Blogs Cross posted Urdu Articles

خدا کیلئے! ٹانگیں مت کھینچے- کاشف نصیر

ٹھیک ہے اگر مارشل لاء یا اس طرز کے کسی غیر معمولی اور غیر آئینی اقدامات ناگزیر ہیں تو کم از کم آپ منافقت اور دوعملی ختم کرکے جاگیرداروں، سرداروں اور زرداروں کے ساتھ اس طویل اور پرتعیش شراکت اقتدار سے باہر نکل آئیں اور محب وطن جرنیلوں کی ٹینکوں پر بیٹھ کر ایوان صدر میں داخل ہوجائیں اس ضمانت کے ساتھ کے آنے والا ”محب وطن“ جرنل بدعنوان سیاست دانوں کو نیب کی فائلیں دیکھا کر سینے سے لگانے کے بجائے الٹالٹکائے گا، قوم کی گردن ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے فطری اتحادی یعنی جاگیرداروں اور سرداروں سے چھڑائے گا، قانون اور انصاف کو اپنے کھیت کی مولی نہیں سمجھے گا اور امریکی مفادات کے تکمیل کے لئے اس ملک کو مزید آگ میں نہیں جھلسائے گا. اگر ایسا نہیں ہوگا اور یقینا ایسا نہیں ہوگا تو مارشل لاء کیا لائے گا سوائے تباہی اور انارکی کے! صاحب خدا کیلئے! ٹانگیں مت کھینچے، جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسکو مت کاٹیں اور اس لنگڑی للی جمہوریت کو چلنے دیں. مانا کہ زرداری، نواز، الطاف اور اسفندیار بدعنوان ہیں لیکن خدا کیلئے ذمہ دار عدلیہ اور آزاد زرائع ابلاغ کی نگرانی میں انکو اپنی میعاد پوری کرنے دیں کہ یہ آخری موقع ہے اور عنقریب انکی چھٹیاں ہوجائے گیں. ہاں قوم کو اپنے بھلے مستقبل کے لئے آخری دفعہ ٹھیک ٹھاک قربانی دینی ہوگی۔ کوئی شارٹ کٹ کا راستہ اسے لے ڈوبے گا، پہلے بھی لے ڈوبا تھا اور اس دفعہ ایسا ہوا تو اسکی کوئی داستان بھی نہیں ہوگی داستانوں میں۔

قومیں تجربات سے سیکھتی ہیں، لیکن ہم اب تک نہیں سیکھے کہ ماضی میں ایک نہیں چار مارشل لاء کا تجربہ رکھتے ہیں لیکن پھر بھی شوق گناہ ہے کہ کم نہیں ہوتا. اوپر سے یادشت بھی کمزور ہے کہ زرا حکومت دو چار برس پوری کرلے پھر دیکھیں پچھلی حکومت کا دور سہانے خواب کی طرح یاد آنے لگے گا. میں ریوڑ میں چلتی بھیڑوں کی بات نہیں کرتا مگر وہ جو ادراک رکھتے ہیں کیا تاریخ پاکستان سے ناواقف ہیں؟

زرا یاد کیجئے وہ ایوب خان ہی تھے جو ”میرے ہم وطنوں‘‘ کہتے ہوئے وارد ہوئے اور وطن عزیز کے بہترین اور مخلص قیادت کو کھاگئے اور انکی خالی نشستوں کو جاگیرداروں اور سرداروں سے بھر دیا. وہ بھی ایوب خان ہی تھے جنہوں نے سرمایہ دارنہ نظام درآمد کرکے بائیس امیر خاندان پیدا کئے. وہ بھی ایوب خان ہی تھے جنکے کشمیر ایڈویچر سے فائدہ تو کچھ نہیں پہنچا لیکن الٹا رن کچھ کے ریگستان ہاتھ سے نکل گئے. وہ بھی ایوب خان ہی تھے جنہوں نے مادر ملت کو شکست دی. وہ بھی ایوب خان ہی تھے جنہوں نے اس ملک میں پہلی بار تعصب کے بیچ بوئے اور بنگالیوں کو بند گلی میں دھکیل دیا اور وہ بھی ایوب خان ہی تھے جنہوں نے عوام کی دہائی تو نہیں سنی لیکن اپنے اقتدار کی دہائی کا جشن ضرور بنایا. آخر قوم بلبلائی تو مجبور ہوئے اور اپنا ہی دیا ہوا نظام لپیٹ کر گمنامی کے اندھیروں میں جاچھپے.

زرا یاد کیجئے پھر یحی خان آئے، شراب کی دھت، اور موسیقی کی دھن میں ’’میرے عزیز ہم وطنوں‘‘ کہتے ہوئے. مگر کیا کیا. بنگالی مسلمانوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دیکر گلی کوچوں میں رسوا کیا گیا. ایسے میں بھارت فائدہ نہ اٹھاتا تو کیا کرتا، اندھرا گاندھی نے کہا کہ ہم نے ہزار سالہ غلامی کا بدلہ ایک ہی وار میں لے لیا. زرا یاد کیجئے تاریخ انسانی کی بدترین اور شرمناک شکست! جو اس قوم کے ماتھے پر آج بھی کلنک کا ٹیکہ ہے. ٹی وی اور ریڈیو کا مورچہ تو آخر تک گرم تھا، پاک فوج کی بہادری کے قصے اور نور جہاں کے ترانے فضاء میں فتح کے خواب سجا رہے تھے. لیکن اچانک ہی رت بدل گئی، قوم سکتے میں تھی. پھر بھی حقیقت کی قباوں پر جھوٹ کے پیوند لگا دئے گئے. آخر قوم بلبلائی تو مجبور ہوئے اور ملک قائد عوام کو سونپ کر گمنامی کے اندھیروں میں جاچھپے.

زرا یاد کیجئے برسوں بعد جمہوریت کی گاڑی پلیٹ فارم پر آئی تو وہ نہ تھے جنہوں نے رخت سفر باندھا تھا. خواجہ ناظم الدین، حسین شہید سہروردی، فیروز خان نون جیسے پاکباز رہبر اس قوم سے گم ہوگئے اور سیاست و جمہوریت جاگیرداروں اور سرداروں کے انگن کی کھوٹی بن کر رہ گئی کہ یہ سب کچھ محب وطن جرنیلوں کی ہی کی مہربانی تھی. قائد عوام بھی کوئی چھوٹے جاگیردار نہ تھے اور سیاست بھی انہوں نے ایوب خان کے مکتب ”بنیادی جمہوریت“ میں سیکھی تھی مگر قوم کو انکی للرکار، “انکار“ اور “افکار“ سے امید بہت تھی. پہلے کچھ برس تو معاملہ ٹھیک رہا لیک اقتدار کی حوس نے ان سے وقت سے پہلے انتخابات کروائے اور جاگیرداروں اور سرداروں کو مرعات دلوائیں. آخر قوم بلبلائی اور مدد کیلئے بے قرار محب وطن جرنیل ڈورے چلے آئے. پھر نا نو ستارہ کے ہاتھ کچھ آیا نہ قائد عوام کا کچھ بھلا ہوا اور نہ اس قوم کی کوئی قسمت کھلی.

زرا یاد کیجئے نئے محب وطن جرنل کے دس برس تاریکی میں گزر گئے اور ملا کیا، اسلحہ اور ہیروئین کلچر، عدم برداشت اور لسانیت کی آخری انتہا پر بیٹھے سیاست دان نما بھیڑئے. کس جرم کی پاداش میں ساتھ سفید ہاتھی کو للرکارنے والے قائد عوام کو پھانسی دے کر گڑھی خدا بخش میں من و مٹی اوڑھاکر سلا دیا گیا، ہاں مگر قائد عوام کی غلطی یہ تھی کہ جو کہا وہ کیا نہیں، جرنیلوں کو ہار پہنائے اور احتساب سے تامل کیا. اہل نظر تو اس دور تاریک میں بہت جلد ہی حقیقت جان کر الگ ہوگئے لیکن کچھ نادان آخری وقت تک چمٹے رہے مگر ہوا کیا امیر المومنین نے اپنی ذاتی مفاد کے لئے اسلام کو مزاق بنا رکھا دیا اور جب وہ رخصت ہوئے تو حال یہ تھا کہ ”نا خدا ہی ملا نہ وصال صنم“.

بے نظیر اتفاقیہ سیاست دان تھیں اس لئے ناتجربہ کار، لٹیروں اور مفاد پرستوں میں گھر گئیں اور دو دفعہ رسوا ہوئی، نواز شریف بھی کونسے اصلی تھے کہ امیرامومنین کے مکتب سے سیاست سیکھی اور دیر تک انہی کہ جوتیاں سیدھی کرتے رہے مگر پھر کچھ لوگوں کی خواہشات نے انگڑائیاں لیں اور ایک نیا محب وطن جرنل وسیع تر قومی مفاد میں اپنی ”میرے عزیز ہم وطنوں“ کے نعرے کے ساتھ وارد ہوا.

زرا یاد کیجئے نئے محب وطن جرنل جس نے ملک خداداد سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کا تہیہ کر رکھا تھا اس نے قانون اور انصاف کو اپنی خواہشات اور فرمودات کا نام دے دیا. ملک کی سب سے بڑی عدالت پر ایک نہیں تین دفعہ حملہ کیا، یہودی سرمایہ داروں کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئے مروجہ سودی بینکاری کے خاتمے سے متعلق اعلی ترین عدلیہ کے فیصلے کو کمال بے حیائی اور ڈھٹائی سے تبدیل کرایا، نو اگیارہ ہوا تو جیسے لاٹری کھل گئی فورا کسی شکاری کتے کی طرح اپنے آقا کے قدموں میں بچھ گیا اور آمریکیوں کے ساتھ ملکر امارت اسلامی کو تباہ و برباد کردیا، میڈیا کو مادر پدر آزادی دے کر فحاشی اور عریانی کو عام کیا اور آہستہ آہستہ اس قوم کی مجموعی غیرت دینی اور حمیت کو موت کی نیند سلادیا، حدود اللہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جسارت کی، کرپٹ سیاست دانوں، جاگیرداروں اور سرداروں کو اپنے ساتھ ملا کر کھلی چھٹی دی، اکبر بگتی کو قتل کر کر بلوچستان میں علیحدگی کی آگ بھڑکائی، ملکی معیشت کو کھوکھلی بنیادوں اور بیساکھیوں پر کھڑا کیا، توانائی اور صنعتی شعبے کو سکوت اور تنزل کی طرف دھکیل دیا، اسٹاک مارکٹ میں مصنوعی چڑھاو پیدا کر کر سیکڑوں چھوٹے سرمایہ داریہ داروں کو اپنی ساری عمر کی جمع پونجی سے محروم کردیا. لیزینگ اور کار فناسنگ اسکیم کے تحط متوسط طبقے کو پائی پائی کا مقروض اور ذہنی مریض بنادیا. ذخیرہ اندوزوں کو آٹا اسکینڈل، سیمنٹ اسکینڈل اور شکر اسکینڈل جیسے مواقع فراہم کرکے افراط زر میں مصنوعی اضافہ کیا اور غریبوں کو بدحال کردیا، قرض اتارنے کے نعرے لگائے لیکن کل ملکی قرضہ کی شرح کو کئی گناہ بڑھا دیا، اہم قومی اداروں کو کوڑیوں کے دام من پسند افراد میں تقسیم کردیا، منافع بخش ریلوے اور پی آئی اے کو تباہ کردیا، اسٹیل مل کی فروخت اور مری میں ہاوسنگ اسکیم کے ناکام منصوبہ بنائے، احتساب کے نعرے لگائے لیکن این آر او جاری کرکے ملک لٹنے والوں کو عزت و تکریم کے سرٹیفیکٹ جاری کردئے، مسئلہ کشمیر کو سرد خانے میں دھکیل کر بھارت سے دوستیاں بڑھائیں، انصاف پر شب خون مارا، پاکستان کی خودمختاری کو داو پر لگایا، عافیہ صدیقی سمیت سینکڑوں پاکستانیوں کو ڈالروں کی عوض آمریکہ کے حوالے کردیا، ملک کو نام نہاد دہشت گردی کے خلاف میں جھونک کر تباہ و برباد کردیا اور لال مسجد میں بدترین ریاستی آپریشن میں جسم کے اعضاء گلانے والے وائٹ فاسفورس بم استعمال کرکے سینکڑوں حفاظ طالبہ و طالبات کو شہید کردیا. آخر قوم بلبلائی تو مجبور ہوکر استعفی دیا اور ملک سے فرار ہوگیا.

حالات اور منجدھارکے پیدا کردہ یہ گلی محلے کے چھٹے ہوئے، فوجی آمروں کے نمک خوار، تاریخ اور اسکی رفتار سے ناواقف، قوموں اور اسکی ارتقائی سائنس سے ناآشنا اور طاقت و آمریکہ پرستی کے نشہ میں دھت لیڈران کرام کیا جانے کہ ”لیڈر“ کسی کو”بلاتا“ نہیں ہے بلکہ خود آگے آتا ہے اور اپنی جوان مردی سے دریاوں میں راستہ بنا کر پھنسی ہوئی قوم کو نکال لیتا ہے.مگر افسوس کہ یہاں رہزنی ہی رہبری ٹھری. پھر ان میں سے کئی ڈرتے ہیں یہاں تک کہ ملک میں نہیں آتے، انہیں کون بتائے کہ خود موت زندگی کی حفاظت کرتی ہے. یہ کیا خاک قوم کی مجموعی سوچ کی مثبت تعمیر کریں گے، ان میں فکر جواں کریں گے اور ان میں ایسا احساس زیاں جگائے گے کہ ہر ایک تلوار بن جائے یہ تو خود ذہنی مریض ہیں کہ خود نمائی اور خود ستائشی سے اگے انہیں نے کچھ سیکھا نہیں. قوم کی مگر مجبوری ہے کہ ان کو جھیلنا پڑے گا کیونکہ مارشل لاء شارٹ کٹ نہیں سوئی سائیڈ ہے.

سوال یہ ہے کہ یہ ”رہزن لوگ“ گاہے بگاہے ”محب وطن“ فوجی آمروں کو کیوں بلاتے ہیں اور جرنیلوں میں انکو مسیحا کیوں نظر آتا ہے. وجہ صاف ہے ہر بچہ مشکل میں اپنے ماں باپ کو ہی پکارتا ہے اور ہر جز بلاآخر اپنے اصل کی طرف ہی لوٹتی ہے. قوم کو مگر ہوش کے ناخن لینے ہونگے، کہ ایک دفعہ ان رہزنوں نے معیاد پوری کرلی تو صفائی کا آغاز ہوجائے اور عنقریب چھٹی ورنہ ہمدردیاں سمیٹ کر، منت سماجت اور ڈیل شل کرکے دوبارہ آجائے گے. مان لیا یہ تین برس کٹھن ہیں لیکن اگر اگر کوئی نیا جرنل آئے گا تو وہ کونسا تیر مار لے گا، وہ بھی نیب کی فائلیں کھنگال کر ایک نئی “ق لیگ” بنائے گا، ایک نیا پی سی دیگا، ایک نیا این آر او لائے گا یعنی وہی کچھ جاری رہے گا جو ہورہا ہے اور جو ہورہا تھا، جبکہ مستقبل میں بھی بہتری کی کوئی امید نہیں ہوگی۔ کوئی تبدیلی نہیں آئے گی البتہ کچھ چہرے بدل جائیں گے.

میری نگاہیں بہت دور تک دیکھ رہی ہیں اس لئے دل گرفتہ ہوں کہ اگر اب کی بار بیرق سے ”محب وطن“ نکلے تو شمالی مغربی سرحدی پٹی ہاتھ سے نکل جائے گی اور ناراض بلوچ ہندوستان کی جھولی میں جاگرے گے، سندھ میں بھی 1982 کی شورش کا ایکشن ریپلے ہوگا اور اس بار عالمی برداری انکی پشت پر ہوگی جبکہ جنوبی پنجاب میں ایک لاوا پھٹ پرے گا. خاکم بدہن مجھ سے لکھوا کر رکھ لیں کہ پاکستان ختم ہوجائے گا۔ آمریکہ کا مقصد یہی ہے وہ افغانستان میں ہار رہا ہے اور افغانستان سے اپنی واپسی سے پہلے پاکستان کا قصہ ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ واپسی کے بعد دونوں ملک ملکر امریکہ کی چوہداہٹ ختم نہ کردیں۔

جن لوگوں کو دعوا ہے کہ وہ سیاسی اور جمہوری ہیں انکو چاہئے کہ سیاسی حل تجویز کریں ناکہ قوم کو گمراہ کر کر ان میں ”بارہ سنگھے“ جیسی احمق نسل پیدا کریں، گلی محلے چوراہوں اور منڈیروں والی سوچ کو تقویت دیں. کیا عجیب دعوا ہے! جاگیردارانہ اور سردارانہ نظام جرنیل ختم کرے گی اور کرپٹ سیاست دانوں کا احتساب کرے گی مگر کیسے۔ جاگیر اور سردار تو فوجی آمروں کی اولین بیساکھی ہوتے ہیں اور احتساب وہ بھی ”محب وطن“ جرنلیوں کے ہاتھوں کیا کبھی پہلے ایسا کچھ ہوا ہے.صاحب خدا کیلئے! ٹانگیں مت کھینچے، جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسکو مت کاٹیں اور اس لنگڑی للی جمہوریت کو چلنے دیں. مانا کہ زرداری، نواز، الطاف اور اسفندیار بدعنوان ہیں لیکن خدا کیلئے ذمہ دار عدلیہ اور آزاد زرائع ابلاغ کی نگرانی میں انکو اپنی میعاد پوری کرنے دیں کہ یہ آخری موقع ہے اور عنقریب انکی چھٹیاں ہوجائے گی. ہاں قوم کو اپنے بھلے مستقبل کے لئے آخری دفعہ ٹھیک ٹھاک قربانی دینی ہوگی۔ کوئی شارٹ کٹ کا راستہ اسے لے ڈوبے گا، پہلے بھی لے ڈوبا تھا اور اس دفعہ ایسا ہوا تو اسکی کوئی داستان بھی نہیں ہوگی داستانوں میں۔

مآخذ : کاشف نصیر

About the author

Ali Arqam

26 Comments

Click here to post a comment
  • ا امیر المومنین نے اپنی ذاتی مفاد کے لئے اسلام کو مزاق بنا رکھا دیا اور جب وہ رخصت ہوئے تو حال یہ تھا کہ ”نا خدا ہی ملا نہ وصال
    صنم

    بے قرار محب وطن جرنیل ڈورے چلے آئے. پھر نا نو ستارہ کے ہاتھ کچھ آیا نہ قائد عوام کا کچھ بھلا ہوا اور نہ اس قوم کی کوئی قسمت کھلی

    ۔ کوئی شارٹ کٹ کا راستہ اسے لے ڈوبے گا، پہلے بھی لے ڈوبا تھا اور اس دفعہ ایسا ہوا تو اسکی کوئی داستان بھی نہیں ہوگی داستانوں میں۔

    =============
    Kudos for Mr. Kashif Naseer. Thank You for an Excellent Piece. I would request the Moderator to put this Post as a Banner Post. Please.

  • Dear only political party can solve issues in country, and pakistan peoples party is single largest party in pakistan.

    thats y people still say

    چارو صوبو کے زنجیر بنظر بنظر.

  • Dear Humayun, what’s in the heart is only known to the Lord but apparently the comment are excellent provided Mr. Kashif would have published these on his own blog:)

  • good effort , whats writer´s views about Jamat e Islami´s role in past..

    JI Sat in the lap of Generals and continued with “Chupala” (sorry for Spanish)

    and now Altaf Gang is trying to repeat what JI did in the past

  • imran says: September 8, 2010 at 3:52 am good effort , whats writer´s views about Jamat e Islami´s role in past.. JI Sat in the lap of Generals
    =================

    Yes the Cabinet Members from Jamat-e-Islami in General Zia’s Cabinet are as under: ‎2nd Presidential Cabinet under President/CMLA General Muhammad Zia-ul-Haq from 23-8-1978 to 21-4-1979 [Courtesy: Pakistan Cabinet Division]

    Mr. Mahmood Azam Faroqui – Information & Broadcasting

    Professor Ghafoor Ahmad – Production and Industries

    Many other names are worth knowing:) High Treason Cases against Pakistani Military Dictators & Collaborators/Abettors http://chagataikhan.blogspot.com/2009/08/high-treason-cases-against-pakistani.html

  • imran says: September 8, 2010 at 3:52 am good effort , whats writer´s views about Jamat e Islami´s role in past.. JI Sat in the lap of Generals
    ==================

    مگر ہوا کیا امیر المومنین نے اپنی ذاتی مفاد کے لئے اسلام کو مزاق بنا رکھا دیا اور جب وہ رخصت ہوئے تو حال یہ تھا کہ ”نا خدا ہی ملا نہ وصال صنم
    کاشف نصیر
    ================

    Ayub’s secularism as part of the military culture of British Indian Army was like an open book without any fine print. Even the prefix Islamic attaching to the Republic of Pakistan was dropped until restored under the writ of superior judiciary. That continued to be the case until the fateful day of 1965 when India attacked Pakistan along the international border, with Lahore as its principal target. Even in his first address to the nation within hours of the Indian invasion, Ayub went on to recite the ‘Kalama-i-Tayyaba’ in a stirring, emotion-choked voice. His subsequent meeting with religious parties – mainly the Jamaat-i-Islami under Maulana ‘Abul ‘Ala Maududi – marked the beginning of the military-mullah nexus. Yahya would not have much to do with things spiritual until the induction of retired Maj.-Gen. Sher Ali Khan into his cabinet as minister in-charge of information and national affairs. He initiated Yahya into ideological lore and saddled him with the mission of protecting the ‘ideology of Pakistan and the glory of Islam’. Yahya’s intelligence chief, Major-(later Lieut.) Gen. Muhammad Akbar Khan made no secret of his close liaison with the Jamaat-i-Islami especially in respect of its pro-active role in East Pakistan. The Jamaat was to go even to the extent of certifying Yahya’s draft constitution as Islamic. The draft was authored by Justice A.R. Cornelius, Yahya’s law minister. As for Zia, he embarked on his Islamization programme even as he assumed his army command. REFERENCE: MMA and the NSC By A.R. Siddiqi 30 June 2004 Wednesday 11 Jamadi-ul-Awwal 1425 http://www.dawn.com/2004/06/30/fea.htm#1

  • imran says: September 8, 2010 at 3:52 am good effort , whats writer´s views about Jamat e Islami´s role in past.. JI Sat in the lap of Generals
    ==================

    مگر ہوا کیا امیر المومنین نے اپنی ذاتی مفاد کے لئے اسلام کو مزاق بنا رکھا دیا اور جب وہ رخصت ہوئے تو حال یہ تھا کہ ”نا خدا ہی ملا نہ وصال صنم
    حدود اللہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ
    کاشف نصیر
    ================

    Syed Sharifuudin Pirzada=Hudood Laws, Blasphemy Law, Tampering in Constitution regarding Minorities [General Zia 1977 – 1988]

    Syed Sharifuddin Pirzada=Repealing or trying to repealing all these Law above [General Musharraf 1999 – 2007]

    What a Joke:)

    I have tried to collect bits and pieces on this Jadoogar from Jeddah [one wonders who appointed him for OIC] – Pirzada, A K Brohi & Judiciary in Pakistan. http://chagataikhan.blogspot.com/2008/10/pirzada-k-brohi-judiciary-in-pakistan.html HOW fortunate can a man be? Take me, for example. I have had the pleasure of knowing, partaking of their wisdom, and enjoying the company of Allah Baksh Kadir Baksh Brohi, Syed Sharifuddin Pirzada, and Brohi’s protege, Khalid Anwer. NRO: Kamran Khan & Dishonest Lawyers.
    http://chagataikhan.blogspot.com/2010/01/nro-kamran-khan-dishonest-lawyers.html

  • Yes,
    Jamat started well as it did nt support Ayoub khan but after Ayoub they change thier direction.
    Aamir, Jamate Islami was not only in the cabinet of General Zia, but Jamat also supported General Yahaya Khan and his action in East Pakistan. Which is the darker side of Jamat history. Jamat also try to get the attention of General Pervaiz Musharaf in his beginning, but ideological differences could not make a strong partnership.

  • نو اگیارہ ہوا تو جیسے لاٹری کھل گئی فورا کسی شکاری کتے کی طرح اپنے آقا کے قدموں میں بچھ گیا اور آمریکیوں کے ساتھ ملکر امارت اسلامی کو تباہ و برباد کردیا، میڈیا کو مادر پدر آزادی دے کر فحاشی اور عریانی کو عام کیا اور آہستہ آہستہ اس قوم کی مجموعی غیرت دینی اور حمیت کو موت کی نیند سلادیا، حدود اللہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جسارت کی،
    کاشف نصیر
    ==============

    Kindly explain the purpose of Akram Durrani’s visit to the USA (to be precise US Department of Defence and Pentagon [JI was part of MMA] with the text of Hasba Bill: US Elections: Republicans or Democrats.
    http://chagataikhan.blogspot.com/2008/10/us-elections-republicans-or-democrats_12.html

  • آمریکیوں کے ساتھ ملکر امارت اسلامی کو تباہ و برباد کردیا،
    کاشف نصیر
    ==============
    Why we forget this so conveniently:) President of US would quote Allama Iqbal in White House during a Toast to that Rampant Barbarian General Zia: Ronald Reagan, Afghan Mujahideen, Talibans & Royal Mess. http://chagataikhan.blogspot.com/2010/03/ronald-reagn-afghan-mujahideen-talibans.html “Ronald Reagan to the Chief Martial Law Administrator General Zia, A great intellectual forefather of Pakistan, Muhammed Iqbal, once said that, “The secret of life is in the seeking.” Well, President Zia, today the people of the United States and Pakistan are seeking the same goals. Your commitment to peace and progress in South Asia and the Middle East has reinforced our commitment to Pakistan. We want to assure you, Mr. President, and the people of your country that we will not waver in this commitment.”

  • کاشف نصیر says: September 8, 2010 at 10:22 am Yes,
    Jamat started well as it did nt support Ayoub khan but after Ayoub they change thier direction. Aamir, Jamate Islami was not only in the cabinet of General Zia. but Jamat also supported General Yahaya Khan and his action in East Pakistan.
    ===============
    Read comment number 8 again on JI’s support to General Ayub. I am least bothered about others who joined Zia Cabinet I am only concerned about JI because when one talk about Islam then it must be reflected and JI several such steps have raised fingers on Islam only because of JI:

    کیا روشنی سے ڈرتے ہو؟
    وجاہت مسعود
    وقتِ اشاعت: Sunday, 17 December, 2006, 00:48 GMT 05:48 PST
    http://www.bbc.co.uk/urdu/miscellaneous/story/2006/12/061216_wajahat_dhaka_uk.shtml

    دانشوروں کی مسخ شدہ لاشیں کچے بند کے قریب پایاب پانی سے برآمد ہوئیں
    سنہ 71 کا سال تھا۔ نو اور دس دسمبر کی درمیانی شب تھی۔ ڈھاکہ چھاؤنی کے ایک بلند و بالا دفتر کی خوشگوار حرارت میں تین پُروقار چہرے چند کاغذ سامنے رکھے گہرے غوروفکر میں مصروف تھے۔
    ان میں ایک لیفٹننٹ جنرل عبداللہ نیازی تھے جن کے کندھوں پر پورے مشرقی محاذ کی ذمہ داری تھی۔ دوسرے صاحب میجر جنرل راؤ فرمان تھے جو بظاہر گورنر مالک کے سیاسی مشیر تھے مگر عملی طور پر صوبے کے انتظامی سربراہ سمجھے جاتے تھے۔ تیسرے افسر میجر جنرل جمشید تھے جو ڈھاکہ سیکٹر کے دفاع کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے۔ کمرے میں دبے پاؤں چائے کے برتن لانے والے عملے کا خیال تھا کہ صاحب لوگ جنگ کی گمبھیر صورتِ حال پر مغز پاشی کر رہے ہیں۔ مگر ان اصحاب کے پیشِ نظر تو کہیں زیادہ اہم امور تھے۔ اس اجلاس میں بنگالی دانشوروں کی اس فہرست پر غور ہو رہا تھا جنہیں جنگ کا منطقی نتیجہ سامنے آنے سے پہلے ختم کرنا ضروری تھا۔ ہجرتی گھر چھوڑنے کے بھی کوئی آداب ہوتے ہیں۔

    دسمبر کا مہینہ سرد ہوتا ہے۔ 1971 کے برس میں یہ مہینہ معمول سے کچھ زیادہ ہی سرد تھا۔ پاکستان کے مشرقی حصےمیں نو مہینے سے خانہ جنگی جاری تھی۔ لاکھوں شہری مارے جا چکے تھے۔ ایک کروڑ مہاجر سرحد پار کر کے بھارت جا بیٹھے تھے۔ عورتوں، بچوں، کسانوں اور تاجروں میں سے جس کے پاس لٹانے کو جو تھا، لٹ چکا تھا۔ گاؤں جل چکے تھے۔ شہر اور قصبے ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔

    واقعہ پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے سے صرف دو روز قبل 14 دسمبر کو پیش آیا۔واقعات کے مطابق البدر کے ارکان نے ایک باقاعدہ فہرست کے مطابق آدھی رات کو ڈھاکہ کے دو درجن سے زیادہ چیدہ چیدہ دانشوروں کو اغوا کیا۔ ان میں سے بیشتر اساتذہ یا تو اپنے شعبوں کے سربراہ تھے یا علمی اور ادبی حلقوں میں نہایت نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہیں مختلف مقامات پر رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ریئر بازار اور میرپور نامی دو مقامات پر انہیں بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا

    3 دسمبر سے پاکستان اور بھارت میں شروع ہونے والی کھلی جنگ اختتامی مرحلے میں تھی۔ مشرقی حصے کے عوام میں متحدہ پاکستان سے بدظنی اپنے نقطہ عروج کو پہنچ چکی تھی۔ مغربی پاکستان دادو لوہار کے خطبات اور ملکہ ترنم کے جوشیلے ترانوں میں مگن تھا۔ اندرونی اور بیرونی محاذوں پر ناکافی ہتھیاروں، نیم دِلانہ قیادت، ناقص منصوبہ بندی اور غضب آلود عوام سے چومُکھی لڑائی لڑتے پاکستانی فوجی قدم بہ قدم پیچھے ہٹتے بالآخر ڈھاکہ تک محدود ہو چکے تھے۔ جنرل ناگرہ بوڑھی گنگا کے میر پور پُل پر آن بیٹھا تھا۔

    یہ سوال دلچسپ ہے کہ ایسے میں جب جنرلوں کو ڈھاکہ کے دفاع کی فکر ہونا چاہیے تھی وہ اساتذہ، سائنسدانوں، صحافیوں، تاریخ دانوں، شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کے قتل کی فکر میں تھے۔ تاہم اس کا جواب کچھ ایسا مشکل بھی نہیں۔ ایوب خان نے بھی تو رائٹرز گلڈ بنائی تھی جس کے طفیل شاعروں، ادیبوں کو سلہٹ کا سبزہ اور چٹاگانگ کی پہاڑیاں دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ ضیاالحق بھی تو دانشوروں کو سیم اور تھور قرار دے کر ان پر پانی،ہوا اور چاندنی حرام کرنے کی وعید سنایا کرتے تھے۔ بھٹو صاحب سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے تو انہوں نے روز نامہ’ ڈان‘ کے مدیر کو چہار چشمے کا خطاب دیا تھا۔

    چودہ دسمبر کو ڈھاکہ کے چیدہ چیدہ دانشوروں کو اغوا کر کے ہلاک کر دیا گیا

    فوج جب کسی ملک پر قبضہ کرتی ہے تو اس کا مقصد عوام کے امکان کو بیدار کر کے ترقی کی راہیں کھولنا نہیں ہوتا۔ ہر فوجی حکمران کا خواب ایک ایسی چراگاہ ہے جہاں عوام کے نام پر بہت سی بھیڑ بکریاں اس کے دماغِ عالی پر اترنے والی ہر پھلجھڑی کو حکمِ خداوندی سمجھیں۔ دانشور وہ آوازہِ انکار ہے جو آمر کا خواب کِرکِرا کر دیتا ہے۔

    آمر بڑی عرق ریزی سے اور اپنے چنیدہ حواریوں کی شبانہ روز محنت سے ایک آئین گھڑتا ہے ادھر کوئی بے ننگ و نام حبیب جالب پکار اٹھتا ہے ’ایسے دستور کو میں نہیں مانتا‘۔ حکمران صدارتی نظام کے حق میں قائد اعظم کی ڈائریاں ایجاد کرتا ہے تو ڈاکٹر مبارک علی نامی کوئی مورخ قلم گھسیٹ گھسیٹ کر قوم کو بتانے لگتا ہے کہ قائد اعظم نے تو کبھی ڈائری لکھی ہی نہیں تھی۔
    حکمران اخبار والوں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر وسیع تر قومی مفاد میں نظریہ پاکستان گھڑتا ہے تو ڈاکٹر مہدی حسن نامی کوئی استاد اپنی پاٹ دار آواز میں قائداعظم کی کوئی گمنام تقریر دہرانے لگتا ہے جو انہوں نے کہیں 11 اگست 1947 کو کی تھی۔

    منعم خان اور امیر محمد خان جیسے شہریاروں کا نسخہ یہ ہوتا ہے کہ حالات درست کرنے کی بجائے حالات کی خرابی کی نشاندہی کرنے والوں کا منہ بند کر دیا جائے

    دانشور کو اس کے علم کا کیڑا، تحقیق کی عادت اور بصیرت کا تقاضا کاٹتا رہتا ہے۔ اس کی دلیل بازی کی عادت سے فوجی حکمران کی جان ضیق میں آ جاتی ہے۔ ہر عہد میں الطاف گوہر، ابن الحسن، نوابزادہ شیر علی خاں، راجہ ظفرالحق، جام صادق اور شیرا فگن جیسے محبِ وطن جابر سلطان کو یہ کلمہ حق سناتے رہتے ہیں کہ اگر مٹھی بھر دانشوروں کا ٹینٹوا دبا دیا جائے۔ صحافیوں کو گرمی میں میانوالی اور سردی میں مظفرآباد کی سیر کرائی جائے، شاعروں کی شراب بند کر دی جائے، یونیورسٹیوں کو حوالداروں کے حوالے کر دیا جائے تو عوام بہتر طور پر برکاتِ حکومتِ خود آرا سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ منعم خان اور امیر محمد خان جیسے شہریاروں کا نسخہ یہ ہوتا ہے کہ حالات درست کرنے کی بجائے حالات کی خرابی کی نشاندہی کرنے والوں کا منہ بند کر دیا جائے۔ ان خیر اندیشوں کی تقریِر پُر تاثیر میں ایسی لذت ہوتی ہے کہ رفتہ رفتہ خود حکمران کو بھی یقین ہونے لگتا ہے کہ دانشور ملک دشمن، بد اندیش نیز خونی پیچش میں مبتلا کسی گروہ کا نام ہے جس کی بیخ کنی ہی میں قوم کی فلاح ہے۔

    ’یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا‘

    متحدہ پاکستان میں اردو، اسلام اور بھارت دشمنی کی تین پہیوں والی سائیکل چلانے والے ہمیشہ یہی کہتے اور سمجھتے رہے کہ مشرقی پاکستان کی بے گانگی کا اصل سبب معاشی ناہمواری اور سیاسی استحصال نہیں بلکہ وہاں کا دانشور طبقہ بالخصوص ہندو اساتذہ ہیں جو عوام میں الٹی سیدھی باتیں پھیلاتے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ بنگالی عوام کے سیاسی شعور کی بیداری میں وہاں کے روشن خیال اور جمہوریت پسند دانشوروں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا اور یہ امر راؤ فرمان جیسے فوجی افسروں سے مخفی نہیں تھا جو قریب ایک عشرے سے مشرقی پاکستان کے جملہ امور چلا رہے تھے۔

    ربع صدی کی سیاسی کشمکش کے بعد جب مشرقی پاکستان کی علیحدگی نوشتہ دیوار نظر آنے لگی تو مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے فوجی افسران نے خالص جاگیردارانہ انداز میں ’دشمنی‘ کو آخری دم تک نبھانے کا فیصلہ کیا۔ منتخب یونیورسٹی اساتذہ کے قتل کا سلسلہ تو 1969 ہی سے شروع ہو چکا تھا۔ جب راجشاہی یونیورسٹی میں کیمسٹری کے استاد شمس الضحٰی کو دِن دھاڑے قتل کیا گیا تھا۔ 25 مارچ 1971 کی قیامت خیز رات کے مقتولوں میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے متعدد اساتذہ بھی شامل تھے۔

    عوامی لیگ کی منتخب قیادت کے بھارت جانے کے بعد منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں جماعت اسلامی فوجی قیادت کے بہت قریب آ گئی۔ یوں بھی جماعت اسلامی کے لیے عوامی لیگ کی غیر مذہبی سیاست بدیہی طور پر ناقابلِ برداشت تھی۔ مکتی باہنی کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجی انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو اپنا مسلح بازو تشکیل دینے کی ترغیب دی۔ ابتدائی طور پر تو اسے البدر ہی کا نام دیا گیا (30 برس بعد کشمیر جہاد میں بھی جماعت اسلامی نے اپنی پروردہ جہادی تنظیم کے لیے البدر ہی کا نام چنا) تاہم صدیق سالک لکھتے ہیں کہ بعد ازاں اسی تنظیم کو الشمس بھی کہا جانے لگا تا کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی وسیع مخالفت کا تاثر پیدا کیا جا سکے ۔ جماعت اسلامی کے رضاکار مکتی باہنی جیسی مسلح تنظیم کا کیا مقابلہ کرتے جس کے ارکان بھارت سے باقاعدہ فوجی تربیت پا چکے تھے۔ البتہ البدر اور الشمس کے ارکان کو غیر مسلح مگر روشن خیال دانشوروں پر دل کے ارمان نکالنے کا اچھا موقع ہاتھ آیا۔

    البدر کے رہنماؤں میں مولوی غلام اعظم، مولوی عبدالمنان اور طالبعلم اشرف الزماں کے نام نمایاں ہیں۔ البدر کو فوجی تربیت کے لیے باقاعدہ سرکاری تعلیمی ادارے مہیا کیے گئے۔ سیکولر دانشوروں کو جسمانی طور پر ختم کرنے کے اس سلسلے کا ہولناک ترین واقعہ پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے سے صرف دو روز قبل 14 دسمبر کو پیش آیا۔واقعات کے مطابق البدر کے ارکان نے ایک باقاعدہ فہرست کے مطابق آدھی رات کو ڈھاکہ کے دو درجن سے زیادہ چیدہ چیدہ دانشوروں کو اغوا کیا۔ ان میں سے بیشتر اساتذہ یا تو اپنے شعبوں کے سربراہ تھے یا علمی اور ادبی حلقوں میں نہایت نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہیں مختلف مقامات پر رکھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر ریئر بازار اور میرپور نامی دو مقامات پر انہیں بہیمانہ طریقے سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ 17 دسمبر کو ان کی مسخ شدہ لاشیں کچے بند کے قریب پایاب پانی سے برآمد ہوئیں۔ ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ پشت پر بندھے تھے اور سر میں گولی کا نشان تھا۔ ممتاز ماہرِ امراض چشم ڈاکٹر فضل ربی کی آنکھیں نکالی جا چکی تھیں۔

    راؤ فرمان کی ڈائری کا عکس

    اس موقع پر جب جنگ کا حتمی نتیجہ سامنے آ چکا تھا، متحدہ پاکستان کی حمایت یا مخالفت بے معنی ہو چکی تھیں۔ اس مرحلے پر کسی سیاسی مخالف کو قتل کرنے سے کوئی سیاسی یا جنگی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ حمود الرحمٰن کمیشن کے سامنے لیفٹننٹ جنرل عبداللہ نیازی، میجر جنرل راؤ فرمان اور میجر جنرل جمشید تینوں نے اس نوعیت کی فہرست سازی کا اقرار ضرور کیا مگر فوج کے اس کارروائی میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ شواہد سے بڑی حد تک اس مؤقف کی تصدیق ہوتی مگر جنگ کے بعد بھارتی فوج کو جنرل فرمان کے میز سے ایک ڈائری ملی جس میں خود جنرل فرمان کے ہاتھ سے ناموں کی ایک فہرست تحریر تھی۔ ان ناموں میں سے چودہ افراد 14 دسمبر کی رات مارے گئے۔ الطاف گوہر راوی تھے کہ انہوں نے ایک مشترکہ دوست کے توسط سے راؤ فرمان کو اپنے عزیز دوست ثناالحق کی جان بخشی کی سفارش کی تھی۔ راؤ فرمان کی فہرست میں ثناالحق واحد خوش نصیب تھے جو 14 دسمبر کے بعد بھی زندہ رہِے۔

    امریکی ہفت روزے ٹائم نے 19 دسمبر 1971 کی اشاعت میں پہلی بار اس واقعے سے پردہ اٹھایا۔ لیکن نرمل کمیشن سے لے کر حکومتی تحقیق تک اس واقعے پر کوئی قانونی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مولوی غلام اعظم 1978 میں پاکستان سے بنگلہ دیش واپس چلے گئے تھے اور1991 سے وہاں جماعت اسلامی کے امیر ہیں ۔مولوی عبدالمنان دانش کے اس قتل میں ذاتی طور پر شریک تھے، وہ ایک سے زیادہ مرتبہ وزیر کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ اشرف الزماں کی ڈائری میں 14 دسمبر کے آٹھ مقتول دانشوروں کے نام پتے درج تھے۔ اشرف اب امریکہ میں ایک اسلامی مرکز چلاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ البدر کے بیشتر سابق ارکان آجکل برطانیہ میں مسجدوں کے پیش امام ہیں۔

    بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد متعدد مواقع پر اپنی مخصوص گھن گرج کے ساتھ انصاف کے بلند بانگ دعوے کرنے والے مجیب الرحمٰن نے 1973 میں تمام بنگالی نژاد جنگی مجرموں کے لیے عام معافی کا اعلان کر دیا۔ بنگلہ بندھو کی اس قلابازی کے متعدد پہلو ہیں۔ بنگلہ دیش کی جنگِ آزادی میں مرنے والے قریب قریب تمام دانشور روشن خیال ہونے کے علاوہ بائیں بازو کے رجحانات بھی رکھتے تھے۔ عوامی لیگ کے آئندہ طرزِ حکومت میں بلند آہنگ اور عوام دوست دانشوروں کے لیے کہاں جگہ تھی؟ دوسرے بھارت کو یہ کب پسند تھا کہ بنگلہ دیش کے حریت پسندوں سے نکسل باڑی تحریک تقویت پائے۔ اور تیسرے یہ کہ امریکی حکام کو پیکنگ نواز دانشور کیسے ہضم ہوتے۔ سو یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا۔

    (وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔)

  • آمریکیوں کے ساتھ ملکر امارت اسلامی کو تباہ و برباد کردیا،
    کاشف نصیر
    =========================
    How easily we forget this as well: Who were the pioneers of the anti-Daud Afghan resistance? These were Ustad Rabbani, Hikmatyar, Ahmad Shah Masood and a host of others who came to Pakistan after October 1973. DETAILS: Major General (Retd) Naseerullah Khan Babar, Scandals & Shenanigans http://chagataikhan.blogspot.com/2009/06/major-general-retd-naseerullah-khan.html

  • زرا یاد کیجئے نئے محب وطن جرنل جس نے ملک خداداد سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کا تہیہ کر رکھا تھا اس نے قانون اور انصاف کو اپنی خواہشات اور فرمودات کا نام دے دیا. ملک کی سب سے بڑی عدالت
    پر ایک نہیں تین دفعہ حملہ کیا
    کاشف نصیر
    =======================

    Well the First and second “ATTACK” was allowed by the very Judges who nowadays talk of “Supremacy of Law and Constitution remember PCO for Judges and LFO/17th Amendment for Political Parties [that includes JI in the shape of MMA]History with references to keep the record straight: General Musharraf’s Bureaucracy under PCOed Judiciary. http://chagataikhan.blogspot.com/2010/05/general-musharrafs-bureaucracy-under.html Judicial Amnesia & Martial Law Duties. http://chagataikhan.blogspot.com/2010/04/judicial-amnesia-martial-law-duties.html

  • زرا یاد کیجئے نئے محب وطن جرنل جس نے ملک خداداد سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کا تہیہ کر رکھا تھا اس نے قانون اور انصاف کو اپنی خواہشات اور فرمودات کا نام دے دیا. ملک کی سب سے بڑی عدالت
    پر ایک نہیں تین دفعہ حملہ کیا
    کاشف نصیر
    =========================
    Shaheen Sehbai [Group Editor The News International/Jang Group/Geo “now in Exile” in USA] who had openly advised General Kayani to intervene and what a Joke another very Senior Journalist i.e. Mehamood Sham [Editor Jang] seconded his demand [I still remember Mehmood Sham’s photo with Benazir and Bhutto which Mehmood Sham have in his Drawing Room in Karachi]: Here are the proofs with dates and their respective “Rant” for Martial Law and guess what Mr. Shaheen Sehbai despite being a senior Journalist had even quoted “a wiretap (transcription of Intelligence Agency phone tapping)” for Martial Law: Shaheen Sehbai [Jang Group] Invites Martial Law in Pakistan ! http://chagataikhan.blogspot.com/2009/11/shaheen-sehbai-jang-group-invites.html Similarities between Shaheen Sehbai & Asghar Khan Letters.
    http://chagataikhan.blogspot.com/2009/11/similarities-between-shaheen-sehbai.html Mahmood Sham’s Advice & Shaheen Sehbai’s Anti Pakistan Army Columns & Jang Group. http://chagataikhan.blogspot.com/2009/11/mahmood-sham-shaheen-sehbais-anti.html Mahmood Sham & Shaheen Sehbai on ISI.
    http://chagataikhan.blogspot.com/2009/11/mahmood-sham-shaheen-sehbai-on-isi.html

  • یہودی سرمایہ داروں کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئے مروجہ سودی بینکاری کے خاتمے سے متعلق اعلی ترین عدلیہ کے فیصلے کو کمال بے حیائی
    Kashif Naseer
    ===============
    Dear Mr. Kashif,

    This may ease down your pain, frustration and “Zameer Ki Awaz”

    “QUOTE”

    Late Maj Gen Aboobaker Osman Mitha [The Only Memon General of Pakistan Army and he founded the Special Service Group (SSG – Commando Division of the Pakistan Army) posthumously published autobiography, Unlikely Beginnings. http://openlibrary.org/b/OL3723841M/Unlikely-beginnings

    According to Gen Mitha, it was Gul Hasan who saved Brig Zia-ul-Haq, as he then was, from being sacked. Zia was in Jordan. The year was 1971. Gen Yahya received a signal from Maj Gen Nawazish, the head of the Pakistan military mission in Amman, asking that Zia be court-martialled for disobeying GHQ orders by commanding a Jordanian armour division against the Palestinians in which thousands were slaughtered. That ignominious event is known as Operation Black September. It was Gul Hasan who interceded for Zia and had Yahya let him off. Mitha was treated very badly. His Hilal-i-Jurat was withdrawn in February 1972, something that also appears to have been Gul Hasan’s handiwork.

    “UNQUOTE”

    King Hussein (with help from Zia-ul-Haq of the Pakistani army) sent in his Bedouin army on 27 September to clear out the Palestinian bases in Jordan. A massacre of innumerable proportions ensued. Moshe Dayan noted that Hussein “killed more Palestinians in eleven days than Israel could kill in twenty years.” Dayan is right in spirit, but it is hardly the case that anyone can tch the Sharonism in its brutality.

    Charlie Wilson’s War http://www.amazon.com/Charlie-Wilsons-War-Extraordinary-Operation/dp/0871138549 by George Crile during the so-called Afghan Jihad following things did happen;

    He told Zia about his experience the previous year when the Israelis had shown him the vast stores of Soviet weapons they had captured from the PLO in Lebanon. The weapons were perfect for the Mujahideen, he told Zia. If Wilson could convince the CIA to buy them, would Zia have any problems passing them on to the Afghans? Zia, ever the pragmatist, smiled on the proposal, adding, Just don’t put any Stars of David on the boxes {Page 131-132}.

  • یہودی سرمایہ داروں کو اپنا ہمنوا بنانے کیلئے مروجہ سودی بینکاری کے خاتمے سے متعلق اعلی ترین عدلیہ کے فیصلے کو کمال بے حیائی
    Kashif Naseer
    ===============

    This will also help to ease down the pain!

    Keeping in mind your allergy to “Interest Based “Jewish” Banking System, you should know that Mufti Taqi Usmani and Rafi Usmani are also indulged in this Haram Banking which they have made Halal and Islamic through a Fatwa. Agha Hasan Abedi was a Renowned Banker who also helped Zia in “Alleged Jihad” and also helped in Protecting “Boundaries of Allah” Why CIA Is Engaged In Campaigns Against Pakistan’s ISI, Military?
    http://chagataikhan.blogspot.com/2009/02/why-cia-is-engaged-in-campaigns-against.html The Afghan Pipeline By Steve Galster. – 1 http://chagataikhan.blogspot.com/2008/10/afghan-pipeline-by-steve-galster-1.html The Afghan Pipeline By Steve Galster. – 2 http://chagataikhan.blogspot.com/2008/10/afghan-pipeline-by-steve-galster-2.html Ronald Reagan, William Casey and Jihad http://chagataikhan.blogspot.com/2008/11/ronald-reagan-william-case-and-jihad.html Brigadier (R) Imtiaz ‘Exposes’ General (R) Hamid Gul http://chagataikhan.blogspot.com/2009/08/brigadier-r-imtiaz-exposes-general-r.html

  • “Jamat started well as it did nt support Ayoub khan ”

    Jamaat Islami instead supported Fatima Jinnah while not believing in the government of women. Always the hypocrites and abusing religion for their gain, JI.

  • Humayun says: September 9, 2010 at 7:36 pm Aamir Mughal, below link for you; how CIA trained Islamists so called Mujahideen, no wonder they are so good.
    =============
    Harsh Reality: Contractors Tied to Effort to Track and Kill Militants By DEXTER FILKINS and MARK MAZZETTI Published: March 14, 2010 A version of this article appeared in print on March 15, 2010, on page A1 of the New York edition. http://www.nytimes.com/2010/03/15/world/asia/15contractors.html
    http://www.nytimes.com/2010/03/15/world/asia/15contractors.html?pagewanted=2
    http://www.nytimes.com/2010/03/15/world/asia/15contractors.html?pagewanted=3

  • Thanks for this awesome post. This is very helpful for someone looking for a transcription article. I will be checking your site again soon.