Original Articles Urdu Articles

Is the Pakistan Army a security risk for Pakistan? A historical perspective

Here is thought provoking excerpt from a recent article written by Nazir Naji (in daily Jang, 28 June 2010). In the main, it is not politicians such as Feroz Khan Noon, Huseyn Shaheed Suhrawardy, Sheikh Mujeeb-ur-Rehman, Zulfiqar Ali Bhutto, Benazir Bhutto or Nawaz Sharif who have caused irreparable damage to Pakistan, the ‘credit’ without any doubt goes to Pakistani generals and military dictators who have times and again proven that they are an existential threat to the integrity and security of the land of the pure.

پرامیدی نہ مایوسی ….سویرے سویرے …نذیرناجی

1958
ء سے پہلےپاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم میں رابطے اور مذاکرات ہو جایا کرتے تھے۔ بیشک ان میں کوئی بڑا بریک تھرو نہیں ہوا لیکن مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا بھی نہیں تھا۔

یہ سلسلہ اس وقت ٹوٹا‘ جب جنرل ایوب خان نے ملک میں جمہوریت کی بساط لپیٹ کر فوجی آمریت قائم کی۔ پانچ سال تک تو بھارتی وزیراعظم بات کرنے کو تیار ہی نہ ہوئے اور جب تیار ہوئے‘ تو سندھ طاس معاہدہ کر کے ہمارے مردآہن سے تین دریا لے کر چلتے بنے۔

سندھ طاس معاہدہ ذلت کی وہ دستاویز ہے جسے کوئی بھی پاکستانی محقق پڑھ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ ایسی دستاویز پر تو جنگوں میں شکست کھانے کے بعد دستخط کئے جاتے ہیں‘ جس پر ہمارے فیلڈ مارشل نے عام حالات میں کر دیئے۔

فیلڈ مارشل کے دور میں 1965ء کی جنگ کے بعد تاشقند میں جو سربراہی مذاکرات ہوئے‘ ان میں ہمارے فیلڈ مارشل کشمیر بھارت کے حوالے کر آئے۔ گویا ہمارے دریا اور وادی کشمیر‘ دونوں ہی ہمارے فوجی حکمران کے ہاتھوں بھارت کے حوالے ہوئے۔

اس کے بعد دونوں ملکوں میں اعلیٰ سطحی مذاکرات مشرقی پاکستان میں ہماری فوجی شکست کے بعد ہوئے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں شملہ معاہدہ سامنے آیا۔ ظاہر ہے بھارتی وزیراعظم ایک فاتح کی حیثیت سے میز پر بیٹھی تھیں مگر اس کے باوجود پاکستان کے اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو اپنے ملک کے حق میں جو کچھ بھی ممکن تھا‘ وہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

ان کے بعد پھر ایک چیف آرمی سٹاف جنرل ضیا الحق اقتدار پر قابض ہوا اور سوویت یونین کے خلاف امریکی جنگ میں اس کا کارندہ بن گیا۔ اس شخص نے پاکستان پر تباہی کے جو دروازے کھولے‘ ان سے ایسے ایسے عذاب ہمارے معاشرے میں داخل ہوئے اور ہو رہے ہیں‘ جن سے پاکستان ”تن ہمہ داغ داغ“ کی کیفیت میں آ چکا ہے۔

فوجی جرنیل ہونے کے باوجود اس نے سیاچن گلیشیئر بھارت کے قبضے میں دے دیا۔ بھارتی وزیراعظم مرارجی ڈیسائی کو پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز دے دیا اور اپنے ملک کے لئے جو کچھ حاصل کیا‘ وہ کلاشنکوف کلچر‘ ڈرگز‘ نصف کروڑ سے زیادہ افغان مہاجرین اور ایک ایسی منتشر قوم تھی جو 1973ء میں دوبارہ اسی طرح متحد ہوتی ہوئی نظر آ رہی تھی جیسے 1947ء میں تھی۔

برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ قیام پاکستان کے بعد کسی کرپٹ سیاسی حکومت نے پاکستان کے ایک انچ پر بھی کسی دوسرے ملک کا قبضہ نہیں ہونے دیا۔ اس کے برعکس قائد اعظم کے بعد پاکستان کے رقبے میں اگر کسی نے اضافہ کیا‘ تو وہ ملک فیروز خان نون کی وہ کرپٹ حکومت تھی جسے بعد میں جنرل ایوب خان نے اسی الزام میں سکندر مرزا سے برطرف کرایا۔

گوادر کا علاقہ انہی کرپٹ سیاستدانوں نے پاکستان میں شامل کیا تھا۔ اس کے برعکس جتنے بھی جنرل حکومت میں آئے‘ وہ پاکستان کا کوئی نہ کوئی علاقہ دوسروں کو ضرور دے گئے۔

ایوب خان نے بلوچستان کا ایک بڑا حصہ ایران کو دیا۔ اقصائے چین کا علاقہ چین کو دیا۔ یحییٰ خان نے پورا مشرقی پاکستان بھارتی فوج کے قبضے میں دے دیا۔ ضیاالحق نے سیاچن گلیشیئر پر بھارتی قبضہ کرایا اور پرویزمشرف کارگل کی چوٹیوں پر مستقل بھارتی چوکیاں بنوا گئے‘ جو موسم سرما میں خالی ہو جایا کرتی تھیں۔

مذاکرات کے حوالے سے آخری اور پاکستان کے لئے پہلا موقع تھا‘ جب بنیادی مسئلہ یعنی کشمیر حل کرنے پر دونوں ملکوں نے نہ صرف آمادگی ظاہر کر دی تھی بلکہ ان بنیادی اصولوں پر بھی اتفاق کر لیا تھا جن پر یہ مسئلہ طے ہونا تھا۔ پاکستان اور بھارت کی تاریخ میں امن قائم کرنے کا اس سے زیادہ سنہرا موقع کبھی نہیں آیا تھا۔ مگر ہماری شامت اعمال کہ ہمیشہ کی طرح پھر ایک فوجی حکمران نازل ہوا اور مشرقی سرحدوں پر ختم ہوتی ہوئی کشیدگی کو‘ طول دینے کے ساتھ ساتھ مغربی سرحدوں پربھی ایک نیا محاذ کھول گیا