Original Articles Urdu Articles

سیلابی سیاست – by Ahsan Abbas Shah

کُچھ ہی عرصہ پرانی بات ہے، چار بھائی پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عدم اطمینان کرتے ہوئے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچھنے اور نیچا دِکھانے میں مصروف تھے، گرما گرم بیانات، اِلزامات کی بارش،
صوبائی تعصب پر مبنی حقوق غصب کئے جانے کا واویلا۔۔۔۔۔مذاکرات اور مُباحثےہوتے رہے، جلتی پر تیل کا کام میڈیا ٹاک شوز احسن طریقے سے سر انجام دیتے رہے، بالآخر گھر کے بڑے کو مداخلت کرنی پڑی اور ایک دھواں دھار میٹنگ میں چاروں بھائی کی آگ کو وفاق کے کیمکل سے ٹھنڈا کیا گیا۔۔۔کوئی نہیں جانتا تھا کہ جس پانی پر سیاست کھیل رہے ہیں وہ پانی کب اور کیسے غصب ناک ہو سکتا ہے۔۔۔
خدا کا کرنا ، پانی کا ریلا ایک بھائی سے دوسرے بھائی تک تباہی مچاتا ، روزمرہ زندگی کو درہم برہم کرتا ..ہزاروں لوگوں کو لقمہء اجل بناتا بڑھتا چلا گیا، خیبر پختونخواہ سے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے مضافات سے اندرون سندھ پانی کی نظر ہوتے چلے گئے،سڑکیں بہہ گئیں، مکانات زمین بوس ہوگئے۔۔ موجودہ سیلاب کو تاریخ کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا ہے،محتاط اعداد و شمار کے مطابق ایک کروڑ بیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ چھ لاکھ مکانات پانی کی آوارہ لہروں کی نظر ہوگئے۔اس سیلاب کے نتیجے میں آنیوالی تباہی ٢٠٠٥ء کے زلزلے سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔ زلزلہ میں تیس ہزار مربع میل رقبہ متاثر ہوا تھا جبکہ موجودہ سیلاب سے ایک لاکھ بتیس ہزار مربع میل رقبہ متاثر ہوا ہے۔
نقصانات حکومتی وسائل کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں،اس غیر معمولی سیلاب کی وجہ سے ہمارا ملک کئی دہائیاں پیچھے چلا گیا ہے اور امداد کے لیے ورلڈ بینک، ایشین بنک اور دوست ہمسایہ ممالک سے مدد کی اپیل کی گئی ہے۔
چودہ اگست کو جشن آزادی سادگی سے منایا گیا۔۔۔ تمام دن راقم الحروف سوچتا رہا کہ ہُوا کیا؟
آفات تو اقوام پر آتی ہیں، اور ہماری قوم کبھی کسی آفت سے گھبرائی نہیں تو یہ آج کیا ہو رہا ہے۔۔۔ حادثات، سانحات، آفات قوم کے لیے کوئی نئے تو نہیں۔۔۔ اِمداد کا جذبہ کہاں گیا؟سانحہ اوجڑی کیمپ ہو۔۔ یا پہلے اَدوار میں آئے سیلاب۔۔ زلزلہ ہو یا کوئی اور مصیبت یہ بھِیڑ ہمیشہ ایسے ہی مواقع پر قوم بن کے سامنے آتی ہے۔۔۔۔مگر اب کون سی ایسی بے یقینی ہے کہ جو بچ گئے ہیں وہ بے حس ہوگئے ہیں یا نیم مُردہ۔۔۔
ماضی میں بیتے چونسٹھ برسوں میں تو میڈیابھی اتنا فعال نہ تھا۔۔ صُبح اُٹھ کر پانچ روپے خرچنے پڑتے تب جا کر اخبار کا منہ دیکھتے۔۔ پھر پتہ چلتا تھا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مُلک کے کس کونے میں کیا قیامت ٹوٹ پڑی۔۔۔ اب تو ذرائع ابلاغ کا دور ہے۔۔ بر وقت اصلاح اور اطلاع کا ڈنکا دن رات بجتا ہے پھر قوم اس سیلاب سے آنکھیں موندے کیوں بیٹھی ہے؟ایسی کونسی بد اعتمادی ہے کہ مُلک کے دو بڑوں کو ایک اتھارٹی قائم کرنے کی ضرورت پیش آگئی؟
کیا یہ بد اعتمادی  ججز بحالی سے اٹھارہوی ترمیم اور پھر دورہء برطانیہ کی پیدا کردہ ہے؟
بروقت اطلاع اور اصلاح صرف اور صرف ‘زرداری ٹولے‘ کی مقصود ہے۔۔۔ جب سیلاب خیبر پختونخواہ میں اَنی مچا رہا تھا تب میڈیا دورہء برطانیہ کےخطرات سے قوم کو آگاہی دے رہا تھا۔۔ مُلک کی باغیرت
بریگیڈ اس دورہ کی اخلاقی اور فنی خرابیوں پر روشنی ڈال رہے تھے۔۔۔۔ایک ہفتہ اسی شور و غُل میں گذرا تو طالبان حمایتی قؤتوں کا جوتا اینکر پرسن کے سر کا تاج بن گیا۔۔۔وہ جوتا صدر زرداری کو تو نہ لگ سکا ۔۔ مگر میڈیا کی کالی بھیڑوں نے مسٹر شمیم کے جوتے کو آزادئ صحافت کا میڈل سمجھ لیا۔۔
صدر زرداری تو بخیر و عافیت اپنا دورہ مکمل کرکے غیر ملکی اِمداد کے ٹوکرے سجائے وطن لوٹ آئے ۔ اب اگر چند میڈیا اینکرز کا تجزیہ درست بھی مان لوں تو میں اس امداد کو کس کھاتے میں ڈالوں جو سیلاب زدگان کے لیے بھیجی گئی ہے۔۔۔کیا زرداری ٹولہ پر  بد اعتمادی صرف اور صرف پاکستان کی حد تک محدود رہی؟
یہی سوچتے ہوئے پھر ریموٹ اُٹھایا اور نیوز چینل آن کیا۔۔ سیلاب سندھ کی سر زمین کو پچھاڑتا سمندر کو منزل بنائے اپنے راستے پر گامزن ہے۔۔۔ یہ سیلاب تو سمندر میں گِر جائے گا۔۔ منہ کو آتا پانی بھی سوکھ کے اُتر جائے گا۔۔مگر میڈیا اور چند سیاست دان جس سیلابی سیاست کا عملی نمونہ دن بھر چینلز پر پیش کر رہے ہیں وہ سیلابی سیاست ہماری وفاق کی بلند و بالا پانچ منزلہ عمارت کی بنیادوں کو کمزور کرنے پر تُلی ہوئی ہے۔ اندرون ِ ملک قلیل اِمداد کا اکٹھا ہونا بھی سیلابی سیاست اور رپورٹنگ کی بدولت ہی ممکن ہوا کیونکہ سوکھے کا بسنے والا  باسی امداد دِل کھول کر نہیں بلکہ نیوز چینل کھول کر دے رہا ہے۔
اور وہ چار بھائی جو وفاق کی عمارت کو مُلا کا مدرسہ بننے سے بچانے کے لیے شہادتیں پیش کرتے آئے ہیں۔۔ اُن سے اتنی ہی التجا ہے کہ اب کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر مت لڑنا۔۔۔ دیکھ لو کل جس پانی
کی قلت پر لڑتے مرتے تھے آج اُسی پانی کی زیادتی وجہ اموات بن چُکی ہے۔۔۔ اسی سیلابی پانی سے چُلو بھر کے اینکر پرسنز کو بھی ڈوب مرنا چاہیے ۔۔۔ جو قدرتی آفات کو بھی اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اپنے مُطابق استعمال کرتے ہیں۔
جو قوم زلزلہ زدگان کو اپنے پیروں پر دوبارہ کھڑا کر سکتی ہے وہ سیلاب زدگان کو بھی اپنے دلوں میں جگہ دے گی۔۔۔ جو وفاقِ پاکستان آپریشن راہ راست کے چالیس لاکھ پناہ گزینوں کو واپس آباد کر  چُکا ہے وہ ان سیلاب زدگان کو بھی بسا کر دم لے گا۔۔۔ امداد بھی ہوگی اور دکھوں کا مداوا بھی شفاف طریقے سے ہوگا۔
پس دیکھنا اور سوچنا یہ ہے کہ کونسے عناصر ہماری صفوں میں بد اعتمادی اور مایوسی کی فضاء کو فروغ دے رہے ہیں۔۔۔ 
اُن تمام عناصر کو خبردار !
١٧کڑورپاکستانی قوم کی ٣٤ کروڑ جوتیاں سیلاب کے پانی میں بھیگ چُکی ہیں!

سید احسن عباس رضوی

About the author

Ahsan Abbas Shah

1 Comment

Click here to post a comment
  • مُلک کی باغیرت
    بریگیڈ اس دورہ کی اخلاقی اور فنی خرابیوں پر روشنی ڈال رہے تھے۔۔۔۔ایک ہفتہ اسی شور و غُل میں گذرا تو طالبان حمایتی قؤتوں کا جوتا اینکر پرسن کے سر کا تاج بن گیا۔۔۔وہ جوتا صدر زرداری کو تو نہ لگ سکا ۔۔ مگر میڈیا کی کالی بھیڑوں نے مسٹر شمیم کے جوتے کو آزادئ صحافت کا میڈل سمجھ لیا۔۔

    I agree with you … Shah Sahib at a post operated by a media man [a classic example of yellow Journalism] I wrote the these journalists are Fifth Column and preaching depression and despair ….