Featured Newspaper Articles Urdu Articles

ميرا دل بہت پريشان ہے رمشاء کے ليے

شروع کے روزوں ميں شام کے وقت بچوں کو حسب معمول پارک ليکر جا رہی تھی کہ گلی کے اختام پر کھڑے پانچ چھ مرد و خواتين کے ايک گروپ نے مجھے دو صفحات ديے۔ بھوک کے مارے ويسے ہی طبيعت خراب تھی جو کہ شکل سے غصے کی صورت ميں ظاہر تھی۔ اسی بےدلی سے وہ صفحے کسي پروڈکٹ کا اشتہار سمجھ کر ميں نے بغير پڑھےان کے سامنے ہی نکڑ پر لگے کوڑا دان ميں ڈال ديے۔

فوراً ہی مجھے لگا ميں نے کوئی غلط کام کر ديا ہے کيونکہ صفحات دينے والے تمام افراد مخصوص سے حليے ميں کھڑے تھے۔ سوچتے ہوئے پارک تک پہنچی کہ پڑھ تو لينا چاہيے تھا کہ لکھا کيا تھا کہ پارک کے پاس اسی حليے ميں کھڑے ايک اور گروپ کی ايک ممبر نے مجھے بالکل ويسے صفحے ديے۔ ميں فوراً پڑھنے بيٹھ گئي۔ ان ميں عيسائيوں کی مقدس کتاب کے حوالہ جات پڑھتے ہی ميری روح کانپ گئی اور ميرے ذہن ميں فلم چلنے لگی۔

لوگوں کا ايک ہجوم نعرے لگاتا ميری طرف بڑھ کر آ رہا ہے۔ وہ مجھے اور پارک ميں کھيلتی بے خبر ميری بچيوں کو پکڑ کر گھسٹيتے ہيں۔ انکے پاس بہت سے گواہان ہيں جنہوں نے مجھے مقدس اوراق کوڑے دان ميں پھينکتے ديکھا ہے۔ گواہان ميری بچيوں پر لاتوں مکوں کی بارش کر ديتے ہيں۔ بچياں چيخ رہی ہيں مماں يہ ہميں کيوں مار رہے ہیں، مماں درد ہو رہی ہے، مماں وہ ہمارے کپڑے پھاڑ رہے ہیں، مماں مجھے بہت مار رہے ہیں، ميری مماں کو نہ مارو۔

اور جونہی چھوٹی سی زخمي خديجہ کہتی ہے مماں ميرا خون آ رہا، مجھے بچاؤ، ميری مماں مجھے بچاؤ تو مار کھاتی ہوئی ماں کی بے کسی کا سوچتے ہی ميرا دل ايسے ہو گيا کہ جيسے ہارٹ اٹيک ہو گيا ہو۔ اس سے آگے دماغ نے خوف کے مارے فلم ميکنگ کی اجازت ہی نہ دی۔

ميں چھتيس سالہ پڑھی لکھی بہت سی زبانوں سے واقف خاتون انجانے ميں ايسا کر سکتی ہوں تو بارہ سالہ کوڑا کرکٹ اٹھانے والی ان پڑھ اور بھوکی رمشاء کو کيا پتہ کہ وہ اوراق مسلمانوں کے مقدس اوراق تھے۔

ميرا دل بہت پريشان ہے رمشاء کے ليے۔

عاصمہ بتول
پیرس

Adapted from BBC Urdu

About the author

SK

3 Comments

Click here to post a comment