Newspaper Articles Urdu Articles

It is no courage to blame sectarian terrorism in Pakistan on CIA, RAW and Blackwater – by Hamid Mir


انتقام مگر پیار سے….قلم کمان …حامد میر

یہ بہت ہی بُری خبر تھی لیکن یہ بُری خبر مجھ گناہ گار کو ایک بہت پاکیزہ اور مقدس مقام پر موصول ہوئی۔ جس رات میں مکّہ مکرمہ میں عمرہ ادا کرکے مدینہ پہنچا اُسی رات لاہور میں حضرت علی ہجویری کے مزار پر دو بدبختوں نے خود کش حملے کیے۔ اس انتہائی افسوسناک اور شرمناک واقعے کی خبر ملنے کے بعد میں مسجد نبوی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ پوری دنیا میں داتا گنج بخش کے نام سے مشہور حضرت علی ہجویری کے مزار پر ایسا کیا تھا کہ یہاں پر بھی خود کش حملے کر دیئے گئے؟

میں بچپن سے اس مزار پر فاتحہ خوانی کررہا ہوں اور حسبِ توفیق مزار سے ملحقہ مسجد میں نماز ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ حضرت علی ہجویری صدیوں پہلے افغانستان کے شہر غزنی سے لاہور تشریف لائے تو یہاں اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اُنہوں نے اپنے علم کی شمع سے اندھیروں میں روشنی پھیلائی اور اس خطّے میں اسلام اُنہی کی بدولت فروغ پایا۔ صدیوں سے اُن کے مزار پر چوبیس گھنٹے قرآن پاک کی تلاوت ہوتی ہے اور غریب لوگوں کو ہر وقت مفت لنگر تقسیم کیا جاتا ہے۔

میں مسجد نبوی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ حضرت علی ہجویری کا مزار وہ جگہ ہے جہاں مسلمان ہر قسم کی فرقہ وارانہ گروہ بندیوں سے بالاتر ہوکر اکٹھے ہوتے ہیں اور یہاں شیعہ سُنی اکٹھے نماز پڑھتے ہیں۔ میں ایسے کئی غیر مسلموں کو جانتا ہوں جو اس مزار میں دفن بزرگ سے بہت عقیدت رکھتے ہیں۔ حضرت علی ہجویری کی ذات اس خطّے کے مسلمانوں میں باہمی پیار اتحاد و یکجہتی کی علامت ہے۔

اُن کے ساتھ محبت و عقیدت کی ایک وجہ اُن کی مشہور کتاب کشف المحجوب بھی ہے جس میں اس عظیم بزرگ نے شریعت اور طریقت کو یکجا کرکے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ حضرت علی ہجویری بزرگوں کے بزرگ ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے اس مزار پر چلّہ کاٹا تھا اور فرمایا تھا

گنج بخش فیضِ عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں را پیر کامل، کاملاں را رہنما

حضرت علی ہجویری کے مزار پر خود کش حملوں کیلئے جمعرات کی شب کا انتخاب کیا گیا۔ یہ وہ شب ہوتی ہے جب کئی مسلمان یہاں پر تہجد تک عبادت کرتے ہیں اور ان مسلمانوں کا تعلق ہر مکتبہ فکر سے ہوتا ہے۔ جمعرات کی شب عبادت کے لئے آنے والے نماز عشاء کے بعد عین اُس جگہ پر اکٹھے ہونا شروع ہوتے ہیں جہاں خود کش حملہ کیا گیا اور مجھے یقین ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا اصل ہدف یہی مسلمان ہیں جو ایک دوسرے پر کفر کے فتوؤں کو نظرانداز کرکے داتا دربار سے ملحقہ مسجد میں عبادت کرتے ہیں۔

حملہ آوروں کا اصل ٹارگٹ وہ اتحاد و یکجہتی ہے جو حضرت علی ہجویری کے مزار پر ہمیشہ موجود تھی، آج بھی موجود ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی موجود رہے گی۔ مسلمانوں کے دشمن ہمیشہ سے اُن کی صفوں میں فرفہ وارانہ انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور ہمیشہ سے کچھ گمراہ مسلمان اپنے دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت علی ہجویری کے مزار پر حملے کی منصوبہ بندی بھی کسی دشمن طاقت نے کی ہو لیکن دشمنوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والے ہمارے اپنے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے۔

کیا یہ سچ نہیں کہ پچھلے ایک ڈیڑھ سال کے دوران پشاور اور نوشہرہ میں رحمان بابا سمیت کئی بزرگوں کے مزاروں پر بم دھماکے کئے گئے اور ان دھماکوں میں ملّوث جو بدبخت گرفتار ہوئے اُن کا تعلق خیبر ایجنسی سے تھا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پچھلے کئی سالوں سے مساجد اور امام بارگاہوں کے علاوہ 12ربیع الاول کے اجتماعات کو بھی خود کش حملوں کا نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں میں ملوث افراد نہ تو سی آئی اے اور را کے اہلکار تھے اور نہ ہی اُنہیں بلیک واٹر نے بھرتی کیا تھا بلکہ یہ سب ہمارے اندر ہی سے تھے اور ان کا تعلق ایسی تنظیموں سے تھا جو ایک دوسرے کے خلاف کافر کافر کے نعرے لگاتے ہیں۔

میرے قارئین گواہ ہیں کہ میں نے پاکستان میں سی آئی اے، را اور بلیک واٹر کی سرگرمیوں پر ہمیشہ تنقید کی ہے لیکن ہر واقعے کی ذمہ داری ان غیر ملکی اداروں پر ڈالنا کوئی بہادری نہیں ہے۔ اصل بہادری یہ ہے کہ ہم اُن آستین کے سانپوں کو تلاش کریں جو پاکستان کے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کا خون بہاکر اسلام دشمن طاقتوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

مجھے کوئی شک نہیں کہ حضرت علی ہجویری کے مزار پر حملہ کرنے والے وہی ہیں جنہوں نے جامعہ نعیمیہ میں گھس کر مفتی ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو خود کش حملے میں شہید کیا، یہ وہی ہیں جنہوں نے پشاور میں مولانا حسن جان کو شہید کیا، یہ وہی ہیں جنہوں نے نشتر پارک کراچی میں سنی تحریک، جماعت اہل سنت اور جے یوپی کی قیادت کو نشانہ بنایا۔

مسجد نبوی میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد میں سوچ رہا تھا کہ 2003ء میں بغداد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی اور امام ابوحنیفہ کے مزار پر بمباری کرنے والی امریکی فوج اور 2010ء میں حضرت علی ہجویری کے مزار پر خود کش حملہ کرنے والوں میں کیا فرق ہے؟ میں سوچ رہا تھا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہر رنگ، زبان، نسل اور فرقے کے مسلمان ایک امام کے پیچھے اکٹھے نماز پڑھتے ہیں۔ کوئی ہاتھ سینے پر باندھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکاتا ہے اور کوئی ہاتھ چھوڑ کر اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔ دنیا بھر کے فتوے باز اپنے فتوے بھول کر اُن سب کے ساتھ مل کر یہاں نماز ادا کرتے ہیں جنہیں وہ کافر کہتے ہیں۔ یہاں کوئی وہابی، بریلوی، دیوبندی اور شیعہ نہیں ہوتا بلکہ سب مسلمان ہوتے ہیں لیکن یہاں سے واپس جاکر نجانے ہم دوبارہ اپنے آپ کو تقسیم کیوں کر دیتے ہیں؟

میں مسجد نبوی میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ نجانے حضرت علی ہجویری کے مزار پر بے گناہوں کا خون بہانے والے پکڑے جائیں گے یا نہیں لیکن اس قسم کے واقعات کے ذریعہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے والوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ میرے پاس ایک بڑا سادہ اور قابل عمل حل ہے۔ سیاسی قائدین اور علماء اپنے آپ کو بدل دیں۔ ویسا ہی بن جائیں جیسے ہم مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں بن جاتے ہیں۔

بریلوی علماء دیو بندیوں، وہابیوں اور اہل تشیع کے ساتھ نماز ادا کریں اور اہل تشیع بھی دیگر فرقوں کے علماء کو ایک ساتھ نماز پڑھنے کی دعوت دیں۔ وہ علماء جو اپنی مساجد کو مسجد الحرام اور مسجد نبوی جیسا بنا دیں گے وہ ہم میں سے ہوں گے اور جو اپنی مساجد کو صرف اپنے آپ تک محدود رکھیں گے وہ ہم میں سے نہیں ہوں گے۔ یہ کام حکومت کرے نہ کرے ہمیں خود کرنا ہے۔ آیئے ہم آج ہی سے ایک دوسرے کی مساجد میں نمازیں ادا کرکے حضرت علی ہجویری کے مزار پر حملہ کرنے والوں کو اندر سے کاٹ ڈالیں۔

Source: Jang, 5 July 2010