گیٹ‘ سے ’بابِ عمر‘ بنا اور جھنگ صدر سے باہر نکلنے والا دروازہ ’بابِ علی‘۔
    وہ بازار جہاں نویں محرم کے جلوس کو جلوس سے باہر والے لوگ پانی اور شربت کی سبیلیں پلایا کرتے تھے اور ماتمیوں کی زنجیروں سے زخمی پشت پر پر عرق گلاب چھڑکا کرتے تھے اب اسی بازار سے گزرنے والے ماتمی جلوس کے شرکاء کے پیروں تلے کیلیں بچھائي گئي تھیں۔
    اسی بارے میں
    شیعہ قتل ویڈیو: سوشل میڈیا پر بحث
    آپ ایک درزی ہیں۔۔۔
    افغانستان کے شیعہ نشانے پر کیوں؟
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان
    یہ جنرل یحییٰ خان کی ملک پر نافذ کردہ مارشل لاء کا پہلا دن تھا۔
    ورنہ یہی جھنگ کا بازار تھا جہاں بیٹھ کر پنجابی لوک شاعر اور گانے والے یہاں کی لازوال رومانوی داستان مرزا صاحباں کہتےتھے اور اسی بازار کا کھیوہ گیٹ صاحباں کے ابا سردار کھیوہ خان کے ہی نام پر تھا۔ جب بیری والی مسجد بیری والی مسجد تھی۔ جب نقارے پر پڑتے سوزے تال سے پتہ پڑ جاتا تھا کہ شہر میں منادی ہو رہی ہے کہیں کوئي سید فوت ہوا ہے۔
    جہاں اب تک لوگ ایک دوسرے کی شادی غمی میں بغیر کسی عقیدے کی تفریق کے جایا کرتے تھے۔ جہاں اب تک مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں سے انتقال کے اعلان کے ساتھ یہ اعلان نہیں ہوتا تھا کہ ’شیعہ حضرات جنازے میں شرکت کی زحمت نہ کریں‘ یا ’سنّی حضرات جنازے میں شرکت کی زحمت نہ کریں‘۔
    مسجدوں اور امام بارگاہوں میں مناظرے تو ہوتے تھے لیکن پنجاب کی جگت کی حس اور ماہیوں کی ملی جلی صنف میں جسے وقتی کہا جاتا تھا۔ ابھی چودہ سو سال پرانے دلیل دلیلوں اور برداشت و حوصلے کے ساتھ سننے اور کہنے جاتے تھے نہ کہ بندوق کے ساتھ ۔
    آسماناں تے وڈہ ملہنے
    دھمی پتہ لگ ویسی
    تیڈی چاٹ الاری دا۔
    کوئی عجب بات نہیں کہ ایک طرف تو آغا حسن عابدی جیسے شیعہ عقیدے سے تعلق رکھنے وانے بینکار کے بنک کو افغان جہاد کیلیے استعمال کیا گیا اور دوسری طرف پاکستان جیسے سنی اکثریتی ملک کے بنکوں کے کھاتیداروں کی اکثریت نے خود کو زکوۃ میں کٹوتی سے بچنے کیلیے شیعہ گنوایا اور شاید اب بھی اس حساب سے ملک کی اکثریت شیعہ ہے۔
    اسی جگتی ماہیے میں بھی کتنا نہ حسن و آرٹ ہے۔
    ’سجاد تیرا سینہ درداں دا خزینہ ہے‘ جیسے مشہور نوحے کی یہ سطر شہر میں بچوں کو بغیر کسی خاندانی عقیدے کی تفریق کے فلمی گانون کی طرح محرموں کے دنوں میں یاد رہتی تھی۔ اب اس شہر میں بچے ’ کلاشن، کلاشن‘ کھیلتے ہیں، ’شیعہ سنی شیعہ سنی‘ کھیلتے ہیں۔
    جہاں رام ریاض جیسا افسانہ نگار تھا۔ ہیر اور روڈو سلطان جیسے دربار تھے۔ ’نشہ عجیب ترے آستاں سے ملتا ہے‘ اس دن روڈو سلطان کے میلے کے بوندی والے لڈو نیویارک میں بھی میں نے کھائے۔
    یا پھر یہ سب کچھ سندھ میں خیرپور میرس کے پاس سے اس چھوٹے شہر ٹھیڑی سے شروع ہوا جہاں شیعہ سنی فساد کے بعد ایوب خان جیسا آمر ملک پر دس سال حکومت کر گیا۔
    یا یہ سب کچھ پھر تب سے شروع ہوا جب سے تمام ملک کے ساتھ ہوا جب تمام آمروں کا آمر جنرل ضیاءالحق ملک پر نازل ہوا۔ جب اہل تشیع سے ہزاروں تعلق رکھنے والوں نے اپنے مطالبات کے حق میں اسلام آباد میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا۔ یہ وہ دن تھے جب بھٹو کو پھانسی مل چکی تھی اور پڑوسی ملک ایران میں انقلاب آ چکا تھا۔
    اسلام آباد سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کرنے والوں کی پولیس سے مدبھیڑ کے جواب میں گولی چلائی گئی جس میں ایک ہلاک ہونے والے کا تعلق جھنگ کے ساتھ والے جڑواں شہر شورکوٹ سے تھا۔ مرنے والا شور کوٹ کے مقامی شیعہ رہنما کا چھوٹا بھائی تھا۔ اب جھنگ اور شور کوٹ کے اپنے شیعہ شہید تھے جن کی تعزیت کیلیے ایرانی قونصل جنرل بھی آئے۔
    اسلام آباد سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کی قیادت کرنے والے رہنما اور مفتی پر ضیاءالحق سے مل جانے کا الزام بھی لگا۔ اس واقعے کے بعد ضیاءالحق نے ایک طرف تو مصطفیٰ گوکل، علامہ نصیر الاجتہادی جیسی شیعہ شخصیات اپنی کابینہ اور مجلس شوریٰ میں شامل کر لیں تو دوسری طرف سپاہ صحابہ جیسی شدت پسند تنظمیں بنانے کے پیچھے بھی ہاتھ انہی کا بتایا جاتا ہے۔

    یہ قمیضیں اترواکر شناخت کرنے اور قتل کرنے کی رسم بھی جھنگ سے آئی
    ضیاء نے ایک طرف فخر امام اور عابدہ حسین جسے شیعہ با اثر سیاستدان بھی اپنے غیر جماعتی نظام میں داخل کرنے دیے دوسری طرف حق نواز جھنگوی اور مولانا طارق اعظم جیسے رہنما بھی۔
    یا پھر یہ تب ہوا جب جھنگ شہر میں سنی مولوی شیریں قتل کردیا گیا اور اب جھنگ شور کوٹ کے کے راستوں پر ناکہ لگا اور لوگوں کی قمیضیں اتروا کر شناخت کر کے قتل کیا گیا۔ یہ قمیضیں اتروا کر شناخت کرنے اور قتل کرنے کی رسم بھی جھنگ سے آئی۔ جواب میں سنی خاندان سے تعلق رکھنے والا میٹرک میں پڑھنے والا لڑکا قتل کر دیا گیا۔
    سب جھنگ سے آیا۔ لاہور اندرون شہر سے نکلنے والے ذوالجناح بھی جھنگ سے تھے اور ذوالجناحوں کے جلوسوں پر فائرنگ کرنے والے بھی جھنگ سے۔
    اب جھنگ کے ’چھور‘ افغانستان اور کشمیر جا پہنچے۔ سلیم فوجی اور ذوالقرنین، لشکر جھنگوی اور سپاہ محمد۔ حرکت الانصار، کمہاروں، جرولیوں، موچیوں اور سیدوں کے لڑکے اب بن بن کے مجاہد اور غازی جانے لگے۔
    کوئی عجب بات نہیں کہ ایک طرف تو آغا حسن عابدی جیسے شیعہ عقیدے سے تعلق رکھنے والے بینکار کے بینک کو افغان جہاد کیلیے استعمال کیا گیا اور دوسری طرف پاکستان جیسے سنی اکثریتی ملک کے بینکوں کے کھاتیداروں کی اکثریت نے خود کو زکوۃ میں کٹوتی سے بچنے کیلیے شیعہ گنوایا اور شاید اب بھی اس حساب سے ملک کی اکثریت شیعہ ہے۔

    A tale of two cities

    Genesis of new wave of anti-Shia sectarianism in Jhang

    by Hasan Mujtaba

    BBC Urdu

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/08/120829_tale_of_two_cities_hasan_zs.shtml

  • Agar meri hukomaat ho to may BBC (Bi Jamalo) ki uredu serviceko band kara doon. 1965 ki war may Lahore ki fatah ki ghlat khbar bhi is nay break ki thi. Or yeah sahab sirf Pakistan kay khlaf hi likhtay hai or ktni hoshirai say “Firqawariat” phela raha hai.
    Pakistan my public nahee lar rahi hai balkay baruni imdad per chalnay wali NGOS or group killing kar raha hai magar wusatulla ko yeah nazar nahee ata is ko to koi bi chez Pakistan kay khilaaf mil jai to khoob propaganda karta hai.

  • یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ۔
    وسعت اللہ خان

    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
    آخری وقت اشاعت: اتوار 25 نومبر
    2012 ,‭ 09:26 GMT 14:26

    یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ ، مشرک ، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک ، گمراہ ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون ۔
    اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی ۔

    اے میرے خالق ، میرے والد کو بھی بخش دینا جو حافظِ قران دیوبندی ہونے کے باوجود یومِ عاشور پر حلیم پکواتے تھے تاکہ ان کے یارِ جانی حمید حسن نقوی جب تعزیہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ بعد از عصر آئیں تو فاقہ شکنی کر پائیں۔
    البتہ میری دادی کبھی اس فاقہ شکنی میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ وہ مغرب کی ازان کا انتظار کرتی تھیں تاکہ نفلی روزہ افطار کرسکیں۔ حمید حسن اور انکے اہلِ خانہ تو مغرب کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے ۔ مگر عشا کی ازان ہوتے ہی ہمارے صحن کے وسط میں کرسی پر رکھے ریڈیو کی آواز اونچی ہو جاتی۔ سب انتظار کرتے کہ آج علامہ رشید ترابی کس موضوع پر مجلسِ شامِ غریباں پڑھیں گے۔ مجھے یا چھوٹی بہن کو قطعاً پلے نہیں پڑتا تھا کہ شامِ غریباں کیا ہوتی ہے ؟ کیوں ہوتی ہے ؟ اور مجلس کے اختتام سے زرا پہلے دادی کی ہچکی کیوں بندھ جاتی ہے ؟ اور کیا یہ وہی دادی ہیں جن کی آنکھ سے گذشتہ برس میرے دادا اور تایا کے یکے بعد دیگرے انتقال پر ایک آنسو نا ٹپکا تھا

    یہ فرقے کیا ہیں؟
    وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک زہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

    اے اللہ شرک و ہدایت ، درست و غلط اور بدعت و خالص میں تمیز نا رکھنے والی میری سادہ لوح واجبی پڑھی لکھی دادی کی بھی مغفرت فرما ۔ اور پھر انہیں آج کی طرح کوئی یہ دینی نزاکتیں سمجھانے والا بھی تو نہیں تھا۔ وہ تو اتنی سادی تھیں کہ یہ فرق بھی نا بتا سکتی تھیں کہ بریلویت کیا چیز ہے اور شیعہ ہم سے کتنے مختلف ہوتے ہیں ؟

    وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک زہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔

    لو میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

    بچپن میں عید الضحی گذرنے کے بعد سکول کی چھٹی ہوتے ہی ہماری مصروفیت یہ ہوتی کہ بڑے قبرستان کے کونے میں ملنگوں کے ڈیرے پر نئے تعزیے کی تعمیر دیکھتے رہتے۔ یہ ملنگ روزانہ حسینی چندے کا کشکول اٹھا کر ایک چھوٹے سا سیاہ علم تھامے دوکان دوکان گھر گھر چندہ اکٹھا کرتے اور پھر اس چندے سے زیور ، پنیاں اور کیوڑہ خرید کر تعزیے پر سجاتے اور سورج غروب ہوتے ہی کام بند کرکے بہت زور کا ماتم کرتے۔
    میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دوکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ’’۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔
    ’یا حسین تیری پیاس کا صدقہ‘

    میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دوکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ’’۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔
    پھر طفیل مرگیا اور اسلم سینڈو نے سارا کام سنبھال لیا۔ پھر میں نے سنا کہ اسلم نے ایک دن دوکان بند کردی اور غائب ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کشمیر چلا گیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ افغانستان آتا جاتا رہا۔ کوئی کہتا ہے اب وہ قبائلی علاقے میں کسی تنظیم کا چھوٹا موٹا کمانڈر ہے اور اس کا نام اسلم نہیں بلکہ ابو یاسر یا اسی سے ملتا جلتا کوئی نام ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کراچی کے نشتر پارک میں سنی تحریک کے جلسے کے بم دھماکے میں وہ پولیس کو چار سال سے مطلوب ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔

    لوگ کہتے ہیں مذہبی شدت پسندی اور تشدد قابو سے باہر ہوگیا ہے۔مگر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قبلہ و ایمان درست کرنے اور قوم کے جسم سے شرک و بدعت و گمرہی کے زہریلے مواد کے اخراج کے لئے تکفیری جہادی نشتر تو لگانا پڑتا ہے۔ انشاللہ عنقریب تمام مشرک ، بدعتی اور منافق جہنم رسید ہوجائیں گے اور ماحول اتنا پرامن اور عقیدہ اتنا خالص ہو جائے گا کہ اس خطہِ پاک کو دنیا پاکستان کے بجائے خالصتان پکارے گی۔۔۔
    بس چند دن کی تکلیف اور ہے۔۔۔۔۔

    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/11/121125_baat_se_baat_tim.shtml

  • ‫خدا خدا کرکے یومِ عاشورہ کسی بڑی آفت کے بغیر خیر خیریت کے ساتھ گزر گیا….عجیب سی بات لگتی ہے آج، لیکن کبھی وہ وقت بھی گزرا ہے کہ اسی ملک کے شہروں میں تہوار رونقیں اور برکتیں لے کر آیا کرتے تھے….عید، بقرعید، ربیع الاول اُس وقت خوشیاں لے کر آتے تھے….جبکہ محرم، حالانکہ غم کا مہینہ تھا، لیکن اس غم میں آج کی طرح خوف نے حلول نہیں کیا تھا….وہ ہمارے بچپن کا دور تھا….آج بھی ہم بچے ہی ہیں کہ پچپن میں داخل نہیں ہوئے، اور ہمارے خیال میں تو آٹھ سے اسّی سال تک انسان بچہ ہی رہتا ہے…. بچپن کا دور یوں تو ہر انسان کے لیے ہی یادگار اور ناقابل فراموش ہی ہوتا ہے، عام لوگوں کے لیے ناقابل فراموش ان معنوں میں کہ بچپن میں انسانی شعور پر ماحول کے افکار کے نقوش گہرے نہیں ہوئے ہوتے اور وہ فطرت کی سوچ سے قریب تر ہوتا ہے، فطرت کسی سے اغماض نہیں کرتی اور غیرجانبدار رہتی ہے لیکن جیسے جیسے ماحول کے نقوش گہرے اور انمٹ ہوتے جاتے ہیں فکر میں اغماض بھی پیدا ہوجاتا ہے اور جانبداری بھی….جبکہ مذہبی مدرسوں سے تعلیم پانے والوں کے لیے بچپن ناقابل فراموش دوسرے معنوں میں ہوتا ہے، جن کی تفصیل یہاں بہت سے پردے دار بھائی بہنوں کی وجہ سے بیان کرنا ممکن نہیں….!!
    ہم اپنی ایک تحریر میں یہ بیان کر ہی چکے ہیں کہ ہمارے خاندان میں ملا جلا ماحول تھا، یعنی شیعہ بھی اور سنّی بھی….کچھ لوگ ماہِ محرم میں سیاہ کپڑے پہنتے اور کچھ لوگ سفید….لیکن نہ تو سیاہ کو سفید سے کوئی خطرہ تھا نہ سفید کو سیاہ سے کوئی جھگڑا….اس لیے کہ اس زمانے میں سعودی اسلام نے اس خطے پر نزول نہیں کیا تھا….!
    سعودی اسلام دراصل محض شدت پسندی کا ہی خوگر نہیں ہے بلکہ مذہب کی منڈی کو بھی فروغ دیتا ہے، جس سے طبقات کے مابین تفاوت کی کیفیت مزید بڑھتی جاتی ہے….!
    سعودی اسلام کے نزول سے قبل جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ یہی مذہبی تہوار خوشیوں اور برکتوں کے حصول کا ذریعہ تھے جو آج خوف اور دکھاوے بازی کا مظہر بن چکے ہیں۔
    ماضی میں ہم دیکھتے تھے کہ امی یا خالہ بی بی فاطمہ رض کی کہانی سن رہی ہیں تو پڑھے لکھے اور ان روایتوں نہ ماننے والے بھی روکنے کی کوشش نہیں کرتے تھے….کوئی ملحد تھا تو اپنی سوچ میں تھا، کوئی موحد تھا تو اپنی فکر میں تھا….ان دونوں کے پاس اپنے اپنے نظریات تھے، تلواریں نہیں تھیں کہ ایک دوسرے کو اپنے اپنے نظریات کی پیروی پر مجبور کریں….کچھ لوگ نماز اور شرع کی پابندی کا اہتمام کرتے تھے لیکن یہ اہتمام ان کی اپنی ذات و کردار تک ہوتا تھا….ایسا نہیں تھا، جیسا کہ آج کل کا چلن ہے کہ گھر میں کوئی ایک مرد، والد یا بھائی مذہب پرست ہوگیا ہے تو وہ گویا کہ گھر کے تمام لوگوں کا نعوذباللہ پیغمبر یا خدا بننے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ بلکہ ہمارا تو یہ خیال ہے کہ شاید ایسے لوگوں کا بس نہیں چلتا کہ اپنے نومولود بچوں کو بھی داڑھیاں رکھوادیں….لڑکیوں کی حد تک تو وہ قریب قریب ایسا ہی کر گزرتے ہیں، کہ چھوٹی چھوٹی بچیوں کو اسکارف بندھوادیتے ہیں….!!
    پہلے میلاد یا مجلس میں بتاشے، ریوڑیاں یا روپے کے سینکڑہ کے حساب سے ملنے والے چھوٹے چھوٹے بسکٹ بھی بانٹے جاتے تھے اور میلاد یا مجلس کے شرکاء خوشی خوشی عقیدت اور محبت کے ساتھ یہ ہدیہ قبول کرتے تھے۔ آج کی طرح نہیں تھا کہ چکن بریانی سے کم پر تو میلاد کی محفلوں کا کوئی رُخ ہی نہیں کرتا ہے۔
    تہوار دراصل مذہب سے زیادہ خطے کی ثقافت کا مظہر ہوتے ہیں….بظاہر پوری دنیا کے مسلمانوں کا مذہب ایک ہے لیکن ایک ہی تہوار کو یکسر الگ الگ طریقوں سے مختلف خطوں کے مسلمان مناتے ہیں….ہماری ثقافت کے ان خوبصورت اور دلفریب رنگوں کو ہمارے ہاں سعودی اسلام کے نزول کے بعد بدعت بدعت کی آواز لگا کر یوں دیکھا جانے لگا کہ گویا آدم خور اپنے شکار کو تلاش کرتے ہوئے جیسے آدم بُو آدم بُو کی آوزیں لگاتے ہیں….!!
    by ‬Tariq Maan

    8:12am Nov 27
    You know you are a Pakistani Shia when:
    * Your aging parents beg you to leave them and the country to save yourself from target killing…
    * Yet, the same parents will order you to walk with the Jaloos-e-Ashura knowing that there are higher chances of getting killed there than in target killing…
    * There is a blast in the Jaloos…your mom is praying ….. begging Allah for your safety…your sister is calling you, but so is everybody else’s and so the mobile networks are jammed and they are all getting “Aapka milaya hua number iss waqt band hai!”…do you know how that feels? Probably not…
    * You are leaving for work…your mom will offer 2 Rakats for your safe return…then 5 Rs. sadqa because her Prophet (sawas) said it helps…then she will hold the Quran over your head…and then a kiss and a prayer…
    * Your mom holds Milaad-ul-Nabi (sawas) every year in her home lest her neighbours wrongfully think that we are only ever interested in Imam Hussain (AS) and not his grandfather…
    * Your mom will get swollen feet cooking Halwa all night long so she can distribute it amongst her neighbours on 12th Rabi-ul-Awwal…but she is heartbroken when some of her neighbours don’t eat her Halwa and give it to their maids and sweepers…because it’s biddat and haram etc…
    * You share your side of story with your Sunni friends and they say “Dono aik doosre ko maar rahe hain…bilkul ghalat hai!”…you think when did a Shia suicide bomber go off in a Juma Ijtima???? But shhhh…you can’t say that…
    * Then again there are these other friends who would say “Dekho bhai…Sipah-e-Sahaba hai tau Sipah-e-Muhammad bhi tau hai.”…and you think when did Sipah-e-Muhammad – which ceased to exist 15 years ago – claim responsibility for indiscriminate Sunni killing? When was a bus stopped in Gilgit and all the Sunnis in it killed after confirming their IDs via their NICs???? But hush…
    * There are some pious people in your office who don’t eat the food you bring from your home…there are others who won’t eat it if you tell them it is Niaz; basically food blessed with Surah-e-Alhamd for barkat as per Sunnah…
    * And there is this Email group you are a part of …batch mates from your university…and they keep sharing these articles that are basically designed to prove that you were born a Kaafir…you are sitting in Majalis since you were 4 and you know you can blow apart their arguments in 5 minutes straight…but what’s the point???? You know very well that proving them wrong will only make them hate you more…so you unsubscribe…
    * Then there are the jokes…slanted insults…indirect…subtle…somebody will drop a meaningful comment with regard to Shaam-e-Ghareebaan…and you are perplexed…in 20-30 years you haven’t seen anything but people crying…lamenting…praying…and yet this guy seems so confident in his slant…like he was there but what can you do???? If you are like me…you think that your parents have been taking you to the wrong Shaam-e-Ghareebaan!
    * You go to your Majalis…there are 3 walk-through gates…then body search by volunteers and then body search by the Police…then random spot searches…and passing by a Madni Masjid on Thursday night…you see what’s basically a guy with a staff for security…and you wonder: “Why only us?”…but hush!!!!
    * There is a blast somewhere in an Imam Baargah…like there always is…you go to this Majlis full of anger…and yet the Maulana makes you offer collective prayers for the Sunni journalists BEFORE your own people…you think WTF?? But later you realize that he is right…
    * Some of your friends confuse you like anything…they are fans of Zakir Naik…who thinks Allah should shower His blessings upon Yazid…who killed and/or facilitated the killing of the Prophet’s grandson and ALL able-bodied males of his Progeny…hold on…WHOSE GRANDSON???? WHOSE PROGENY??? Well hush I say…it is blasphemous to talk like this!
    * Yet, despite all of the above…it is GUARANTEED…that you will be there in the Jaloos-e-Ashura …your friends will be there…everyone you know will be there…and the Jaloos will be larger than last year’s…which was larger than the year before…and so on…you will take your toddler there too…your friends will bring theirs’…like your Imam (AS) who brought his entire family to Karbala….you will say a silent prayer and relinquish his safety into the hands of Allah…but you are a Kaafir, no? So why would Allah protect your toddler????

    by Sabah Hasan facebook

  • یا حسین تیری پیاس کا صدقہ

    وسعت اللہ خان
    بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    آخری وقت اشاعت: اتوار 25 نومبر 2012 ,‭ 10:58 GMT 15:58 PST

    یہ تب کی بات ہے جب ہم ایک گمراہ ، مشرک ، بدعتی معاشرے میں رہتے تھے۔ اے اللہ مجھے اور میرے مشرک ، گمراہ ، بدعتی پرکھوں اور اس سماج کو معاف کردینا جسے کوئی تمیز نہیں تھی کہ عقیدے اور بدعقیدگی میں کیا فرق ہے۔ اچھا مسلمان کون ہے اور مسلمان کے بھیس میں منافق اور خالص اسلام کو توڑنے مروڑنے اور اس کی تعلیمات کو مسخ کرنے والا سازشی کون ۔
    اے میرے خدا میری بدعتی والدہ کو معاف کردینا جو اپنی سادگی میں ہر یکم محرم سے پہلے پڑنے والے جمعہ کو محلے پڑوس کی شیعہ سنی عورتوں کو جمع کرکے کسی خوش الحان سہیلی سے بی بی فاطمہ کی کہانی سننے کے بعد ملیدے کے میٹھے لڈو بنا کر نیاز میں بانٹتی تھی ۔
    اسی بارے میں
    ساتھ چلو یا گُم ہوجاؤ
    انسانی حقوق اور لاتعلق میڈیا
    کراچی شمالی وزیرستان میں ہے ؟
    متعلقہ عنوانات
    پاکستان
    اے میرے خالق ، میرے والد کو بھی بخش دینا جو حافظِ قران دیوبندی ہونے کے باوجود یومِ عاشور پر حلیم پکواتے تھے تاکہ ان کے یارِ جانی حمید حسن نقوی جب تعزیہ ٹھنڈا کرنے کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ بعد از عصر آئیں تو فاقہ شکنی کر پائیں۔
    البتہ میری دادی کبھی اس فاقہ شکنی میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ وہ مغرب کی آذان کا انتظار کرتی تھیں تاکہ نفلی روزہ افطار کرسکیں۔ حمید حسن اور انکے اہلِ خانہ تو مغرب کے بعد اپنے گھر چلے جاتے تھے ۔ مگر عشا کی آذان ہوتے ہی ہمارے صحن کے وسط میں کرسی پر رکھے ریڈیو کی آواز اونچی ہو جاتی۔ سب انتظار کرتے کہ آج علامہ رشید ترابی کس موضوع پر مجلسِ شامِ غریباں پڑھیں گے۔ مجھے یا چھوٹی بہن کو قطعاً پلے نہیں پڑتا تھا کہ شامِ غریباں کیا ہوتی ہے ؟ کیوں ہوتی ہے ؟ اور مجلس کے اختتام سے زرا پہلے دادی کی ہچکی کیوں بندھ جاتی ہے ؟ اور کیا یہ وہی دادی ہیں جن کی آنکھ سے گذشتہ برس میرے دادا اور تایا کے یکے بعد دیگرے انتقال پر ایک آنسو نا ٹپکا تھا ؟
    یہ فرقے کیا ہیں؟
    وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک زہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
    اے اللہ شرک و ہدایت ، درست و غلط اور بدعت و خالص میں تمیز نا رکھنے والی میری سادہ لوح واجبی پڑھی لکھی دادی کی بھی مغفرت فرما ۔ اور پھر انہیں آج کی طرح کوئی یہ دینی نزاکتیں سمجھانے والا بھی تو نہیں تھا۔ وہ تو اتنی سادی تھیں کہ یہ فرق بھی نا بتا سکتی تھیں کہ بریلویت کیا چیز ہے اور شیعہ ہم سے کتنے مختلف ہوتے ہیں ؟
    وہ تو بھلا ہو اعلی حضرت میاں عبدالغفور کا جنہوں نے ایک دن دادی کو تفصیل سے اہم فرقوں اور حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور جعفری فقہ کے فرق کو سمجھاتے ہوئے بتایا تھا کہ اماں آپ نجیب الطرفین دیوبندی گھرانے سے ہیں اور بریلوی اور شیعہ ہمارے آپ کے پوشیدہ دشمن اور اسلام دشمنوں کے آلہِ کار ہیں لہذا ان سے ایک ذہنی فاصلہ رکھتے ہوئے میل ملاقات رکھیں۔ اور اماں آپ اسلم برکی کے بچوں کو اب عربی قاعدہ نا پڑھایا کریں کیونکہ وہ قادیانی ہیں اور قادیانی کافر ہوتے ہیں اور کافر کو عربی قاعدہ پڑھانا نا صرف گناہِ کبیرہ ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے۔ جب دادی نے قانون اور جرم کا لفظ سنا تب کہیں انہیں معاملے کی سنگینی سمجھ میں آئی۔ خدا میاں غفور کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
    لو میں بھی کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
    بچپن میں عید الضحی گذرنے کے بعد سکول کی چھٹی ہوتے ہی ہماری مصروفیت یہ ہوتی کہ بڑے قبرستان کے کونے میں ملنگوں کے ڈیرے پر نئے تعزیے کی تعمیر دیکھتے رہتے۔ یہ ملنگ روزانہ حسینی چندے کا کشکول اٹھا کر ایک چھوٹے سا سیاہ علم تھامے دوکان دکان گھر گھر چندہ اکٹھا کرتے اور پھر اس چندے سے زیور ، پنیاں اور کیوڑہ خرید کر تعزیے پر سجاتے اور سورج غروب ہوتے ہی کام بند کرکے بہت زور کا ماتم کرتے۔
    میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ‘ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ‘ ۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔
    ’یا حسین تیری پیاس کا صدقہ‘
    میرے کلاس فیلو اسلم سینڈو کے ابا طفیلے لوہار کی تو محرم شروع ہونے سے پہلے ہی چاندی ہوجاتی ۔جس عزا دار کو چھریاں ، قمہ ، برچھی ، مچھلی اور زنجیر تیز کرانی ہوتی وہ طفیلے لوہار کی دوکان کا رخ کرتا ۔کام اتنا جمع ہوجاتا کہ اسلم سینڈو کو بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانا پڑتا۔ البتہ شبِ عاشور طفیلے کی دوکان پر تالا لگ جاتا اور بند دوکان کے باہر ہر سال کی طرح ایک سیاہ بینر نمودار ہو جاتا جس پر لکھا ہوتا ’’ یا حسین تیری پیاس کا صدقہ ’’۔۔۔دونوں باپ بیٹے دودھ کی سبیل لگا کر ہر آتے جاتے کو بااصرار پلاتے ۔
    پھر طفیل مرگیا اور اسلم سینڈو نے سارا کام سنبھال لیا۔ پھر میں نے سنا کہ اسلم نے ایک دن دوکان بند کردی اور غائب ہوگیا۔ کوئی کہتا ہے کشمیر چلا گیا ۔ کوئی کہتا ہے کہ افغانستان آتا جاتا رہا۔ کوئی کہتا ہے اب وہ قبائلی علاقے میں کسی تنظیم کا چھوٹا موٹا کمانڈر ہے اور اس کا نام اسلم نہیں بلکہ ابو یاسر یا اسی سے ملتا جلتا کوئی نام ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ کراچی کے نشتر پارک میں سنی تحریک کے جلسے کے بم دھماکے میں وہ پولیس کو چار سال سے مطلوب ہے ۔ کوئی کہتا ہے کہ کوئٹہ پولیس نے اسے اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔
    لوگ کہتے ہیں مذہبی شدت پسندی اور تشدد قابو سے باہر ہوگیا ہے۔مگر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ قبلہ و ایمان درست کرنے اور قوم کے جسم سے شرک و بدعت و گمرہی کے زہریلے مواد کے اخراج کے لئے تکفیری جہادی نشتر تو لگانا پڑتا ہے۔ انشاللہ عنقریب تمام مشرک ، بدعتی اور منافق جہنم رسید ہوجائیں گے اور ماحول اتنا پرامن اور عقیدہ اتنا خالص ہو جائے گا کہ اس خطہِ پاک کو دنیا پاکستان کے بجائے خالصتان پکارے گی۔۔۔

    بس چند دن کی تکلیف اور ہے۔۔۔

    http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2012/11/121125_baat_se_baat_tim.shtml